Al-Risala · September 1986

فطرت سے جنگ

Al-Risala, September 1986, pp. 17–19

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی ڈاکٹر کو ایک روز خیال آجائے کہ منہ کا مقام چہرہ پر نہیں بلکہ پیٹ پر ہونا چاہیے اور اس کے بعد وہ آپریشن کے ذریعہ منہ کو چہرہ سے ہٹا کر پیٹ پر منتقل کرنا شروع کر دے، تو دنیا اس کی بیوقوفی پر ہنسے گی۔ کیوں کہ فطرت نے کسی چیز کا جو مقام متعین کر دیا ہے وہاں سے اس کو ہٹایا نہیں جاسکتا۔ ہماری کامیابی یہ ہے کہ ہر چیز کو اس کے مقام پر رکھ کر معاملہ کریں۔ نہ کہ خود ساختہ نظریہ کے تحت اشیاء کی ترتیب بدل کر ایک نیا نقشہ بنانے کی مہم شروع کر دیں۔

اسی تخئیل پسندی کی ایک مثال عورت کا مسئلہ ہے۔ جدید تہذیب نے زندگی کا نیا نقشہ بنانا شروع کیا تو اس میں اس کا ایک نعرہ یہ تھا کہ عورت اور مرد کے درمیان کامل مساوات ہونی چاہیے ۔ خوش نما تخئیل کو وجود میں لانے کے لیے خاندان اور معاشرت کا سارا ڈھانچہ الٹ پلٹ دیا گیا۔ میں جو چیز حاصل ہوئی وہ یہ کہ عورت گھر سے باہر تو آگئی ، مگر عملی زندگی میں وہ مرد کی ہم سر نہ ہو سکی۔ اس کی واحد وجہ یہ تھی کہ یہاں فطرت نے انسانی تخئیل کا ساتھ نہیں دیا۔

ایک روسی سائنس داں انتون نملوف جو خواہش کی حد تک خود بھی عورت اور مرد میں کامل مساوات دیکھنا چاہتا ہے، اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ حیاتیات میں ہماری اس خواہش کے لیے بنیاد موجود نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ عملاً یہ چیز اب تک حاصل نہ ہو سکی۔

وہ سائنس کے تجربات اور مشاہدات پیش کرتے ہوئے لکھتا ہے :

” آج کل اگر یہ کہا جائے کہ عورت کو نظام تمدن میں محدود حقوق دیئے جائیں تو کم سے کم آدمی اس کی تائید کریں گے ، ہم خود اس تجویز کے سخت مخالف ہیں، مگر ہمیں اپنے نفس کو یہ دھوکا نہ دینا چاہیے کہ مساوات مردوزن کو عملی زندگی میں قائم کرنا کوئی سادہ اور آسان کام ہے۔ دنیا میں کہیں بھی عورت اور مرد کو برابر کہ دینے کی اتنی کوشش نہیں کی گئی ، جتنی سوویت روس میں کی گئی ہے۔ کسی جگہ اس باب میں

اس قدر غیر متعصبانہ اور فیاضانہ قوانین نہیں بنائے گئے۔ مگر اس کے باوجود واقعہ یہ ہے کہ عورت کی پوزیشن خاندان میں بہت کم بدل سکی ہے “ (صفحہ ۷۹)

"اب تک عورت اور مرد کی نامساوات کا تخیل، نہایت گہرا تخیل، نہ صرف ان طبقوں میں جو ذہنی حیثیت سے ادنی درجے کے ہیں، بلکہ اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ سوویت طبقوں میں بھی جما ہوا ہے۔ عورتوں میں اس تخیل کا اتنا گہرا اثر ہے کہ اگر ان کے ساتھ ٹھیک ٹھیک مساوات کا سلوک کیا جائے تو وہ اس کو مرد کے مرتبے سے گرا ہوا سمجھیں گی۔ بلکہ اسے مرد کی کمزوری اور نامردی پر محمول کریں گی۔ اگر ہم اس معاملہ میں کسی سائنس داں، کسی مصنف، کسی طالب علم، کسی تاجر یا کسی صد فیصد کمیونسٹ کے خیالات کا تجسس کریں تو بہت جلد یہ حقیقت منکشف ہو جائے گی کہ عورت کو وہ اپنے برابر کا نہیں سمجھتا۔ اگر ہم زمانہ حال کے کسی ناول کو پڑھیں، خواہ وہ کیسے ہی آزاد خیال مصنف کا لکھا ہوا ہو، یقیناً اس میں ہم کو کہیں نہ کہیں ایسی عبارتیں ضرور ملیں گی جو عورت کے متعلق اس تخیل کی جیتی جاگتی کھا جائیں گی۔ عورت کو مساوات کا درجہ نہ ملنا کوئی وقتی اور عملی خرابی نہیں بلکہ اس کی وجہ حیاتیات تک چنانچہ مصنف لکھتا ہے :

"اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں انقلابی اصول ایک نہایت اہم صورت واقعی سے ٹکراتا ہے۔ حقیقت سے کہ حیاتیات (Biology) کے اعتبار سے دونوں صنفوں کے درمیان مساوات نہیں ہے اور دونوں پر یکساں بار نہیں ڈالا گیا ہے “ ہے‘‘۔ Anton Nemilov, The Biological Tragedy of Woman, فطرت کی خلاف ورزی کا نتیجہ یہی نہیں ہوتا کہ وہ چیز عملاً حاصل نہیں ہوتی۔ بلکہ یقینی طور پر اس کی وجہ سے کئی نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ فطرت نے کسی چیز کو جہاں رکھا ہے وہی اس کی اصل اور جب کسی چیز کو اس کے واقعی مقام سے ہٹایا جائے تو اس کے نتیجہ میں خرابی کا پیدا ہونا

یہی چیز عورت کے معاملہ میں ہوئی۔ عورت کو مرد کے مساوی بنانے کے لیے گھر سے باہر نکالا گیا۔ اس سے یہ تو نہیں ہوا کہ عورت فی الواقع مرد کے مساوی ہو جاتی۔ البتہ اس کو زندگی کے ہر موڑ پر مردوں

کے ساتھ کھڑا کر دینے کا انجام یہ ہوا کہ فواحش کا سیلاب امڈ آیا۔

مذکورہ بالا مصنف لکھتا ہے :

"سیمی بات تو یہ ہے کہ تمام عمال (Workers) میں صنفی انتشار (Sexual anarchy) کے آثار نمایاں ہو چکے ہیں۔ یہ ایک نہایت پر خطر حالت ہے جو سوشلسٹ نظام کو تباہ کرنے کی دھمکی دے رہی ہر ممکن طریقہ سے اس کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ کیوں کہ اس محاذ پر جنگ کرنے میں بڑی مشکلات ہیں۔ میں ہزارہا ایسے واقعات کا حوالہ دے سکتا ہوں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہوانی بے قیدی (Sexual licentiousness) نہ صرف نا واقف لوگوں میں بلکہ طبقہ عمال کے نہایت اعلیٰ تعلیم یافتہ اور عقلی حیثیت سے ترقی یافتہ افراد میں بھی پھیل گئی ہے ۔ (۳-۱۰۲) روسی مصنف نے یہ بات پچاس سال پہلے کہی تھی ۔ مگر بعد کے سالوں نے اس کی مزید تصدیق کی ہے۔ اس کے الفاظ آج مزید اضافہ کے ساتھ جدید معاشرہ کے لیے صحیح ہیں وہ کسی اعتبار سے غلط ثابت نہیں ہوئے ہیں۔ جدید انسان نے عورت اور مرد کے قدیم تصور کو دقیا نوسی قرار دیا۔ اور عورت اور مرد کے درمیان صنفی مساوات قائم کرنے کی کوشش کی۔ مگر یہ فطرت (Nature) سے جنگ کرنا تھا۔ حقیقت واقعہ سے ٹکرا نا تھا ، اس کا نتیجہ الٹا ہوا۔ اس کے نتیجہ میں دونوں صنفوں کے درمیان مساوات کا مقصد تو حاصل نہیں ہوا۔ البتہ اس مصنوعی کوشش کا یہ نقصان ہوا کہ معاشرہ کے اندر نئی نئی برائیاں پیدا ہو گئیں ۔

Printed page