منافقت
Al-Risala, November 1986, pp. 22–24
By Maulana Wahiduddin Khan
منافقت اور یہودیت دونوں ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ مسلم اقوام میں جس بگاڑ کو منافقت کہا گیا ہے، قدیم امتوں کے لیے اسی بگاڑ کا نام یہودیت ہے۔ یہودیت یہ ہے کہ آدمی زبان سے خدا اور رسول کا اقرار کرتا ہو ۔ مگر خدا اور رسول کا عقیدہ اس کے دل کی گہرائیوں میں اترا ہوا نہ ہو۔ وہ آسمانی تعلیمات کو ماننے کا مدعی ہو مگر اس کی زندگی اسلامی تعلیمات کی حقیقی تعمیل سے خالی ہو ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن وحدیث میں منافق کی جو علامتیں بتائی گئی ہیں وہ سب وہی ہیں جو یہودیوں کی علامتیں بھی بتائی گئی ہیں۔ مثلاً حدیث میں منافق کی ایک علامت یہ ہے کہ جب اس کو کوئی امانت سونپی جائے تو وہ اس امانت میں خیانت کرے (اذا ائْتمن خان) ٹھیک یہی علامت یہودیت کی قرآن میں اس طرح بیان ہوئی ہے کہ یہودیوں میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اگر تم ان کے پاس ایک دینار بھی امانت رکھ دو تو وہ تم کو ادا نہ کریں جب تک تم ان کے سر پر کھڑے نہ ہو جاؤ ( وَمِنْھُمْ من ان تأمنه بدينار لا يوده اليك الا ما دمت عليه قائما ، آل عمران (۷۵)
یہودی وہ لوگ تھے جو خدا کی پرستاری کو چھوڑ کر دنیا کے پرستار بن گئے۔ اس دنیا پرستی کے ساتھ وہ ظاہری طور پر دین کا لبادہ بھی اوڑھے ہوئے تھے۔ اسی طرح منافقت یہ ہے کہ آدمی اندر سے دنیا دار ہو مگر ظاہری طور پر وہ دین دار کی صورت بنائے ہوئے ہو۔ یہودی حقیقتہ دین دار نہیں ہوتا مگر وہ مصنوعی طور پر اپنے آپ کو دین دار ظاہر کرتا ہے۔ اسی طرح منافق بھی حقیقتہ دین دار نہیں ہوتا مگر وہ مصنوعی طور پر اپنے آپ کو دین دار ظاہر کرتا ہے ۔
ایسے لوگوں کے اندر جو کمزوریاں ظاہر ہوتی ہیں ان میں سے ایک خاص کمزوری یہ ہے کہ وہ دنیوی اہمیت رکھنے والی چیزوں کے معاملہ میں ناقابلِ اعتبار ہو جاتے ہیں۔ ان سے مالی لین دین کیا جائے ، کوئی جائداد ان کے انتظام میں دی جائے ، کسی با عزت عہدے پر انھیں
بٹھایا جائے، غرض یہ کہ مادی قیمت رکھنے والی کوئی چیز اگر ان کے حوالے کی جائے تو وہ ان امیدوں پر پورے نہیں اترتے جو ایسی کسی چیز کی حوالگی کے بعد شرعی یا اخلاقی طور پر ان سے کی جا سکتی ہیں ۔ وہ بظاہر خوبصورت باتیں کریں گے ۔ مگر ان کی باتیں اخلاص کی گہرائی سے خالی ہوں گی ۔ اخلاق برتیں گے مگر ان کی زندگی میں حقیقی اخلاق کا کہیں پتہ نہ ہوگا ۔ مال میں خورد برد کرنا، وعدہ پورا نہ کرنا، جائداد میں ناجائز تصرف کرنا، عہدہ کو شخصی مفاد کے لیے استعمال کرنا، یہ سب امانت میں خیانت ہے ۔ اور یہ تمام خیانتیں جس طرح یہودیوں میں پائی جاتی تھیں اسی طرح وہ ان تمام نام نہاد مسلمانوں میں بھی پائی جائیں گی جن کو قرآن و حدیث میں منافق کہا گیا ہے ۔ یہودیت جھوٹی دین داری کا نام ہے اور اسی طرح منافقت بھی جھوٹی دین داری کا نام ۔
نفاق اور منافقین کے سلسلہ میں چند حدیثیں یہ ہیں : عن عبد الله بن عمرو بن العاص أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: أربع من كن فيه كان منافقاً خالصاً ومن كانت فيه خصلة منهن كانت فيه خصلة من نفاق حتى يدعها. اذا أؤتمن خان واذا حدث كذب واذا عاهد غدر واذا خاصم فجر (متفق عليه)، زاد في رواية لمسلم: وإن صام وصلى وزعم أنه
عن عمر بن الخطاب عن النبي صلى الله حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ چار خصلتیں ایسی ہیں کہ جن کے اندر وہ ہوں وہ پورا منافق ہے ۔ اور جس شخص کے اندر ان میں سے کوئی خصلت ہو تو اس کے اندر اسی کے بقدر نفاق ہوگا ، یہاں تک کہ وہ اسے چھوڑ دے ، وہ خصلتیں یہ ہیں : جب وہ امین بنایا جائے تو وہ خیانت کرے۔ اور جب بولے تو جھوٹ بولے۔ اور جب وعدہ کرے تو پھر جائے ۔ بحث کرے تو جھگڑنے لگے۔ ایک روایت میں مزید ہے کہ اگرچہ وہ روزہ رکھے اور نماز پڑھے اور سمجھے کہ میں مسلم ہوں ۔
حضرت عمر بن خطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ
اور اس کا عمل ظالمانہ ہو ۔
عن أبي هريرة قال قال رسول الله ؐ حضرت ابو ہریره سے روایت ہے که رسول صلی الله عليه وسلم خصلتان لا تجتمعان اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دو خصلتیں کبھی في منافق حسن سمت ولا فقه في منافق کے اندر جمع نہیں ہو سکتیں ۔ اور دین کا صحیح فہم ۔
قرآن میں متعدد مقامات پر نفاق اور منافق کی حقیقت بتائی گئی ہے ۔ ایک مقام پر ارشاد ہوا ہے کہ منافقین وہ لوگ ہیں جن کے اندر روگ ہے :
في قلوبهم مرض فزادهـم الله مرضاً ان کے دلوں میں مرض ہے تو اللہ نے ان کے مرض ولهم عذاب اليم بما كانوا يكذبوت کو بڑھا دیا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے (البقره - ۱۰) اس بنا پر کہ وہ جھوٹ کہتے تھے۔
حضرت عبد الرحمٰن بن زید بن اسلم نے کہا کہ اس سے مراد دین کا مرض ہے نہ کہ جسم کا مرض ( هذا امرض في الدين وليس مرضاً في الاجساد) اس سلسلہ میں صحابہ و تابعین سے جو تفسیریں منقول ہیں ، ان میں سے ایک تفسیر میں مرض کو شک کہا گیا ہے ۔ اور دوسری تفسیر میں مرض کو ریا بتایا گیا ہے (تفسیر ابن كثير، الجزر الاول، صفحه (۸۷)
نفاق کی اصل جڑ یہی شک ہے۔ اسی سے تمام منافقانہ اوصاف پیدا ہوتے ہیں. منافق دکھاوے کی باتیں کرتا ہے، کیوں کہ اس بارہ میں وہ شک میں مبتلا رہتا ہے کہ خدا اس کے دل کے حال تک سے باخبر ہے ۔ منافق بغض و حسد میں مبتلا ہوتا ہے، کیوں کہ اس کو یقین نہیں ہوتا کہ جو کچھ کسی کو ملا ہے وہ اللہ کے دینے سے ملا ہے ، منافق برے اعمال کرتا ہے، کیوں کہ وہ اس یقین سے خالی ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد وہ اللہ کے یہاں پکڑا جائے گا ۔ منافق جھوٹی کارروائیاں کرتا ہے، کیوں کہ خدا کے بارہ میں بے یقینی میں مبتلا ہونے کی وجہ سے اس کو ڈر نہیں ہوتا کہ ایک روز اس کے جھوٹ کا پردہ کھلے گا اور وہ ہمیشہ کے لیے بے عزت ہو کر رہ جائے گا۔