Al-Risala · January 1986

اسلوب کلام

Al-Risala, January 1986, pp. 41–43

By Maulana Wahiduddin Khan

شاعری کی بنیاد تخیل پر ہے۔ تخیل میں کوئی خارجی چیز آدمی کی سوچ کی حد بندی کرنے کے لیے نہیں اسی لیے شاعر خیالی پرواز میں جو چاہتا ہے کہتا چلا جاتا ہے الم تراَنّھم فی کل واد یھیمون۔ اس کے برعکس سائنس کی بنیاد فطرت پر ہے۔ فطرت (Nature) ایک متعین حقیقت کا نام ہے۔ فطرت کی دنیا میں تمام واقعات انتہائی معلوم اور متعین اصولوں کی بنیاد پر ظہور میں آتے ہیں۔ ہے کہ سائنس داں کی زبان شاعر کی زبان سے بالکل مختلف ہوتی ہے۔ شاعر کو لفظوں کے انتخاب میں احتیاط کی ضرورت نہیں۔ اس کی فکری اڑان اس سے کچھ بھی کہلو آسکتی ہے۔ مگر سائنس داں انتہائی محتاط زبان استعمال کرنے پر مجبور ہے۔ وہ سختی کے ساتھ اس کا اہتمام کرتا ہے کہ اس کی زبان میں فنی صحت اور ریاضیاتی قطعیت موجود ہو۔

جدید سائنس کا ظہور یورپ میں ہوا اور وہیں اس کی ترقی ہوئی۔ پچھلے کئی سو سال کا زمانہ ایسا ہے جب کہ مغربی دنیا میں سائنس کو سب سے زیادہ غلبہ حاصل رہا ہے۔ مغرب کی جدید تہذیب مکمل طور پر سائنس کے زیر اثر بنی ہے۔ اسی کے اثر سے مغرب کی زبانوں میں محتاط اسلوب اور حقیقت نگاری کا انداز پیدا ہو گیا ہے۔

سائنس داں جس شعبۂ علم میں کام کرتا ہے اس کے عین تقاضے کے طور پر وہ ایسا کرتا ہے کہ اپنے خیالات کو محتاط زبان (Gaurded language) میں ظاہر کرتا ہے۔ جب مغربی انسان کے نزدیک سائنس کی اہمیت بڑھی تو اسی کے ساتھ قدرتی طور پر یہ ہوا کہ زبان میں وہی طرز پسند کیا جانے لگا جو سائنس دانوں کا اس طرح وہ زبان وجود میں آئی جس کو ہم نے محتاط زبان کا نام دیا ہے۔ محتاط زبان سے کیا مراد ہے اس کی وضاحت کے لیے چند مثال لیجیے :

ریمزے میکڈونلڈ (۱۹۳۷-۱۸۶۶) ایک برطانوی لیڈر تھے جو بعد کو وہاں کے وزیرِ اعظم بنے ان کو عوامی تقریروں کا خاص ملکہ تھا جس میں معنی کم اور الفاظ زیادہ ہوتے ہیں۔ ان کا تعلق انگلینڈ کی لیبر پارٹی سے تھا جو سرونسٹن چرچل کی حریف تھی۔ چنانچہ لارڈونسٹن چرچل نے ایک بار ریمزے میکڈونلڈ پر طنز کرتے ہوئے کہا :

وہ ایک ایسے آدمی ہیں جو اس بات کا خصوصی ملکہ رکھتے ہیں کہ الفاظ کی زیادہ سے زیادہ مقدار کو خیالات کی کم سے کم مقدار میں کھپا سکیں ۔

مولانا ابوالکلام آزاد کی مشہور کتاب آزادی ہند (India Wins Freedom) کا ایک باب منقسم انڈیا (Divided India) ہے۔ اس باب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ ۱۵ اگست ۱۹۴۷ کی صبح کو سو کر اٹھے تو ہندوستان آزاد ہو چکا تھا۔ مگر ہماری آزادی اسی کے ساتھ ہمارے لیے ایک المیہ دہلی میں آگ اور خون کا بازار گرم ہو گیا۔ مسلمان ہر طرف مارے جا رہے تھے اور ان کی جائدادیں تباہ کی جا رہی تھیں ۔

اس وقت سردار ولبھ بھائی پٹیل مرکزی حکومت میں وزیر داخلہ تھے۔ دہلی کے مسلمانوں کے اوپر ہر روز جو حملے ہو رہے تھے اس کی توجیہہ سردار پٹیل نے یہ پیش کی کہ یہ ہندوؤں اور سکھوں کی طرف سے بچاؤ کا اقدام ہے۔ انھوں نے کہا کہ دہلی کے مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی سے خطرناک ہتھیار برآمد ہوئے دہلی کے مسلمانوں نے یہ ہتھیار اس لیے جمع کیے تھے کہ وہ ہندوؤں اور سکھوں پر حملہ کریں ۔ اور سکھ پہل نہ کرتے تو مسلمان ان کو تباہ کر دیتے ۔

پولیس نے قرول باغ اور سبزی منڈی کے علاقوں میں مسلمانوں کے گھروں کی تلاشی لی تھی اور کچھ ہتھیار برآمد کیے تھے۔ سردار پٹیل کے حکم سے یہ ہتھیار گورنمنٹ ہاؤس لائے گئے اور ہمارے معائنہ کے لیے کیبنٹ روم کے پاس ایک چیمبر میں رکھے گئے۔ جب ہم لوگ جمع ہوئے تو سردار پٹیل نے کہا کہ ہم کو سب سے پہلے چیمبر میں چلنا چاہیے اور وہاں مسلم گھروں سے برآمد کیے ہوئے ہتھیاروں کو دیکھنا چاہیے۔ ہم وہاں پہونچے تو ہم نے دیکھا کہ میز کے اوپر کئی درجین چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔ یہ سبزی کاٹنے کی یا قلم بنانے کی یا جیسی چھریاں تھیں ۔ ان میں بہت سی زنگ آلود تھیں۔ کتنوں کا دستہ ٹوٹا ہوا تھا۔ معمولی قسم کے لوہے کے چھڑ یا لوہے کے ٹکڑے تھے۔ کچھ ٹوٹے ہوئے پانی کے پائپ تھے۔ سردار پٹیل کے مطابق یہ وہ ہتھیار تھے جن کو دہلی کے مسلمانوں نے اس لیے جمع کیا تھا تاکہ وہ ہندوؤں اور سکھوں کا خاتمہ کر سکیں۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن آزاد ہندوستان کے پہلے گورنر جنرل) نے

Abul Kalam Azad, India Wins Freedom, Orient Longmans, Bombay, 1959, p. 215 وہ لوگ جنہوں نے ہر سامان جمع کیا تھا ان کا فوج کے نظر یہ بڑا عجیب ہو گا اگر انھوں نے سمماک اسد کے ذریعے ا ہے ۔ دہلی کے شہر پر قبضہ کیا جا سکتا ہے ۔

Printed page