دعوت کی اہمیت
Al-Risala, November 1986, pp. 3–4
By Maulana Wahiduddin Khan
وان احد من المشركين استجارك اور اگر مشرکین میں سے کوئی تم سے پناہ مانگے فاجره حتى يسمع كلام الله ثم ابلغه تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا مامنه ذلك بانهم قوم لا يعلمون کلام سن لے۔ پھر اس کو اس کی امن کی جگہ پر (التوبة) پہنچا دو۔ یہ اس لیے کہ وہ لوگ علم نہیں
عرب کے مشرکین جن سے آخری درجہ میں حالت جنگ قائم ہو چکی ہے، ان کے بارہ میں یہاں حکم دیا گیا کہ اگر ان میں سے کوئی شخص تمہارے پاس آئے اور اسلام کی بابت جاننا چاہے تو اس کو اپنی حفاظت میں رکھ کر موقع دو کہ وہ اسلام کو سمجھے۔ نہ دشمنی کی وجہ سے اس کو قتل کرو اور نہ جاسوس سمجھ کر اس کو سمجھا دو۔ وہ پرسکون طور پر تمہارے درمیان رہے اور اسلام کی تعلیمات کو سمجھے۔ اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے مفسر ابن کثیر لکھتے ہیں :
(ذالك بانهم قوم لا يعلمون) ای انما شرعنا (اس لیے کہ وہ علم نہیں رکھتے) یعنی اس قسم امان مثل هؤلاء ليعلموا دين الله وتقشتر کے لوگوں کے لیے امان کا طریقہ ہم نے اس لیے دعوة الله في عباده مقرر کیا تاکہ وہ اللہ کے دین کو جانیں اور اللہ (تفسیر ابن کثیر، الجزء الثانی، صفحه ، ۳۳) کی دعوت اس کے بندوں میں پھیلے۔ اس سورہ میں ایک طرف مشرکین سے برأت کا اعلان ہے اور ان کے قتل کا حکم ہے۔ گویا ان کی دشمنی اس آخری درجہ پر پہنچ چکی ہے جب کہ برداشت کی حد ختم ہو جاتی ہے۔ مگر اس وقت بھی یہ حکم دیا جارہا ہے کہ اگر ان میں کا ایک شخص اسلام کی تحقیق کرنا چاہے تو اس کو تحقیق کا پورا موقع دیا جائے ۔ ایک شخص کے دل میں اگر قبول حق کا کوئی جذبہ ہے تو اس جذبہ کو بروئے کار آنے کا موقع ملنا چاہیے ۔ شدت کے باوجود دزمی، عضر کے با وجود انصاف کی یہی صلاحیت ہے جو کسی شخص کو خدا کے دین کا داعی بناتی ہے۔
کائنات ایک آئینہ ہے جس میں اس کے خالق کا چہرہ نظر آتا ہے۔ اس اعتبار سے کائنات کی ہر چیز ایک نشانی ہے۔ ہر چیز ایک حقیقت کا جلوہ دکھارہی ہے۔ اگر آدمی کے اندر دیکھنے کی صلاحیت ہو تو وہ ہر چیز میں ایک معنویت دیکھے گا۔ موجودہ دنیا اپنی پوری وسعتوں کے ساتھ اس کے لیے معرفت الہی کا عظیم خزانہ بن جائے گی۔