Al-Risala · September 1986

لذتیت کا انجام

Al-Risala, September 1986, pp. 24–26

By Maulana Wahiduddin Khan

جان کینیڈی (۱۹۶۳ء - ۱۹۱۷ء) امریکہ کا ۳۵ واں صدر تھا۔ اس نے جیکولین کینیڈی سے شادی اس کے بعد جیکولین کینیڈی امریکہ کی خاتونِ اول کی حیثیت سے کافی مشہور ہوئی۔ امریکہ کی ایک خاتون مصنف کیٹی کیسی نے جیکولین کینیڈی کے بارے میں ایک کتاب شائع اس کتاب کا نام ہے۔ آہ جیکی(Jackie (Jackie Oh) یہ کتاب جیکولین کینیڈی کے نجی حالات کے بارے میں ہے جو کہ کسی وقت امریکہ کی خاتونِ اول (First Lady) تھی ۔

جیکولین قدرت سے ایک پرکشش نسوانی شخصیت لے کر پیدا ہوئی۔ اس کی اس پیدائشی خصوصیت نے جان کینیڈی کو متاثر کیا۔ جو امریکہ کی ایک اعلیٰ فیملی سے تعلق رکھتے تھے ۔ اس کی شادی جان کینیڈی سے ہو گئی۔ بعد کو جان کینیڈی امریکہ کے صدر منتخب ہوئے ۔ اس طرح جیکولین کینیڈی کو امریکہ میں وہ اعلیٰ ترین مقام حاصل ہو گیا جس کے آگے مزید برتری کا کوئی مقام نہیں ۔ جان کینیڈی ۶۰ ۱۹ میں امریکہ کے ۳۵ ویں صدر منتخب ہوئے تھے۔ مگر اس کے صرف تیسرے سال ۲۲ نومبر 1963 کو صدر کینیڈی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ۔ جیکولین کینیڈی جو اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ مشہور اور معز ز خاتون بن چکی تھی اچانک بے حیثیت ہو کر رہ گئی ۔ تاہم اس کی نسوانی کشش نے یونانی ارب پتی ارسٹاٹی اوناسس (۱۹۰۶ء - ۷۵۱۹) کو متاثر کیا۔ اس کی دوسری شادی اوناسس سے ہو گئی۔ اس وقت جیکولین کی عمر تقریباً 40 سال اور اوناسس کی عمر تقریباً ۶۰ سال تھی ۔ یہ شادی دونوں کے لیے خوش گوار ثابت نہ ہو سکی۔ تھوڑے دنوں کے بعد ہی دونوں الگ الگ رہنے لگے۔ یہاں تک کہ 1975میں طویل بیماری کے بعد اوناسس کا انتقال ہو گیا، جب کہ

جیکولین اس کے پاس موجود بھی نہ تھی۔

جیکولین کو ہر چیز ملی مگر اس کو خوشی نہ مل سکی۔ اس کی سوانح نگار کٹی کیلے کے الفاظ میں جیکولین نے خوشی حاصل کرنے کی بابت اپنی ناقابل علاج خواہش کو خرید کر حاصل کرنا چاہا۔ کی قیمت ۳ ہزار ڈالر فی گھنٹہ دینی پڑے۔ اس کے باوجود وہ خوشی حاصل نہ کرسکی: ---- an incurable desire to buy happiness, even if it meant spending as much in one hour as 3000 dollars. Jackie Oh: An Intimate Biography, By Kitty Kelley, Vikas, New Delhi, 1979, pp. 336 میریلین مونرو (Marilyn Monroe) امریکہ کی ایک انتہائی مشہور خاتون ہے۔ اولاً فوٹو گرافر کے ماڈل کی حیثیت سے اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے بعد وہ اپنی غیر معمولی نسوانی کشش کی بنا پر فلم کی دنیا کی ہیرو بن گئی۔ اس کو جنسی دیوی (Sex goddess) کہا جانے لگا۔ اس کی فلموں کو زبردست مقبولیت حاصل ہوئی۔ جہاں کہیں اس کا کوئی " شو " ہوتا تو بے شمار تماشائی اس کو دیکھنے کے لیے جمع ہو جاتے۔

میریلین مونرو کا آخری فلم بے جوڑ (The Misfits) تھا۔ فلم کا یہ عنوان گویا خود اس کی اپنی زندگی کا بھی عنوان تھا۔ وہ اپنے کو بے جگہ پا رہی تھی۔ انسانی سمندر کے درمیان وہ نفسیاتی طور پر تنہا ہو کر رہ گئی تھی۔ بظاہر اس کی ہنستی ہوئی تصویریں اخباروں اور رسالوں میں چھپتی مگر اندر سے وہ اپنے آپ کو مستقل طور پر افسردگی (Depression) میں محسوس کرتی تھی۔ آخر کار وہ اس نفسیاتی عذاب کو برداشت نہ کر سکی۔ ۵ اگست ۱۹۶۲ کو اس نے بیک وقت بہت سی گولیاں کھا کر خودکشی کرلی۔ موت کے وقت اس کی عمر صرف ۳۶ سال تھی ۔

اس قسم کی عورتوں کا عام حال یہ ہے کہ وہ اسٹیج پر خوش دکھائی دیتی ہیں مگر ان کا دل مستقل طور پر روتا ہے۔ ان کی زندگی بڑی مظلومی کی زندگی ہوتی ہے۔ وہ سب کی ہوتی ہیں مگر کوئی ان کا وہ دوسروں کو خوش کرتی ہیں مگر ان کو یہ احساس ستاتا رہتا ہے کہ کوئی نہیں جس کے ساتھ وہ اپنی خوشی کے لمحات گزار سکیں۔ مجلسی تقریبات میں بظاہر ان کی شخصیت ایک معمول شخصیت

دکھائی دیتی ہے مگر اپنی حقیقی دنیا میں وہ اپنے آپ کو بالکل خالی محسوس کرتی ہیں۔ زندگی آخر کار ایک غیر شاندار زندگی پر ختم ہو کر رہ جاتی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ تنہائی کی زندگی عورت کے مزاج کے سراسر خلاف ہے۔ عورت تنہائی کا تحمل نہیں کر سکتی۔ مگر مغربی تہذیب کا راستہ عورت کو آخر کار جہاں پہنچاتا ہے وہ یہی تنہائی کی اس کے برعکس اسلام عورت کو ایک ایسی زندگی کی طرف لے جاتا ہے جہاں وہ تنہا نہیں ہوتی، بلکہ ایک پورے خاندان کے ساتھ ہوتی ہے۔ اس سے یہ ثابت ہوا کہ اسلام کا طریقہ فطری طریقہ ہے اور مغربی تہذیب کا طریقہ غیر فطری طریقہ۔

Printed page