Captain Javed is in command
Al-Risala, November 1986, pp. 23–44
By Maulana Wahiduddin Khan
کپتان جاوید اس جہاز کے پائلٹ ہیں ) دوسرے لفظوں میں یہ کہ جس جہاز کے ذریعہ میں بھوپال سے دہلی آیا اس کے اڑانے والے ایک مسلمان تھے ۔ اس طرح کے واقعات آج ہندوستان کے ہر شعبہ میں موجود ہیں اور لوگوں کے علم میں آتے ہیں مگر کوئی نہیں جو ان کو قابل ذکر سمجھتا ہو۔ مسلمانوں کے تمام لکھنے والے اور تمام بولنے والے صرف اس "جاوید" سے واقف ہیں جو کسی وجہ سے سرکاری سروس میں پہنچنے میں ناکام ہو گیا ہو ۔ وہ اس " جاوید" سے واقف نہیں جو اعلیٰ سرکاری سروس میں ہے اور اس کو وہی تمام حقوق حاصل ہیں جو کسی دوسرے ہندوستانی شہری کو حاصل ہو سکتے ہیں ۔
اجتماع کے بعد بھوپال سے کچھ خطوط ملے ہیں ۔ ان میں سے ایک خط کو یہاں نقل کیا جاتا ہے ۔ آپ کے پروگرام میں جو دیشیتاپائی وہ اسلام بنام پرم پرا، یا دھرم بنام پرم پرا واد نہیں ہے۔ کا انسان سائنٹفک دور سے گزر رہا ہے جس میں پرم پرا واد دم توڑ چکا ہے ۔ دھرم کے پرانے ٹھیکیدار مُردے سے گھوڑے کو کوڑے مار مار کر کب تک زندہ رکھ سکیں گے ، اس پر نظریں اٹھنے لگیں تھیں ۔ کی کرپا سے دھار مک جگت میں ایک ستارہ نظر آیا ہے اور وہ ستارہ آپ ہیں جس کی وجہ سے جوویکوم پیدا ہو چلا تھا اس بھونچال کے لاوے میں دب گیا ہے۔ آج کی زندگی کا ہر پہلو پیاسا ہے اور وہ پیاس تب
کے لٹریچر یا بھاشن میں کیوں اسلام ہی نہیں سب مذہبوں کی روحیں زندہ رہیں ، ایساندیش ملتا ہے جب روحیں زندہ ہو جائیں گی تب پنڈت واد ختم ہو جائے گا ۔ اور جب پنڈت واد ختم ہو جائے گا تب دھرم داد کے کھلے درشن ہو جائیں گے ۔
شری برج کشور ایڈوکیٹ ہندو پریشد کے سکریٹری نے فرمایا کہ ہم انگور کھاتے ہیں گر پیس کہنے والوں سے لڑ بیٹھتے ہیں ۔ حضرت مولانا نے اپنے بھاشن میں ہماری آنکھیں بند کرو اکر منہ میں دانا رکھ دیا اور فرمایا منہ بند کیجئے ہم نے منہ بند کیا تو وہی انگور کا رس ، مٹھاس ٹھنڈک سب موجود تھے۔ مولانا صاحب نے کہا یہ وہی گر پیس ہیں ۔ جس کو آپ کچھ کا کچھ سمجھ بیٹھے تھے " پریم نارائن گپتا ایڈوکیٹ ، بھوپال بھوپال سے واپسی کے بعد " برطانیہ میں اسلام " کے بارہ میں ایک رپورٹ پڑھنے کا اتفاق اس میں پہلی بار یہ خبر پڑھی کہ برطانیہ کی سب سے قدیم مسجد جو وکنگ میں ہے ، وہ بھوپال کی خاتون نواب سلطان جہاں بیگم کی طرف سے 1890 میں تعمیر کرائی گئی تھی ۔
بھوپال ہندوستان کی نسبتاً ایک چھوٹی ریاست تھی ، مگر اس کے حکمرانوں کی عالی ہمتی نے ان سے بڑے بڑے کام لے لیے ۔ اس دنیا میں بڑے کام اکثر بڑے دل والے لوگ کرتے ہیں نہ کہ بڑے وسائل والے لوگ ۔