Al-Risala · October 1986

ایک سفر

Al-Risala, October 1986, pp. 27–30

By Maulana Wahiduddin Khan

اگست ۱۹۸۶ء کی بارہ تاریخ تھی۔ ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ رسیور اٹھایا تو آواز آئی، میں بمبئی سے ایس بی کو پے بول رہا ہوں، کلیریٹی کا ایڈیٹر ۔ ہم ۲۳ اگست کو بمبئی میں کمیونل ہارمنی کے اوپر ایک کانفرنس کر رہے ہیں۔ دہلی کی ملاقات میں میں نے اس کا ذکر کیا تھا۔ سے لوگ اس ٹاپک پر آپ کے خیالات سننا چاہتے ہیں ۔ مختصر گفتگو کے بعد میں نے رضامندی اگلے دن دونوں طرف سے "اوکے" ہو کر ٹکٹ آ گیا ۔ درمیان میں کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے بات کی اطلاع بذریعہ ٹیلی فون ملتی رہی ۔ ۲۲ اگست کی شام کو میں انڈین ایئر لائنز کی فلائٹ نمبر ۵۰۴ کے ذریعہ بمبئی پہنچا اور ۲۴ اگست کی صبح کو فلائٹ نمبر ۱۸۱ سے دھلی واضح ہو کہ دہلی سے بمبئی کا فاصلہ پندرہ سو کلو میٹر ہے۔ یہ سب کچھ اس طرح ہوا جیسے میں گھر کے ایک کمرہ سے نکل کر دوسرے کمرہ میں جا رہا اس طرح کے واقعات موجودہ زمانہ میں بے شمار لوگوں کے ساتھ پیش آرہے ہیں ۔ ٹیلی فون ، ہوائی جہاز، کمپیوٹر اور اس طرح کے دوسرے جدید آلات نے موجودہ زمانہ میں سفر اور مواصلات کو کتنا آسان بنا دیا ہے۔ یہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا انعام ہے ۔ اپنی واقفیت کے دائرہ میں ابھی تک وہ انسان نہیں ملا جو ان سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اللہ کی یاد میں گم ہو جائے ۔ ان کو استعمال کرتے ہوئے خدا کے احسانات کا جذبہ اسے سرشار کر دے ۔

انڈین ایر لائنز روزانہ ۴۲۰ سے زیادہ جہاز چلاتی ہے۔ یہ جہاز ۳۷ مقامات کو ایک دوسرے سے وابستہ کرتے ہیں۔ ان جہازوں پر ہر روزانہ تقریباً ۲۶ ہزار مسافر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیں۔ عالمی سطح پر ہوائی مسافروں کی تعداد اس سے بہت زیادہ ہے۔ میں نے اب تک ملک کے اندر اور ملک کے باہر تقریباً چالیس ہوائی سفر کیے ہیں۔ آمد و رفت کو الگ الگ شمار کیا جائے تو ان سفروں کی تعداد ۸۰ تک پہونچ جائے گی۔ دوران اور سفر کے بعد مجھے بے شمار لوگوں سے واقف ہونے کا موقع ملا۔ اس کے علاوہ بالواسطہ

طور پر بھی ان بہت سے لوگوں کے بارے میں معلومات حاصل ہوئی ہیں، جو جدید سہولتوں سے فائدہ اٹھاتے مگر مجھے یاد نہیں کہ اب تک میں کسی ایسے شخص سے واقف ہوا ہوں، جو حقیقی شعوری معرفت کے تحت ان چیزوں کو خدا کی نعمت سمجھتا ہو۔ رسمی طور پر الحمد للہ یا اس کے ہم معنی لفظ کہنے والے تو بہت مگر اس انسان سے ابھی تک میں واقف نہ ہو سکا، جو ان چیزوں کو دیکھ کر حمد خداوندی کے سمندر میں غرق ہو جائے ۔ جو ان سے گزر کر اس طرح نکلے گویا وہ انعامات الہی کی بارش سے نہا کر نکلا ہے ۔

ڈیڑھ گھنٹہ کی پرواز کے بعد جہاز جب بمبئی کے قریب پہنچا تو جھٹکے کے ساتھ وہ اس طرح اوپر سے نیچے آیا جیسے کوئی چیز اچانک بلندی سے گر پڑے ۔ اس وقت زندگی اور موت ایک دوسرے سے قریب نظر آئے ۔ انسان ہر لمحہ موت سے قریب ہے ۔ تاہم خدا مختلف مواقع پر غیر معمولی جھٹکے دیتا رہتا ہے تاکہ جو لوگ شعور کی نگاہ سے نہ دیکھ سکتے ہوں وہ تجربہ کی نگاہ سے دیکھ لیں ۔ جو لوگ سوچ کر حقیقتوں کو نہ جان سکتے ہوں وہ ان میں پڑ کر حقیقتوں کو جان لیں ۔ بمبئی ہندوستان کی تجارتی راجدھانی ہے ۔ وہ دنیا کا ساتواں سب سے بڑا شہر ہے ۔ کی موجودہ آبادی ایک کروڑ کے قریب ہے ۔ وہ ہندوستان کے قدیم ترین ساحلی شہروں میں سے یہاں مختلف حکومتیں رہی ہیں ۔ ۱۴۱۳ء میں وہ گجرات کی مسلم سلطنت کے تحت آیا۔ سولھویں صدی کے آغاز میں پرتگالیوں نے اس پر قبضہ کیا ۔ ۱۶۶۱ میں ایک معاہدہ کے تحت وہ برطانیہ کو مل گیا جس کا سلسلہ ۱۹۴۷ میں ختم ہوا ۔

۱۸۵۰ میں یہاں سب سے پہلی کپڑے کی مل قائم ہوئی ۔ بہت جلد بمبئی روئی کا ایک بڑا مارکیٹ بن گیا ۔ ۶۵-۱۸۶۱ میں امریکہ میں زبردست خانہ جنگی ہوئی ۔ اس کے نتیجہ میں امریکہ کی روئی کا برطانیہ پہنچنا بند ہو گیا ۔ اب انگلینڈ کے کارخانوں نے اپنی ضرورت کی روئی بمبئی سے لینا شروع اس کے نتیجہ میں بمبئی کا روئی کا کاروبار بہت بڑھ گیا ۔ ۱۸۶۹ میں نہر سویز کا بحری راستہ کھلا تو یورپ اور بمبئی کے درمیان تجارت میں مزید ترقی ہوئی ۔

بمبئی پورے معنوں میں میٹروپولیٹن شہر ہے ۔ یہاں ہر مذہب کے لوگ موجود ہیں ۔ آدھی آبادی ہندوؤں پر مشتمل ہے ۔ بقیہ میں مسلم، عیسائی، بدھ جین، سکھ ، پارسی اور یہودی

اسی طرح یہاں ہندوستان کی تمام زبانوں کے بولنے والے پائے جاتے ہیں۔ نیز غیر ملکی زبانوں کے بھی۔ تاہم مرمٹی زبان کو غلبہ حاصل ہے۔

بمبئی ٹائمز (The Bombay Times) ،غالباً ہندوستان کا پہلا انگریزی اخبار ہے جو بمبئی سے جاری ہوا۔ یہ اخبار ۱۸۳۸ء میں بمبئی ٹائمز کے نام سے جاری ہوا تھا ، اب یہی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے نام سے نکل رہا ہے۔ ٹائمز آف انڈیا کے سر ورق پر لکھا رہتا ہے : جاری شدہ ۱۸۳۸ء ۔ اس کا مطلب یہی ہے۔ کیوں کہ ۱۸۳۸ء میں ’’ٹائمز آف انڈیا‘‘ نام کا اخبار موجود نہ تھا۔

میرا ایک خیال یہ ہے کہ کچھ چیزیں کسی خاص مقام کے لیے مقدر ہوتی ہیں اور وہ ٹھیک اسی مقام پر واقع ہوتی ہیں۔ بمبئی میں میں نے ایک خواب دیکھا۔ یہ بڑا عجیب خواب تھا۔ شاید یہی مقدر تھا کہ اس خواب کو میں بمبئی میں دیکھوں ۔

بمبئی میں میرا قیام لینڈس اینڈ (Lands End) کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ مالابار ہل پر واقع ہے ۔ یہاں ۲۲ اور ۲۳ اگست کی درمیانی رات کو میں نے ایک خواب دیکھا۔ خواب بہت صاف تھا۔ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ مجھے پھانسی دے کر مار ڈالنا چاہتے ہیں۔ نے مجھے لکڑی کی ایک میز کے اوپر کھڑا کیا۔ اوپر چھت کے ساتھ پھانسی کا پھندا لٹک رہا تھا۔ ان لوگوں نے پھانسی کا پھندا میرے گلے میں ڈال کر میز میرے قدموں کے نیچے سے ہٹا دی۔ پھانسی کی رسی کے ساتھ لٹک گیا اور اسی وقت مرگيا۔ اس عمل کے دوران مجھے ذرا بھی کوئی تکلیف نہیں ہوئی ۔ میں نہ اس کو دیکھ کر گھبرایا اور نہ میں نے کوئی مزاحمت کی۔ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ ہے کہ پھانسی لگنے کے فوراً بعد میں وہاں دوبارہ زندہ موجود تھا۔ جب ان لوگوں نے دیکھا کہ میں دوبارہ زندہ ہو گیا ہوں تو انھوں نے پھر اسی طرح مجھ کو میز کے اوپر کھڑا کیا۔ اور مذکورہ طریقے سے دوبارہ مجھے پھانسی دی ۔ اب بھی یہی ہوا کہ میں بلا تکلیف مرگيا۔ اور اس کے فوراً بعد دوبارہ پہلے کی طرح وہاں زندہ موجود تھا اب ان لوگوں نے پھانسی کا یہی عمل میرے ساتھ تیسری بار کیا۔ مگر تیسری بار ایسا ہوا کہ جیسے ہی رسی میری گردن میں ڈالی گئی میری نیند کھل گئی۔ تیسری بار میں مرنے سے پہلے جاگ اٹھا ۔

مجھے ایسا لگتا ہے کہ یہ خواب بُشریٰ من اللہ ہے اور اس کی تعبیر نہایت با معنی ہے۔ خواب ان معاندانہ کارروائیوں کی تمثیل ہے جو میرے ساتھ پہلے کی گئیں اور اب بھی کی جارہتی اس خواب میں مجھے اپنے مشن کے سلسلہ میں ماضی کی تصویر اور مستقبل کی بشارت نظر اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ میرے دینی اور تعمیری مشن کو ”سہانی“ دینا چاہتے ہیں وہ ماضی میں بھی ناکام ہوئے اور مستقبل میں وہ قطعی ناکام رہیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز۔ ۲۳ اگست کو صبح ۱۰ بجے کانفرنس شروع ہوئی۔ کانفرنس کی کارروائی لطیفی ہال (صا بو صدیق انجینئرنگ کالج) میں ہوئی۔ میں وہاں پہونچا تو دیکھا کہ اندر باہر ہر طرف وردی پوش لوگ کھڑے ہوئے ہیں۔ حتیٰ کہ چھتوں پر بھی مسلح پولیس کے لوگ دکھائی دے رہے تھے۔ کانفرنس کا افتتاح چیف منسٹر مہاراشٹر ایس بی چوہان کرنے والے تھے۔ اس کے علاوہ کئی مرکزی اور ریاستی وزیر ڈائس پر موجود تھے ۔ سیکورٹی کا غیر معمولی انتظام اس لیے تھا۔ ہمارے لیڈر انگریزوں کے دور میں ۱۹۴۷ء سے پہلے یہ کہتے تھے کہ ” سیکورٹی “ بیرونی حکمرانوں کی ضرورت ہے۔ آزادی کے بعد جب عوام کے نمائندے ملک کے حکمراں ہوں گے تو ان کو پولیس اور فوج کی حفاظت کی ضرورت نہ ہوگی۔ اس لیے ملک اس قسم کے غیر ضروری اخراجات سے بچ جائے گا۔ مگر آج سیکورٹی پر پہلے سے کئی گنا زیادہ خرچ ہو رہا ہے۔ ایک پولیس افسر نے کہا: ” آج کل تو سمجھ لیجئے کہ کرائم ڈینٹکشن کا کام بند ہے، ساری طاقت بس سیکورٹی پر لگ رہی ہے“ کانفرنس میں وزیر اعظم راجیو گاندھی کا پیغام پڑھا گیا۔ انھوں نے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ کمیونلزم (فرقہ پرستی) ہمارے ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ (Greatest danger) ہے۔ مختلف حضرات نے پر جوش تقریریں کیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ اسی بمبئی سے اسی اگست کے مہینے میں ہم نے انڈیا چھوڑو (Quit India) کا نعرہ دیا تھا۔ اب اسی بمبئی سے ہم کو فرقہ واریت انڈیا چھوڑے (Communalism Quit India) کا نعرہ دینا ہے۔ اسی طرح دوسرے حضرات نے فرقہ پرستی اور تشدد کو سختی سے کنڈم کیا۔ اور کہا کہ موجودہ صورت حالاگر اسی طرح باقی رہی ہے تو ملک تباہ ہو جائے گا۔

یہ باتیں کس حد تک سنجیدہ ذہن سے کہی گئیں، اس سے قطع نظر اہم بات یہ ہے کہ

Printed page