ریاضیاتی دنیا
Al-Risala, November 1986, pp. 4–9
By Maulana Wahiduddin Khan
کائنات بظاہر ایک ریاضیاتی کائنات ہے۔ کائنات ریاضی کے اصولوں کی حد تک منظم ہے۔ موجودہ کائنات کا ایک ایسا پہلو ہے جو اس کے ہر حصہ میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ شہد کی مکھی حد درجہ صحت کے ساتھ مسدس اشکال سے چھتے بناتی ہے ۔ ایٹم کے ذرات کی کمیت انتہائی یکساں طور پر متعین ہوتی ہے۔ زمین کی دو طرفہ گردش اتنی صحت کے ساتھ ہوتی ہے کہ ہر آنے والے سال پہلے اور ہزاروں سال آگے تک کے کلنڈر بنائے جاسکتے ہیں۔ یہی کائنات کے تمام اجزاء کا حال ہے ۔ کائنات کا ہر جزنر اتنے محکم اصولوں کے مطابق عمل کرتا ہے کہ نہایت صحت کے ساتھ اس کے مستقبل کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے ۔
کائنات کا یہ پہلو سائنس دانوں کو بے حد متاثر کرتا ہے۔ حتی کہ انہیں یقین ہو گیا ہے کہ پوری کائنات ایک ریاضیاتی ماڈل ہے، کسی چیز کو جب تک وہ ریاضیاتی طور پر نہ سمجھ لیں وہ گمان کرتے ہیں کہ ابھی انھوں نے اس کو سمجھا نہیں ۔
سائنس داں عالم فطرت کی تحقیق کرتے ہیں ۔ اگرچہ سائنس کے درجنوں شعبے ہیں، اور مختلف سائنس داں اپنے شعبوں میں الگ الگ تحقیق اور مطالعہ کا کام کرتے ہیں۔ تاہم ان کے کام کا اگر ایک مشترک عنوان دینا ہو تو وہ یہ ہوگا کہ کائنات میں ریاضیاتی نظم کی تلاشی : Searching for mathematical order in the universe. تمام سائنس دانوں کا یہ مشترک عقیدہ ہے کہ کائنات میں ریاضیاتی قطعیت کی حد تک نظم اور ترتیب ہے۔ ایک سائنس داں اپنی تحقیق پر اس وقت بالکل مطمئن ہو جاتا ہے جب کہ وہ
اپنی تحقیق کو ریاضیاتی سانچے میں ڈھال لے ۔ ریاضیاتی تصدیق سائنس داں کے نزدیک اس کے نظریہ کی صداقت کا آخری ثبوت ہے ۔
سائنس دانوں کی جماعت کائنات کے مطالعہ میں ریاضی کو اسی طرح استعمال کرتی ہے جس طرح سناروں کی جماعت سونے کے کاروبار میں کسوٹی کو ۔ سنار کسوٹی کی تصدیق کے بعد سونے کا سونا ہونا مان لیتا ہے ۔ اسی طرح سائنس داں ریاضی کی تصدیق کے بعد نظریہ کا صحیح ہونا تسلیم کر لیتا ہے ۔
ریاضیات اور کائناتاتی نظام کے درمیان یہ مطابقت کیوں ہے ۔ بعض سائنس دانوں نے یہ سوال اٹھایا ہے ۔ ان کے ایک طبقہ نے اس کا براہ راست جواب دیئے بغیر اس کو مزید ایک سوال پر ختم کر دیا ہے ۔ کیا کائنات ایک ریاضیاتی ذہن کی تخلیق ہے :
Was the universe created by a mathematical mind? کچھ سائنس دانوں نے اس کا مثبت جواب دیا ہے ۔ سر جیمیز جینز فلکی طبیعیات کا ایک مشہور عالم ہے ۔ اس نے ۱۹۳۲ میں کہا کہ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کائنات کا نقشہ ایک خالص ریاضی داں نے تیار کیا تھا :
In 1932, Sir James Jeans, an astrophysicist siad: “the universe appears to have been designed by a pure mathematician.”
Encyclopaedia Britannica (1984) V. 15. p. 531. کائنات اور انسان موجودہ اندازہ کے مطابق کائنات میں کم ازکم دس ارب کہکشائیں ہیں ۔ ہر کہکشاں میں تقریباً ایک کھرب ستارے ہیں ۔ ان میں سے اکثر ستارے ہمارے سورج سے بہت زیادہ گرم اور بہت زیادہ بڑے ہیں جبکہ ہمارا سورج اتنا بڑا ہے کہ اس سے زمین جیسے بارہ لاکھ کر ے بنائے جاسکتے ہیں یہ ان گنت متحرک ستارے ایک دوسرے سے اتنے زیادہ دوری پر ہیں جیسے بحر الکاہل میں بکھرے ہوئے چند سمندری جہاز ۔ اس ناقابلِ قیاس حد تک بڑی دنیا میں زمین کا چھوٹا سا کرہ ایک انتہائی نادر استثناء ہے جہاں پانی اور ہوا اور وہ دوسری چیزیں ہیں جو انسان جیسی مخلوق کے لیے زندگی کا سامان
بن سکیں ۔ یہ دنیا اپنی ساری عظمتوں اور حکمتوں کے باوجود انسان کے بغیر بالکل بے معنی ہے۔ خود انسان کی زندگی اتنی زیادہ بے معنی معلوم ہوتی ہے کہ ساری کائنات میں بظاہر اس زیادہ بے معنی کوئی چیز یں۔
انسان اگر نہ ہو تو یہاں کوئی آنکھ نہ ہوگی جو دنیا کی رنگینیوں کو دیکھے اور کوئی کان نہ ہوگا جو اس کے نغموں کو سنے اور کوئی دماغ نہ ہوگا جو اس کی حکمت اور معنویت کو پائے۔ یہ دنیا ایک عظیم ترین آرٹ ہے مگر انسان کے بغیر وہ ایک ایسا آرٹ ہے جس کا کوئی جاننے والا نہیں، جس کی کوئی داد دینے والا نہیں۔
مگر خود انسان کی حقیقت کیا ہے۔ زمین پر جتنے انسان پائے جاتے ہیں، اگر ان میں کا ہر شخص چھ فٹ لمبا، ڈھائی فٹ چوڑا اور ایک فٹ موٹا ہو تو انسان کی پوری آبادی کو بہ آسانی ایک ایسے صندوق میں بند کیا جاسکتا ہے جو لمبائی چوڑائی اور بلندی میں ایک میل ہو ۔ کائنات کی وسعتوں کے مقابلہ میں یہ صندوق کس قدر چھوٹا ہے۔ پھر اگر اس کو کسی سمندر کے کنارے لے جا کر ایک ہلکا سا دھکا دیں تو یہ صندوق پانی کی گہرائی میں اس طرح گم ہو جائے گا جیسے بھری ہوئی بالٹی میں سرسوں کا ایک صدیاں گزر جائیں گی، نسل انسانی اپنے مادی کفن میں لپٹی ہوئی ہمیشہ کے لیے پڑی رہے گی ۔ دنیا کے ذہن سے یہ بھی محو ہو جائے گا کہ یہاں کبھی انسان جیسی کوئی مخلوق آباد تھی ۔ سمندر کی سطح پر اسی طرح طوفان آتے رہیں گے ۔ سورج اسی طرح چمکتا رہے گا زمین کا کرہ بدستور اپنے محور پر گھومتا کائنات کی لا محدود پہنائیوں میں پھیلی ہوئی ان گنت دنیا ئیں اس حادثہ کو بس اتنی ہی اہمیت دیں گی جیسے زمین کے اوپر ایک چیونٹی کا کچل کر مر جانا۔ صدیوں کے بعد سمندر کے کنارے سے مٹی کا ایک ڈھیر نہ زبان حال سے بتائے گا کہ یہ نسل انسانی کی قبر ہے جہاں وہ صدیوں پہلے ایک صندوق میں دفن کی گئی تھی ۔ انسان باعتبار حقیقت انتہائی بامعنی ہے۔ مگر انسان کائنات کے موجودہ نظام میں اپنی معنویت کو نہیں پا تا۔ یہاں انسان کی تمنائیں پوری نہیں ہوتیں ۔ موجودہ دنیا اپنی تکمیل کے لیے ایک اور دنیا کی طالب ہے۔ موجودہ دنیا اپنی ساری معنویت کے باوجود بے معنی ہے اگر اس کے ساتھ آخرت کو نہ مانا جائے۔ قطب جنوبی (انٹارکٹکا) کے بارے میں روسی جغرافیہ سوسائٹی نے تحقیقات کی ہیں۔
کی حد حصہ ہے ۔ اس کی مقدار ڈھائی لاکھ مربع میٹر ہے ۔ قطب جنوبی کی برف اس وقت صرف ڈیڑھ کروڑ مربع میٹر کے علاقہ میں پھیلی ہوئی ہے ۔
اگر اس برف کو دنیا کے تمام خشک حصہ پر پھیلا دیا جائے تو موجودہ خشک زمین پر 50 میٹر برف جم جائے گی ۔ اور اگر یہ برف اچانک پگھل جائے تو دنیا کے سمندروں کی سطح 90 سے 92 میٹر تک بلند ہو جائے گی ۔ اور زمین کا دس فی صد حصہ زیر آب ہو جائے گا ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا بھر کے تمام ساحلی شہر پانی کے نیچے ڈوب جائیں گے ، حتیٰ کہ بہت سے ملک پورے کے پورے پانی کے نیچے چلے جائیں گے ۔ قطب جنوبی کی تمام برف پگھلنے کی صورت میں سمندر کی اوسط حرارت دو ڈگری کم ہو جائے گی ۔ اس کی وجہ سے زمین پر موسمی تباہی آجائے گی ۔ کیوں کہ سمندر میں ایک ڈگری کے ہزارویں حصہ کی کمی بیشی فضا میں پوری ایک ڈگری کی حرارت کا فرق پیدا کرتی ہے ۔ یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ زمین پر جو نظام ہے وہ کس قدر متوازن نظام ہے ۔ یہاں بیک وقت مختلف تقاضوں کے درمیان اس طرح توازن قائم رکھا گیا ہے کہ ہر چیز صرف اپنا فائدہ دے ، وہ اپنے نقصان سے انسان کو بچائے رکھے ۔
یہ توازن فطرت زمین کے ہر معاملہ میں نمایاں ہے ۔ یہ واضح طور پر بتاتا ہے کہ اس دنیا کے پیچھے ایک ذہن کارفرما ہے۔ اگر یہاں ذہن کی کارفرمائی نہ ہو تو موجودہ توازن کسی حال میں برقرار نہیں رہ سکتا ۔
زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا جس ہستی نے زمین کے موجودہ حالات کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے اس کو معلوم تھا کہ یہاں جاندار چیزیں ( انسان، حیوان ، نباتات ) ہیں ۔ چنانچہ یہاں کی ہر چیز جاندار اشیاء کی ضرورت کے عین مطابق بنائی گئی ہے اگر یہ واقعہ آدمی کو خدا کا یقین نہ دلائے تو آخروہ کیا چیز ہوگی جو آدمی کو اس کا یقین دلائے گی ؟ نیم کا معجزہ دوسری انٹرنیشنل نیم کانفرنس دسمبر ۱۹۸۳ میں مغربی جرمنی میں ہوئی ۔ آج کل نیم کا درخت نباتاتی علماء کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیم مضر کیڑوں کو بھگانے والا ایک
قیمتی قدرتی ذریعہ (Natural repellent) ہے۔ انسان نے کیمیائی طور پر جتنی کیڑے مار دوائیں بنائی ہیں وہ سب کیڑے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ فضا کو بھی خراب کرتی ہیں اور اس طرح انسان کے لیے مضر بنتی ہیں۔ مگر نیم کے اندر یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ کسی فضائی نقصان (Environmental damage) کے بغیر انسان کو اور نباتات کو مضر کیڑوں سے بچاتی ہے۔ مذکورہ کانفرنس میں ۲۱ ملکوں کے ک سو سے زیادہ سائنس داں جمع ہوئے۔ نے اپنے اپنے دائرہ میں نیم کے تجربات بتائے۔ ہالینڈ سے آنے والے ایک عالم ایل ای ایم اسچون ہوون (Dr. L. M. Schoonhoven) نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیم کے اندر ایک انوکھا دفاعی نظام (Unique defence system) ہے۔ یہ نظام ایک بے حد نادر قسم کا کیڑا کنٹرول (Insect control) ذریعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ٹوگو (Togo) میں یہ تجربہ کیا گیا کہ کھیت کی مٹی میں نیم کی پتی ملا دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نباتاتی کیڑوں (Plant parasites) کی تعداد بہت گھٹ گئی۔ اور ایسے کھیت جن میں یہ عمل کیا گیا تھا ، فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ (Spectacular increase) ہوا۔
ہندوستان کے نمائندہ نے اپنے مقالہ میں بتایا کہ نیشنل کیمیکل لیبارٹری (پونا) نے نیم کا ایک کمپاؤنڈ تیار کیا ہے جس کا نام نیم رچ (Neemrich) ہے ۔ مکئی ، آلو اور بعض دوسری فصلوں میں نیمرچ کے تجربے کیے گئے جس کے نتیجہ میں ان کی پیداوار میں قابل لحاظ اضافہ ہوا۔ موجودہ زمانہ میں دنیا کے تمام ملکوں میں کیڑے مار دواؤں (Pesticides) کا استعمال عام ہے ان دواؤں کے استعمال سے یقیناً زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ مگر ابھی تک انسان یہ دریافت نہ کر سکا کہ ان دواؤں کے استعمال سے فضا پر جو مضر اثرات ہوتے ہیں ان سے کس طرح بچا جائے ۔ کیڑے مار دوائیں اگر ایک طرف کیڑے کو مارتی ہیں تو اسی کے ساتھ وہ انسان کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر آپ لکڑی اور پتی کو آگ میں ڈالیں تو دونوں جل جائیں گی۔ کیوں کہ اصل کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں ۔ اسی طرح انسان اور کیڑے دونوں زندہ انواع ہیں۔ جو چیز ایک کے لیے نقصان دہ ہے وہی دوسرے کے نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے۔
انسان کو مضر بیکٹیریا سے بچانے کے لیے اینٹی بایوٹک دوائیں کھلائی جاتی ہیں ۔
بیکٹیریا کی طرح انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ مکھی، مچھر، دیمک اور دوسرے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے ڈی ڈی ٹی چھڑکا جاتا ہے۔ اسی سے مذکورہ کیڑے بھاگتے ہیں یا مر جاتے مگر اس کے ساتھ فضا میں ڈی ڈی ٹی کے اجزاء شامل ہو جاتے ہیں۔ انسان سائنس کے ذریعے ان کو اپنے اندر داخل کر لیتا ہے اور پھر طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتا ہے۔ پھل اور زرعی پیداوار میں مضر کیڑے لگتے ہیں جن سے پیداوار بہت کم ہو جاتی ہے۔ اس کے لیے کیڑے مار دوائیں بنائی ان دواؤں کے استعمال سے باغوں اور کھیتوں کی پیداوار میں قابل لحاظ اضافہ ہوا ہے مگر یہاں بھی وہی صورت ہے کہ ایک طرف ان کیڑے مار دواؤں سے فضا خراب ہوتی ہے، دوسری طرف خود پیداوار میں مضر کیمیائی مادے شامل ہو جاتے ہیں اور کھانے کے ساتھ انسان کے اندر داخل ہو کر نقصان کا سبب بنتے ہیں۔
ہندوستان میں ہر سال تقریباً چالیس ہزار پونڈ کیمیکل دوائیں زرعی کھیتوں میں چھڑکی جاتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں عوام کی صحت کا معیار برابر گر رہا ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی رپورٹ (۱۹۸۳) میں بتایا گیا ہے کہ تیسری دنیا کے ملکوں میں زرعی کیڑوں کو مارنے کے لیے جو کیمیائی دوائیں استعمال ہوتی ہیں ان کے زہریلے اثرات سے ہر سال تقریباً پچاس ہزار آدمی بیمار پڑتے ہیں اور ان میں سے تقریباً پانچ ہزار آدمی مر جاتے ہیں۔
انسانی سائنس ابھی اس سائنس تک بھی نہیں پہنچی جس کا مظاہرہ قدرت کے اس معجزہ کی سطح پر ہو رہا ہے جس کو نیم کا درخت کہتے ہیں۔ اس کے باوجود بہت سے لوگ یہ فرض کیے ہوئے ہیں کہ اس دنیا کا کوئی خالق و مالک نہیں، اس دنیا کو چلانے والا کوئی ذہن نہیں۔ ”ڈی ڈی ٹی“ کا ایک پیکٹ ہو تو اس کو دیکھ کر کوئی شخص یہ نہیں کہے گا کہ یہ پیکٹ اپنے آپ بن گیا ہے۔ ہر آدمی اس کو ذہن کی تخلیق قرار دے گا۔ مگر ڈی ڈی ٹی کی نوعیت کی اس سے زیادہ اعلیٰ پیداوار کو دیکھ کر آدمی یہ کہہ دیتا ہے کہ وہ اپنے آپ وجود میں آگئی ہے۔ نیم کا درخت بلاشبہ ڈی ڈی ٹی سے بہت زیادہ اعلیٰ پیداوار ہے۔ اس کی بناوٹ میں یقینی طور پر غیر معمولی ذہانت پائی جاتی ہے۔ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ڈی ڈی ٹی کے بارہ میں یہ مانتے ہیں کہ وہ ذہانت کی پیداوار ہے۔ مگر یہی بات وہ نیم جیسی چیزوں کے بارہ میں نہیں مانتے۔