Al-Risala · October 1986

واقفیت ضروری

Al-Risala, October 1986, pp. 12–13

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں قیامت کی عدالت کے بارہ میں ارشاد ہوا ہے کہ وہاں وہی شخص گواہی دے گا جو حق کی گواہی دے اور وہ اس کو جانتا ہو لا يملك الذين يدعون من دونه الشفاعة الا من شهد بالحق وهم يعلمون (الزخرف 86)

ی چیز دنیا کے معاملات میں بھی مطلوب ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ایک مقدمہ پیش ہوا۔ اس میں ایک شخص گواہی دینے کے لیے آیا۔ آپ نے گواہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا : اگر تم نے سورج کی طرح دیکھا ہو تو گواہی دو ورنہ اس سے الگ رہو۔ مثل الشمس فاشهد وَالاّفدَع احکام القرآن للجصاص)

اسی بنا پر فقہاء نے شہادت کا یہ اصول وضع کیا ہے کہ علم گواہی کے لیے شرط ہے۔ شخص جس واقعہ کی گواہی دینا چاہتا ہے اس کو اس واقعہ کا ذاتی علم ہونا چاہیے۔ اگر وہ متعلقہ واقعہ کا ذاتی علم نہیں رکھتا تو نہ اس کو گواہی دینا چاہیے اور نہ اس کی گواہی کا شرعی طور پر کوئی اعتبار ہے ۔

اس سے معاملات میں شریعت کا مزاج معلوم ہوتا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک شخص کو معاشرہ میں کس طرح رہنا چاہیے۔ اس کو کیا بات بولنا چاہیے اور کیا بات نہیں بولنا چاہیے ۔

ایک شخص کے کسی معاملہ میں آپ رائے دینے جارہے ہوں تو پہلے سوچ لیجیے کہ کیا آپ اس معاملہ میں ضروری واقفیت رکھتے ہیں۔ کیا اس معاملہ میں آپ کی واقفیت اس درجہ کو پہنچ چکی ہے کہ اس کو ذاتی علم کہا جاسکے ۔ اگر آپ مذکورہ معاملہ میں ذاتی علم کی حد تک واقف ہوچکے ہیں تو آپ اس معاملہ میں بولیے ورنہ خاموش رہیے ۔

مزید یہ کہ یہ بات کہ آپ مذکورہ معاملہ سے پوری طرح واقف ہیں یہ بھی اس وقت درست قرار پائے گا جب کہ وہ از روئے واقعہ بھی درست ہو۔ ورنہ خدا کی عدالت میں آپ مجرم قرار پائیں گے ، خواہ بطور خود اپنے آپ کو واقف کار سمجھ رہے ہوں ۔

صلی اللہ علیہ وسلم بیرون انه لا یضبر مع لا اله الا الله ذنب كما لا ینفع مع الشرك عمل فنزلت (اطیعوا الله واطیعوا الرسول ولا تبطلوا اعمالكم)

Printed page