Al-Risala · February 1986

قدرت کا سبق

Al-Risala, February 1986, p. 2

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک شخص نے اپنا ایک تجربہ لکھا ہے کہ ایک ماہی گیر نے ایک بار مجھے بتایا کہ کیکڑے کی ٹوکری پر کسی کو ڈھکن لگانے کی ضرورت نہیں۔ اگر ان میں سے کوئی کیکڑا ٹوکری کے کنارے سے نکلنا چاہتا ہے تو دوسرے وہاں پہنچتے ہیں اور اس کو پیچھے کی طرف کھینچ لیتے ہیں :

کیکڑے کی یہ فطرت یقیناً خدا نے بنائی ہے۔ دوسرے لفظوں میں کیکڑے کا یہ طریقہ ایک خدائی طریقہ ہے۔ کیکڑے کی مثال سے خدا انسانوں کو بتا رہا ہے کہ انھیں اپنی اجتماعی زندگی کو کس طرح

اجتماعی زندگی میں اتحاد کی بے حد اہمیت ہے۔ اور اتحاد قائم کرنے کی بہترین تدبیر وہی ہے جو کیکڑے کی دنیا میں خدا نے قائم کر رکھی ہے۔ کسی انسانی مجموعے کے افراد کو اتنا با شعور ہونا چاہیے کہ اگر ان میں سے کوئی شخص ذہنی انحراف کا شکار ہو اور اپنے مجموعے سے جدا ہونا چاہے تو دوسرے لوگ اس کو پکڑ کر دوبارہ اندر کی طرف کھینچ لیں۔ " ٹوکری " کے افراد اپنے کسی شخص کو ٹوکری کے باہر نہ جانے دیں۔

اسلامی تاریخ میں اس کی ایک شاندار مثال حضرت سعد بن عبادہ انصاری کی ہے۔ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد خلافت کے مسئلہ پر ان کے اندر انحراف پیدا ہوا۔ بیشتر صحابہ اس پر متفق تھے کہ قبیلہ قریش کے کسی شخص کو خلیفہ بنایا جائے۔ مگر سعد بن عبادہ کے ذہن میں یہ آیا کہ خلیفہ انصار کا کوئی شخص ہو یا پھر دو خلیفہ بنائے جائیں، ایک مہاجرین میں سے اور دوسرا انصار میں مگر تاریخ بتاتی ہے کہ سعد بن عبادہ کے قبیلہ کے تمام لوگ اپنے سردار کی راہ میں رکاوٹ انھوں نے سعد بن عبادہ کو کھینچ کر دوبارہ " ٹوکری " میں ڈال دیا۔ اور ان کو اس سے باہر جانے نہیں دیا۔

Printed page