قیمت کا اعلان آئندہ کیا جائے گا
Al-Risala, September 1986, pp. 32–47
By Maulana Wahiduddin Khan
مولانا شبلی نعمانی (۱۹۱۴- کا تعلق علی گڑھ سے ۱۸۸۳ء میں قائم ہوا۔ سولہ برس تک جاری رہا۔ شبلی کا تعلق جس خاندان سے تھا، وہ سرسید کی تعلیمی تحریک سے بہت متاثر تھا۔ ان کے والد شیخ حبیب اللہ صاحب اس کے زبردست حامی تھے۔ اور اپنے لڑکے مهدی حسن صاحب کو حافظ بنانے کے بعد مزید تعلیم کے لئے علی گڑھ کالج میں داخل کرایا تھا۔ ۱۸۸۳ء میں کالج کو مشرقی زبانوں کے ایک معلم کی ضرورت ہوئی۔ مولاناشبلی نے اس جگہ کے لئے درخواست بھیجی جو سرسید اور مولوی محمد سمیع اللہ خاں صاحب کی اتفاق رائے سے منظور ہوئی مولانا کو ایف اے اور بی اے کی کلاسوں کو عربی اور فارسی پڑھانے کا کام سپرد ہوا۔ مولانا کا تقرر اس وقت چالیس روپے ماہوار پر ہوا تھا۔ شروع زمانہ کا واقعہ ہے، کالج میں کوئی تقریب تھی جس میں استادوں کی کرسیاں تنخواہ کی ترتیب سے بچھائی گئی تھیں۔ ترتیب میں مولانا شبلی کی کرسی سب سے پیچھے تھی۔ اپنی یہ حالت دیکھ کر مولانا شبلی کی آنکھوں میں آنسو مگر صلاحیت ایسی چیز ہے جو اپنے آپ کو منوا کر رہتی ہے۔ چنانچہ جلد ہی بعد ایسا ہوا کہ نہ صرف ان کی تنخواہ بڑھ گئی ، بلکہ اپنے علم و فضل کی بدولت انھوں نے کالج کی بزم میں صدر نشینی کی حیثیت حاصل
سب سے پہلے تو ان کی وہ مرعوبیت ختم ہوئی جو اس زمانے میں ایک مولوی کو عام طور پر انگریزی دانوں سے ہوتی تھی۔ علی گڑھ جانے کے چند ہی مہینے بعد ایک عزیز کے نام اپنے خط میں لکھتے ہیں: یہاں آکر میرے تمام خیالات مضبوط ہو گئے۔ معلوم ہوا کہ انگریزی خواں فرقہ نہایت مہمل فرقہ مذہب کو جانے دو، خیالات کی وسعت ، سچی آزادی، بلند ہمتی، ترقی کا جوش برائے نام یہاں ان چیزوں کا ذکر تک نہیں آتا، بس خالی کوٹ پتلون کی نمائش گاہ ہے۔ کے نوخیز لڑ کے مجھ کو بی اے کی نسبت (اس زمانے میں بی، اے بڑی چیز تھی) یہ خیال دلاتے تھے کہ مذہبی باتوں کو تمام تر ضعیف ثابت کر دیں گے ۔ لاحول ولا ..... وہ غریب توز مین کی حرکت بھی نہیں سمجھ سکتے۔
( حیات شبلی (۱۹۴۳ (۱۳۱)
اس کے بعو کالج کی دنیا میں شبلی کو جو مقام ملا، اس کو مولا نا سید سلیمان ندوی نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :
" محمدن کالج علی گڑھ اپنے طرز کا پہلا کالج تھا جس میں انگریز، ہندو، مسلمان ، ہر قسم کے استاد اور شاگرد تھے۔ ایسے ماحول میں ایک پرانا یوریا نشیں عالم جس نے کبھی انگریزی کا ایک حرف بھی نہیں پڑھا، جس نے انگریزوں کی صحبت کبھی نہیں اٹھائی تھی ، جو نئے تہذیب و تمدن کے سایہ میں کبھی نہیں بیٹھا تھا، یکایک آیا اور اس پورے ماحول میں رہ کر اس طرح سب میں سما گیا کہ وہ کہیں سے بیگانہ نہیں ہونے پایا ... مولانا شبلی کا حال یہ تھا کہ وہ محفل پر چھائے رہتے تھے اور ہر علمی بحث میں ان کا قول فیصل تھا۔ انھوں نے نہ صرف اپنی بلکہ علمائے اسلام کی قدر و منزلت کو بڑھا دیا اور قدیم علوم و فنون کے مرتبہ کو اتنا اونچا کیا کہ پروفیسر آرنلڈ اور دوسرے انگریز پروفیسروں کو ان کی تحسین بلکہ تحصیل پر مجبور کر دیا۔ ایسے زمانہ میں جب کہ کالج میں ہر طرف سے نئے علوم، نئے مسائل ، اور نئی تحقیقات کی بارش ہو رہی تھی، ایک مولانا ہی کا وجود تھا جو اس مسلسل بارش کے طوفان میں اسلامی علم و فن کے منارہ کو اس مضبوطی سے اپنی جگہ پر جمائے ہوئے تھا کہ ان کو اس طوفان خیز سیلاب سے کوئی خطرہ نہ رہا۔ " (حیات شبلی - -148 حقیقت یہ ہے کہ مولانا شبلی نے علی گڑھ میں قیام کر کے ایک عظیم سبق دیا ہے۔ یہ سبق کہ عزت اور مقام حاصل کرنے کا راز صرف تنخواہ اور ڈگریاں نہیں ہیں۔ ایک خالص مولوی آدمی بھی ایک بالکل ماڈرن ماحول میں عزت اور مقام حاصل کر سکتا ہے بشرطیکہ وہ علم اور قابلیت رکھتا ہو۔ شبلی کو علی گڑھ میں یہ مقام ان کی گوناگوں صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ اس دور میں خیالات کو شعر کے پیرایہ میں ظاہر کرنے کا خاص ذوق تھا۔ مولانا شبلی اس میں اپناثانی نہیں رکھتے تھے۔ اعلیٰ مذاق کے اشعار لکھتے تھے اور نہایت موثر لہجے میں پڑھتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ علی گڑھ میں ان کی شاعری کی دھوم مچ گئی۔ کالج کے ہر جلسہ اور تقریب میں مولانا کی نظم اس کے پروگرام کا ضروری جزو ہوتی تھی ۔ اس وقت کے علی گڑھ میں شبلی کو شاعر کی حیثیت سے جو مقام حاصل تھا اس کا نقشہ ان کے دو شعروں میں بڑی اچھی طرح نظر آتا ہے۔ پچھلی صدی کے آخر میں مولانا شبلی نے روم اور مصر د شام کا سفر واپس آئے تو علی گڑھ میں بڑا شاندار استقبال ہوا۔ اس سلسلہ میں طلبا کی یونین نے بھی ہر دسمبر
۱۸۹۲ء کو ایک بزم دعوت ترتیب دی ۔ اس موقع پر مولا نا نے اپنا ایک قصیدہ پڑھا جس کے دو شعر حسب ذیل تھے :
قاصد خوش خبر در نو ساز آمد کز سفر یار سفر کرده ما باز آمد از سفر شبلی آزاده به کالج برسید یا مگر بلبل شیراز از به شیراز آمد اس زمانہ میں علی گڑھ کی تاریخ دیکھئے تو یہ الفاظ بالکل ایک واقعہ کا بیان معلوم ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کے علی گڑھ کو اگر شیراز سے تشبیہ دی جائے تو شبلی اس شیراز کے بلبل تھے ۔ اسی طرح تقریر کا ملکہ بھی مولانا شبلی میں غیر معمولی تھا ۔ جس جلسہ میں تقریر کرتے پورے مجمع پر چھا 1900ء میں رام پور میں ایجوکیشنل کانفرنس کا جلسہ تھا ۔ اس زمانہ میں کلکتہ یونیورسٹی نے فارسی کو اپنے نصاب سے خارج کرنے کا اعلان کرکے ایک نیا سوال کھڑا کر دیا تھا ۔ فارسی پر یہ اعتراض تھا کہ ” فارسی کلاسیکل زبان نہیں اور دوسری زبانوں کی طرح اس میں قوت متخیلہ کو ترتیب دینے کی قابلیت نہیں اور نہ اس کے لٹریچر میں علوم وفنون کا ذخیرہ ہے ۔ “ (۱۶۶) مولا نا شبلی نے اس پر تقریر کی اور اس خوبی سے اعتراضات کو رد کیا کہ لوگ حیران و ششدر رہ گئے ۔ سامعین کا یہ حال تھا کہ ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا۔ اس وقت بنگال کے لفٹنٹ گورنر سر ایڈورڈ برن بھی اجلاس میں موجود تھے ۔ نے اپنی انگریزی تقریر میں مولانا کی تقریر کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ۔ ” مجھ میں اتنی قابلیت نہیں کہ مولانا شبلی کی طرح پر تاثیر تقریر کر سکوں ۔ “ ( حیات شبلی ۔
نومبر ۱۸۹۴ میں یونین میں اس موضوع پر مباحثہ تھا کہ کیا ہمارا گزشتہ طرز تعلیم موجودہ طرز تعلیم سے بہتر تھا ۔ مولانا نے بھی تقریر کی ۔ انھوں نے موافقت کا پہلو اختیار کیا ۔ یہ تقریر اتنی مؤثر ہوئی کہ طالب علموں نے عموماً مقرر کا ساتھ دیا۔ یہاں تک کہ سید محمود نے بھی ان کے حق میں رائے دی ۔ اسی طرح ایک بار یونین میں یہ بحث تھی کہ جمہوری طرز حکومت بہتر ہے یا شخصی ۔ جلسہ میں سرسید بھی موجود تھے ۔ مولانا نے جمہوری طرز حکومت کی تائید کی اور اس موضوع پر ایسی مدلل تقریر کی کہ تمام طالب علموں نے ان کی موافقت میں رائے دی (۱۶۱) یہ بات آج کچھ عجیب نہیں معلوم ہوگی لیکن اگر
یہ خیال کیا جائے کہ یہ واقعہ ۱۸۹۲ء میں پیش آیا تھا تو مولانا کی تقریری صلاحیت کی داد دینی پڑتی ہے۔ مولانا شبلی کی یہی سب خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے وہ علی گڑھ کی فضا پر چھا گئے۔ شبلی کا علی گڑھ جانا محض ایک معمولی واقعہ نہ تھا۔ بلکہ یہ جدید و قدیم کا اتصال تھا۔ شبلی گویا قدیم کے ایک قابلِ اعتماد نمائندے تھے اور علی گڑھ اپنے وقت میں جدید کی نمایاں ترین علامت تھا ــ اس اتحاد و اتصال سے دونوں کو زبردست فائدے ہوئے۔
شبلی کا علی گڑھ سے وابستہ ہونا سرسید کے لئے زبردست تقویت کا باعث بنا۔ سرسید نے کالج کے چندہ کے لئے ۱۸۸۲ء میں حیدر آباد کا پہلا سفر کیا تھا۔ یہ سفر ایک وفد کی شکل میں تھا جس میں تحریک کے بہت سے ممتاز لوگ شریک تھے۔ ان میں سے ایک مولانا شبلی بھی تھے۔ مولانا عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں کہ مولانا شبلی کے اس سفر میں شمولیت سے یہ خیال لوگوں میں پھیل گیا تھا کہ وہ سرسید کے گروہ کے ایک نامور بزرگ اور ان کی فوج کے ایک نامی پہلوان ہیں۔
شبلی کی وجہ سے کالج کے حلقہ میں اعلیٰ ترین سطح پر علومِ اسلامیہ کی نمائندگی ممکن ہوسکی۔ میں لکھنؤ میں ایجوکیشنل کانفرنس کا اجلاس ہوا۔ اس موقع پر سرسید نے اپنے دائرہ کے مختلف اہلِ علم کو اسلامی تعلیم کے کسی نہ کسی پہلو پر لکھنے کی فرمائش کی۔ مولانا شبلی نے ”مسلمانوں کی گزشتہ تعلیم“ کا عنوان اپنے لئے پسند کیا۔ جب یہ مضمون لکھنؤ کے اجلاس میں پڑھا گیا تو مسلمانوں کے سامنے اپنے اسلاف کے عظیم کارناموں کا نقشہ پھر گیا اور سارے ملک میں اس خطبہ کی دھوم مچ گئی۔ مولانا عبد الحلیم شرر لکھتے ہیں ــ ”لیکچر مسلمانوں کی نظر میں بالکل نئی اور دلچسپ چیز تھا۔ چنانچہ جب اس پر دلگداز اندازِ میں ریویو ہوا ہے تو کوئی نہ تھا جو اس کے دیکھنے کا مشتاق نہ ہو گیا ہو“ (۱۷۲)
اس زمانہ میں یورپ کی اس ”علمی تحقیق“ کا غلغلہ تھا کہ مسلمان اتنے وحشی اور جاہل تھے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں انہوں نے مصر اور اسکندریہ فتح کیا تو وہاں کے مشہور یونانی کتب خانہ کو جو بطلیموس کے زمانہ سے قائم تھا جلا کر خاک کر دیا اور دنیا گزشتہ انسانی دماغوں کے ورثہ سے محروم ہوگئی۔ یہ منجملہ ان واقعات میں سے تھا جس کی وجہ سے مسلمان اپنے کو احساسِ کمتری میں مبتلا پاتے تھے۔ مولا نا شبلی نے ۱۸۹۲ء میں اس کی تردید میں کتب خانہ اسکندریہ پر ایک مضمون لکھا اور ثابت کیا کہ یہ مسلمانوں سے صدیوں پہلے برباد ہو چکا تھا۔ اور مسلمانوں کی فتح مصر کے زمانہ میں اس کا وجود بھی نہ تھا۔
مولانانے بتایا کہ یہ کتب خانہ خود عیسائیوں نے اپنے زمانہ میں برباد کیا تھا۔ بعد کو چھٹی صدی ہجری کے ایک عیسائی مورخ ابوالفرج ملطی نے عیسائیوں کو اس الزام سے بچانے کے لیے اس واقعہ کو غلط طور پر مسلمانوں کی طرف منسوب کر دیا مولانا کی یہ تحقیق مقبول ہوائی اور بعد کو خود یورپین محققین نے اس کی تائید کی۔ اسی طرح مثال کے طور پر مسلم سلطنتوں کے خلاف ایک نفرت انگیز پروپیگنڈا وہ تھا جو جزیہ کے نام پر کیا جارہا تھا۔ یعنی وہ محصول جو مسلمان بادشاہ صرف اپنی غیر مسلم رعایا سے وصول کرتے تھے۔ کو مخالفین اس بات کے ثبوت میں پیش کرتے تھے کہ اسلامی سلطنتوں میں غیر مذہب پر ٹیکس تھا۔ گویا کوئی غیر مسلم اس مذ ہبی ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر کسی اسلامی سلطنت میں اپنی جان و مال کو محفوظ نہیں رکھ سکتا تھا۔ مولانا شبلی نے اس سلسلہ میں رسالہ الجزیہ لکھا جس میں تحقیق سے ثابت کیا کہ جزیہ قتل کا نہیں بلکہ نصرت کا معاوضہ ہے۔ یعنی اسلامی ملکوں میں ان غیر مسلموں سے جو فوج میں بھرتی نہیں ہوتے تھے، اس لئے یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا کہ وہ ان کی فوجی خدمت سے مستثنیٰ ہونے کا معاوضہ تھا۔ یہ تحقیق اس وقت ایسی عجیب تھی کہ علمی دنیا پر حیرت چھاگئی۔ سرسید نے اس کا انگریزی میں ترجمہ کرایا اور خود مولانا سے اس کا عربی میں ترجمہ کرایا گیا۔ بیرونی ملکوں میں بھی اس کے خلاصے اور اقتباسات شائع ہوئے ۔
مولانا شبلی کی اس طرح کی تحقیقات سے علی گڑھ میں اسلام کی علمی بلندی کی ایسی فضا قائم ہوئی کہ سرسید کو خیال آیا کہ یورپ نے اسلام اور مسلمانوں کی نسبت جو تاریخی غلط فہمیاں پھیلائی ہیں ان کے جواب اور تصحیح کے لئے ایک مجلس بنائی جائے۔ چنانچہ ۱۸۹۲ء میں اس کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ مولانا شبلی کے مضامین اس سلسلہ میں داخل کئے گئے اور انھیں اس صیغہ کا سکریٹری بنا یا گیا۔ ان کے مضامین کے ترجمے عربی اور انگریزی میں بھی شائع کئے گئے۔
محمدن ایجوکیشنل کانفرنس کا پانچواں اجلاس ۱۸۹۱ء میں الہ آباد میں ہو اس اجلاس میں بڑے بڑے با کمال جمع تھے مولانا شبلی نے تجویز پیش کی:
"اس مضمون پر ایک رسالہ لکھوایا جائے کہ مسلمانوں نے اپنے عہد عروج میں جو علم یونان و مصر و ہندوستان و فارس سے حاصل کئے تھے ان پر کون سے مسائل اور علوم اضافہ کئے"
سرسید نے اس کی تائید کرتے ہوئے کہا:
”یہ ایسے عمدہ امر کی تحریک ہے جس کی بہت ضرورت ہے۔ تمام علمی مجلسیں اس امر کے دریافت کرنے کی محتاج ہیں۔ مگر بحث اس میں ہے کہ اس کو لکھے گا کون۔ ہمارے ہاں ایک مثل ہے ”جو بولے وہی گھی کو جادے“۔ پس مولوی شبلی ہی اس کو لکھیں گے۔
” تمام مجمع سے بالاتفاق یہی آواز آئی کہ مولوی شبلی ہی لکھیں گے۔ مولوی شبلی ہی لکھیں گے “ روداد کانفرنس الہ آباد ص ۱۹ بحوالہ حیات شبلی۔ ” محمدن اینگلو اور ینٹل کالج میگزین “ نے ۱۸۹۲ء میں ایک علمی رسالہ کی شکل اختیار کی تو اس کے اردو حصے کی ایڈیٹری مولانا شبلی کے سپرد کی گئی۔
بحیثیت استاد مولانا کے سپرد جو مضامین تھے ان میں بھی مولانا نے اپنی قابلیت کا سکہ جما دیا تھا مسعود علی صاحب محوی جو حیدر آباد دکن میں جج تھے اور اس کے بعد دارالترجمہ کے رکن مقرر ہوئے۔ کے زمانہ میں علی گڑھ کے طالب علم تھے۔ وہ اپنے مجموعہ کلام کے مقدمہ میں لکھتے ہیں : ” علی گڑھ کالج کے بی اے کلاس کے فارسی نصاب میں قاآنی کے چند قصائد داخل تھے۔ فارسی کے ماہر و دبیر تھے۔ مولانا مرحوم ان نادر الوجود استادوں میں تھے جو نہ صرف کسی مضمون کو پڑھا اور سمجھا دینے بلکہ اس مضمون کے ساتھ شاگردوں میں حقیقی دل چسپی پیدا کرنے میں ملکہ رکھتے تھے۔ مولا نا حبیب الرحمن خاں شروانی فرماتے ہیں:
” مجھ کو بھی اگر کچھ لکھنا آیا تو انھیں صحبتوں کے اثر سے۔ تاریخ و ادب فارسی کا ذوق یہیں نشوونما پذیر ہوا ہے “ (۱۵۲)
مقررہ درس کے علاوہ بھی طلبہ کے لئے کچھ کرتے رہتے تھے۔ مثلاً کالج میں عربی زبان کی ترقی اور طلبہ میں عربی تحریر و تقریر کا شوق دلانے کے لئے انھوں نے ایک لجنتہ الادب کی بنیاد ڈالی۔ اسی طرح اخوان الصفا کے نام سے ایک انجمن قائم کی جو اردو تحریر و تقریر کی مشق کے لیے تھی ۔ دونوں انجمنوں میں طلبہ دل چسپی سے حصہ
۱۸۹۲ء میں مولانا شبلی نے ترکی اور مصر و شام کا ایک علمی سفر کیا۔ یہ سفر بھی علی گڑھ کالج کی شان بڑھانے کا سبب بنا۔ کیوں کہ بقول مولانا سید سلیمان ندوی اس وقت ” کالج کے ایک پروفیسر کا اپنی نوعیت کا یہ پہلا سفر تھا“ (۲۱۸) چنانچہ واپسی کے بعد ، مولانا کے اعزاز میں مختلف تقریبات
اور جلسے کئے گئے ۔
اس سفر میں حکومت ترکی نے آپ کو تمغہ مجیدی عطا کیا جو ترکی کا ایک اعلیٰ اعزاز تھا۔ اس کے بعد جنوری سنہ 1892ء میں حکومت برطانیہ نے آپ کو شمس العلماء کا خطاب عنایت کیا۔ یہ اس زمانہ کے لحاظ سے ایک خاص واقعہ تھا۔ نیز یہ پہلا واقعہ تھا جب کہ کالج کے کسی استاد کو علمی خطاب سے نوازا گیا ۔ کے بعد کالج میں متعدد جلسے ہوئے اور سرسید اور تمام لوگوں نے زبردست خراج عقیدت مولانا کی خدمت میں پیش کیا۔
مولانا شبلی کی وجہ سے کالج کو جو علمی وقار اور مادی فائدہ حاصل ہوا، اس کا اعتراف سرسید نے ان الفاظ میں کیا ہے :
" اس میں کچھ شبہ نہیں کہ ہمارے کالج کے پروفیسر مولوی محمد شبلی نعمانی نے اپنی تصنیفات سے ملک کو بہت کچھ فائدہ پہنچایا ہے ۔ المامون ، سیرۃ النعمان کتب خانہ اسکندریہ اور الجزیہ بے مثل اور بے نظیر اگر وہ نعوذ باللہ اپنے رسالہ الجزیہ کی نسبت مسلمانوں کو مخاطب کر کے یہ کہیں کہ فالتوابسورة من شدة تو کچھ تعجب نہ ہوگا۔ جزیہ کا ایسا بیجا اور غلط الزام اسلام پر تھا جس کا آج تک کسی نے ایسی عمدگی سے حل نہیں کیا تھا۔ بایں ہمہ انھوں نے مثل علمائے متقدمین با خدا کوئی ذاتی فائدہ ان کتابوں کی تصنیف سے نہیں اٹھانا چاہا بلکہ بالکلیہ مدرسۃ العلوم کو دیدیا یہ " (۳۲ - ۲۳۳) اس زمانہ میں مولانا شبلی کی کتابوں کی مقبولیت کا یہ عالم تھا کہ تین تین ماہ میں ایک ایڈیشن ختم ہو جاتا تھا ۔ مگر مولانا نے علی گڑھ کے زمانہ قیام میں اپنی تصانیف سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا اور تمام کتابیں کالج کی نذر کر دیں (۵۹ - ۱۵۸)
اس کے علاوہ بعض ریاستوں سے کالج کو امداد ملنے میں مولانا کی ذات معاون بنی۔ علی گڑھ کی تاریخ میں دینی رنگ پیدا کرنے والے سب سے پہلے مولانا شبلی تھے۔ مولانا شبلی دینی اعتبار سے علی گڑھ کو کیا سبق دینا چاہتے تھے ، اس کا اندازہ اس واقعہ سے ہوگا۔ ۱۸۹۴ میں جب وہ ترکی گئے تو وہاں انھیں ایک کالج (مکتبہ ملکیہ) میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اتفاق سے اسی دوران میں ظہر کا وقت آگیا۔ اس وقت کوٹ پتلون میں ملبوس نوجوان ترک فورا نماز کی تیاری میں لگ گئے۔ اس واقعہ کا والہانہ انداز میں ذکر کرنے کے بعد لکھتے ہیں :
"حقیقت یہ کہ مسلمان اگر مذہبی اثر سے آزاد ہو کر ترقی کریں تو ایسی ترقی سے تنزل ہزار درجہ بہتر ہے" (۲۰۲)
اسی طرح مولا نا نے ایک تقریر ں فرمایا:
" دوسری قوموں کی ترقی یہ ہے کہ آگے بڑھتے جائیں ، آگے بڑھتے جائیں ، لیکن مسلمانوں کی ترقی یہ ہے کہ وہ پیچھے ہٹیں ، پیچھے ہٹیں ، یہاں تک کہ صحابہ کی صف سے جا کر مل جائیں۔ محمد علی کے اندر اسلام اور قرآن کا ذوق مولا نا شبلی کے درسوں سے پیدا ہوا۔ محمد علی اس وقت علی گڑھ کے ایک طالب علم تھے اور اس کا اعتراف انھوں نے اپنی کتاب (My Life: A Fragment) میں کیا ہے یہ مولانا شبلی کی بیدار مغزی کا اہم ثبوت ہے کہ اس زمانہ میں جب کہ مذہبی طبقہ عام طور پر انگریزی می تعلیم کی صرف مخالفت کرنا جانتا تھا انھوں نے اس واقعہ کو محسوس کیا کہ اصل کام لوگوں کو انگریزی تعلیم سے روکنا نہیں ہے بلکہ ان کے اندر اسلامی ذہن پیدا کرنا ہے۔ تاکہ وہ جدید تعلیم کو صحیح طور پر اپنے اندر جذب کر سکیں اس سلسلہ میں انھوں نے علی گڑھ کے سولہ سالہ قیام میں جو کوششیں کیں ان میں سے ایک درسِ قرآن کا اہتمام بھی تھا۔ جس نے مسٹر محمد علی کو مولا نا محمد علی بنایا۔ سجاد حیدر یلدرم کہا کرتے تھے کہ مولانا ایسے اچھوتے انداز سے قرآن پاک کا درس دیتے تھے کہ ہم اس کو سن کر وجد کرتے تھے۔
طلبہ میں سنت نبوی کا ذوق پیدا کرنے کے لئے عربی سیرت کا ایک مختصر رسالہ بدعۃ الاسلام لکھا جو کالج کے نصاب تعلیم میں داخل ہوا۔ میلاد کی مجالس کو وعظ و تبلیغ کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ مولا نا شبلی اس طرح مختلف سطحوں پر طلبہ میں دینی رنگ پیدا کرنے کی جو مسلسل کوشش کر رہے تھے اس نے کیا نتیجہ دکھایا۔ اس کو خود مولانا کی زبان سے سنئے ۔ ایک عزیز کے نام خط میں لکھتے ہیں: " اس وقت مجھ سے نہ میری طبیعت کا حال پوچھئے ، نہ کوئی اور واقعہ ۔ آپ سنئے اور میں دل سے اٹھتے ہوئے جوش سے ایک تازہ کیفیت سناؤں ، یوں تو مدرسۃ العلوم کے قواعد میں داخل ہے کہ لڑکے مغرب کی نماز جماعت سے پڑھیں ۔ مگر ان دنوں ہوا کا رخ ہی بدل گیا ہے۔ لڑکوں نے خود ایک مجلس قائم کی ہے جس کو وہ لجنة الصلوٰۃ کہتے ہیں ۔ ایک بی اے سکریٹری ہے۔ اور بہت سے تعلیم یافتہ اس کے ممبر چا ر بجے صبح کے بعد ایک نوجوان انگریزی خواں لوگوں کو اس پر اثر فقرے سے چونکا دیتا ہے ۔ خير من النوم پانچوں وقت کی نمازیں با جماعت ہوتی ہیں ۔ اور لطف یہ کہ محض اپنی خواہش
بیرونی دباؤ کا نام بھی نہیں، مغرب کی نماز، سبحان اللہ! کیا شان و شوکت سے ہوتی ہے کہ بس دل پھٹ خود سید صاحب بھی شریک نماز ہوتے ہیں اور چوں کہ وہ عامل بالحدیث ہیں، آمین زور سے کہتے ان کی آمین کی گونج مذہبی جوش کی رگ میں خون بڑھا دیتی ہے۔ میں کبھی کبھی اسلام پر لکھ کر دیتا ہوں ۔ مسجد بننے کی تیاری ہے۔ سید محمود صاحب کی سرگرمی نے اس کے پیمانہ تعمیر کو نہایت وسیع کر دیا ہے ..... سید محمود صاحب خود ہاتھ میں پھاوڑا لیں گے اور مسجد کی نیو کھودیں گے ...... مجھے کو اس بات کا فخر حاصل ہے کہ اس نئی زندگی کے پیدا ہونے میں میرا بھی حصہ ہے اور اس جوش مذہبی کا براہینگیختہ کر نا میری قسمت میں بھی تھا ۔
کالج کے لئے ایک یونیفارم کا تصور سب سے پہلے مولا ناشبلی ہی نے دیا تھا۔ قسطنطنیہ کے سفر سے اپنے والد ماجد کے نام ایک خط میں لکھتے ہیں :
”یہاں کے کالجوں کی ایک بات مجھ کو بہت پسند آئی ہر کالج کا ایک خاص لباس ہے اور کوٹ پر گریبان کے قریب کالج کا نام لکھا ہونا ہے۔ ہمارے کالج میں یہ طریقہ کیوں نہیں اختیار کیا جاتا۔ صاحب قبلہ بغیر کسی پس و پیش کے کالج کا ایک خاص لباس قرار دیں تو بہت اچھا ہے“۔ مولانا حالی کے بیان کے مطابق سرسید نے اس تجویز کو پسند کیا اور اسی کے مطابق کالج میں یونیفارم کا طریقہ رائج ہوا۔
اسی طرح قسطنطنیہ کے سفر نے طلبہ میں معاشرت کی یکسانی پر زور دیا۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں: ” ہر کالج میں غریب طالب علموں کی متعدد تعدا د ہے اور دولت مند ترکوں کی طرف سے ان کو اس قدر امداد دی جاتی ہے کہ وہ کالج کے تمام مصارف ادا کر سکتے ہیں ۔ اس کا یہ اثر ہے کہ کالج کے احاطہ میں جا کر کوئی شخص تمیز نہیں کر سکتا کہ فلاں طالب علم غریب اور کم مقدور ہے۔ طلبہ کی یکساں حالت ان میں اتحاد اور قومیت کا نہایت قومی خیال پیدا کرتی ہے۔ اور غرباء کو اعلیٰ درجہ کی معاشرت حاصل ہوتا ان میں حوصلہ مندی اور بلند نظری پیدا کرتا ہے۔ بورڈنگ کا یہ طریقہ دیکھ کر مجھ کو اپنا مدرسۃ العلوم یاد آتا تھا اور میں اس کے بورڈنگ کے اختلاف مراتب پر افسوس کرتا تھا ..... میں علانیہ کہتا ہوں کہ ہمارے قومی کالج میں جو چیز سب سے زیادہ ضروری ہے وہ یہ ہے کہ تمام طالب علموں کا لباس وضع، خوراک، مکان ، فرنیچر کلیۃً ایک کر دیا جائے اور جو مختلف سطحیں آج کالج میں قائم ہیں ، بالکل مٹا دی جائیں۔
اگر یہ نہیں تو کالج میں قومیت کی روح نہیں ہے۔
جس طرح شبلی نے علی گڑھ کو بہت کچھ دیا ، اسی طرح خود شبلی کو بھی علی گڑھ سے بہت کچھ ملا۔ کا تقاضا ہے کہ اس کا اعتراف کیا جائے۔
مولانا شبلی ایک خالصتاً قدیم طرز کے عالم تھے۔ چنانچہ تعلیم کے بعد ابتدائی زمانہ میں اس قسم کے مشاغل میں دل چسپی لینا شروع کیا جو اس زمانہ میں ان کے جیسے لوگوں کا عام مذاق تھا۔ مثلاً خاص طرح کی منطقی بحثیں اور مناظرہ وغیرہ۔ مولانا کی کتاب اسکات المعتدی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔ بھی مختلف سمتوں میں کھینچتے رہے۔ کبھی وکالت کا امتحان دیا ، کبھی ملازمت کی ، کبھی نیل کی تجارت اور زمیندار ی کا کام دیکھا (۹۶) علی گڑھ سے تعلق نے ایک طرف مولانا کو موقع دیا کہ وہ معاش کے لئے سوچنا دوسری طرف یہاں کے ماحول نے انہیں وقت کی علمی ضرورت کا احساس دلایا اور ان کی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر کام کی طرف موڑ دیا۔
مولانا شبلی نے جس زمانہ میں علی گڑھ میں قدم رکھا یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ مسلمانوں کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر چکا تھا۔ اس غلبہ کو مزید ذہنی تقویت پہنچانے کے لئے یورپ کے اہل قلم یہ طریقہ اختیار کئے ہوئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے علوم کو بگاڑ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کریں۔ اب تک اپنی تاریخ پر ناز کرتے چلے آرہے تھے۔ اس کے جواب کے لئے مغربی مصنفین نے یہ کیا کہ اسلام، سلاطین اسلام اور علوم اسلامیہ کی طرح طرح کی برائیاں لکھ کر پھیلا نا شروع تاکہ مسلمانوں کی نئی نسل خود اپنی قوم سے نفرت کرنے لگے اور ان کے قومی غرور کو ایسا صدمہ پہنچے کہ ان کے دماغی قوئی ہمیشہ کے لئے مضمحل ہو جائیں۔
علی گڑھ کی فضا میں مولانا شبلی کو وقت کے اس فتنہ کا احساس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضامین اور کتابوں نیز گفتگوؤں اور تقریروں میں ایسی اعلیٰ علمی سطح پر اس کا رد پیش کیا کہ مستشرقین کا سارا غبارہ پھٹ گیا۔ ان کا یہ جذبہ یہاں تک بڑھا کہ قدیم کتب اسلامیہ سے استفادہ کے لئے انہوں نے اسلامی ممالک کے سفر کئے تا کہ وہ کتابیں جو ابھی تک چھپ نہیں سکی ہیں ان کے قلمی نسخوں کو دیکھ کر اپنی تصنیفات کے لئے مواد حاصل کریں۔ حالانکہ یہ بھی زمانہ کی نیرنگی ہے کہ جن نادر کتابوں کی خاطر مولانا نے سفر کی محنت اٹھائی تھی وہ بعدکو انہیں کے زمانہ میں خود مخالفین کے ہاتھوں چھپ کر عام ہو گئیں
اور اب ان کی پندیدہ کتابوں میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہو جو چھپ نہ چکی ہو ۔ مولانا شبلی نے جو تحریری کام کیا ہے ، اس کا مشترک خصوصی موضوع غالباً ان لفظوں میں بیان کیا جا سکتا ہے اسلامی تاریخ کی عظمت کو نمایاں کرنا ۔ اسلامی مسائل کو علمی سطح پر مدلل کرنا ، اسلام کی عظمت رفتہ کو یاد دلا کر مستقبل کا حوصلہ پیدا کرنا ۔ اور یہ وہی چیزیں ہیں جن کا احساس نہیں علی گڑھ کے ماحول میں ہوا۔ کیونکہ وہیں یہ صدائیں زیادہ گونج رہی تھیں۔
علی گڑھ کے قیام سے شبلی کو دوسرا اہم فائدہ یہ ملا کہ انہیں جدید تعلیم کی اہمیت کا احساس ہوا۔ مولانا شبلی نے ایک تقریر میں اپنا یہ واقعہ بیان کیا۔
" جب میں ترکی سے واپس آیا تو اتفاق سے گھر میں علالت تھی۔ ایک رات کو ۱۲ بجے تار آیا ۔ نے اس کو کھولا۔ دل میں بددعا پیدا ہوا کہ کیا واقعہ ہے۔ خدا جانے کیسا تار ہے۔ خیر میں دوڑا ہوا سرسید مرحوم کے نواسے کے پاس گیا۔ انہوں نے پڑھ کر سنایا کہ یہ تار نواب علی حسن خاں صاحب نے بھوپال سے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو ترکی سے بخیریت واپس آنے پر مبارک باد دیتے ہیں۔ یہ حال ہم مولویوں کا ہے ( ۱۳۵ )
علی گڑھ میں مولانا کو اندازہ ہوا کہ اسلام پر انگریزی زبان میں جو کتابیں آ رہی ہیں وہ نہایت اس سے انھیں خیال ہوا کہ علمائے دینی کو انگریزی اور دوسری یورپین زبانیں جاننی چاہئیں۔ تاکہ وہ مغربی زبانوں میں اسلام کا صحیح لٹریچر فراہم کر سکیں۔ اس سلسلہ میں مولانا سید سلیمان ندوی نے ایک بار ان سے عرض کیا کہ عربی کے ہر طالب علم کے لئے آپ انگریزی پڑھنا کیوں ضروری قرار دیتے مثلاً جو لوگ فقیہہ بننا چاہتے ہیں ان کو انگریزی کیا کام دے گی۔ فرمایا س " عجیب بات کہتے ہو ۔ اگر آج ہمارے فقہاء انگریزی جانتے اور ہماری فقہ کو انگریزی میں منتقل کر سکتے تو ہدایہ وغیرہ کے انگریزی دوں اور غیر مسلموں کے کئے ہوئے غلط ترجمے آج عدالتوں میں سند نہ قرار پاتے۔ مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں غالباً مولانا شبلی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر وہ انگریزی جانتے ہوتے تو کیا کچھ اسلام کی خدمت کر سکتے تھے۔ اس لئے من نکر دم شما حذر کنید کے اصول پر وہ چاہتے تھے کہ اب علماء ایسے ہوں جو دین علم کے ساتھ وقت کی زبان بھی جانتے ہوں تاکہ وقت کے ذ ہنوں پر اسلام کا سکہ بٹھایا جاسکے۔
علی گڑھ میں عمومی طور پر مولانا شبلی کو جو کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چیز خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ یہ شبلی اور آرنلڈ کے تعلقات ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ ایک نہایت لائق انگریز علم تھے۔ دونوں کے علمی ذوق نے ایک دوسرے کو بے حد قریب کر دیا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی لکھتے ہیں: "بڑی خوش قسمتی علامہ شبلی کی یہ تھی کہ اس عہد میں پروفیسر آرنلڈ سا عالم دوست استاد کالج میں یہ دونوں دلدا دگان علم باہم ملے اور اس طرح ملے کہ جس طرح مختلف اللون نور کی شعاعیں باہم مل کر عالم کی روشنی کا باعث بنتی ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے علامہ شبلی کو جدید اصول سے آگاہ کیا۔ یہ بتا یا کہ جدید علمی مجلس کے کیا ساز و سامان ہیں۔ قدیم علوم پر کیا کیا اعتراض اور حملے ہیں۔ علامہ شبلی کی صداقت اور قوت دماغی یہ تھی کہ وہ جدید اصول کے طمطراق سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان پر اطمینان سے غور کیا۔ پروفیسر آرنلڈ نے عربی کا استفادہ علامہ شبلی سے کیا اور یہ دیکھا کہ پرانی زمینوں میں بھی جواہر آب دار موجود ہیں۔ اس واقفیت کا نتیجہ پروفیسر آرنلڈ کی بے نظیر تصنیف پر یچنگ آف اسلام کی صورت میں عیاں ہوا۔ شبلی نے پروفیسر آرنلڈ سے کسی قدر فرینچ زبان سیکھی تھی۔ علامہ ممدوح کی زندگی کا یہ دور بہت کچھ سبق آموز اور ایک بڑے تعلیمی مسئلے کا حل کرنے والا ہے۔
علی گڑھ کے تعلق سے جدید تعلیمی ضرورت کا احساس جس کی طرف مولانا شحر وانی نے اشارہ کیا ہے وہ اس وقت اور زیادہ پختہ ہو گیا جب مولانا شبلی اسلامی ممالک کے سفر سے واپس آئے۔ یہ سفر آپ نے علی گڑھ کے زمانہ ملازمت میں کیا تھا۔ اور راستہ میں پورٹ سعید تک آرنلڈ بھی مولانا کے ساتھ تھے۔ اب مولانا کو پختہ یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لئے نئے نظام تعلیم کی شدید
یہاں ہم مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ مستعار لیں گے:
" مولانا شبلی کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کے لئے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعلیم کا ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جس میں ایک طرف یورپ کے تمام جدید علوم و فنون کی تعلیم ہو اور دوسری طرف خالص اسلامی علوم کی ۔ اور طریقہ تربیت اور درس گاہوں کا ماحول تمام تر مذہبی ہو۔ اگر ساری قوم کی تعلیم کا یہ بند وبست نہ ہو تو کم از کم عربی درس گاہوں میں ایسی اصلاح کی جائے کہ یونان کے بوسیدہ علوم کا سارا دفتر ہٹ کر اس کی جگہ نئے علوم کی تعلیم لے لے اور خالص مذہبی علوم اپنی جگہ پر
رہے ہیں اور نصاب میں متاخرین کے شروح و حواشی کے بدلے قدماء کی اصل کتابیں جو فن کی جان ہیں پڑھائی جائیں ۔ درس گاہیں عالی شان ، کمرے صاف ستھرے اور تربیت ایسی ہو کہ طلبہ میں اولوالعزمی، حوصلہ مندی ، بلند نظری اور خودداری پیدا ہو۔ لیکن یہ چیز ان کو نہ قسطنطنیہ میں ملی ، نہ شام میں اور نہ مصر میں ۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں —" اس سفر میں جس چیز کا تصور میری تمام مسرتوں اور خوشیوں کو برباد کر دیتا تھا وہ اسی قدیم تعلیم کی ابتری تھی ۔ (سفر نامہ روم و مصر و شام) مولانا شبلی کے اس تجربہ اور مطالعہ نے انھیں ایک نئے تعلیمی تصور تک پہنچایا۔ یہ کہ ایسی درس گاہیں قائم کی جائیں جہاں جدید و قدیم دونوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔ مولانا سید سلیمان ندوی آگے چل کر لکھتے ہیں :
"مولانا شبلی کا یہی احساس تھا جو ندوۃ العلماء کے قیام کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء کے نظام و دستور العمل کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس نے دارالعلوم کا یہ مرقع (مسودہ) جس کو سیاح روم و شام نے اپنے قلم سے کھینچا ہے، دیکھا ہے۔ اس کو نظر آئے گا کہ روم و شام میں جو کچھ محسوس ہوا ہے اس کی تصویر ہندوستان میں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔
علی گڑھ سے مولانا شبلی کا تعلق ۱۸۸۳ء میں قائم ہوا اور صدی کے آخر تک جاری رہا ۔ مدت میں مولانا کا تجربہ اور مطالعہ ان پر واضح کر چکا تھا کہ قوم کی اصلاح و ترقی کے لئے کیا کچھ کرنے کی ایک طرف وہ خود ایسی علمی اور تاریخی کتابیں تصنیف کرنا چاہتے تھے جو قوم کے لئے ذہنی انقلاب کی بنیاد بن سکیں۔ دوسری طرف ان کے ذہن میں کم از کم دو ایسے اداروں کا نقشہ آ چکا تھا جو اگلی نسل میں شبلی جیسے انسانوں کا تسلسل باقی رکھنے والا ہو۔ ایک ایسی درس گاہ جو جدید و قدیم کی تعلیم کا اور دوسرے ایک ایسا تصنیفی ادارہ جو اسلامی موضوعات کے لئے اعلیٰ درجہ کے اہلِ قلم تیار ان کے پہلے خواب کی تعبیر دارالعلوم ندوۃ العلماء تھا اور دوسرے کی تعبیر دارالمصنفین۔ ادارے آج بھی قائم ہیں۔ اگر چہ یہ کہنا مشکل ہے کہ انھوں نے شبلی کے مطلوب انسان تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
مولانا شبلی اب جو کام کرنا چاہتے تھے اس میں کالج کی ملازمت ایک رکاوٹ تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے یکسو ہو کر مندرجہ بالا قسم کے کام پر لگ جائیں۔
خوش قسمتی سے حیدر آباد نے ان کے لئے یہ موقع فراہم کر دیا۔ مولوی سید علی بلگرامی اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے ریاست نے ان کے لئے ایک مستقل وظیفہ جاری کر دیا تاکہ وہ یکسو ہو کر اپنے مشن کی تکمیل میں لگ جائیں۔ اس سلسلے میں حیدر آباد کی طرف سے جو فرمان جاری ہوا اس کے ابتدائی الفاظ
مولوی شبلی صاحب جو اس وقت علی گڑھ کالج میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہیں، ایک نہایت قابل اور لائق شخص ہیں اور تصنیف میں ایک خاص مذاق رکھتے ہیں۔ اب ان کی تمنا ہے کہ اپنے پورے وقت کو تصنیف کے کام میں صرف کریں اور معمولی درس و تدریس کو ترک کر دیں۔ مولوی صاحب موصوف کو تصنیف کے کام میں فارغ البالی کے ساتھ مصروف کرنا ایک قومی کام ہے اور اس وقت کوئی عالم ہندوستان میں ایسا نہیں ہے جو پرانے ذخیروں سے اس طرح کام لے“۔
اس تمہید کے بعد فرمان میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سرکار سے ایسے شخص کی اعانت ضروری ہے اس لئے ان کے لئے وظیفہ جاری کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ وظیفہ ابتداءََ سوروپے ماہوار تھا اور آخر میں بڑھا کر تین سو کر دیا گیا۔
شبلی نے علی گڑھ میں جو کام کیا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور چیز کو شامل کیا جائے۔ اس کے بغیر یہ مطالعہ خالص علمی اعتبار سے ناقص رہے گا۔ اور وہ ہے وہ زمانہ جس میں شبلی کو کام کرنے کا موقع ملا۔
شبلی کا زمانہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہندوستان اس سے بہت مختلف تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔ اس وقت مسلم غلبہ کا تسلسل نوابوں اور زمینداروں کی سطح پر بدستور جاری تھا۔ اردو ملک کی زبان تھی، حتی کہ اس وقت کے بیرونی حکمران (انگریز) بھی عام طور پر اردو کو سمجھتے تھے۔ ماضی کے نتیجہ میں شعر و شاعری کی عظمت ابھی تک لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ اور اس قسم کے دوسرے اسباب تھے جنہوں نے شبلی کو وہ اعلیٰ مواقع کار دیئے جن کی مثالیں ان کی زندگی میں ملتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اہم بات یہ تھی کہ قدیم روایات کے نتیجہ میں ابھی تک قدر دانی کا ماحول موجود تھا۔ ایک شخص کے اندر جوہر دیکھ کر وقت کے بڑے لوگ کھلے طور پر اس کا اعتراف کر سکتے تھے۔ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو آج کل بالکل ختم ہو چکی ہیں یہی وجہ ہے کہ آج شبلی جیسی شخصیتیں بھی کہیں نظر نہیں آتیں۔
مضمون کو ختم کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ شبلی کو علی گڑھ کا بہترین انتخاب کہا جاسکتا ہے۔ طرح شبلی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کے سولہ سال جو علی گڑھ میں گزرے وہ ان کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ اس طرح دونوں کو وہ چیز ملی جس کی دونوں میں سے ہر ایک کو ضرورت تھی۔ نے علی گڑھ کے اوپر اسلام کی تاریخی اور علمی عظمت قائم کی جس کا وہ اس وقت بے حد محتاج تھا۔ علی گڑھ نے شبلی کو جدید کا عرفان دیا جس کے نتیجہ میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان وہ اسلامی شخصیت ابھر سکی جس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے ”عہد جدید کا معلم اول“ کا لقب دیا ہے۔ شبلی اور علی گڑھ کے دو مختلف دھاروں کا ملت اس امتزاج کو وجود میں لاسکا جس نے اسلامی تاریخ پر اعلیٰ ترین کتابیں تخلیق کیں جس نے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی بنیاد رکھی جو دار المصنفین کی شکل میں ظاہر ہوا۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جس نے قوم کی اگلی نسلوں کو وہ ہیجان اور شعور دیا جو آج بھی جدید پر قدیم کو غالب کرنے کی امانت اپنے سینوں میں لئے ہوئے ہے۔ جو زمانہ کی وقتی قدروں پر اسلام کی دائمی قدروں کو بالا کر نے کے لئے بے چین ہے۔ جس طرح علی گڑھ زندہ ہے، اسی طرح شبلی بھی زندہ ہے اور دونوں پھر اسی طرح ایک دوسرے سے ملیں گے جس طرح وہ ماضی میں باہم یہ تاریخ کا فیصلہ ہے اور تاریخ کا فیصلہ بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔ نوٹ: ”شبلی ڈے“ کے موقع پر ۳ مارچ ۱۹۶۸ کو یونین ہال مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔
الرسالہ کے حلقے الرسالہ کو پھیلانے کے لیے جو طریقے اختیار کر رہے ہیں ان میں سے ایک ہینڈ بلوں کی تقسیم ہے۔ ایک حلقہ کے شائع کردہ ہینڈ بل کا نمونہ یہاں نقل کیا جا رہا ہے۔ اگر آپ کے پاس وقت کم ہے۔
اور آپ مختصر وقت میں کسی تعمیری پرچہ کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ حکمت و نصیحت سے بھر پور سبق آموز واقعات مسلسل آپ کے مطالعہ میں رہیں ۔
اگر آپ عصری اسلوب میں اسلام کو پڑھنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ الحاد ولا دینیت کی رد میں سائنٹفک مضامین کا مطالعہ کرنا چاہتے ہیں ۔
اگر آپ ایک ایسے رسالہ کے متلاشی ہیں جس میں قیامت کی کڑک ، حشر و نشر کی ہولناکیاں ، جنت و جہنم کے مناظر ، خدائے ذوالجلال کی تجلیاں سیرت رسول کی جھلکیاں ، صحابہ کرام کی بے مثال قربانیاں ہوں ۔ ہر مقام پر دینی رسالوں میں سب سے زیادہ پڑھا جانے والا مولاناوَحِيدُ الدِّين خاں صاحب کا دینی و فکری علمی ماہنامہ الرِّسالة ( اردو ، انگریزی )
کا مطالعہ کیجئے ۔
مینار لائبریری ، ایک مینار مسجد ، راجپور (کرناٹک)