Al-Risala · October 1986

ہم کو دوسروں کی غلطی کو سنبھالنا پڑتا ہے

Al-Risala, October 1986, pp. 22–46

By Maulana Wahiduddin Khan

اس نے کہا کہ سڑک پر گاڑیاں چلانے والے اکثر اناڑی پن کے ساتھ گاڑیاں چلاتے ہیں ۔ طریقہ سے اپنی گاڑی دوڑاتے ہیں۔ اگر ہم بھی انھیں کی طرح کرنے لگیں تو ایکسیڈنٹ یقینی ہے۔ لیے جو کام دوسروں کو کرنا چاہیے وہ ہمیں کرنا پڑتا ہے۔ ہم کو یہ کرنا پڑتا ہے کہ دوسرا شخص جب غلطی کرے تو ہم اپنے آپ کو اس کی غلطی سے بچائیں ۔

سڑک پر گاڑی دوڑانے والا آدمی اگر یہ بحث چھیڑے کہ کون صحیح ہے اور کون غلط، تو وہ خود غلط ہو کر رہ جائے گا۔ چنانچہ وہ قانونی اور منطقی نقطہ نظر کو چھوڑ کر عملی نقطہ نظر اختیار کرتا وہ اس بحث میں نہیں پڑتا کہ غلطی کس کی ہے۔ وہ صرف یہ سوچتا ہے کہ میں اپنے آپ کو اس کی غلطی کی انجام سے کس طرح بچاؤں ۔ دوسرا اگر غلطی کر رہا ہو تب بھی وہ اس غلطی کو اپنے خانہ میں ڈال لیتا ہے ۔ وہ دوسرے کی غلطی کو یک طرفہ طور پر خود درست کرتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو قرآن میں اعراض کہا گیا ہے ۔

ڈرائیور سے گفتگو کے بعد میں نے سوچا کہ ہیر الال نے جو بات سڑک کے بارہ میں بتائی، وہی بات عام زندگی کے بارہ میں بھی صحیح ہے ۔ لوگوں کے درمیان رہتے ہوئے بھی ہمیں وہی کرنا ہے جو ایک ٹیکسی ڈرائیور بھری ہوئی سڑک پر چلتے ہوئے کرتا ہے۔ یعنی دوسرے لوگ جب غلطی کریں تو ہم ان کی غلطی کو سنبھالیں ۔ دوسروں کی غلطی کے انجام سے اپنے آپ کو بچانے کی تدبیر کریں ۔ مگر حیرت ہے کہ ہمارے لیڈر جو قوم کے ڈرائیور ہیں ، وہ اس سادہ سی حقیقت کو نہیں جانتے جو ٹیکسی کا معمولی ڈرائیور بھی جانتا ہے ۔ شاید اس لیے کہ قوم کے لیڈر قوم کے بارہ میں اتنے سنجیدہ نہیں جتنا ایک ٹیکسی ڈرائیور اپنی ٹیکسی کے بارہ میں سنجیدہ ہوتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور کو اپنی ٹیکسی کا درد ہے ، یہ درد اس کو بتائے بغیر وہ بات سمجھا دیتا ہے جو درد سے خالی آدمی بتانے کے بعد بھی نہیں سمجھتا۔

کچھ علوم وہ ہیں جو درد کی درس گاہ میں پڑھائے جاتے ہیں۔ اگر آپ درد کی درس گاہ

کے طالب علم نہ ہوں تو آپ ان علوم کو سمجھ بھی نہیں سکتے ۔

حسب پرو گرام کانفرنس کے آخر میں میری دوسری تقریر ہوئی ۔ یہ تقریر تقریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی۔ میں نے اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا ــــــــ حقیقت واقعہ سے مطابقت کا نام کامیابی ہے اور حقیقت واقعہ سے مطابقت نہ کرنے کا نام ناکامی : What is success? To live in accordance with realities. What is failure? To defy them. قرآن وحدیث سے اور مختلف مثالوں سے تشریح کرتے ہوئے میں نے بتایا کہ خدا نے اس دنیا کو اس ڈھنگ پر بنایا ہے کہ یہاں ایک اور دوسرے کے درمیان مقابلہ اور مسابقت پیش آئے ۔ پھر کوئی جیتے اور کوئی ہارے ۔ کوئی غالب ہو اور کوئی مغلوب رہے۔ یہ زندگی کی ایک حقیقت ہے اور یہ تخلیق الہی کے عین مطابق ہے ۔ اس لیے وہ بہر حال باقی رہے گی ۔ یہاں تک کہ قیامت آجائے ۔ ہمیں چاہیے کہ شکایت اور احتجاج کا طریقہ چھوڑ کر حکیمانہ تدبیر اور تعمیری استحکام کے ذریعہ اپنے مسائل کو حل کریں ۔ یہ تقریر انشاء اللہ مرتب کر کے شائع کر دی جائے گی ۔

بمبئی میں لوگوں کا اصرار تھا کہ میں مزید قیام کروں ۔ مگر میرے لیے مزید ٹھہرنے کا موقع اس لیے معذرت کر کے ۲۴ اگست ۱۹۸۶ کی صبح کو میں دہلی واپس آگیا۔ قیمت میں اضافہ سابقہ اعلان کے مطابق الرسالہ اردو اور انگریزی کی قیمت میں جنوری ۱۹۸۷ سے اضافہ کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جنوری ۱۹۸۷ سے الرسالہ کی قیمتیں حسب ذیل ہوں گی ۔ فی شماره چار روپیه سالانه ۳۸ روپیه اسی نسبت سے ایجنسی کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو جائے گا ۔

اردو کے علاوہ دوسری زبانوں میں بھی الرساله کے مضامین کثرت سے نقل کیے جا رہے ہیں۔ مثلاً دہلی کے سہ ماہی انگریزی مجلہ (Amity and Solidarity) نے اپنی اشاعت جون ۱۹۸۶ میں صفحہ 37 پر الرساله کا ایک مضمون نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔ اس کا عنوان ہے : An incident from the life of Umar Faruq, the Second Caliph. بمبئی کا انگریزی ویکلی (Clarity) اکثر الرساله کے مضامین نقل کرتا ہے۔ مثلاً اس کی اشاعت ۲۰ جولائی ۱۹۸۶ صفحہ ۹ پر الرساله کا ایک مضمون حوالہ کے ساتھ شائع کیا گیا ہے۔ بمبئی کے انگریزی ہفتہ وار (Clarity) کے ایڈیٹر مسٹر کونے پلے ۲۰ جولائی ۱۹۸۶ کو مرکز میں آئے اور اپنے اخبار کے لیے صدر اسلامی مرکز کا انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا خاص مقصد ملکی حالات کے بارہ میں صدر اسلامی مرکز کے خیالات کو ریکارڈ کرنا تھا ۔ یہ انٹرویو کلیر ٹی ۱۰ اگست ۱۹۸۶ میں شائع ہو چکا ہے۔

ایک صاحب کان پور سے اپنے خط (۲ جولائی ۱۹۸۶) میں لکھتے ہیں: الرساله کیا ہے، ایک تازیانہ ہے جس کو پڑھنے کے بعد ذہن فوراً آخرت کے احوال کی طرف منتقل ہو کر قلب میں ایک کیفیت پیدا ہوتی ہے جو بیان سے باہر ہے ۔ قلب متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ اللہ آپ کو جزائے خیر عطا آپ کا سایہ دیر تک باقی رکھے تاکہ امت مسلمہ کے لیے خصوصاً اور پوری انسانیت کے لیے عموماً تا دیر مستفید ہونے کا موقع ملے۔ (محمد اجمل لاری) الرساله انگریزی خدا کے فضل سے دن بدن اپنی مقبولیت بڑھا رہا ہے ۔ ہر طبقہ کے لوگوں کے خطوط ہم کو موصول ہوتے رہتے ہیں ۔ مثلاً ایک خط کا مضمون حسب ذیل ہے : I am getting the 'Al-Risala' monthly regularly, thanks to the kind gift of Mrs. T.R. Sherwani. It is a wonderful publication, bringing before us the universal truths in simple easily understandable language. It opens windows of inspiration. I request each reader to gift this publi- cation to at least one friend, so that the message in 'Al-Risala' can spread yet further. I therefore, enclose Rs. 36/- by draft and request you to enrol Shri Ak Shobh Singh, Kashipur House, Ayarpata, Naini- tal 263001 as a subscriber. Thanks, yours faithfully, Dr (Mrs) Kanak Bhargava MBBS, Ellesmere, Nainital

6- الرساله انگریزی کے سلسلہ میں جناب بدرالدین طیب جی کا ایک خط موصول ہوا ہے۔ نے اپنے اس خط میں اس کے زبان و بیان دونوں کے بارے میں اپنے گہرے تاثر کا اظہار کیا خط کا اصل مضمون حسب ذیل ہے :

Just a line to thank you for sending me Al-Risala so regularly. For one reason or the other I am the recipient of a large number of publica- tions; and cannot really digest them along with my general reading. So I have not been able to pay much attention to Al-Risala so far; but I had some time today, and read your July No 30 issue through. I was impressed by its tone and contents and its clear and unostentatious style of writing. Thank you. With kind regards, 1/23, Shantiniketan, New Delhi 110021 7- پٹنہ میں ایک اجتماع ( ۱۲- ۱۳ جولائی ۱۹۸۶ ) ہوا ۔ اس میں صدر اسلامی مرکز نے شرکت کی ۔ اس کی تفصیلی رو داد ان شاء اللہ الرسالہ میں شائع کر دی جائے گی ۔ 8- مہاراشٹر اسٹیٹ بیورو آف ٹیکسٹ بکس نے ساتویں جماعت کے لیے "اردو بال بھارتی" نام سے ۱۶۶ صفحات کی درسی کتاب شائع کی ہے ۔ اس کے صفحہ ۱۸- ۲۳ پر صدر اسلامی مرکز کا ایک سفرنامہ (ملیشیا) الرسالہ سے لے کر شائع کیا گیا ہے ۔ 9- فرینک فرٹ میں یکم اکتوبر سے ۶ اکتوبر ۱۹۸۶ تک کتابوں کی نمائش (Book Fair) ہوئی ۔ اس سلسلہ میں نمائش کے ایک ذمہ دار سلویا کرش (Silvia Kirsch) نے ایک خط کے ذریعہ اطلاع دی ہے کہ اسلامی مرکز کی کتابیں بھی اس موقع پر بطور نمائش رکھی گئی ہیں جس اسٹال پر یہ کتابیں رکھی گئی ہیں اس کا نام ہے :

'Special Exhibition - Printed and Published in India 10- نیشنل بک ٹرسٹ انڈیا کی طرف سے سرینگر میں کتابوں کی ایک نمائش ۴ اگست سے ۱۴ اگست ۱۹۸۶ تک منعقد کی گئی ۔ اس موقع پر اسلامی مرکز اور مکتبہ الرسالہ کی طرف سے ایک بک اسٹال لگایا گیا ۔ تجربہ خدا کے فضل سے کافی کامیاب رہا ۔

11- الرسالہ اردو اور مطبوعات الرسالہ کے سلسلہ میں ملک کے اندر اور ملک کے باہر سے مستقل خطوط موصول ہوتے رہتے ہیں ۔ ایک خط یہاں نقل کیا جاتا ہے : " احوال یہ ہے کہ میں نہ

پاکستان میں فضلی سنز والوں اور محمد موسیٰ صاحب کی طرف سے چھاپے گیے آپ کی کتب کا مطالعہ بس مطالعہ کیا کیا، کتا بیں پڑھنے کے بعد میں دیوانہ ہو گیا ہوں۔ میں نے اس سے پہلے بھی کئی علماء کی لکھی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کیا ہے لیکن جو بات آپ کے لٹریچر پڑھنے کے بعد وں میں پیدا ہوئی ہے اور روشنی نمودار ہوئی ہے وہ مجھے کہیں اور نہیں ملی۔ آپ کی تحریر دل نے میری نیند حرام کر دی ہے اب میں نے آپ کے پاکستان میں موجود تمام کتب خرید کر پڑھ لیے ہیں۔ خاص طور پر الرسالة اردو کبھی کبھی حافظ موسیٰ صاحب سے لے کر پڑھتا ہوں ۔ ابھی انگریزی میں الرسالہ کی ایک کاپی حیدر آباد سندھ سے محترم عبد الہادی صاحب سے حاصل کی اور ایک دم اسے پڑھ لیا۔ بس افسوس اس بات کا ہوا کہ آپ جیسے عظیم آدمی سے تعارف اتنی دیر سے کیوں کاش آپ پاکستان میں ہوتے ـــــ کاش ہم آپ سے پہلے واقف ہوتے۔ تو اب تک ہم قومی اسلام سے وابستہ تھے۔ آپ کی تحریروں کے پڑھنے سے ہم خدا کے دینِ اسلام سے وابستہ ہو گئے ہیں۔ میری ایک گذارش ہے کہ الرسالة انگریزی کے اور اردو کے پورے سال کے پرانے سیٹ اگر آپ کے پاس ہوں تو برائے مہربانی میں خریدنا چاہتا ہوں اس کے لیے آپ مجھے طریقہ کار بتا دیں۔ اور انگریزی میں قرآن کی تفسیر اگر تیار ہو گئی ہو تو وہ بھی مجھے خریدنی ہے ، Agha Noor Mohammad Pathan, C-163, Block 10, F.B. Area, Karachi الرسالہ کے ایک قاری لکھتے ہیں: الرسالہ میں پابندی سے پڑھتا ہوں اور پڑھاتا ہوں ۔ اگر میں نے الرسالہ نہ پڑھا ہو تا تو میں بھی کسی نہ کسی طور پر گم راہی میں مبتلا رہتا۔ حتیٰ کہ یہ بھی نہ سمجھ پاتا کہ شرک کیا ہے۔ الرسالہ ہندی میں نہیں ہے۔ اس لیے چند ہندوؤں کو اردو الرسالہ پڑھ کر سنایا کرتا ہوں جن سے میری دوستی ہے۔ وہ لوگ بہت پسند کرتے ہیں اور تڑپتے ہیں کہ کاش وہ ہندی میں ہوتا۔ ہندوؤں کے کانوں نے کبھی ایسی اسلامی دعوت کو نہیں سنا ہے جس میں ان کے لیے نفرت کے علاوہ اور کچھ ہو، اس لیے ان کو زیادہ دل چسپی ہے جو زیادہ پڑھے لکھے ہیں۔ ممکن ہے کہ آئندہ اللہ تعالیٰ انھیں لوگوں سے اپنے دین کا کام لے (۱۳ جون ۱۹۸۶)

Printed page