جھوٹی شکایت
Al-Risala, October 1986, p. 19
By Maulana Wahiduddin Khan
انسانی سماج میں جو چیز سب سے زیادہ عام ہے وہ جھوٹی شکایت ہے اور جو چیز اس سے بھی زیادہ عام ہے وہ ہے جھوٹی شکایت کو سن کر فورا اسے مان لینا۔ مگر یہ دونوں ہی چیزیں سراسر باطل ہیں۔ کا پیدا ہونا اگر بذات خود کوئی اہمیت رکھتا ہو تو دنیا کا کوئی شخص بھی قابلِ اعتبار نہیں، حتی کہ نعوذ باللہ پیغمبر بھی نہیں۔ کیوں کہ دنیا میں کوئی بھی شخص ایسا نہیں جس کے بارہ میں شکایت کرنے والوں نے پیر ہوں، ہیں اور یہ میری اہمیت ہے کہ اس کی شکایتیں نہ کی ہوں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماثر معصوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بلابشبہ معصوم تھے۔ مگر سیرت اور حدیث کی کتابیں بتاتی ہیں کہ آپ کے زمانہ کے یہود اور منافقین نے آپ کے اوپر طرح طرح کے الزامات لگائے۔ حتی کہ وہ لوگ جن کو صحابی کہا جاتا ہے ان میں بھی ایسے افراد نکلے جنہیں آپ کے بارہ میں غلط فہمیاں پیدا ہوئیں اور اس کا اظہار ہوا۔ یہاں صرف ایک واقعہ بطور مثال نقل کیا جاتا ہے ۔ غزوہ حنین کے بعد کافی مال غنیمت ملا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان اموال کو لوگوں میں تقسیم کر رہے تھے۔ اس دوران ایک مسلمان کا واقعہ پیش آیا۔ یہ واقعہ سيرة ابن ہشام میں ان الفاظ میں نقل کیا گیا ہے :
خرجت أنا ولبيد بن كلاب الليثي حتى أتينا عبد الله بن عمرو بن العاص وهو يطوف بالبيت معلّقاً نعلــه بيده ۔