Al-Risala · September 1986

مجھ سے دور رہو

Al-Risala, September 1986, pp. 26–28

By Maulana Wahiduddin Khan

انڈین ایکسپریس (۱۴ مئی ۱۹۸۶ء) میں صفحہ ۱۷ پر ایک مغربی عورت کی تصویر ہے۔ میز کے پیچھے بیٹھی ہوئی ہے اور ایسی پریشان حال دکھائی دے رہی ہے جیسے کہ اس کا سب کچھ لٹ مگر یہ کوئی عام عورت نہیں۔ یہ دورِ جدید کی مشہور ترین ایکٹرس ایلز بتھ ٹیلر ہے۔ تصویر کے نیچے حسب ذیل الفاظ لکھے ہوئے ہیں :

ASKING FOR MONEY: Testifying before a Senate sub-committee Capitol Hill in Washington on Thursday actress Elizabeth Taylor pleads for more money to find a cure for the deadly AIDS disease. Indian Express (New Delhi) May 14, 1986 " ایڈز" کے لیے رقم۔ امریکی سینٹ کی ایک سب کمیٹی کے سامنے واشنگٹن میں ایکٹریس الزبتھ ٹیلر اپنا مسئلہ پیش کرتے ہوئے مزید رقم کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ وہ ایڈز کے مہلک مرض سے نجات حاصل کر سکے۔ " ایڈز" موجودہ زمانہ کا نا قابل علاج مرض ہے جو بے قید جنسی اختلاط کے نتیجہ میں پیدا اس مرض میں مبتلا شخص نہ صرف خود عجیب و غریب قسم کی تکلیفوں کا شکار ہو جاتا ہے بلکہ وہ متعدی بھی ہے۔ دوسرے لوگ ایسے شخص سے دور بھاگنے لگتے ہیں، ڈاکٹروں نے اعلان کیا ہے کہ ایڈز کے مریض سے جو شخص چھو جائے گا اس کو بھی ایڈز کا مرض لاحق ہو جائے گا۔ چنانچہ ٹیلر جیسی خواتین جن سے قریب ہو کر لوگ فخر محسوس کرتے تھے، اب وہ ایسی عورتوں سے دور بھاگ رہے ہیں

کہ کہیں ان کو بھی یہ مہلک مرض لاحق نہ ہو جائے ۔

کیسا عجیب ہے مغربی عورت کا یہ انجام ۔ وہ مساوی درجہ حاصل کرنے کی کوشش میں غیر مساوی درجہ تک پہنچ گئی ۔ آگے بڑھنے کی کوشش میں وہ انسانی قافلہ سے پیچھے چلی گئی ۔ شہرت بوجھ بن گئی فرانس کی سینما کی تاریخ میں جس خاتون نے سب سے زیادہ شہرت حاصل کی وہ ”بی بی“ (Brigitte Bardot) ہے۔ وہ ۱۹۳۴ میں پیدا ہوئی ۔ فلمی دنیا میں بعض اعتبار سے اس نے ۔ میر یلین مونرو اور مارلین ڈٹرچ سے بھی زیادہ بڑا مقام حاصل کیا ۔ جون آف آرك کے بعد وہ فرانس کی سب سے زیادہ شہرت یافتہ خاتون شمار ہوتی ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ ”بی بی“ کے ذریعہ یاہر کی جو دولت فرانس میں آئی وہ اس سے بھی زیادہ ہے جو مشہور رینالٹ (Renault) موٹر کمپنی کے ذریعہ فرانس میں آئی ۔ ٹونی کرالی نے ۱۹۵۸ کے آخر میں اندازہ لگایا تھا کہ اس کی تصویریں یورپ اور امریکہ کے جرائد کے صفحہ اول پر ۵۴۴۲۹۳ بار چھپ چکی ہیں ۔

” بی بی “ کی فلم پر فلم بنتی رہی ۔ اس کی مقبولیت اتنی بڑھی کہ بعض اوقات وہ اپنے گھر سے نکلنے میں صرف اس لیے کامیاب نہ ہو سکی کہ اس کے گھر کے باہر فوٹو گرافروں کی ناقابل عبور فوج کھڑی ہوئی تھی ۔ اس کے نام روزانہ اتنے زیادہ خطوط آتے تھے کہ ان کی منتخب تعداد کو پڑھنا بھی اس کے لیے نا ممکن تھا ۔

ان تمام ظاہری رونقوں کے باوجود اندر سے وہ سخت غیر مطمئن تھی حتیٰ کہ اس کی شہرت اس کے لیے ایک بوجھ بن گئی ۔ اس نے خودکشی کے ارادہ سے ایک رات بہت زیادہ مقدار میں خواب آور گولیاں کھالیں :

Worn out by her own fame, one night Brigitte swallowed an overdose of tranquillizers. تاہم وہ مرنہ سکی ۔ اس وقت بھی جب کہ وہ نازک حالت میں پیرس کے ایک اسپتال میں لے جائی جارہی تھی ، فوٹو گرافروں نے ایمبولنس کار کو زبردستی راستہ میں روکا تاکہ وہ اس کا

فوٹو لے سکیں ۔ "بی بی " کے بارے میں ایک رپورٹ میں اس کا تاثر بتایا گیا تھا کہ کیمرہ کے سامنے اس نے کبھی سکون محسوس نہیں کیا :

She never really felt at ease in front of the camera. ۳۹ سال کی عمر میں جب کہ وہ تقریباً پچاس کامیاب فلمیں بنا چکی تھی ، اس نے اچانک اپنا کیرئیر ختم کر دیا۔ وہ فلمی دنیا سے بالکل بے تعلق ہو گئی۔ اس نے اپنی شاندار رولس رائٹس کار فروخت کر دی اپنے مکان میں تنہا رہنے لگی جہاں وہ ایک معمولی انسان کی طرح خاموش زندگی گزار سکے :

She sold her Rolls-Royce and went to live alone in her house on the Riviera, "to cease to be considered a beautiful object and become a human being like any other," she said. حقیقت یہ ہے کہ گھر کے باہر کی دنیا میں ہیرو بننا اور ہر طرف شہرت حاصل کرنا عورت کی فطرت کے سراسر خلاف ہے ۔ عورت فطری طور پر خانہ پسند ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ مصنوعی سید الونس میں شہرت پانے والی عورتیں اپنے کیرئیر کے درمیان میں یا اس کے آخر میں خانہ نشیں ہو جاتی ہیں ۔ وقتی چمک دمک کے بعد بالآخر ان کو جہاں سکون ملتا ہے وہ ان کا گھر ہے نہ کہ ان کا باہر ۔

عورت کے بارہ میں اسلام کا قانون عورت کی اسی فطرت کی رعایت ہے نہ کہ عورت کے اوپر کوئی ظلم ۔ وہ مقام جہاں ایک عورت ناکام تجربہ کے بعد پہنچتی ہے ، اسلام چاہتا ہے کہ وہ اپنے آزاد ارادہ کے تحت خود اپنے انتخاب کے ذریعہ وہاں پہنچے ۔

Printed page