الزام کافی نہیں
Al-Risala, November 1986, pp. 20–21
By Maulana Wahiduddin Khan
الزام لگانے کا نام ملزم ہونا نہیں ۔ اگر کسی شخص کے واقعۃً ملزم ہونے کے لیے یہ بات کافی ہو کہ اس کے خلاف الزام لگانے والوں نے الزام لگایا ہے تو پھر دنیا کا ہر شخص ملزموں کے کٹہرے میں کھڑا ہو انظر آئے گا ، حتی کہ خدا کے معصوم اور بے خطا پیغمبر بھی ۔
محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خدا کے آخری پیغمبر تھے ۔ آپ بلاشبہ پاک اور معصوم تھے ۔ کے زمانہ کے لوگوں نے آپ پر بد ترین الزامات لگائے ۔ یہ الزامات صرف یہودیوں اور منافقوں نے نہیں لگائے ۔ بلکہ آپ کے مخلص ساتھیوں تک کو آپ کے کردار کے بارہ میں بے جاشبہات لاحق اس قسم کے واقعات میں سے ایک واقعہ وہ ہے جس کا تعلق حاطب بن ابی بلتعہ سے ہے ۔ حاطب بن ابی بلتعہ ایک بدری صحابی تھے ۔ یعنی وہ بدر کی جنگ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہو کر لڑے تھے ۔ وہ ان لوگوں میں سے تھے جن کی دین کے لیے سرفروشی پر شبہ نہیں کیا جا سکتا تھا ۔
روایات میں آتا ہے کہ حاطب بن ابی بلتعہ ( انصاری ) اور زبیر بن العوام ( مہاجر ) کے درمیان ایک جھگڑا ہوا ۔ یہ جھگڑا کھجور کے درختوں کی آبپاشی کے بارہ میں تھا ۔ مدینہ میں پانی کا ایک گڑھاتھا جس سے آبپاشی کی جاتی تھی ۔ اس کے پاس دونوں صاحبان کا کھجوروں کا باغ تھا ۔ ایک بار اس امر پر جھگڑا ہو گیا کہ دونوں میں سے کون پہلے پانی لے ۔ اس کا مقدمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا ۔ آپ نے یہ فیصلہ فرمایا کہ زبیر بن العوام پہلے اپنے باغ میں پانی لے جائیں اور اس کے بعد حاطب بن بلتعہ اپنے باغ کی سینچائی کریں ۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا تھا وہ زرعی مصلحت اور جغرافی حالات کی بنا پر کیا یہ محض ایک اتفاقی بات تھی کہ زبیر بن العوام مہاجر تھے اور حاطب بن ابی بلتعہ انصاری ۔ فیصلہ میں زبیر بن العوام کو اولیت حاصل ہو گئی ۔ معاملہ کا انصاری فریق اس بات کو نہ سمجھ سکا کہ آپ نے جو فیصلہ فرمایا ہے وہ زرعی اور جغرافی بنیاد پر فرمایا ہے ۔ اس نے معاملہ کو مہاجر اور انصاری کی اصطلاح میں سوچا اور یہ رائے قائم کر لی کہ آپ نے مہاجر کی جانب داری کرتے ہوئے اس کے حق میں فیصلہ دیا ہے ۔
میں فیصلہ دے دیا ہے ۔
چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کا فیصلہ فرمایا تو اس فیصلہ کو سن کر حاطب بن ابی بلتعہ نے کہا : یارسول اللہ ان کان ابن عمتك (اے خدا کے رسول کیا اس لیے کہ وہ آپ کی پھوپھی کے لڑکے ہیں) دوسری روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ انھوں نے کہا : انما قضني له لا انه ابن عمته (رسول اللہ نے اس کے حق میں اس لیے فیصلہ کیا کہ وہ ان کی پھوپھی کے لڑکے ہیں) (تفسیر ابن کثیر ، الجزء الاول ، صفحه ۲۱ - ۵۲۰)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معصوم عن الخطا تھے۔ آپ سے غلطی کا صدور نہیں ہو سکتا تھا۔ یقینی ہے کہ یہ الزام بالکل غلط تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو فیصلہ کیا ، وہ اخلاص کے تحت کیا اور عین درست کیا۔ اس کے باوجود ایک صحابی کو آپ کے بارے میں شبہ لاحق ہو گیا اور اس نے آپ کے اوپر جانب داری کا الزام لگا دیا۔
یہ واقعہ بتاتا ہے کہ الزام کے الفاظ بول دینا کسی کے ملزم ثابت ہونے کے لیے کافی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو آدمی بلا ثبوت کسی پر الزام لگائے اور جو لوگ محض الزام کے الفاظ سن کر متعلقہ شخص کو ملزم سمجھ لیں، وہ دونوں سخت گنہ گار ہیں۔ وہ ایسے جرم کا ارتکاب کر رہے ہیں جس کی خدا کے یہاں کوئی معافی نہیں، الا یہ کہ وہ توبہ کریں اور اللہ ان کی توبہ کو قبول کرلے ۔ یہ واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ہیں کہ کسی کے اوپر الزام لگانے کے معاملہ میں ہم کو آخری حد تک محتاط رہنا چاہیے ۔ جب معصوم پیغمبر کے بارے میں غلط فہمی کا امکان ہے تو عام انسان کے بارہ میں بدرجہ اولی غلط فہمی کا امکان ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جس چیز کو ہم ایک شخص کی خطا سمجھ رہے ہیں ، وہ اس کی خطا نہ ہو بلکہ خود سمجھنے والے کی غلط فہمی ہو۔ وہ اس کی اپنی نظر کا قصور ہو نہ کہ متعلقہ شخص کی نیت یا عمل کا قصور۔
تبلیغی تحریک (انگریزی)
" تبلیغی تحریک " اس سے پہلے اردو میں شائع ہوئی تھی۔ اب اس کا انگریزی ایڈیشن پریس میں ہے ۔ جلد ہی ان شاء اللہ چھپ کر آجائے گی ۔