Al-Risala · August 1986

I always say the above to my selected friends.

Al-Risala, August 1986, pp. 45–47

By Maulana Wahiduddin Khan

-۷ جناب ضیاء الدین باباخانوف کا خط تا شقند (روس) سے موصول ہوا ہے ۔ اس خط پر

مئی ۱۹۸۶ کی تاریخ درج ہے اور اس میں ادارہ الرسالہ کو رمضان کے مہینہ کی مبارکباد دی گئی ہے۔ یہ خط ”النظارہ الدینیہ لمسلمی آسیا الوسطیٰ و قازاقستان“ کے پیڈ پر ہے جس کا صدر دفتر تاشقند میں ہے۔ ہمارے یہاں سے ان کو الرسالہ نہیں بھیجا جا رہا ہے مگر خط پر نہایت صحت کے ساتھ وہ پتہ درج ہے جو انگریزی الرسالہ میں ہوتا ہے۔ اندازہ ہوتا ہے کہ انگریزی الرسالہ کو اللہ تعالیٰ روس کے حدود کے اندر بھی پہنچارہے ہیں۔ اسلامی مرکز کی کتابیں خدا کے فضل سے ہر طبقہ میں مقبول ہو رہی ہیں۔ اس سلسلہ میں ایک خط یہاں نقل کیا جاتا ہے : ”آپ کی لکھی کتاب ’اللہ اکبر‘ پڑھی۔ دنیا کے عجائبات دیکھ کر اس میں کھو جانے والے سب ہی ہیں لیکن عجائبات کو دیکھ کر ان میں نہ کھوتے ہوئے خدا میں کھو جانا خدا کو پالینا ہے۔ انسان سے ہے جو بڑا کارِ خیر ہے۔ وہ گنے کی گنڈیریوں کو چوستا ہے اور گانٹھوں کو کاٹ کر پھینک ساہتیہ اور وگیان میں دھیرے دھیرے چھپی نافرمانیاں شروع ہو چکی تھیں۔ جو آگے چل کر شاید ناستکتا کی شکل لے لیتی۔ آپ کی تیکھی نظر سے وہ نہ چھپ سکی۔ ایسی سب گانٹھوں کو آپ نے اس کتاب میں اکٹھا کر کے ان کو سب سے زیادہ رسیلا بنا دیا۔ گنے کے کھانے والوں کو لطف آگیا اور منہ سے نکل پڑا : اللہ اکبر کیا ذائقہ ہے ان گنڈیریوں میں جن کو ہم پھینکے چلے جا رہے تھے۔ اس طرح کی اللہ کی تعریف میں ریت سے تیل نکالنے والی یہ پہلی بے مثال کتاب ہے ۔ اس کی ہر سطر اور ہر سطر کا ہر لفظ تسبیح کے چھوٹے بڑے موتی ہیں۔ مالا پھیرنے والا خود کی آخرت پر نظر رکھتا ہے۔ یہ وہ مالا ہے جس نے دنیا کو آخرت سے جوڑ دیا۔ ہرے درختوں میں سے پے پیکے کو نیل پتے پھول پھل سب نے نکلتے سوکھے درخت لہلہا اٹھیں یہ اس کتاب کا کمال ہے۔ ہر دین والا سب سے پہلے اللہ والا ہے۔ اللہ والا ہری ڈال ہے۔ ہری ڈال مرنا جانتی ہے۔ پیلی ہوتی ہے۔ اس کو پڑھ کر بے دین با دین ہو گیے اگر یہ کتاب ہندی میں آجائے تو ہزاروں بھولے بھٹکوں کو خدا کے انکار سے بچایا جا سکتا ہے۔ (پریم نارائن گپتا ایڈوکیٹ، بھوپال)

الرسالہ انگریزی خدا کے فضل سے باہر کے ملکوں میں پھیل رہا ہے۔ اس سلسلہ میں مختلف علاقوں سے خطوط آتے رہتے ہیں۔ ایک خط (۱۲ رجب ۱۴۰۶ ھ) نایجیریا سے موصول یہ پورا خط اگلے صفحہ پر نقل کیا جا رہا ہے ۔

Sa'adatu D Aiyu Nigerian Television Authority 12 Rajab 1406 AH C-29 Nizamuddin West New Delhi 110 013 I have had the unmistakably golden opportunity of coming across an issue of your publication AL-RISALA, March 1986, No 26 and I am highly well impressed. It was quite a rare experience to see such correct thought and belief in such Islam- ically profound, yet appealingly modern garb. It is indeed a decisive step in the cause of making Islam what is meant to be a universal religion. I prey to Allah for our continued enligh- tenment and guidance on His way. I would please like to know the full details: its history, base, distribution, scope, programmes, plans and names of any other publications you might have besides the "Introduction to Islam Series". I would indeed like to join hands in the noble cause with you there but I would first of all like to know how I could subscribe to obtain copies for I know they will help me in my own efforts which I am currently making on some muslim and non-muslim brothers and sisters who are currently in the process of experiencing the light through my humble self. Your publications - AL-RISALA and the "Introduction to Islam series" would go a long way in comple- menting my own various efforts. Please acquaint me with all necessary and relevant information without delay. Yours in God, (Mrs) Sa'adatu D. Aliyu (NYSC)

Printed page