Al-Risala · January 1986

Moslim Informatie Centrum

Al-Risala, January 1986, pp. 25–47

By Maulana Wahiduddin Khan

Beeklaan 207, Postbus 61217, 2506 AE Den Haag, Holland اس کے ایک ذمہ دار (Abdoel Qayyoum Boedhoe) ۲۷ اکتوبر کو مرکز میں آئے۔ انھوں نے مرکز کے پروگرام سے بہت دل چسپی کا اظہار کیا۔ ان کی دل چسپی کے پیش نظر رسالہ انگریزی ان کے نام جاری کر دیا گیا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہالینڈ میں کثرت سے لوگ اسلام قبول کر رہے اس وقت اسلام ہالینڈ کا دوسرا سب سے بڑا مذہب ہے۔

۳- عربی پریس میں اسلامی مرکز کے افکار مسلسل شائع ہو رہے ہیں۔ ریاض کے ہفت روزہ الدعوة (۲۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء) میں صدر اسلامی مرکز کا ایک مضمون خصوصی طور پر شائع ہوا ہے ۔ عنوان ہے : الدعوة الاسلامية في العصر الحديث ۔ اسی طرح ماہنامہ البلاغ (کویت) کی اشاعت ۲۴ رجب1400ھ میں صدر اسلامی مرکز کی عربی کتاب حکمتہ الدین کا لمبا اقتباس نمایاں طور پر شائع کیا گیا ہے اور آخر میں یہ الفاظ درج ہیں : نقلًا عن كتاب " حکمتہ الدین " للكاتب الہندی الکبیر وحید الدین خان ۔

۴- ہندوستان کے ایک بڑے شہر میں ایک مسجد غیر مسلم محلہ میں واقع ہے ۔ یہاں کے غیر مسلم صاحبان نے مطالبہ کیا کہ صبح کی نماز کی اذان لاوڈاسپیکر پر نہ دی جائے ۔ اس مسئلہ پر کافی تناؤ پیدا حسب معمول مسلمانوں میں ایسے نوجوان اٹھے جنھوں نے کہا کہ ہم جیل جائیں گے مگر لاؤڈ اسپیکر کو بند نہیں کریں گے۔ یہ قصہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ مسلمانوں کے کچھ سنجیدہ لوگوں نے یہ تجویز پیش کی کہ صدر اسلامی مرکز کو خط لکھا جائے اور ان کی رائے لی جائے ۔ وہ جو رائے دیں اس کے مطابق عمل کیا جائے ۔ اس کے مطابق صدر اسلامی مرکز نے وہاں کے مسلمانوں کو ایک خط لکھا جس میں انہیں یہ مشورہ دیا کہ فی الحال وہ برادرانِ وطن کے مطالبہ کو مانتے ہوئے صبح کی اذان بغیر

لاؤڈ اسپیکر دینا منظور کر لیں۔ شہر کے سنجیدہ افراد نے اس خط کو پسند کیا۔ اس کی فوٹو کاپی نکلوا کر مسلمانوں میں تقسیم کیا۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ خدا کے فضل سے مسلمانوں کا جوش ٹھنڈا ہو گیا۔ ہوگئے کہ فجر کی نماز کی اذان لاؤڈ اسپیکر پر نہ دیں گے۔ اس طرح ایک فساد ہوتے ہوتے رہ گیا جس کے نتائج کا اندازہ کرنا قارئین کے لیے مشکل نہیں۔

۵- "الرسالہ" ماہ نومبر 1985 میں ایک مضمون بعنوان "نکاح اور طلاق" چھپا ہے۔ یہ مضمون ہر جگہ بہت پسند کیا گیا ہے۔ مختلف جرائد نے بھی اس کو اپنے صفحات میں شائع کیا ہے۔ ہفت روزہ نئی دنیا ۱۱ نومبر ۱۹۸۵ اور ہفت روز بلٹز ۲ نومبر ۱۹۸۵ روزنامہ منصف حیدر آباد ۴ نومبر ۱۹۸۵، وغیرہ۔

۶- اسلامی مرکز کا خاص مقصد عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر پیش کرنا ہے۔ خدا کے فضل سے اس مقصد میں اسلامی مرکز کو اس حد تک کامیابی حاصل ہو چکی ہے کہ آج دنیا کے کسی بھی اسلامی ادارہ کے پاس عصری اسلوب میں اسلامی لٹریچر کا اتنا بڑا ذخیرہ موجود نہیں جو اسلامی مرکز کے حتی کہ اب یہ حال ہو چکا ہے کہ جو شخص بھی اسلامی دعوت کو عصری اسلوب میں پیش کرنا چاہتا ہے وہ مجبور ہوتا ہے کہ اسلامی مرکز کی مطبوعات سے استفادہ کرے ۔ اگر چہ قوم کے اندر اخلاقی جرات کی کمی کی وجہ سے یہ کام زیادہ تر بلا اعتراف ہورہا ہے۔ اس کی مثالیں ہر روز مختلف انداز سے سامنے آرہی ہیں۔ مثال کے طور پر ہفت روزہ تعمیر حیات (لکھنؤ) کے ایک مضمون میں "الرسالہ" کی ایک لمبی عبارت شامل کر لی گئی ہے جب کہ اس میں نہ الرسالہ کا حوالہ ہے اور نہ اس کے لکھنے والے کی حیثیت سے صدر اسلامی مرکز کا نام درج ہے۔ تقابل کے لیے ملاحظہ ہو الرسالہ جولائی ۱۹۸۵ صفحه ۲۴-۲۳ اور تعمیر حیات ۲۵ اکتوبر ۱۹۸۵ صفحه ۱۱ ۷- ڈاکٹر کرسٹین ڈبلیو ٹرال (برلن ۱۹۳۷) ایک جرمن مستشرق اور پادری ہیں۔ ان کی مرتب کردہ ۳۰ صفحات پر مشتمل ایک انگریزی کتاب چھپی ہے جس کا موضوع ہے ’ہندوستان میں اسلام‘ اس کتاب کے ایک باب کا عنوان ہے : دین کے بارہ میں تین ممتاز علماء کا خیال : The Meaning of Din; Recent views of Three Eminent Indian Ulama اس عنوان کے تحت محترم مولانا ابوالاعلیٰ مودودی اور مولانا ابوالحسن علی ندوی کے دینی تصور کا ذکر

ہے اور پھر نسبتاً زیادہ تفصیل کے ساتھ " مولانا وحید الدین خاں " کے دینی تصور کو بیان کیا گیا ہے۔ کتاب کا نام و پتہ حسب ذیل ہے :

Islam in India: Studies and Commentaries Edited by Dr. Christian W. Troll Vikas Publishing House Pvt. Ltd., New Delhi 110002 pp. 231, Price Rs. 95.00 نانڈیر نے ایک صاحب کیسٹ کے بارہ میں لکھتے ہیں :

الرساله کیسٹ کو یہاں پر سب لوگ پسند کیے ہیں اور دعادے رہے ہیں کہ مولانا وحید الدین کی آواز نہیں وہ بلکہ خدائی آواز ہے۔ ہم سب دعا کرتے ہیں کہ ہر گھر میں یہ آواز سنائی دے یہی میری اللہ سے عرض ہے ( ۱۸ اکتوبر ۱۹۸۵ء)

ایک صاحب نوادہ (بہار) سے لکھتے ہیں : محترم بزرگ کی تصنیف زلزلہ قیامت ابھی پڑھ کر ختم جزاک اللہ فی الدارین خیرا۔ یہ کتاب اپنے موضوع اور اسلوب کے اعتبار سے خود ایک زلزلہ ہے۔ وہ اس لائق ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کی نظر سے گزرے ۔ میں یہ کتاب یہاں دوسروں کو دے رہا ہوں ۔ یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو معلومات نہیں ہیں۔ عام طور پر قیامت حشر اور حساب و کتاب سے مسلمان واقف ہیں۔ مگر اسی بات کو مولانا محترم کے اسلوب اور انداز بیان سے کہاں سے کہاں پہونچا دیا ہے۔ اثر آفرینی اور تاثیر کی کوئی حد نہیں ( ۲۳ اکتوبر ۱۹۸۵ء) یہ دو خط بطور نمونہ یہاں نقل کیے گئے ہیں۔ اس قسم کے خط ہم کو ہر روز برابر موصول ہوتے ہیں۔ نیویارک (امریکہ) میں مختلف مذاہب کی ایک بین اقوامی کانفرنس نومبر ۱۹۸۵ء میں ہوئی صدر اسلامی مرکز کو بھی اس کانفرنس میں اسلام کی نمائندگی کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ اس کے مطابق انھوں نے اس بین اقوامی کانفرنس میں شرکت کی۔ اور اپنا مقالہ اسلام کے موضوع پر پیش کیا۔ تفصیلی حال انشاء اللہ روداد سفر کے تحت الرسالہ میں شائع کر دیا جائے گا ۔ پیغمبر انقلاب کا انگریزی ترجمہ چھپ کر تیار ہو گیا ہے۔ کتاب کا انگریزی نام یہ ہے : MUHAMMAD: The Prophet of Revolution مذہب اور جدید چیلنج کا عربی ترجمہ (الاسلام یتحدی) اس سے پہلے عرب ملکوں میں چھپتا رہا ہے اب وہ مکتبہ الرسالہ سے بھی چھپ گیا ہے ۔ شائقین اس کو یہاں سے حاصل کر سکتے ہیں ۔

Printed page