ایک سفر
Al-Risala, November 1986, pp. 29–23
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پروگرام کے تحت بھوپال کا سفر ہوا۔ بھوپال ہندوستان کا ایک قدیم شہر ہے جو دہلی سے سات سو کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے۔ موجودہ سفر کو ملا کر یہاں کے لیے اب تک میرے چار سفر ہو چکے ہیں۔ یہ ہے :
پہلا سفر جنوری ۱۹۸۱ دوسرا سفر اپریل ۱۹۸۲ تیسرا سفر نومبر ۱۹۸۳ چوتھا سفر اپریل ۱۹۸۶ ۱۸ اپریل ۸۶ کی شب کو تامل ناڈو ایکسپریس کے ذریعہ روانگی ہوئی۔ دہلی سے بھوپال کے لیے یہ سب سے کم وقت کی ٹرین ہے۔ تاہم مشینی سواریوں سے مجھے اتنی وحشت ہوتی ہے کہ ہوائی جہاز کا سفر بھی مجھ کو دیر طلب معلوم ہوتا ہے۔ اپنے اس مزاج کی وجہ سے ریل مجھ کو لوہے اور لکڑی کا ایک دوڑتا ہوا قید خانہ نظر آتی ہے، ایک ایسا قید خانہ جس میں داخل ہونا اپنے بس میں ہو اور اس سے نکلنا صرف دوسرے کے بس میں۔
ہندوستان (بمبئی) میں ریلوے کا آغاز ۱۸۵۳ میں ہوا۔ ہندوستان کے ریلوے سسٹم کی مجموعی لمبائی ۳۴ ہزار میل سے کچھ زیادہ ہے۔ وہ دنیا کا چوتھا سب سے بڑا نظام ہے۔ بقیہ تین ممالک امریکہ اور روس اور کناڈا ہیں۔ ہندوستانی ریلوے میں چودہ لاکھ سے زیادہ آدمی ملازم ہیں۔ اس کے پاس تقریبا بارہ ہزار انجن اور دس ہزار ٹرینیں ہیں۔ یہ ٹرینیں روزانہ تقریباً سات لاکھ مسافر ادھر سے ادھر لے جاتی ہیں ۔ اور روزانہ پانچ لاکھ ٹن سے زیادہ سامان ایک مقام سے دوسرے مقام تک پہنچاتی ہیں ۔
کہا جاتا ہے کہ ریلوے کی تاریخ سولہویں صدی عیسوی کے وسط تک جاتی ہے۔ جرمنی کی بعض کوئلہ کی کانوں میں ابتدائی ریل چلائی گئی جس کو گھوڑے کھینچتے تھے اور وہ لکڑی کی پٹری پر چلتی تھی۔ اسٹیم سے چلنے والا پہلا انجن ۱۸۰۳ میں انگلینڈ میں بنایا گیا۔ تاہم ریلوے کا دور
حقیقی معنوں میں ۱۵ ستمبر ۱۸۳۰ کو شروع ہوا جب لوگوں نے پہلی بار ایک باقاعدہ ٹرین کا منظر دیکھا جولیور پول اور مانچسٹر کے درمیان سیٹی بجاتی ہوئی دوڑ رہی تھی اور اس کا انجن، سامان اور مسافر کو لیے ہوئے لوہے کی پٹری پر چلا جا رہا تھا ۔
پچھلے ڈیڑھ سو سال میں ریلوے میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ حب پان میں گولی ٹرین (Bullet train) ایجاد ہو چکی ہے ۔ فرانس میں ایسی ٹرین بنائی گئی ہے جو ۲۰۰ میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلتی ہے ۔ اس کے پہیے ریل کی پٹری پر نہیں چلتے بلکہ ہوا کے گدے (Cushion of air) پر چلتے ہیں ۔ یہ ہوائی گدا تقریباً ایک انچ موٹا ہوتا ہے ۔ جو ریل کی رفتار کے دوران اس کے پہیے اور ریل کی پٹری کے درمیان بنتا ہے ۔
۱۹ اپریل کی صبح کو سو کر اٹھا تو ہماری گاڑی مدھیہ پردیش کے میدانوں میں دوڑ رہی تھی ۔ جگہ جگہ درخت اور سبزہ کا منظر تھا ۔ صبح کا سورج بلند ہو کر پوری فضا کو روشن کر رہا تھا ۔ اس قسم کی ایک دنیا کا وجود میں آنا تمام عجائبات میں سب سے بڑا عجوبہ ہے ۔ ایک ایسی دنیا جہاں پانی اور سبزہ ہو، جہاں سورج ایک خاص تناسب سے روشنی اور حرارت پہنچائے ۔ جہاں وہ بے شمار اسباب جمع ہوں جس نے اس بات کو ممکن بنایا کہ ایک ٹرین بن کر تیار ہو اور وہ اس کی سطح پر تیز رفتاری کے ساتھ دوڑے ۔ ایسی دنیا اپنے پورے وجود کے ساتھ خدا کا تعارف ہے ۔ وہ اپنے خالق کا اعلان کر رہا ہے ۔ بنانے والے نے اس دنیا کو عجیب ڈھنگ سے بنایا ہے ۔ یہاں واقعہ دکھائی دیتا ہے مگر صاحب واقعہ نظر نہیں آتا ۔ یہاں تخلیق کا منظر ہر طرف پھیلا ہوا ہے مگر ان کے درمیان خالق بظاہر کہیں موجود نہیں ۔ اس صورت حال نے بہت سے لوگوں کو خدا کا منکر بنا دیا ۔ وہ کہتے ہیں کہ جب ہم خدا کو دیکھتے نہیں تو ہم کیسے اسے مان لیں۔ مگر خدا کے انکار کے لیے یہ بنیاد کافی نہیں ۔ ہم جس ٹرین میں سفر کر رہے ہیں وہ ایک بہت بڑی ٹرین ہے ۔ وہ ۱۱۰ کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے مسلسل دوڑ رہی ہے ۔ ہم اس کے اندر بیٹھے ہوئے منزل کی طرف چلے جا رہے ہیں ۔ بظاہر ہم ریل کے ڈرائیور کو نہیں دیکھتے ۔ اس کا نام بھی ہم کو نہیں معلوم ۔ مگر ہمیں یقین ہے کہ گاڑی کا ایک ڈرائیور ہے اور وہی اس کو چلا رہا ہے ۔
ہم کو یہ یقین کیوں ہے ۔ منکر خدا کہیں گے ، اس لیے کہ اگر چہ ہم ڈرائیور کو نہیں دیکھتے مگر ہم
کو دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ کسی بھی اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں اور وہاں اس کو دیکھیں، لیکن یہ محض ایک مغالطہ ہے ۔ اگر ہم اسٹیشن پر اتر کر انجن کے پاس جائیں اور گاڑی کے ڈرائیور کو دیکھیں تو ہم کیا چیز دیکھیں گے۔ ہم صرف ہاتھ پاؤں والے ایک جسم کو دیکھیں گے۔ مگر کیا یہی دکھائی دینے والا جسم ہے جو گاڑی کو چلا رہا ہے ۔ انجن کو چلانے والا در اصل ذہن ہے نہ کہ ظاہری جسم۔ موت کے بعد ڈرائیور کا جسم پوری طرح موجود رہتا ہے مگر وہ گاڑی کو چلا نہیں پاتا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں بھی وہی صورت حال ہے۔ ہم گاڑی کا ایک ڈرائیور مان رہے ہیں ، بغیر اس کے کہ ہم نے ڈرائیور کو واقعی طور پر دیکھا ہو۔
موجودہ زمانہ کے منکرین خدا کہتے ہیں کہ یہ دنیا محض اتفاق سے بن گئی ہے۔ اس کا کوئی موجد اور خالق نہیں ۔ مگر موجودہ کائنات جیسی با معنی کائنات کا محض اتفاق سے ظہور میں آنا ممکن نہیں۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی کباڑ خانہ میں دھماکہ ہونے سے ایک ایکسپریس ٹرین بر آمد ہو جائے یا اچانک ایک ہوائی جہاز بن کر ہوا میں اڑنے لگے ۔
میرے ساتھ ثانی اشنین خاں بھی بھو پال گیے تھے ۔ انھوں نے اپنا ٹکٹ عین روانگی کے دن ۱۸ اپریل کو لیا ۔ جب کہ میرا ٹکٹ روانگی سے دو ہفتہ پہلے لیا گیا تھا ۔ بظاہر دونوں کو الگ الگ ڈبہ میں ہونا چاہیے تھا ۔ مگر اسٹیشن پہنچ کر ریزرویشن چارٹ دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ دونوں کی برتھ ایک ہی بوگی کی ایک ہی کیبن میں ہے ۔ بظاہر یہ خلاف امید تھا۔ یہ جو ہوا، ہماری کسی کوشش کے بغیر محض اتفاق سے ہوا۔
اس قسم کے اتفاقی واقعات ہماری دنیا میں پیش آتے رہتے ہیں ۔ انھیں جزئی مثالوں کو لے کر موجودہ زمانہ کے منکرین یہ کہتے ہیں کہ یہ پورا عالم محض اتفاق سے بن گیا ہے ۔ مگر یہ سراسر بے بنیاد قیاس ہے۔ اتفاق کی بنا پر کبھی ایسا تو ہو سکتا ہے کہ دو مسافر کسی ٹرین کے لیے الگ الگ ریزرویشن کرائیں اور دونوں کو اتفاق کی بنا پر ایک ہی ڈبہ میں نیچے اوپر جگہ مل جائے ۔ مگر یہ ناممکن ہے کہ ایک پوری بھری ہوئی ٹرین اور اس کا پورا نظام محض اتفاق کے تحت وجود میں آجائے ۔ واقعہ بلاشبہ ممکن ہے اور دوسرا واقعہ بلاشبہ ناممکن ۔
۱۹ اپریل ۱۹۸۶ کی صبح کو بھوپال پہنچا۔ یہاں میرا قیام جناب حافظ وحید الدین صاحب کے
مکان پر تھا۔ موصوف نہایت دیہ دار آدمی ہیں اور قدیم مشرقی وضع کا نمونہ ہیں ۔ بھوپال کی ریاست 1723ء میں قائم ہوئی ۔ وہ حیدر آباد کے بعد ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی مسلم ریاست تھی ۔ اس کے پہلے فرماں روا سردار دوست محمد خاں ( ۱۱۵۰- ۱۱۲۰ ھ) تھے ۔ آخری فرماں رواں نواب حمید اللہ خاں ( ۱۹۴۹- ۱۹۲۲ء) تھے ۔ اس دوران ریاست بھوپال سے جو واقعات وابستہ ہیں ان میں سے ایک خاص واقعہ نواب صدیق حسن خاں صاحب ( ۱۸۹۰- ۱۸۳۲ء) کا ہے۔ قنوج میں پیدا ہوئے ۔ عربی و فارسی کی تعلیم حاصل کی ۔ معاشی مسئلہ سے مجبور ہو کر وہ نوجوانی کی عمر میں اپنے وطن سے نکلے ۔ مختلف نشیب و فراز کے بعد بالآخر وہ بھوپال پہنچے ۔ یہاں ۱۸۵۹ء میں تاریخ نگاری کے کام پر ان کا تقرر ہوا اور 75 روپیہ مشاہرہ مقرر ہوا ۔
صدیق حسن صاحب نہایت ذہین آدمی تھے ۔ اسی کے ساتھ وہ جسمانی اعتبار سے ایک پرکشش شخصیت رکھتے تھے ، چنانچہ بھوپال کی خاتون نواب شاہ جہاں بیگم کو ان سے دل چسپی ہوئی ۔ ابتداً ان کو ریاست میں ایک بڑے عہدے (میر دبیری) پر فائز کیا گیا ۔ اس کے بعد حکومت برطانیہ کی اجازت سے ۱۸۷۰ء میں ان کا عقد والیہ ریاست کے ساتھ ہو گیا ۔ ان کو امیر الملک والا جاہ کا خطاب ملا اور وہ نواب صدیق حسن خاں کہے جانے لگے ۔ دھیرے دھیرے بھوپال کے ریاستی اختیارات بھی عملاً ان کے قبضہ میں آگئے ۔
نواب صدیق حسن صاحب کے زمانہ میں بھوپال میں بہت سی دینی اصلاحات ہوئیں۔ ان کے لیے یہاں کام کے زبردست مواقع تھے ۔ مگر موصوف کے سیاسی ذہن کی وجہ سے یہ موقع بہت زیادہ دیر تک باقی نہ رہا ۔ ان کے سیاسی مزاج نے ان کو انگریزوں کی نظر میں معتوب بنا دیا ۔ ۱۸۸۵ء میں وہ نوابی سے معزول کر دیئے گئے ۔ بقیہ عمر انھوں نے خانہ قید ہو کر گزاری ۔
یہاں کے ایک صنعت کار جناب سیلم شمسی صاحب نے ہم کو بھوپال کی سیر کرائی ۔ اس سے اندازہ ہوا کہ دوسرے اکثر بڑے شہروں کی طرح بھوپال بھی دو بھوپال کا نام ہے ۔ بھوپال قدیم اور بھوپال قدیم بھوپال تنگ سڑکوں ، گھنی آبادیوں اور گندی نالیوں کا نام ہے ۔ اس کے برعکس جدید بھوپال میں کشادہ سڑکیں ہیں ۔ کھلے ہوئے مکانات ہیں ۔ ہر طرف صفائی ستھرائی کا ماحول ہے ۔ میں مسلمانوں کی تعداد ۳۰ فی صد ہے ۔ اور جدید بھوپال میں بمشکل ۵ فی صد یہ واقعہ علامتی طور پر مسلمانوں
کی حالت کو بتا رہا ہے ــــ مسلمان ماضی کی دنیا میں ”زیادہ“ تھے مگر حال کی دنیا میں وہ کم ہو کر رہ گئے۔ بھوپال آزادی کے بعد کے ہندوستان میں گم نامی کی تاریکی میں جا چکا تھا۔ اس کو دوبارہ شہرت صرف 1984 میں ہوئی اور وہ بھی ایک بربادی کے واقعہ کے ذریعہ۔ 3 دسمبر 1984 کو یہاں یونین کاربائیڈ کمپنی کے پیسٹی سائیڈ پلانٹ میں حادثہ ہوا۔ ایک ٹینک جس میں ہم ٹن مہلک گیس بھری ہوئی تھی، اس میں شگاف ہو گیا۔ گیس کہر اور دھوئیں کی شکل میں باہر آنے لگی۔ ایک گھنٹہ کے اندر اس کی چالیس ٹن گیس 20 مربع کلومیٹر کے رقبہ میں ہر سانس لینے والا اس سے متاثر ہوا۔ تقریباً ڈھائی ہزار (عوامی رائے کے مطابق اس سے بہت زیادہ آدمی مر گئے۔ تقریباً تین لاکھ آدمی پر اس نے اثر ڈالا۔ اس حادثہ کی تلافی (Compensation) کا کیس امریکہ کی عدالت میں چل رہا تھا۔ حکومت نے بھوپال کے شہریوں کی طرف سے مطالبہ کیا تھا کہ یونین کاربائیڈ کمپنی ایک بلین ڈالر (1200 کروڑ روپیہ) ادا کرے۔ مگر 14 مئی 1989 کے فیصلہ میں امریکی جج نے زر تلافی کی ادائیگی سے انکار کر دیا۔ بھوپال کے کچھ لوگوں نے بتایا کہ زیادہ تر واقعات گھبراہٹ میں ہوئے۔ جب مہلک گیس فضا میں پھیلی تو لوگ گھبرا کر باہر بھاگے۔ باہر بھاگنے میں ایک تو وہ پوری طرح گیس کی زد میں آگئے ۔ دوڑنے بھاگنے کی وجہ سے ان کی سانس تیز ہوگئی اور نتیجہ گیس زیادہ مقدار میں ان کے اندر جانے لگی۔ اس کے برعکس جو لوگ کسی وجہ سے بھاگ نہ سکے اور دروازے اور کھڑکی بند کر کے گھر کے اندر رکے رہے وہ نسبتاً گیس کے مہلک اثرات سے محفوظ رہے ــــ آدمی ہمیشہ ”اقدام“ کی بات سوچتا ہے۔ اکثر حالات میں اقدام یہ ہوتا ہے کہ سرے سے کوئی اقدام نہ کیا جائے ۔
مسٹر جیکسن براوننگ(Jackson (Jackson Browning) امریکہ کی مذکورہ یونین کاربائیڈ کمپنی کے ہیلتھ ڈائرکٹر ہیں۔ انھوں نے ایک بیان میں کہا کہ ہماری کمپنی نے اس قسم کے دو پلانٹ لگائے ہیں ایک امریکہ میں اور دوسرا ہندوستان میں۔ امریکہ کے پلانٹ میں کمپیوٹر تحفط نظمی نظام (Computerised safety system) لگا ہوا ہے۔ یہ سسٹم نہایت حساس ہوتا ہے اور اس قسم کی کسی خرابی کو پیشگی طور پر معلوم کر کے اس کی اصلاح کر دیتا ہے۔ اس قسم کا کمپیوٹر سسٹم ہندوستان کے پلانٹ میں بھی لگنا مگر وہ لگایا نہ جاسکا، جس کے نتیجہ میں اتنا بڑا حادثہ پیش آیا۔ اس کی وجہ ان کے نزدیک ہندوستان میں اس کی پشت پناہی کرنے والے نظامامات کا نہ ہونا اور معاشی التو پر زورزے کی ناکافی فراہمی ہے
دہ ہندوستان ٹائمس ۸ دسمبر 1984 ) :
گیس کے حادثہ کو اب دو سال بیت چکے ہیں ۔ مگر ڈاکٹروں کی ایک ریسرچ ٹیم نے اندازہ لگایا ہے کہ اب بھی بھوپال تقریباً ۳۰ ہزار آدمی ایسے ہیں جو زہریلی گیس کے مابعد اثرات (After-effects) کا شکار ہیں ( انڈین ایکسپریس ۶ مئی ۱۹۸۶ )
بھوپال میں قدیم دور کی ایک یادگار تاج المساجد ہے جو غالباً ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد یہ مسجد خاتون نواب شاہ جہاں بیگم نے ۱۸۸۶ میں بنوانا شروع کیا۔ ۱۹۰۱ میں ان کے انتقال کی وجہ سے کام رک گیا ۔ اس کی بنیادی تعمیر ہو چکی تھی ۔ تاہم اس کی تکمیل سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد ان کی صاحبزادی سلطان جہاں ریاست کی تاجدار مقرر ہوئیں ۔ مگر ماں بیٹی میں اتنا زیادہ بگاڑ تھا کہ سلطان جہاں بیگم جب اقتدار میں آئیں تو انھوں نے مسجد کی مزید تعمیر کا کام حتی کہ مجھے معلوم ہوا کہ شاہ جہاں بیگم کے زمانہ میں جو اینٹیں تیار کی گئی تھیں ان پر ان کے نام کی نسبت سے ’ش لکھا گیا تھا۔ سلطان جہاں بیگم کے زمانہ میں اینٹوں پر ش کا نقطہ منصوبہ کے تحت مٹایا گیا تاکہ ’ش‘ کا حرف "س" کا حرف بن جائے جو سلطان جہاں بیگم سے مشابہت رکھتا ہے ( ماں اور بیٹی کے درمیان اس بگاڑ کی وجہ غالباً صدیق حسن خاں صاحب سے نکاح تھا ) اس نامکمل مسجد کو مکمل کرانے کا کام آزادی کے بعد مولانا محمد عمران خاں صاحب نے اپنی تولیت میں لیا اور مولانا سید سلیمان ندوی کے مشورہ پر اس میں عربی مدرسہ کی بنیاد ڈالی ۔ نوابی دور میں عربی کا مدرسہ وہ سرکاری خرچ پر چلتا تھا۔ مسلم ریاست میں ختم ہونے کے بعد وہ ختم ہو گیا۔ اس خلا کو اس مدرسہ نے پر کیا جسے مولانا عمران خاں صاحب نے قائم کیا تھا۔ پھر ۱۹۷۱ء میں مولانا محمد عمران خاں صاحب نے شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی کے مشورہ پر تاج المساجد کی تکمیل کا آغاز کیا۔ تاج المساجد کے استاد ڈاکٹر حمید اللہ ندوی نے بتایا کہ شاہ محمد یعقوب صاحب مجددی نے حکمت کی ایک بات مولانا کو یہ بتائی کہ بھوپال کے باہر سے کسی طرح کچھ پیسہ لاکر ایک بار کام شروع کر دیجئے ۔ والے جب کام ہوتا ہوا دیکھیں گے تو پیسہ دینا شروع کر دیں گے ۔ اور عملاً ایسا ہی ہوا ۔ تاج المساجد کی تکمیل کی فنی
نگرانی مدھیہ پردیش کے مشہور آرکیٹیکٹ جناب سرور قریشی صاحب نے کی اور عملی نگرانی محنت و لگن سے مولانا عمران خاں صاحب کے بھائی مولانامحمد سلمان صاحب نے کی۔
مولانا محمد عمران خاں صاحب ندوی (۷۵ سال) بھوپال کی خاص شخصیت ہیں ۔ اس سے پہلے وہ ندوہ (لکھنؤ) میں مہتمم تھے۔ عجیب بات ہے کہ وہ ندوہ میں جس کمرہ میں رہا کرتے تھے ، اسی کمرہ میں بھی اپنے قیام ندوہ کے زمانہ میں مقیم رہا۔ مولانا محمد عمران خاں سے اس سفر میں دو بار ملاقات ہوئی ۔ ایک بار موصوف کی رہائش گاہ پر اور دوسری بار اس وقت جب کہ مولانا موصوف باز دید کے لیے میری قیام گاہ پر تشریف مولانا میری بعض کتابیں مثلاً پیغمبر انقلاب “ پڑھ چکے ہیں اور اس سے اتفاق فرماتے ہیں ۔ موجودہ تاج المساجد مولانا عمران خاں صاحب ہی کا کارنامہ ہے ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (۱۹۸۴) میں بھوپال کے تذکرہ کے ذیل میں وہاں کی سب سے نمایاں عمارت کے طور پر جو تصویر شائع کی گئی ہے وہ تاج المساجد کی تصویر ہے ۔ اس کو ہندوستان کی سب سے بڑی مسجد (The largest mosque in India) بنایا گیا ہے ۔ مگر یہ تصویر اس کی جدید تکمیل سے پہلے کی ہے ۔ چنانچہ اس میں موجودہ تاج المساجد کے بلند و بالا منارے موجود نہیں ہیں ۔ میں تاج المساجد کے منتظمین سے گزارش کروں گا کہ وہ انسائیکلو پیڈیا کے ایڈیٹروں کو اس کی تازہ تصویر روانہ کردیں تاکہ وہ اگلے ایڈیشن میں اس کو شائع کرسکیں ۔ بھوپال کی تاج المساجد اونچائی پر بنائی گئی ہے ۔ نیز اس کے منارے غیر معمولی طور پر بلند ہیں ۔ یہ منارے آزادی کے بعد کے دور میں بنائے گیے ہیں۔ بھوپال میں آپ کہیں بھی کھڑے ہوں ، آپ کو سب سے زیادہ نمایاں چیز تاج المساجد دکھائی دے گی ۔ تاج المساجد کے اونچے مینار تمام دوسری عمارتوں کے اوپر اس طرح ابھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں جیسے بونے آدمیوں کے درمیان چھ فٹ کا لمبا آدمی نمایاں طور پر کھڑا ہوا ہو۔
میں نے ایک تقریر میں کہا کہ یہ واقعہ ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے علامتی سبق ہے ۔ وہ یہ کہ ہندوستان میں مسلمانوں کے لیے بعض پہلوؤں سے ایسے مواقع پائے جاتے ہیں جو خود مسلم ممالک میں بھی موجود نہیں ۔ آج کسی بھی مسلم ملک میں یہ ممکن نہیں، کہ وہاں غیر مذہب کے لوگ اپنا عبادت خانہ اتنا اونچا بنائیں کہ وہ تمام دوسری عمارتوں (بشمول مساجد اور سرکاری دفاتر) سے اوپر اٹھ جائے ۔ مسلمانوں کو اس ملک میں یہ موقع پوری طرح حاصل ہے۔
ہندوستان کی آزادی (۱۹۴۷) سے پہلے ملکہ کے دینی اور ملی اداروں کے لیے مالی تعاون کا سب سے بڑا ذریعہ دو تھا۔ ریاست حیدر آباد، اور سیاست بھوپال ۔ آج دنیا بھر میں دینی اور ملی سرگرمیوں کو تعاون دینے کا سب سے بڑا ذریعہ اللہ تعالیٰ نے عرب پٹرول کو بنا رکھا ہے۔ مگر اُس وقت عربوں کا یہ حال تھا کہ وہ ایک ایسی قوم تھے جن کو خود باہری امداد کی ضرورت تھی۔ اس زمانے میں ہندوستان سے عربوں کی مدد کے لیے رقمیں بھیجی جاتی تھیں۔ ہندوستان کے ایک شہر میں ایک وقف " بیت المدینہ " کے نام سے قائم کیا گیا وقف نامہ کے مطابق اس کا خاص مقصد یہ تھا کہ اس کی آمدنی کو " ’’غرباء مدینہ‘‘ " کی بہبود پر صرف کیا جائے ۔ مگر آج کا حیدر آباد اور بھوپال اس سے مختلف ہے ۔
بھوپال کے آخری فرماں روا نواب حمید اللہ خاں نے مولانا سید سلیمان ندوی کو قاضی ریاست کی حیثیت سے بھوپال بلایا تھا۔ سید صاحب زیادہ عرصہ تک بھوپال نہ رہ سکے ۔ تاہم ان کے مختصر زمانہ قیام میں بعض ضروری کام ہوئے ۔ ان کے مشورہ پر مولانا محمد عمر ان خاں صاحب نے یہاں ایک عربی مدرسہ قائم کیا جو کہ ندوہ کی شاخ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ بھوپال میں دوسرا عربی مدرسہ جامعہ اسلامیہ (ترجمہ والی مسجد) کے نام سے مشہور ہے جو دار العلوم دیو بند کے انداز پر چلایا جارہا ہے۔
آزادی کے بعد جب بھوپال کی ریاست ختم ہوئی تو نواب حمید اللہ خاں صاحب نے نئی سرکار سے جو معاہدہ کیا اس میں ایک اہم بات یہ بھی شامل تھی کہ جن مساجد کے ائمہ و موذنین کی تنخواہ ریاست کے ذمہ تھی اس کی ذمہ داری نئی سرکار لے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اب ریاست بھوپال کی تقریباً تین سو مساجد کے ائمہ و موذنین کی تنخواہ سرکاری گرانٹ سے دی جاتی ہے، اس میں دار القضاء و دار الافتاء کا خرچ ہر امام کی تنخواہ تین سو روپے ، موذن کی ڈھائی سو اور قاضی کی دس سو روپے ۔ جناب مولانا وجدی الحسنی صاحب ہیں ، اور مفتی شہر مولانا عبد العلی صاحب ہیں۔ سرکار ایک کمیٹی تشکیل دیتی ہے جو یہ سارا انتظام کرتی ہے ، اسے مساجد کمیٹی کہتے ہیں۔ اس کے موجودہ سکریٹری جناب عبد الکریم صاحب اور چیئر مین جناب ملک حبیب صاحب ہیں ۔ یہی مساجد کمیٹی ایک اسکول بھی چلاتی ہے۔ عربی بول چال کی ایک کلاس جس میں ڈاکٹر حمید اللہ ندوی تعلیم دیتے ہیں اس کا خرچ بھی اسی کمیٹی کے تحت اس وقت مساجد کمیٹی کو جو گرانٹ دی جاتی ہے اس کی مقدار چودہ لاکھ روپے ہے ، پہلے صرف تین لاکھ تھی۔ یہ اضافہ سابق چیف منسٹر شری ارجن سنگھ کے زمانہ میں ہوا۔ معلوم ہوا کہ گرانٹ میں اضافہ
ہونے کے بعد بعض لوگوں نے صرف اس بات پر جھگڑ نا شروع کر دیا کہ اس اضافہ کا سہرا کس کے کئی لوگ اسے اپنی کوششوں کا نتیجہ قرار دینے لگے۔ اس کی وجہ سے یہاں کافی تلخ ماحول پیدا خود چیف منسٹر صاحب بھی بد دل ہو گئے۔ وہ چاہتے تھے کہ گرانٹ کی اس رقم میں مزید اضافہ کرائیں مگر جب انھوں نے مذکورہ حالات دیکھے تو اس کے بعد وہ خاموش ہو گئے۔ اس گرانٹ کا تعلق مرکزی حکومت سے ہے۔ ریاستی چیف منسٹر اس میں درمیانی رول ادا کرتے ہیں )
بھوپال میں تین دن کے دوران 13 تقریریں ہوئیں۔ ہر تقریر میں توقع سے بہت زیادہ لوگ آئے۔ غیر معمولی تاثر کا اظہار کیا۔ مسلمانوں کے علاوہ ہندو صاحبان بھی اکثر اجتماعات میں شریک ہوئے۔ ایک ہندو بھائی سے ایک اجتماع کے بعد میں نے ان کا تاثر پوچھا۔ انھوں نے کہا: لوگ گنگا جل میں نہا کر پوتر ہوتے ہیں، آپ نے ہم کو اپنے شبدوں سے پوتر کر دیا۔ ایک ہندو بھائی نے ایک تقریر سننے کے بعد غیر معمولی پسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: اب تو ڈکشنری کے الفاظ ختم ہو گئے ۔ ایک ہندو بھائی سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ وحدت وجود (Monism) کا عقیدہ صحیح نہیں۔ اس عقیدہ کا مطلب بظاہر یہ ہے کہ انسان خدا کا انش ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم خدا کا حصہ نہیں ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں۔ اکثر اس عقیدہ کو بتانے کے لیے سمندر اور قطرہ کی مثال دی جاتی ہے ۔ سمندر اور قطرہ دونوں اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک ہیں۔ ان میں جو فرق ہے وہ کمیت کے اعتبار سے ہے نہ کہ کیفیت کے اعتبار سے۔ مگر یہ ناقابل تصور ہے کہ خدا اور انسان دونوں ایک ہی جنس سے تعلق رکھتے ہوں ۔ بات یہ ہے کہ خدا اور انسان کے درمیان خود کیفیت کے اعتبار سے فرق ہے نہ کہ محض کمیت کے اعتبار سے ۔ ایک اجتماع خاص طور پر شرعی قوانین کے مسئلہ پر ہوا۔ اس کا انتظام جناب خلیل اللہ خاں صاحب ایڈوکیٹ نے کیا تھا۔ لوگ بہت بڑی تعداد میں جمع ہوئے اور میری مفصل تقریر کو نہایت دل چسپی کے ساتھ آخر تک سنا۔
بھوپال کے تمام پروگرام غیر معمولی طور پر کامیاب رہے ۔ ہر پروگرام میں شہر کا انتہائی تعلیم یافتہ طبقہ کثرت سے شریک ہوا جو اب تک کسی دینی اجتماع میں شریک نہیں ہوا تھا۔ اس غیر معمولی کامیابی کا خاص سبب الرسالہ کی اشاعت ہے ۔ ڈاکٹر حمید اللہ ندوی اور ان کے ساتھیوں نے پچھلے دو سال میں الرسالہ کو شہر کے تعلیم یافتہ طبقہ میں پہونچانے کی زبردست جدوجہد کی ہے۔ یہی کام ہر مقام پر ہمارے
ساتھیوں کو کرنا چاہیے۔
بھوپال سے واپسی کے بعد خطوط کے ذریعہ معلوم ہوا کہ اس تین روزہ قیام میں بعض حضرات قریب سے میرا ذاتی مطالعہ کرتے رہے۔ ایک خط میں کہا گیا ہے : "....... صاحب اب مزید آپ سے قریب ہو گئے ہیں۔ یہاں انھوں نے آپ کی ہر ہر بات، حتیٰ کہ نشست و برخوست اور کھانے پینے تک کا بغور معائنہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ ایک کھنکھناتا ہوا سکہ ہیں! " بھوپال کی تقریروں کے کیسٹ یہاں کے پروگرام بہت متنوع قسم کے تھے۔ ذیل میں پروگرام کا خاکہ دیا جاتا ہے۔ تاریخ مقام سامعین موضوع ۱۹ اپریل ۱۹۸۶ رہائش گاہ پریم نارائن گپتا ایڈوکیٹ وکیل صاحبان ، اکثریت غیر مسلم توحید صدر منزل تعلیم یافتہ مسلم و غیر مسلم صاحبان قرآن ایک عالمی پیغام رہائش گاہ ڈاکٹر عارفہ سیمیں کالج کے اساتذہ اور پرنسپل نوجوانوں کے مسائل ۲۰ اپریل مسجد ٹی ٹی نگر تعلیم یافتہ طبقہ درس حدیث پتر کار بھون پریس کانفرنس اسلامی مرکز کا تعارف مدھیہ پردیش دینی تعلیمی کانفرنس سنجیدہ اور تعلیم یافتہ اصحاب تعمیر ملت انٹرنیشنل فرینڈس کلب نوجوان طبقہ نوجوانوں کے فرائض مسجد قدسیہ بیگم قارئین الرساله الرسالہ کا پیغام موتی مسجد ایجوکیشنل سوسائٹی تعمیر ملت گلشن محی الدین ریت گھاٹ نوجوان اور تعلیم یافتہ طبقہ شریعت کا دائمی پہلو ۲۱ اپریل رہائش گاہ سلیم شمسی صاحب تعلیم یافتہ اصحاب احیار اسلام مدینہ ہوٹل مسلم اور غیر مسلم نوجوان اسلام کا تعارف دین دیال و چاپ پر کاشن جنتا پارٹی کے کارکن اور ذمہ دار اسلام کیا ہے رہائش گاہ غفران اعظم اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقہ، مسلم و غیر مسلم بھارت کی تعمیر
بھوپال کے اجتماع کی خبر سن کر اطراف کے علاقوں کے بھی کچھ لوگ بھوپال آگئے تھے۔ شہر سے آنے والے ایک نوجوان نے بتایا کہ وہ اردو الرسالہ کے علاوہ ۲۰ عدد انگریزی الرساله ہر ماہ منگاتے ہیں اور اس کو غیر مسلموں میں پھیلاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ” پہلے صرف مسلمان الرسالہ کا انتظار کرتے تھے ۔ اب غیر مسلم بھی الرسالہ کا انتظار کرتے ہیں “۔ الرسالہ انگریزی کے ایک غیر مسلم قاری کا تاثر انھوں نے ان الفاظ میں نقل کیا ، یہ بہت اچھا پرچہ ہے عقل وفطرت کے خلاف کوئی بات نہیں۔ صاحب نے کہا کہ مسلمانوں کے دوسرے پرچے ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے صرف ان کے مخصوص حلقہ کو دل چسپی ہوسکتی ہے۔ الرسالہ واحد پرچہ ہے جو ہر ایک کی دل چسپی کا ہوتا ہے۔ الرسالہ کو کسی بھی شخص کے ہاتھ میں اطمینان کے ساتھ دیا جاسکتا ہے ۔
۲۰ اپریل ۱۹۸۶ کو پتر کار بھون میں پریس کانفرنس ہوئی ۔ اس میں اردو ، ہندی اور انگریزی اخبارات کے نمائندے بڑی تعداد میں شریک ہوئے ۔ اس پریس کانفرنس کو یو این آئی اور پی ٹی آئی دونوں نے کور کیا تھا۔ اس لیے اس کی رپورٹ بھوپال اور بھوپال کے باہر کے اکثر اخبارات میں شائع ہوئی، دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمس آف انڈیا (۲۱ اپریل ۱۹۸۶) میں جو رپورٹ شائع ہوئی تھی اس کو یہاں نقل کیا جاتا ہے :
Bhopal, April 20 (UNI): The Muslim Women (Divorce) Bill intro- duced in the Lok Sabha does not contravene the Shariat says a well- known Islamic theologian. Maulana Waheeduddin Khan head of New Delhi based Islamic centre told newsmen here today that Islam held women in high esteem and provisions in the Shariat clearly define the status of Muslim women. The protection provided to Muslim women would be further strengthened by the Bill when it becomes law, he added. Referring to the Shahbano case, the Maulana said it was more a social than a legal problem. He said that the maintenance provided by the Supreme Court to Shahbano would not be sufficient. If the issue had been decided through arbitration, Shahbano would have had a better deal, he said. The Maulana said former Chief Justice Chandrachud had misquoted from the Hadees in the Supreme Court decision. 'The reference to women as the rib of man has been misquoted by the learned judge.' "The comparison has been done to point out to Muslims that a woman was like a rib which would break if straightened out. Thus a woman should be respected and loved as you love your body.", the Maulana explained claiming that it was not a reference derogatory to the fair sex. The Maulana said it was wrong to say that the Shariat or the Muslim personal law was not codified. The Times of India, 21 April 1986
۲۱ اپریل ۱۹۸۶ء کو ایک عیسائی مسٹر جارج (M. O. George) کی رہائش گاہ پر جانے کا اتفاق موصوف یہاں بنک منیجر ہیں۔ مکان نہایت صاف ستھرا تھا۔ ہر چیز میں صفائی اور قرینہ جھلک رہا تھا ایک دیوار پر ایک چوکھٹے میں فریم کی ہوئی تصویر نظر آئی ۔ دیکھا تو وہ حضرت مسیح کی تصویر تھی ۔ کے نیچے انگریزی میں یہ جملہ لکھا ہوا تھا :
Christ is the head of this house, the unseen guest, at every meal, the silent listener to every conversation. مسیح اس گھر کے سردار ہیں، ہر کھانے کے ساتھ نہ دکھائی دینے والے مہمان ، ہر گفتگو کو خاموشی کے ساتھ سننے والے ۔ یہ مسیح کے بارہ میں عیسائی حضرات کا عقیدہ ہے۔ انہوں نے اپنے پیغمبر کے لیے خدائی اوصاف فرض کر رکھے ہیں ۔ مگر عجیب بات ہے کہ مسلمان بھی اس معاملہ میں ان سے پیچھے نہیں ۔ انہوں نے بھی اپنے پیغمبر کے لیے ایسے عقیدے بنا لیے ہیں جس کے بعد خدا اور بندہ میں کوئی فرق باقی نہیں رہتا ۔ بھوپال کی ملاقاتوں میں سے ایک خاص ملاقات حضرت پیر سعید میاں صاحب مجددی کی تھی ۔ آپ خانقاہ مجددیہ کے سجادہ نشین ہیں ۔ یہ خانقاہ حضرت شاہ پیر ابو احمد صاحب (۱۳۲۴-۱۴۶۰ء) کے زمانہ سے قائم ہے اور مسلسل عوام و خواص کا مرجع بنی رہی ہے۔
حضرت پیر سعید میاں صاحب قبلہ نے بہت سی قابل قدر دینی باتیں بتائیں۔ آپ نے بتایا کہ ایک بار حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری لاہور میں مقیم تھے ۔ آپ نے پیغام بھیج کر مولانا علی میاں صاحب اور مولانا منظور نعمانی صاحب کو لاہور بلوایا ۔ دونوں حضرات گئے اور حضرت رائے پوری کے ساتھ ٹھہرے ۔
ایک بار قیام گاہ پر شہر کے کافی لوگ جمع تھے ۔ لوگ چاروں طرف منتظر بیٹھے ہوئے تھے مگر حضرت رائے پوری بالکل خاموش تھے ۔ مولانا علی میاں نے چاہا کہ کسی طرح سکوت ٹوٹے اور حضرت رائے پوری کچھ فرمائیں جس سے حاضرین مستفید ہوں ۔ چنانچہ مولانا علی میاں نے حضرت رائے پوری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ حضرت قرآن میں صبر کا بار بار ذکر ہے اور اس کی بہت تعریف آئی ہے ۔ کچھ اس کے بارہ میں ارشاد فرمائیں ۔ حضرت رائے پوری دو منٹ خاموش رہے۔ پھر کہا کہ آپ ہی فرمادیجیے۔ علی میاں نے کہا کہ حضرت ہم کو صبر کا اتنا ہی مطلب معلوم ہے جو لغت کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔
حضرت رائے پوری دوبارہ کچھ دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا: ہم کو تو اتنا بھی نہیں معلوم۔ مجھے کھانے پینے کی دھوم سے کوئی دل چسپی نہیں۔ حتیٰ کہ پر تکلف دستر خوان پر جہاں اکثر لوگ معمول سے زیادہ کھاتے ہیں، میں معمول سے کم کھانے کی وجہ سے اکثر بھوکا رہ جاتا ہوں۔ بیرون ملک کی ایک بین اقوامی کانفرنس میں اسی "کم خوری" کی وجہ سے مجھے قبض ہو گیا ۔ طبی کمرہ میں گیا اور کہا کہ مجھے قبض کی کوئی دوا دیجیے۔ بڑے کمرہ میں کافی دوائیں بھری ہوئی تھیں ۔ مگر ڈاکٹر صاحب کافی تلاش کے باوجود قبض کی دوا نہ پاسکے۔ میں نے کہا کہ آپ کے یہاں تو دواؤں کا زبردست اسٹاک ہے۔ پھر آپ کے پاس قبض کی دوا کیوں نہیں ۔ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا " ہمارے پاس تو زیادہ تر دست کے کیس
بھوپال میں مختلف لوگوں نے اپنے مکانات پر کھانے کا انتظام کیا ۔ اور اس میں معززین شہر کو مدعو کیا ۔ مثلاً سلیم شمسی صاحب ، ڈاکٹر عارفہ سیمیں صاحبہ، ڈاکٹر حمید اللہ ندوی و غیرہ۔ ان مواقع پر شہر کا خواص کا طبقہ اکٹھا ہو گیا۔ مثلاً مقامی ایم ایل اے ، اخبارات کے ذمہ دار ، ڈاکٹر ، وکلا اور اساتذہ جناب غفران اعظم ایم پی کے والد جناب محمد اعظم صاحب نے بھی اپنے یہاں کھانے کی ایک مجلس رکھی ۔ محمد اعظم صاحب شروع سے الرسالہ کو پسند فرماتے رہے ہیں اور مقامی طور پر الرسالہ کی تحریک سے وابستہ ہیں ۔
ان مجالس میں اعیانِ شہر سے ملاقات کے مواقع ملے جو کسی اور صورت میں یکجائی طور پر کم ہی ملتے جناب نور محمد صاحب ڈی ٹی ٹنگس کے یہاں کھانے پر محکمہ تعلیمات کے ڈپٹی ڈائرکٹر سے ملاقات ہوئی اور تبادلہ خیال ہوا۔
بھوپال میں ڈاکٹر حمید قریشی (سابق منسٹر) سے ملاقات ہوئی۔ ہندوستان کی جدید سیاسی تاریخ سے ان کا گہرا تعلق رہا ہے ۔ میں نے ان سے پوچھا کہ مہاتما گاندھی کی کیا خصوصیت تھی کہ وہ ملک کی سیاست پر چھا گئے انھوں نے کہا کہ ٹالرینس (برداشت)۔ انھوں نے بتایا کہ شملہ کانفرنس میں ایک بار گاندھی اور جناح دونوں وائسرائے سے بات چیت کر کے باہر نکلے تو گاندھی جی نے جناح صاحب سے کہا کہ آئیے۔ ہم دونوں ایک مگر جناح صاحب نے گاندھی جی کی گاڑی میں بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد گاندھی جی نے کہا کہ جناح صاحب ، اگر آپ میری گاڑی میں نہیں بیٹھتے تو میں ہی آپ کی گاڑی میں بیٹھتا ہوں
اور پھر وہ جناح صاحب کے ساتھ بیٹھ کر واپس آگئے ۔
میں نے ڈاکٹر حمید قریشی سے کہا کہ گاندھی جی کے بارہ میں دو انتہائی مختلف قسم کی رائیں ہیں۔ کچھ لوگ ان کو نہایت مخلص سمجھتے ہیں اور کچھ لوگ ان کو سیاسیی اداکار کہتے ہیں۔ ڈاکٹر حمید قریشی نے میرا سوال سن کر ایک لمحہ سوچا اور اس کے بعد کہا : گاندھی جی اگر اداکار تھے تو ان سے بڑھ کر دنیا نے کوئی دوسرا اداکار پیدا نہیں کیا۔
بھوپال کی ملاقاتوں میں سے ایک ملاقات جناب پریم نارائن ایڈوکیٹ کی تھی۔ دوران انھوں نے ایک بڑا عجیب واقعہ بتایا۔
مسز گپتا نے کہا کہ اندرا گاندھی کے قتل سے کچھ پہلے بھوپال کے وکیلوں کا ایک وفد ان سے دہلی میں ملا تھا۔ اس وفد میں میں بھی شریک تھا۔ اس وقت اتفاق سے میرے ہاتھ میں قرآن کا ایک مسز اندرا گاندھی جب باہر آئیں تو وفد سے ملتے ہوئے وہ میرے پاس کھڑی ہو گئیں۔ نے پوچھا کہ یہ کون سی کتاب ہے، میں نے کہا کہ قرآن۔ اس کے بعد انھوں نے فوراً قرآن پر گفتگو شروع کر دی۔ مقررہ وقت کا تقریباً پورا حصہ انھوں نے میرے ہی پاس کھڑے کھڑے گزارا اور پورے وقت میں وہ صرف قرآن پر گفتگو کرتی رہیں۔ انھوں نے کہا کہ میں قرآن کو پڑھنا چاہتی ہوں۔ مگر اس کے ساتھ میں تقابل بھی کرنا چاہتی ہوں۔ یعنی میں جاننا چاہتی ہوں کہ قرآن میں کیا ہے اور دوسری مذہبی کتابوں میں کیا۔ انھوں نے بار بار مجھ سے کہا کہ کیا اس سلسلہ میں آپ میری مدد کر یں گے۔ مسز پریم نارائن گپتا سے یہ بات سن کر مجھے زبردست جھٹکا لگا۔ میں نے سوچا کہ مسٹر اندرا گاندھی کے طویل زمانہ حکومت میں بے شمار مسلمان قائدین ان سے ملے، جن میں بارلیش قائدین بھی تھے اور بے ریش قائدین بھی۔ مگر یہ سارے مسلم قائدین سابق وزیر اعظم کے سامنے صرف اپنی "قومی کتاب" پیش کرتے رہے۔ انھوں نے ان کے سامنے کبھی خدا کی کتاب پیش کرنے کی کوشش نہیں کی ۔
ان قائدین میں سے ہر شخص مسٹر اندرا گاندھی سے صرف اس لیے ملا کہ وہ ان کے سامنے مسلمانوں کی شکایات پیش کرے۔ وہ ان کے سامنے مسلمانوں کے معاشی اور سیاسی مطالبات رکھے۔ وہ مسلمانوں کے مادی مفادات کا میمورنڈم ان کے حوالے کرے۔ مسلم قائدین میں سے کوئی ایک بھی قائد نہیں جس نے ایسا
کیا ہو کہ وہ اپنی رات کی تنہائیوں میں پڑھ کر مسز اندرا گاندھی کی ہدایت کے لیے دعا کرے۔ اٹھ کر وہ دو رکعت صلوٰۃ الحاجہ پڑھے اور رو رو کر اللہ مدد کی درخواست کرے۔ اس کے بعد وہ قرآن کا ترجمہ لے کر مسز اندرا گاندھی کے یہاں جائے اور درد و سوز کے انداز میں ان سے گفتگو کر کے انہیں خدا کی کتاب پیش کرے۔ مسلمان قائدین نے ایسا نہیں کیا۔ یہاں تک کہ مسز اندرا گاندھی اس دنیا سے
مسلم قائدین کی اس کوتاہی کو صرف کوتاہی یا غلطی کہنا مسئلہ کی اہمیت کو گھٹانا ہے۔ ہے کہ یہ دور جدید میں ان کا سب سے بڑا جرم ہے۔ اور یہ وہ جرم ہے جس میں ہمارے تمام اصاغر اور اکابر یکساں طور پر شریک ہیں ۔
۲۲ اپریل 1986 کو انڈین ایئر لائنز (460 IC) کے ذریعہ بھوپال سے دہلی واپسی ہوئی۔ کے اندر اعلان کے دوران کہا گیا :