Al-Risala · October 1986

فقلنا له ـ هل حضرت رسول الله

Al-Risala, October 1986, pp. 19–20

By Maulana Wahiduddin Khan

صلى الله عليه وسلم حين كلمه التميمي يوم حنين ـ فقال نعم ـ جاء رجل من بنی تمیم يقال له ذو الخُوَيْصِرة فوقف عليه وهو يعطى الناس ـ فقال يا محمد ۔ قد رأيت ما صنعت فى هذا اليوم راوی کہتے ہیں کہ میں اور نلید بن کلاب لیثی نکلے۔ یہاں تک کہ ہم عبداللہ بن عمروبن العاصؓ کے پاس اور وہ اپنے ہاتھ میں جوتا لیے ہوئے کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا، کیا آپ اس وقت موجود تھے جب تمیمی نے حنین کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلام کیا۔ کہا ہاں ۔ بنو تمیم کا ایک آدمی آیا ۔ اس کو ذوالخویصرہ کہا جاتا تھا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ گیا اور آپ لوگوں کو عطیات دے رہے تھے۔

فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ اجل فكيف اس نے کہا اے محمد! آج آپ نے جو کیا اس کو میں فقال لم أرك عدلت ۔ قال نے دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ تم نے فغضب النبی صلی اللہ علیہ وسلم تشم قال کیا دیکھا۔ اس نے کہا میں نے نہیں دیکھا کہ آپ اذا لم يكن العدل عندی نے انصاف کیا ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ فعند من يكون صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر غضب ناک ہو گئے۔ (الجزء الرابع صفحہ ۱۴۴) نے فرمایا کہ تمہارا برا ہو۔ اگر میرے یہاں انصاف نہ ہو تو پھر کس کے یہاں انصاف ہو گا۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں مذکورہ مسلمان نے جو بات کہی، وہ اپنے نزدیک اس کی مضبوط بنیاد رکھتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے دیکھا کہ جنگ میں انصار اور مہاجرین دونوں نے حصہ لیا۔ دونوں نے یکساں طور پر سر فروشی کی۔ مگر جب مالِ غنیمت کی تقسیم کا وقت آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کچھ قریش کو اور عرب قبیلوں کو دے دیا۔ مدینہ کے انصار کو آپ نے کچھ نہیں دیا (روا عطی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ما اعطی فی قبائل قريش وقبائل العرب و لم يعط الانصار شيئاً، صفحہ ۱۴۵)

اس معاملہ میں بہت سی باتیں ہوئیں۔ حتی کہ حسان بن ثابت انصاری نے ایک نظم لکھی جس کو ابن ہشام نے نقل کیا ہے۔ اس کا پہلا شعر یہ تھا:

زَادَ الهُمومَ فَماءُ العَينِ مُنحَدِرُ سَحّاً اِذا حَفَلَتْهُ عَبْرَةٌ دِرَرُ رنج و غم بڑھ گئے، پس آنکھ کا پانی برابر بہہ رہا ہے، جب کہ یہ پانی بہتے ہوئے آنسوؤں نے جمع کیا ہے۔ یہ شکایت بظاہر درست ہونے کے باوجود اپنی حقیقت کے اعتبار سے سراسر غلط تھی۔ کرنے والے سارے معاملے کو بس شرکتِ جہاد کے اعتبار سے دیکھ رہے تھے۔ جب کہ رسول اللہ علیہ وسلم نے اس کو مصلحتِ اسلام کے اعتبار سے دیکھا۔ شرکت جہاد عام حالات میں یقیناً قابلِ اعتبار ہے، مگر جب اس کا مقابلہ مصلحتِ اسلام سے ہو تو مصلحتِ اسلام کا پہلو قابلِ ترجیح قرار پائے گا ۔ غلط زاویہ نگاہ سے دیکھنے میں ایک چیز نادرست نظر آسکتی ہے۔ زاویہ نگاہ سے دیکھئے تو وہی چیز عین درست نظر آنے لگے گی۔

Printed page