Al-Risala · September 1986

صرف مسائل پیدا ہوئے

Al-Risala, September 1986, pp. 22–24

By Maulana Wahiduddin Khan

امریکہ سے ایک ناول چھپا ہے جس کا نام ہے " اکیلی خاتون “ Harold Robbins. The Lonely Lady New English Library, London, 1976. pp. 448 اس ناول میں امریکہ کے ترقی یافتہ معاشرہ کی ایک کمزوری کو بے نقاب کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ عورت کی غیر شادی شدہ زندگی بالآخر ایک نا قابل برداشت تنہائی پر ختم ہوتی ہے۔ کہانی کے مطابق، ایک خوبصورت اور نوجوان امریکی خاتون فلمی دنیا کی چمک دمک (Glamour) سے متاثر ہوتی ہے۔ وہ شادی شدہ زندگی کو چھوڑ کر فلم ایکٹرس بن جاتی ہے۔ اس کی با کمال نسوانیت اس کی مدد کرتی ہے۔ وہ بہت جلد ترقی کی سیڑھیاں طے کرنے لگتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ ترقی کے آسمان پر پہنچ جاتی ہے ۔ دولت، شہرت، عزت اور چاہنے والوں کی بھیڑ ، ہر چیز با فراط اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ مگر ترقی کی آخری انتہا پر پہنچنا اس کو سکون نہیں دیتا ۔ اب وہ ایک تلخ حقیقت (Bitter Truth) کو دریافت کرتی ہے:۔

یہ کہ شہرت بالآخر ختم ہو جاتی ہے ۔ اور دوست بالآخر ساتھ چھوڑ دیتے ہیں جب کہ ایک عورت کو ان کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے یہ امریکی خاتون نہایت حسرت بھرے انداز میں کہتی ہے :

حقیقت یہ ہے کہ ایک عورت ہی اس بات کو جانتی ہے کہ اکیلا پن کیا ہے۔ ناول کا خلاصہ یہ ہے کہ عورت اکیلی نہیں رہ سکتی۔ کے ذریعہ بڑی بڑی کمائی کرنا اور اپنے لئے ایک خود مختار زندگی حاصل کرنا بظاہر بڑا پر کشش معلوم ہوتا ہے۔ مگر جب عورت کی عمر زیادہ ہوتی ہے ۔ جب اس کے ساتھیوں میں اس کے لئے کشش باقی نہیں رہتی تو وہ ایک ناقابل برداشت حادثہ سے دوچار

اس کے پاس دولت اور مادی ساز و سامان کا انبار ہوتا ہے۔ مگر وہی چیز نہیں ہوتی جس کی ایک عورت کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ یعنی زندگی کا چین ۔ اس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر وہ انسان نہیں ہوتا جو اس کے صبح و شام میں اس کا ساتھی بن سکے۔ وہ ایک ایسے آباد گھر کی مالک نہیں ہوتی جس کو وہ اپنا گھر سمجھے :

یہ ایک تنہائی ہے جو خود مختار زندگی سے برآمد ہوتی ہے ، ایک دیانت دارانہ فردیت ، ایک ایسے سماج میں جہاں بد دیانتی ہی سب سے بڑا نفع بخش سرمایہ ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ انسانی زندگی کا نظام بے حد نازک ترکیب کے ساتھ بنایا گیا ہے ۔ اس میں ادنی تبدیلی بھی صرف بربادی پر ختم ہوتی ہے ۔ جمادات اور نباتات کی دنیا کے لئے ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ کامیابی کا راز یہ ہے کہ فطرت کے بنائے ہوئے نظام سے انحراف نہ کیا جائے ۔ یہاں مطلوب نتیجہ تک پہنچنا اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کہ فطرت کے مقررہ ڈھانچہ کو قبول کیا جائے ۔ مگر وہی انسان جو جمادات اور نباتات کے معاملہ میں اس حقیقت کی مکمل پابندی کرتا ہے وہ خود اپنی زندگی کے معاملہ میں اس ابدی حقیقت کو بھول جاتا ہے۔

عورت اور مرد کے لیے فطرت کا بنایا ہوا نظام یہ ہے کہ وہ شادی شدہ زندگی گزاریں ۔ ان کی جسمانی ساخت ، ان کے نفسیاتی اور خاندانی مسائل ، ان کے اجتماعی رشتے سب اپنی درستگی کے لیے شادی شدہ زندگی کا تقاضا کرتے عورت کا آزاد اور خود مختار ہونا ، الفاظ کے اعتبار سے بظاہر بڑا خوبصورت معلوم ہوتا ہے مگر اس

کا عملی تجربہ اتنا ہی زیادہ بھیانک ہے۔

عورت اپنی جوانی کی عمر میں بڑی آسانی سے اس قسم کے خوش کن اور دل فریب نظریات کا شکار ہو جاتی ہے۔ مگر جب اس کی عمر زیادہ ہوتی ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا راستہ غلط تھا۔ علم اس کو صرف اس وقت ہوتا ہے جب کہ تلافی کا وقت نہیں ہوتا۔ اب اس کے لیے موجودہ دنیا میں جو چیز رہ جاتی ہے وہ صرف یہ کہ کتوں اور خرگوشوں کو پال کر مصنوعی طور پر ان سے دل بہلائے اور بالآخر حسرت اور مایوسی کے قبرستان میں جا کر سو رہے ۔

Printed page