Al-Risala · October 1986

برانام

Al-Risala, October 1986, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

يايها الذين آمنوا لا يسخر قوم من قوم عسى أن يكونوا خيرا منهم ولا نساء من نساء عسى أن يكن خيرا منهن ولا تلمزوا انفسكم ولا تنابزوا بالالقاب بئس الاسم الفسوق بعد الايمان ومن لم يتب فأولئك هم الظالمون

ولا تنابزوا بالالقاب کے ذیلی اللہ تعالیار اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نہ مرد دوسرے مردوں کو مذاق اڑائیں ، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، شاید کہ وہ ان سے بہتر ہوں ۔ اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو عیب لگاؤ ، اور نہ ایک دوسرے کو برا لقب ایمان کے بعد گناہ کا نام لگنا برا ہے ۔ شخص توبہ نہ کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں ۔ ہم تفسیر طبری کے الفاظ نقل کرتے ہیں : ولا تنابزوا بالألقاب) یعنی ان یدعى الرجل. باسم يكرهه أوصفة (بئس الاسم الفسوق

ان الفاظ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روکا ہے کہ کسی آدمی کو ایسے نام سے پکارا جائے جس کو وہ بعد الایمان من سخر من المومنین و نبزهم بالالقاب و خالف امر الله عزوجل فقد استحق اثم الفسق (طبری)

ایک شخص سے آپ کو اختلاف ہو جائے تو ایک پسند نہ کرے یا ایسی صفت سے جو اس کو پسند نہ جو مسلمان کسی شخص کا مذاق اڑائے اور اس کو بر القصب دے اور اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کرے تو وہ فسق کے گناہ کا مستحق ہو گیا ۔ صورت یہ ہے کہ آپ اس کو اس کے اصل نام سے ایک شخص سے آپ کا اختلاف ہو جائے توایک صورت یہ ہے کہ آپ اس کو اس کے اصل نام سے پکاریں اور اس کی اس صفت پر اظہار خیال کریں جو اس کی معروف صفت ہے ، اگر آپ ایسا کریں تو ایسا کرنا آپ کے لیے جائز ہے ۔ اس کے برعکس اگر آپ اس کو ایک نیا نام دیں ، مثلاً عبد الوہاب کے بجائے اس کو وہابی کہیں تو یہ ایک غیر اسلامی فعل ہے ۔ اسی طرح اگر آپ اس کے مسلک کو اس کے ظاہر کیے ہوئے لفظوں میں بیان کرنے کے بجائے کچھ دوسرے الفاظ میں بیان کریں ، مثلاً یہ کہیں کہ یہ کافروں کا ایجنٹ ہے ، تو یہ سراسر فاسقانہ حرکت ہے اور اللہ تعالیٰ کے غضب کو بھڑکانے والی ہے ۔

اس آیت میں جس چیز سے منع کیا گیا ہے ، اس کا تلخ تجربہ ہم کو ماہنامہ الرسالہ کے سلسلہ میں ہوا۔ الرسالہ میں اسلام کے جن پہلوؤں کو نمایاں کیا جارہا ہے ان میں سے ایک وہ ہے جس کا تعلق تعمیر ملت سے الرسالہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کو تلقین کرنا ہے کہ وہ قرآن کے حکم کے مطابق صبر اور اعراض کا طریقہ اختیار کریں۔ اس بات سے برہم ہو کر کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ الرسالہ مسلم دشمنوں کا ایجنٹ ہے، وہ مسلمانوں کو بزدل سکھارہا ہے ، وغیرہ ۔

اس طرح کے تبصرے ، مذکورہ آیت کے مطابق ، بلاشبہ فسق ہیں ۔ یہ ہم کو وہ نام دینا ہے جو ہم نے اپنا نام نہیں رکھا ، اور ہماری طرف وہ الفاظ منسوب کرتا ہے جو ہم نے اپنی زبان سے ادا نہیں کیا۔ لوگوں کو اگر کہنا ہے تو یہ کہیں کہ الرسالہ صبر اور اعراض کی پالیسی پر عمل کرنے کا سبق دیتا ہے اور ہم فلاں شرعی یا عقلی دلیل کی بنا پر اس کو رد کرتے ہیں۔ انھیں جو کچھ بولنا ہے " صبر اور اعراض " پر بولیں نہ کہ " بزدلی " یا کسی اور نام پر جو انھوں نے خود سے گھڑ کر ہمارے اوپر چسپاں کر دیا ہو۔ ہم نے جو کہا ہے وہ یہ ہے کہ " مسلمان صبر کریں " ہم نے یہ نہیں کہا کہ " مسلمان بزدلی بنیں " ایسی حالت میں جو شخص ہمارے اوپر وہ لفظ چسپاں کرتا ہے جو ہم نے نہیں کہا تو اس کو جاننا چاہیے کہ اس کے اوپر قرآن کی مذکورہ آیت چسپاں ہو رہی ہے ، خواہ وہ چاہے یا نہ چاہے ۔

مذکورہ آیت میں مزید یہ فرمایا گیا ہے کہ دوسرے شخص کو برا کہنے والا اگر توبہ نہ کرے تو اللہ کے یہاں وہ خود ظالم قرار پائے گا۔ یہی بات حدیث میں مختلف الفاظ میں آئی ہے۔ یہاں ہم چند روایتیں نقل کرتے ہیں :

عن ابی ذر قال قال رسول الله صلی اللہ علیہ حضرت ابو ذر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وسلم لا يرمى رجل رجلاً بالفسوق ولا يرميه فرمایا کہ جب ایک شخص دوسرے شخص کو فسق یا کفر بالكفر الا ارتدت عليه ان لم يكن کا الزام لگائے تو یہ الزام ضرور کہنے والے پر لوٹے صاحبه كذالك (رواه البخاري) وعن ابن عمر گا اگر اس کا ساتھی ایسا نہ ہو ۔ حضرت عبداللہ بن قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ايما عمر کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا رجل قال لاخيه كافر فقد باء بها احد هما کہ جو شخص بھی اپنے بھائی کو کافر کہے تو وہ ضرور (متفق عليه) وعن ابی ذر قال قال رسول الله صلی اللہ دونوں میں سے ایک پر پڑے گا۔ حضرت ابو ذر کہتے

علیہ وسلم من دعی رجلاً بالكفر أو قال عداو ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص اللہ وليس ذالك الاجهاء عليه دوسرے شخص کو کافر کہے کہ پکارے، یا اس کو (متفق علیہ ) خدا کا دشمن کہے اور وہ ایسا نہ ہو تو یہ بات خود کہنے والے پر لوٹ آئے گی ۔

ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کو برا نام ویسا نہ بے حد سنگین جرم ہے۔ اور اس کی سنگینی کا سب سے زیادہ نازک پہلو یہ ہے کہ جس شخص کو برا نام دیا گیا ہے ، اگر وہ ایسا نہیں ہے تو اس برے نام کا سارا وبال خود کہنے والے کی طرف لوٹ آئے گا۔ شریعت اسلام نے اس سے کسی کو نہیں روکا کہ وہ حقائق و واقعات کی بنیاد پر کسی کے خیالات کا تجزیہ کرے جس کو موجودہ زمانہ میں علمی تنقید کہا جاتا ہے۔ کو برا نام دینا (کسی کے بارہ میں مخالفانہ ریمارک پاس کرنا) سراسر غیر شرعی فعل ہے۔ یہ اللہ کو اتنا زیادہ نا پسند ہے کہ اگر مخاطب دینا ہو تو یہ برا نام خدا کے رجسٹر میں خود قائل کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے ۔ گویا یہ ایک قسم کا بوم رینگ (Boomerang) عمل ہے۔ یہ ایک ایسا پتھر ہے جو دوسرے پر نہ پڑے تو وہ لوٹ کر خود پھینکنے والے پر پڑتا ہے ۔

مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس آیت کی تفسیر کے تحت لکھا ہے : " عموماً دیکھا جاتا ہے کہ جہاں دو شخصوں یا دو جماعتوں میں اختلاف رونما ہوا ، بس ایک دوسرے کا تمسخر اور استہزاء کرنے لگتا ہے۔ بات ہاتھ لگ گئی اور ہنسی مذاق اڑانا شروع کر دیا۔ حالاں کہ اسے معلوم نہیں کہ شاید جس کا مذاق اڑا رہا ہے وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہتر ہو۔ بلکہ بسا اوقات یہ خود بھی اختلاف سے پہلے اس کو بہتر سمجھتا ہوتا ہے مگر ضد اور نفسانیت میں دوسرے کی آنکھ کا تنکا نظر آتا ہے ، اپنی آنکھ کا شہتیر نظر نہیں آتا۔ آیئے ہذا میں خدا وند قدوس نے اس قسم کی باتوں سے منع فرمایا ہے ۔ یعنی ایک جماعت دوسری جماعت کے ساتھ نہ مسخر اپن کرے نہ ایک دوسرے پر آوازے کے جائیں ، نہ کھوج لگا کر عیب نکالے جائیں اور نہ برے ناموں اور برے القاب سے فریق مقابل کو یاد کیا جائے ۔ کسی کا برا نام ڈالنے سے آدمی خود گنہ گار ہوتا ہے ۔ اُسے تو واقع میں عیب لگایا نہ لگا ، لیکن اس کا نام بد تہذیب ، فاسق ، گنہ گار ، مردم آزار پڑ گیا ۔ جو پہلے ہو چکا اب تو بہ کر لو۔ اگر یہ احکام و ہدایات سننے کے بعد بھی ان جرائم سے توبہ نہ کی تو اللہ کے نزدیک اصلی ظالم یہ ہی ہوں گے "۔

Printed page