اچھی بیوی بنو
Al-Risala, September 1986, pp. 21–22
By Maulana Wahiduddin Khan
فرینک بورمن Frank Borman ایک امریکی خلاب ہیں۔ انھوں نیز ایک ایسی خلائی کشتی میں پرواز کیا تھا جس میں ان کے علاوہ ایک خاتون خلاباز بھی سوار کرائی گئی تھی۔ مسٹر بورمن نے ایک بیان میں کہا : Having women on space-craft was okay except that it would be upsetting to put a male and a female too close together for a long time. خلائی کشتی میں عورت کو بٹھانا اچھا ہے۔ البتہ ایک عورت اور ایک مرد کو دیر تک اتنا زیادہ قریب رکھنا ابتری کا باعث ہوگا۔ مسٹر بورمن کے اس بیان نے مساوات مردوزن کے بہت سے علم برداروں کو بوکھلا دیا ہے۔ ایک امریکی خاتون نے اپنی پر جوش تقریر میں کہا :
" مسٹر فرینک بورمن کا وجود کہاں ہوتا اگر ان کے ماں اور باپ اکھٹا نہ ہوتے ہوتے " سائنسی تحقیقات نے عملی زندگی کے حقائق نے مساوات مردوزن کے قدیم تصور کو سخت جھٹکا پہنچایا ہے ۔ ایک امریکی خاتون مسز مارگن Marabel Morgan دو بچوں کی ماں ہیں۔ انھوں نے حال ہی ایک کتاب شائع کی ہے جس کا نام ہے: مکمل عورت (Total Woman)
اس کتاب میں انھوں نے اپنی امریکی بہنوں کو " خوش گوار از ازدواجی زندگی " کے لئے یہ سادہ گر بتایا ہے: Be nice to your husband, stop nagging him and understand اپنے شوہر کی اچھی رفیق بنو۔ اس کو ملامت کرنا چھوڑ دو، اس کی ضرورتوں کو سمجھو۔ یہ کتاب ایک سال سے بھی کم عرصہ میں تین ملین کی تعداد میں فروخت ہو چکی ہے۔ موصوفہ کے نزدیک مرد کی رفیق بننا عورت کی تکمیل ہے نہ کہ آزادانہ زندگی کا مالک بننا۔ (ٹائمس آف انڈیا ۔ ۸ فروری ۱۹۷۹) حقیقت یہ ہے کہ مکمل عورت وہ ہے جو اپنے شوہر کی مکمل رفیق بن سکے۔ ناکامی کا اعتراف امریکہ کی ایک ایکٹرس جین سیبرگ (Jean Seberg) نے اپنی پرکشش شخصیت کی وجہ سے غیر معمولی شہرت اور مقبولیت حاصل کی۔ امریکہ کے علاوہ یورپ میں بھی وہ ایک عرصہ تک لوگوں کی توجہ کا مرکز بنی رہی۔ اس نے قدیم انداز میں ایک " گھر " بسانے کے بجائے لاکھوں گھروں کے لئے سامانِ تفریح بننے کو ترجیح دیا۔ مگر اس کی موت کے بعد جب اس کی ڈائری پڑھی گئی تو اپنی ڈائری کی آخری سطروں میں اس نے لکھا تھا ۔
کاش میں اپنے گھر میں رہی ہوتی (ٹائمس آف انڈیا ۸ نومبر ۱۹۸۱)
کیسا عجیب تھا یہ کامیاب سفر جو بالآخر صرف ناکامی پر ختم ہوا ۔
خدا نے جس طرح اس دنیا کی مادی چیزوں کو خاص فطرت پر پیدا کیا ہے اور اسی فطرت پر قائم رہ کر کوئی چیز اپنا صحیح وظیفہ انجام دے پاتی ہے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ خدا نے مرد کو خاص فطرت پر پیدا کیا ہے اور اسی طرح عورت کو بھی خاص فطرت پر پیدا کیا ہے۔ وقت اپنی زندگی صحیح طور پر گزار سکتے ہیں جبکہ وہ خدا کی فطرت پر قائم رہیں۔ ہٹتے ہی وہ زندگی کے نقشہ میں اپنا مقام کھو دیں گے۔
عورت کی صلاحیتیں واضح طور پر مرد سے مختلف ہیں ۔ یہی اس بات کا ثبوت ہے کہ عورت کا دائرہ کار اور مرد کا دائرہ کار عمومی اعتبار سے یکساں نہیں۔ مرد کا دائرہ کار باہر ہے تو عورت کا دائرہ کار اندر ۔ مرد اپنے دائرہ کار میں زیادہ مفید بن سکتا ہے اور عورت اپنے دائرہ کار میں ۔ اگر دونوں اپنے دائرہ کار کو بدل لیں تو دونوں اپنی معنویت کو کھو دیں گے ۔ اپنے کو بے جگہ بنالیں گے۔