Al-Risala · August 1986

Missionary Ethics

Al-Risala, August 1986, pp. 24–45

By Maulana Wahiduddin Khan

اس سفر کی روداد آئندہ انشاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی۔ ۳- ’’الرسالہ کیسٹ‘‘ پر اخبار بلٹز، جون ۱۹۸۶ نے تبصرہ کیا ہے۔ یہ تبصرہ یہاں نقل کیا جاتا

انسانی ذہن کے ساتھ آدمی کے عقیدے اور مذہبی لگاؤ میں بھی اضافہ ہو رہا ہے ۔ اس رجحان کو دیکھتے ہوئے اکثر لوگوں نے مذہب کا بیوپار شروع کر دیا ہے اور روحانیت کی تلاش کو توہم پرستی میں بدلنے کا بیڑہ اٹھارکھا ہے ۔ اس منفی ماحول میں کچھ حضرات انسان کی روحانی ضرورتوں کو معقول طریقے سے پورا کرنے کی کوشش بھی کر رہے ہیں تاکہ قلب کی پاکی کے ساتھ ذہن بھی روشن ہو جائے ۔ اس سلسلہ میں مولانا وحید الدین خاں کا نام سر فہرست ہے ۔ وہ اپنے تیز مشاہدہ اور سلیس تحریر کے ذریعہ مذہب کی تبلیغ اس طرح کرتے ہیں کہ دنیا دار سے دنیا دار آدمی بھی ان کی باتوں اور دلائل کو ماننے پر مجبور ہو تا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں یہ خوشگوار فرض انجام دیتے ہیں مگر ان کی بات ان کے دل کو بھی لگتی ہے جو روایتی طور پر اسلام کے پیروکار نہیں ہیں۔ اسی نیک کام کو آگے بڑھانے اور زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچانے کے لیے وحید الدین خاں صاحب اپنی مستقل تصنیفات کے علاوہ انگریزی اور اردو میں ماہوار الرسالہ تو پیش کرتے ہی رہے ہیں اب انھوں نے کیسٹ کے ذریعہ بھی یہ کام شروع کیا ہے ۔ یہ کیسٹ جو ۲۵ روپے میں آتا ہے

ہر مہینہ آتا ہے۔ اس کی ششماہی اور سالانہ خریداری کا انتظام بھی ہے۔ مولانا کی پُر تاثیر آواز میں اور کسی تکلف اور تصنع کے بغیر اس طرح پیش کیے جاتے ہیں کہ ایک بار سن لیجیے تو پورا سنے بغیر چارہ نہیں۔ مارشل لک لوہاں نے پتہ نہیں کس ترنگ میں یہ کہہ دیا تھا کہ الیکٹرونک کی ترقی کے ساتھ چھپا ہوا لفظ مر جائے گا۔ مگر مولانا کے تبلیغی کیسٹ کو سننے کے بعد یہ کہنا پڑتا ہے کہ سائنسی ایجادات سے ترسیل و ابلاغ کا زیادہ سے زیادہ مفید کام لیا جا سکتا ہے۔ البتہ اس کا انحصار استعمال کرنے والے کے حوصلہ اور نیت پر ہے۔ ہے مولانا تحریر یا کیسٹ کے ذریعہ جو خدمت بھی کر رہے ہیں خلوص اور انسانیت کے جذبہ سے کر رہے ہیں۔ اس لیے جو لوگ اپنے دل میں انسانیت کی شمع جلائے رکھنا یا جلا نا چاہتے ہیں انہیں مولانا کی تحریر اور تقریر (کیسٹ) سے فی الفور استفادہ کرنا چاہیے۔ الرسالہ کے مضامین کثرت سے لوگوں کی زبانوں پر آ کر بالواسطہ طور پر پھیل رہے ہیں۔ صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے مدرسہ کے شیخ الحدیث اپنی تقریر وں میں آپ کی تصانیف کے اقتباسات پورے حوالے کے ساتھ نقل کرتے ہیں۔ میں نے ان سے آپ کی تازہ تصنیف " عظمت قرآن " کا انہوں نے کہا کہ فورا یہ کتاب منگوا کر مجھے دو۔ مجھے لیلہ القدر کے موضوع پر ۲۶ رمضان کو مسجد میں تقریر کرنا ہے۔ اس سے پہلے میں اس کتاب کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ اس موضوع پر کوئی نیا علمی مواد اسی کتاب میں مل سکتا ہے ۔ ( ۱۷ مئی ۱۹۸۶ ) دوسرے متعدد اخبارات کی طرح بمبئی کے کثیر الاشاعت اخبار " انقلاب " نے بھی الرسالہ کے مضامین چھاپنے کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ مضمون " اوروں کی زبانی " کے عنوان کے تحت نقل کیا جاتا ہے اور بہت دل چسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے ۔

جناب خالد بن عمر (دبئی) الرسالہ انگریزی پابندی کے ساتھ منگا کر پڑھتے ہیں۔ ان کا خط مورخہ 7مئی ۱۹۸۶ موصول ہوا ہے۔ اس میں وہ لکھتے ہیں :

" AL-RISALA " is worth reading even for non-Muslims"

Printed page