داعی کا معاملہ
Al-Risala, October 1986, p. 3
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک فن کار اپنی ساری صلاحیت استعمال کر کے آرٹ کا ایک نمونہ تخلیق کرے اور ایک شخص اس کو لے کر آگ میں ڈال دے تو ایسا شخص فن کار کی نظر میں کتنا زیادہ مبغوض ہوگا ۔ فن کار کی نظر میں اس کا وجود انتہائی حد تک قابلِ نفرت ہو جائے گا۔
ایک باغبان برسوں کی محنت سے پھول کا ایک درخت اگائے ۔ پھر لمبے انتظار کے بعد اس کی شاخ پر ایک حسین پھول کھلے ۔ اس وقت اگر ایک شخص آئے اور اس پھول کو توڑ کر اسے مسل ڈالے تو اس باغبان کی نظر میں وہ سخت ترین مجرم ہوگا ۔ باغبان چاہے گا کہ اس کو بھی وہ اسی طرح مسل ڈالے جس طرح اس نے اس کے حسین پھول کو مسلا ہے ۔
خدا کے داعی کا معاملہ بھی یہی ہے ۔ خدا کا داعی اگر چہ بظاہر ایک انسان ہوتا ہے۔ مگر وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے ۔ زمین و آسمان بے شمار گردِشیں کرتے ہیں تب قدرت کا وہ قیمتی آرٹ ظہور میں آتا ہے جس کو خدا کا داعی کہتے ہیں ۔ سال کے اندر بے شمار اسباب جمع ہوتے ہیں تب خدا کی زمین پر معنویت کا وہ پھول کھلتا ہے جس کا دوسرا نام خدا کا داعی ہے ۔
ایسی حالت میں جو لوگ خدا کے داعی کے خلاف تخریب کاری کے منصوبے بنائیں وہ پوری کائنات کی ناقدری کرتے ہیں ۔ وہ خدا کے خلاف سب سے زیادہ سنگین بغاوت کرتے ہیں ۔ وہ اس پھول کو مسلنے کی کوشش کرتے ہیں جس کو خدا نے خود اگایا ہے ۔ خدا کی ضمانت ہے کہ ایسے لوگ اپنے منصوبہ میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے ۔ ان کے لیے ناممکن ہے کہ وہ خدا کے داعی کو اس کے مشن کی تکمیل سے باز رکھ سکیں ۔ خدا کا سچا داعی خدا کی خاص حفاظت کے سایہ میں رہتا ہے ۔ اس کے لیے خدا کا ابدی فیصلہ ہے کہ وہ لازمی طور پر کامیاب ہو، اور اس کے دشمن لازمی طور پر ناکام و نامراد ہو کر رہ جائیں ۔ خدا کے داعی کو زیر کرنا ایسا ہی ہے جیسے خدا کو زیر کرنا ، اور کون ہے جو خدا کو زیر کرنے کی طاقت رکھتا ہو ( (17جنوری ۱۹۸۶ )