Al-Risala · September 1986

فطرت کا فیصلہ

Al-Risala, September 1986, pp. 15–17

By Maulana Wahiduddin Khan

مغربی تہذیب کے مخصوص نظریات میں سے ایک نظر یہ مرد اور عورت کی مساوات تھا۔ دنیا میں پچھلے سو سال سے اس نظریہ کا تجربہ کیا جارہا ہے۔ مگر یہ تجربہ سراسر ناکام ثابت ہوا ہے کسی بھی شعبہ میں یہ ممکن نہ ہو سکا کہ مرد اور عورت کو برابر کا درجہ دیا جائے۔ قانون کے اعتبار سے برابر کا درجہ پایا کے باوجود عملی طور پر دونوں سماج کے اندر برابر کا مقام حاصل نہ کر سکے۔ اس فرق کے بارہ میں ابتداً یہ کہا گیا کہ یہ فرق ماحول (Environment) کا پیدا کردہ مگر جدید تحقیقات اس مفروضہ کو سراسر بے بنیاد ثابت کر رہی ہیں۔ مختلف شعبوں میں تحقیقات نے ثابت کیا ہے کہ یہ فرق حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے۔ یہ تمام تر پیدائشی ہے نہ کہ تاریخی۔ نیو یارک کے نیوز ویک (۱۸ مئی ۱۹۸۱) میں ایک مفصل رپورٹ شائع ہوئی ہے جس میں مختلف امریکی محققین کے نتائج تحقیق درج ہیں۔ ان میں مرد بھی ہیں اور عورتیں بھی۔ مرد کی بناوٹ کا گہرا مطالعہ کرنے کے بعد محققین اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ مرد کا مسائل کو حل کرنے میں زیادہ بہتر ثابت ہونا، عورتوں کا جذباتی طور پر سوچنا، لڑکیوں کے مقابلہ میں لڑکوں کا زیادہ بہادرانہ انداز سے کھیلنا، ریاضیات میں مردوں کا زیادہ برتر رہنا، یہ سب دونوں صنفوں کے درمیان حیاتیاتی فرق کا نتیجہ ہے نہ کہ محض ماحول کا۔

محققین کا خیال ہے کہ قائدانہ خصوصیتیں (Leadership capacities) مردوں میں نسبتاً زیادہ ہوتی ہیں۔ جدید تحقیقات لوگوں کو اس عقیدہ کی طرف لے جارہی ہیں کہ سابقہ خیال کے برعکس پرورش (Nurture) نہیں بلکہ فطرت (Nature) وہ اصل عامل ہے جس نے مرد اور عورت کے عمل میں فرق پیدا کیا ہے۔ عمومی طور پر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ لڑنے نے بھڑنے کی صلاحیت عورتوں کے مقابلہ میں مردوں کے اندر زیادہ ہوتی ہے۔ محققین کا خیال ہے کہ دونوں کے ہارمون (Harmone) جدا جدا ہوتے ہیں اور وہی دونوں کے درمیان فرق پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ کچھ محققین نے نر کے ہارمون Harmone testosterone کو مادہ کے جسم میں داخل کیا تو مادہ کے اندر نر کی خصوصیات محسوس کی جانے لگیں۔ کچھ لڑکیوں میں پیدائش سے پہلے مردانہ ہارمون داخل کر دئے گئے۔ چنانچہ پا گیا کہ پیدائش کے بعد ان میں گڑیوں سے کھیلنے کا شوق بہت کم تھا، ان میں لڑکوں کی طرح جارحیت کا مزاج زیادہ پایا گیا۔

محققین نے پایا ہے کہ ہارمون خود دماغ کے ڈھانچے کو بدل دیتے ہیں۔ نر اور مادہ کے دماغ (Brain) میں فرق پایا گیا ہے اور اس کا سبب دونوں کے ہارمون کا فرق ہے۔ ان تحقیقات کے ذریعہ دونوں صنفوں کے درمیان ناقابل انکار فرق (Undeniable difference) موجود ہے۔ یہ تحقیقات واضح طور پر ثابت کر رہی ہیں کہ عورت اور مرد کی تخلیق میں فرق ہے اور جب دونوں میں فرق ہے تو دونوں کا دائرہ عمل الگ الگ ہونا چاہئے ۔ مگر جو لوگ لمبی مدت تک پچھلے خیال کے ساتھ وابستہ رہے ہیں وہ ابھی اس کو ماننے کے لئے تیار نہیں۔ ایک مغربی عالم نے کہا: Whether these physiological differences destine men and women for separate roles in society is another and far more delicate question. کیا یہ عضویاتی فرق مردوں اور عورتوں کے لئے سماج کے اندر الگ الگ کردار مقرر کرتے ہیں، یہ ایک علیحدہ اور زیادہ پیچیدہ سوال ہے (ریڈرز ڈائجسٹ اکتوبر ۱۹۸۱)

اس سے پہلے امریکہ کے ایک اور ہفتہ وار میگزین ٹائم (۲۰ مارچ 1972) نے اس موضوع پر تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ میگزین کے وسیع ادارتی اسٹاف میں سے ۳۰ تعلیم یافتہ خواتین کو مقرر کیا گیا کہ وہ ”جدید امریکہ میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں۔ انھوں نے ہر میدان میں اس کا جائزہ لیا اور ہر شعبہ کے ماہرین سے مدد لی۔ اس کے بعد انھوں نے ایک مفصل رپورٹ تیار کی جو خصوصی نمبر کے طور پر مذکورہ میگزین میں شائع ہوئی۔ راقم الحروف نے اس رپورٹ کا ایک خلاصہ اسی زمانہ میں الجمعیتہ و بجلی (۲ نومبر ۱۹۷۷) میں شائع کیا تھا۔

ٹائم کی اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سو سالہ جد وجہد کے باوجود امریکی عورت ابھی تک اسی مقام پر ہے جہاں وہ سو سال پہلے تھی۔ مرد ابھی تک جدید امریکہ میں جنسِ غالب کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی وجہ قدیم نظریہ کے مطابق سماجی نہیں ہے بلکہ تمام تر حیاتیاتی اور نفسیاتی ہے۔ آزادی نسواں کی تحریک سو سالہ تجربہ کے بعد اب اس رائے پر پہنچی ہے کہ حیاتیاتی حقائق عورت کو مرد کے برابر مقام دینے میں رکاوٹ ہیں۔ یہ قدرت کا ظلم ہے نہ کہ سماج کا ظلم۔ اس لئے اب ان کا مطالبہ یہ ہے کہ سائنس آف ایوجینیکس کے ذریعہ رحم مادر میں جینیٹک کوڈ کو بدل دیا جائے اور اس طرح نیا حیاتیاتی نظام وجود میں لایا جائے جس میں نئے قسم کی عورتیں پیدا ہوں اور مردوں کی برتری ختم ہو کر یکساں صنفی صلاحیت کا سماج بن سکے۔ یہ تجویز ایسی ہی ہے جیسے کوئی

محض بطور خود یہ نظریہ قائم کر لے کہ مچھلی اور بکری دونوں ایک ہی صنف سے تعلق رکھتے ہیں، اس لیے مچھلی کو بھی دودھ دینا چاہیے جس طرح بکری دودھ دیتی ہے ۔ اور جب کوشش کے باوجود مچھلی دودھ نہ دے تو وہ کہے کہ ہم میڈیکل سائنس کے ذریعہ نئی قسم کی مچھلیاں پیدا کریں گے جو بکری کی مانند دودھ دینے لگیں ۔

Printed page