میدان عمل سے محرومی
Al-Risala, September 1986, pp. 28–30
By Maulana Wahiduddin Khan
مرد ہو یا عورت ہر ایک اپنے عمل کے لحاظ سے قیمت پاتا ہے ۔ عورت کو مرد کے مساوی قرار دے کر جب گھر سے باہر لایا گیا تو اس کی قیمت اس میں تھی کہ وہ ان تمام شعبوں کو سنبھال لے جن کو مرد روایتی طور پر سنبھالے ہوئے تھا ۔ یعنی وہ پائلٹ ، ڈرائیور ، انجینئر ، پروفیسر ، ایڈمنسٹریٹر ، پولیس آفیسر ، فوجی کمانڈر اور وغیرہ وغیرہ تمام حیثیتوں میں بالکل مرد کی طرح کام کرنے لگے ۔ مگر حیاتیاتی اعتبار سے عورت کے اندر یہ صلاحیت نہیں ۔ وہ ان شعبوں کو اس طرح سنبھال نہیں سکتی جس طرح مرد ان کو سنبھالے ہوئے ہے ۔
عورت جب مردانہ شعبوں کو سنبھال نہ سکی تو اب سوال یہ تھا کہ وہ کیا کرے ۔ چنانچہ وہ ان شعبوں میں جمع ہونے لگی جن میں وہ اپنی نسوانیت کے اعتبار سے قیمت پاسکتی تھی نہ کہ تمدنی کا ر کر دگی کے اعتبار سے ۔ مثلاً فلم ، ٹیلی ویژن ، تفریحی مجلس ، وہ اشتہاری صنعتیں جو عورت کی نسوانیت کو استعمال کرتی ہیں۔ مگر یہاں عورت کی دوسری کمزوری اس کی راہ میں حائل ہو گئی۔ میں جوان عورت کی قیمت تھی اور عورت کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ ہمیشہ جوان رہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ عورت باہر نکل کر ایک قسم کی ادھوری شخصیت بن گئی۔ وہ صرف جوانی کے چند سالوں تک اپنے کو باقیمت ثابت کر سکی۔ جوانی کی مدت ختم ہونے کے بعد باہر کی زندگی میں اس کی کوئی قیمت نہیں رہی۔ مغربی ملکوں میں آزادی نسواں کی تحریک نے پردہ کو ختم کر دیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان کوئی حد بندی باقی نہ رہی۔ تمام عورتیں سڑکوں اور بازاروں میں نکل آئیں ۔ اب جن عورتوں میں نسوانی کشش نسبتاً زیادہ ہو وہ فوراً لوگوں کی نظروں کے سامنے آ جاتی ہیں ۔ وہ تیزی سے لوگوں کے درمیان مقبولیت حاصل کر لیتی ہیں۔ مگر یہ مقبولیت اس قیمت پر حاصل ہوتی ہے کہ وہ خاندانی زندگی سے دور ہو جاتی ہے۔ وہ شادی کو بندھن سمجھ کر اس سے بے رغبت ہو جاتی ہیں۔ وہ گھر بنا کر اس میں رہنے کے بجائے محفل کی رونق بننا زیادہ پسند کرتی ہیں ۔
مگر یہ پر رونق لمحات بے حد وقتی ہوتے ہیں۔ جوانی کی خاص عمر تک ان عورتوں کو استعمال کیا جاتا اس کے بعد انھیں نارنگی کے چھلکے کی طرح پھینک دیا جاتا ہے ۔ مقبول شخصیت بالآخر خود اپنے ماحول میں غیر مقبول شخصیت بن کر رہ جاتی ہے ۔
مغربی تہذیب میں صرف " جوان عورت " کے لیے جگہ ہے ۔ " بوڑھی عورت " کے لیے مغربی تہذیب میں کوئی جگہ نہیں ۔ مغربی تہذیب میں ایک عورت اپنی نسوانی کشش کی بنیاد پر جگہ حاصل کرتی ہے بڑھاپے میں یہ نسوانی کشش ختم ہو جاتی ہے۔ اس لیے مغربی عورت بوڑھی ہونے کے بعد اپنا مقام بھی کھو دیتی ہے۔ " جو شخص ذمہ داری قبول نہ کرے اس کو حقوق میں بھی حصہ نہیں ملتا " یہ مقولہ اپنی بدترین شکل میں مغربی عورت کے حق میں صادق آیا ہے ۔
خاندان سے وابستہ ہو کر جو زندگی بنتی ہے۔ اس کا معاملہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ خاندان میں ایک عورت " بیوی " کی حیثیت سے اپنی زندگی شروع کرتی ہے ۔ یہاں اس کو اپنے عمل کا بھر پور میدان
مل جاتا ہے۔ اس کا گھر ایک پوری مملکت ہوتا ہے جس کو وہ سنبھالتی ہے اور جس کی وہ تنہا انچارج ہوتی یہاں اس کی کارکردگی سے اس کی تاریخ بنتی ہے جو آخر وقت اس کا ساتھ دیتی ہے۔ ہر اگلا دن یہاں اس کے عزت و احترام میں اضافہ کرتا چلا جاتا ہے ۔ وہ " ماں " بنتی ہے۔ پھر وہ نانی اور دادی بنتی ہے، حتیٰ کہ خود اپنے شوہر کی نظر میں اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ کسی نے صحیح کہا ہے کہ عورت جوانی کی عمر میں بیوی ہوتی ہے اور بڑھاپے کی عمر میں ماں بن جاتی ہے۔
اس طرح عمر بڑھنے کے ساتھ گھر کے اندر اس کا وقار بڑھتا چلا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ وہ گھر کی مالکہ کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے۔ خاندان کسی عورت کی وہ دنیا ہے جو اول سے آخر تک اس کا ساتھ دیتی جب کہ مغربی تہذیب کا حال یہ ہے کہ وہ زندگی کے چند سالوں میں عورت کی ساتھی ہے، وہ اس کی عمر کے طویل تر حصہ میں عورت کی ساتھی نہیں۔ مغربی زندگی میں عورت اپنی جوانی کے چند سال کے بقدر قیمت پاتی ہے اور خاندانی زندگی میں اپنی پوری عمر تک ۔