جاپان کی مثال
Al-Risala, September 1986, pp. 30–31
By Maulana Wahiduddin Khan
جاپان کی عورتوں کے بارہ میں ایک رپورٹ اخبارات میں شائع ہوئی ہے۔ اس میں دکھایا گیا ہے کہ جاپان میں اگر چہ ۱۵ ملین کارکن خواتین موجود ہیں۔ مگر یہ زیادہ تر معمولی کاموں میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے مرد افسروں (Male superiors) کی مددگار کے طور پر کام کرتی ہیں۔
۳۴ سال کے بعد دو خواتین جاپانی کا بینہ میں لی گئی ہیں۔ وہ بھی زیادہ تر متحدہ اقوام کے موسم خواتین کی رعایت سے ۱۹۸۵ میں ختم ہو رہا ہے۔ جاپان میں اس وقت ۶۰۸ ڈپلو میٹ ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد صرف ۱۲ جاپان آج بھی بنیادی طور پر مردوں کا سماج (Male-dominated society) ہے۔ رپورٹ میں جاپان کی موجودہ خاتون وزیر کے یہ الفاظ نقل کئے گئے ہیں :
A bill, yet to be passed by the parliament, on ending discrimina- tion against women, is considered by many of its male critics as عورتوں کے خلاف امتیاز کو ختم کرنے والا ایک بل جاپانی پارلی منٹ میں ہے۔ مگر وہ اب تک پاس نہ ہو سکا۔ ناقدین اس بل کو بر عکس امتیاز پیدا کرنے والا اقدام سمجھتے ہیں (انڈین ایکسپریس ۲۴ نومبر ۱۹۸۲) جو لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کی مساوی شرکت کے بغیر قومی ترقی نہیں ہو سکتی انھیں اس واقعہ سے نصیحت
لینا چاہئے ۔ جاپان دور جدید کا انتہائی ترقی یافتہ ملک ہے ۔ مگر یہ ترقی اس کو اس کے بغیر حاصل ہوئی ہے کہ اس نے اپنی خارجی سرگرمیوں کے تمام میدانوں میں عورتوں کو برابر کے شریک کی حیثیت سے داخل کر دیا ہو۔ قدیم زمانہ میں عورت اور مرد کے کام کا دائرہ الگ الگ سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ زمانہ میں اس حد بندی کو ختم کر دیا گیا۔ دلیل یہ دی گئی کہ اس سے ترقی کی رفتار تیز ہوگی ۔ مگر تجربہ نے بتایا کہ تقسیم عمل کے قدیم نظام کو توڑنے کا کوئی فائدہ تمدنی ترقی کے اعتبار سے نہیں ہوا۔ جن ملکوں میں عورت اور مرد دونوں کو زندگی کے ہر میدان میں برابر کا شریک قرار دیا گیا ہے وہاں بھی عملاً زندگی کے تمام ترقیاتی کام مردوں ہی کے ہاتھ میں ہیں نہ کہ عورتوں کے ہاتھ میں ۔
جاپان کی مذکورہ مثال بھی اس کی تردید کرتی ہے ۔ جاپان پورے معنوں میں دور جدید کا ایک ترقی یافتہ ملک ہے۔ مگر وہاں کا سماج ابھی تک قدیم انداز کے مطابق مردوں کے غلبہ کا سماج ہے ۔ مثال ثابت کرتی ہے کہ ترقی کے لئے عورتوں کی مفروضہ مساوی شرکت ضروری نہیں ۔ تذکیر القرآن ۔ تذکیر القرآن کی دوسری جلد اللہ کے فضل سے تیار ہو گئی ہے اور اب طباعت کے مرحلہ میں ہے ۔ دوسری جلد سورہ الکہف سے سورہ الناس تک ہے اور اس کے صفحات ۹۰۰ سے کچھ زائد ہیں۔