Not better, but different.
Al-Risala, September 1986, pp. 11–14
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک ڈاکٹر اپنے مریض سے کہتا ہے کہ ___ "آنکھ تمہارے جسم کا نہایت نازک حصہ ہے تم اپنی آنکھ کے ساتھ وہ معاملہ نہیں کر سکتے جو ، مثال کے طور پر ، تم اپنے ناخن کے ساتھ کرتے ہو۔ اپنی آنکھ کے معاملہ میں تم کو زیادہ محتاط رویہ اختیار کرنا پڑے گا"۔ ڈاکٹر کی اس ہدایت کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کو کم تر درجہ دے رہا ہے ۔ بلکہ وہ ناخن کے مقابلہ میں آنکھ کے فرق کو بتا رہا ہے ۔
عورت اور مرد کے بارے میں اسلام میں جو قوانین ہیں وہ سب اسی اصولی حقیقت پر مبنی ہیں کہ عورت اور مرد دو الگ الگ صنفیں ہیں۔ تخلیقی اعتبار سے دونوں کے اندر قطعی فرق پائے جاتے ہیں۔ اس لیے خاندانی اور سماجی زندگی میں دونوں کا دائرہ عمل ایک نہیں ہو سکتا۔ جب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی بناوٹ کے اعتبار سے فرق ہے تو ان کے درمیان عمل کے اعتبار سے بھی لازمًا فرق
عورت کے بارے میں یہی تمام آسمانی مذاہب کا نقطہ نظر رہا ہے۔ پچھلی ہزاروں برس کی تاریخ میں کبھی اس پر شبہ نہیں کیا گیا۔ دورِ جدید میں آزادی نسواں کی تحریک (Women’s Liberation Movement) نے پہلی بار دنیا میں یہ ذہن پیدا کیا کہ عورت اور مرد دونوں یکساں ہیں اور دونوں کو ہر میدان میں بالکل یکساں کام کے مواقع ملنے چاہئیں۔
یہ تحریک سب سے پہلے برطانیہ میں اٹھارھویں صدی میں اٹھی۔ اور اس کے بعد پورے یورپ اور امریکہ میں پھیل گئی ۔ میری وولسٹون کرافٹ (Mary Wollstonecraft) Wollstonecraft)نے1792 میں ایک کتاب چھاپی جس کا نام تھا :
A Vindication of the Rights of Women اس کتاب کا خلاصہ یہ تھا :
Women should receive the same treatment as men in edu- cation, work opportunities, and politics and that the same moral standards should be applied to both sexes (X/733). تعلیم ، روزگار اور سیاست کے میدان میں عورتوں کو وہی مواقع ملنے چاہئیں جو مردوں کو حاصل ہیں۔ ہی اخلاقی معیار ہونا چاہیے جو دونوں صنفوں پر منطبق کیا جائے۔
اس بات کو اتنے زور و شور کے ساتھ اٹھایا گیا کہ ہر طرف اس کا غلغلہ برپا ہو گیا۔ مرد اور عورت دونوں اس میں یکساں طور پر شریک تھے ۔ حتیٰ کہ عورت اور مرد کے درمیان نابابری کی بات کہ نا پس ماندگی کی علامت قرار پایا۔ بیسویں صدی کے آغاز تک یہ فکر ساری دنیا میں چھا چکا تھا۔ اب اسی کے مطابق قوانین بنائے گیے۔ اسی کے مطابق ہر شعبہ مردوں کی طرح عورتوں کے لیے کھول دیا گیا ،
مگر عملاً یہ تجربہ سراسر نا کام ثابت ہوا ہے ۔ تقریباً دو سو سالہ جدوجہد کے بعد بھی اب تک عورت کو مرد کے برابر کا درجہ حاصل نہ ہو سکا ۔ عورت آج بھی تمام شعبہ حیات میں اسی طرح پیچھے ہے جس طرح وہ آزادی نسواں کی تحریک سے پہلے پیچھے تھی ۔ اس تحریک کا عملی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہوا کہ عورت گھر سے باہر آگئی ۔ وہ ہر جگہ مردوں کے ساتھ چلتی پھرتی نظر آنے لگی۔ عورت نے اپنی نسوانیت کھودی مگر اس کی قیمت میں اس کو وہ چیز نہیں ملی جس کے لیے اس نے اپنی نسوانیت کھوئی تھی ـــ یعنی زندگی کے تمام شعبوں میں مردوں کے برابر مقام ۔
آزادی نسواں کی تحریک کی اس مکمل ناکامی نے دوبارہ لوگوں کو اس مسئلہ کی تحقیق پر آمادہ کیا۔ ساری دنیا میں خالص سائنسی انداز میں اس کا مطالعہ شروع ہو گیا ۔ آخر کار یہ ثابت ہوا کہ عورت اور مرد کے درمیان تخلیقی فرق ہے ۔ یہی تخلیقی فرق وہ اصل سبب ہے جس کی بنا پر عورت کو زندگی کے شعبوں میں مرد کے برابر درجہ نہ مل سکا ۔ عورت کے بارہ میں دینی نقطہ نظر کو جھوٹے فلسفوں نے مشتبہ بتایا تھا ، سائنس کے حقائق نے دوبارہ اس کو ثابت شدہ بنا دیا ۔
اب سوال یہ ہے جب یہ ثابت ہو گیا کہ عورت اور مرد کے بارہ میں دینی نقطۂ نظر ہی صحیح نقطۂ نظر ہے ، اس کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ آج بھی لوگ اسی پرانی بات کو دہراتے ہیں ۔ آج بھی اسلام پر یہ الزام لگایا جا رہا ہے کہ اس نے عورت کو کم تر درجہ دیا ہے ۔ ہندوستان میں حکومت کے خرچ پر یہ اسکیم شروع کی گئی ہے کہ مجاہدین آزادی (Freedom fighters) کی آوازوں کو ریکارڈ کر لیا جائے تاکہ آنے والی نسلیں ان کے خیالات کو ان کی اپنی آواز میں سن سکیں ۔ اس سلسلہ میں مسٹر ایس ایم جوشی کے انٹرویو کا خلاصہ اخبارات میں آیا ہے جن کی عمر ریکارڈنگ کے وقت ۸۲ سال ہو چکی تھی ۔ انھوں نے اپنے انٹرویو میں جو باتیں کہیں ان میں سے ایک اخبار ٹائمٹس آف انڈیا ۶ اپریل ۱۹۸۶) کے الفاظ میں یہ تھی : The Shariat of the Muslims and the Manusmruti of the Hindus — followed by both the communities for centuries — were equally and socially reactionary.. مسلمانوں کی شریعت اور ہندوؤں کی منوسمرتی جس کو دونوں فرقے صدیوں سے اختیار کیے ہوئے یکساں طور پر اور سماجی طور پر رجعت پسند ہیں ۔
اس طرح کی باتیں جو آج بھی بڑے پیمانے پر کہی جا رہی ہیں ، اس پر جھنجھلانے کے بجائے ہمیں اس کے سبب پر غور کرنا چاہئے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے فرق کے بارے میں جدید نظریہ ابھی تک صرف علمی تحقیق ہے ، وہ ابھی تک فکری انقلاب نہ بن سکا۔ اس دنیا کا قاعدہ ہے کہ کوئی نقطۂ نظر خواہ وہ کتنا ہی مدلل ہوا، وہ لوگوں کے درمیان اس وقت تک عمومی قبولیت حاصل نہیں کرتا جب تک اس کو فکری انقلاب کا درجہ نہ دے دیا جائے ۔
پچھلے زمانہ میں جو انبیاء آئے ، ان میں سے ہر نبی توحید کو دلائل کے اعتبار سے ثابت شدہ بناتا رہا۔ اس کے باوجود یہ ممکن نہیں ہوا کہ شرک کا خاتمہ ہو اور توحید کو عمومی غلبہ حاصل ہو جائے ۔ یہ دوسرا کام صرف اس وقت ہو جب کہ پیغمبر اسلام اور آپ کے اصحاب اٹھے اور اللہ کی خصوصی مدد کے ذریعہ توحید کی حقانیت کو فکری انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیا ۔
اسی طرح موجودہ زمانہ میں بھی ایک فکری انقلاب درکار ہے۔ علمِ جدید نے اس کے حق میں استدلالی بنیاد فراہم کر دی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ اہل دین اس مہم کو آگے بڑھائیں اور اس کے حق میں ضروری جدوجہد کر کے اس کو عالمی فکری انقلاب کے درجہ تک پہنچا دیں۔ اگلی سطروں کا مقصد یہی ہے کہ لوگوں کو اس تاریخی جدوجہد کے لیے اٹھنے پر آمادہ کیا