پیغمبر کی تمثیل
Al-Risala, December 1986, pp. 6–7
By Maulana Wahiduddin Khan
" ہم لندن سے بول رہے ہیں ، اب آپ آج کی تازہ خبریں سنیے ! " یہ الفاظ ایک شخص ہم سے دور لندن میں بیٹھ کر بولتا ہے ۔ ہم اس کو براہ راست نہیں سن پاتے ۔ لیکن جب ہم اپنا ریڈیو سیٹ چلاتے ہیں تو ہم فوراً اس آواز کو سننے لگتے ہیں ۔
دور کا ایک ریڈیو اسٹیشن ہماری قابل فہم زبان میں ہمارے لیے پروگرام نشر کرتا ہے ، ہم اس کو براہ راست اپنے کان سے نہیں سن پاتے ۔ لیکن جب ہم ریڈیو سیٹ کا سہارا لیتے ہیں تو ہزاروں میل دور سے نشر ہونے والا پروگرام ہم کو اس طرح سنائی دینے لگتا ہے جیسے ہمارے اور نشر گاہ کے درمیان کا فاصلہ ختم ہو گیا ہو اور ہم براہ راست اس کو سننے لگے ہوں ۔
ایسا ہی کچھ معاملہ بلا تشبیہ پیغمبر کا بھی ہے ۔ پیغمبر گو یا ہمارے لیے ایک قسم کا ریڈیو سیٹ ہے، وہ ہمارے اور خدائی نشر گاہ کے درمیان یقینی واسطہ کا کام کرتا ہے ۔ جس طرح عام ریڈیو یا ٹرانسٹریہ کرتا ہے کہ نشر گاہ کی خبریں اور پروگرام وصول کر کے دوبارہ ہمیں سناتا ہے ۔ اسی طرح خدا پیغمبر کو یہ طاقت دے دیتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے آنے والی آوازوں کو اخذ کر سکے ۔ پیغمبر خدا کی خصوصی توفیق سے ان کو نہایت صحت کے ساتھ اخذ کرتا ہے اور پھر کسی حذف و اضافہ کے بغیر ان کو ہمیں سنا دیتا ہے ۔ پیغمبر انسان اور خدا کے درمیان ایک زندہ ریڈیو سٹ ہے ۔ اگر پیغمبر نہ ہو تو ہم خدا کی آوازوں کو نہ سن سکیں ۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مشینی ریڈیو سٹ کے بغیر کوئی شخص دور کی نشر گاہوں سے نشر ہونے والے پروگرام کو نہیں سن پا تا ۔ لوگ دنیوی نشر گاہوں کی نشریات کو سننا چاہتے ہیں ۔ اس لیے وہ ریڈیو اور ٹرانسٹڑ کو بے حد عزیز رکھتے ہیں ۔ آج ساری دنیا میں کوئی بھی گھر اس سے خالی نہیں ۔ اسی طرح اگر آدمی کو خدائی نشریات کی اہمیت معلوم ہو جائے تو وہ پیغمبر کو دل و جان سے چاہنے لگے ۔ وہ ان باتوں کو انتہائی توجہ اور اہتمام کے ساتھ سنے جو پیغمبر نے بتائی ہیں ۔ پیغمبر کے معاملہ کو سمجھنا اتنا ہی آسان ہے جتنا کہ ریڈیو کے معاملہ کو سمجھنا ۔ پیغمبر اسی قسم کے ایک کام کو الہامی طور پر کر رہا ہے جس کو عام ریڈیو سٹ مشینی طور پر انجام دیتا ہے ۔ عالم آخرت کی تمثیل ایک کمرے میں کچھ لوگ بیٹھے ہوئے ہیں ۔ وہ بول رہے ہیں اور سن رہے ہیں ۔ وہ اپنے سامنے
ایک پوری دنیا کو دیکھ رہے ہیں۔ مگر یہ وہی دنیا ہے جو محسوس طور پر نظر آتی ہے۔ بظاہر محسوس دنیا کے سوا کوئی اور دنیا نہیں جو وہاں اپنا وجود رکھتی ہو۔
اتنے میں ایک شخص سامنے رکھے ہوئے ٹیلی وژن سیٹ کو چلا دیتا ہے۔ اچانک اس کے شیشہ پر ایک اور دنیا دکھائی دینے لگتی ہے جو ابھی تک دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ چلتے پھرتے انسان ان کی آوازیں ، ان کے مکانات ، ان کی کارگزاری سب آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے ۔ آخرت کا نظریہ یہ ہے کہ ہماری موجودہ دنیا کے پرے ایک اور دنیا ہے۔ یہ دوسری دنیا اسی طرح ایک مکمل دنیا ہے جس طرح ہماری موجودہ نظر آنے والی دنیا ۔ ٹیلی وژن گویا اس نظریہ کی عملی تصدیق ٹیلی وژن کا تجربہ بتاتا ہے کہ کس طرح موجودہ محسوس دنیا کے اندر ایک اور دنیا موجود ہو سکتی ٹیلی وژن کی دنیا ہمارے گرد و پیش پوری طرح موجود ہوتی ہے۔ مگر وہ صرف اس وقت ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے جب کہ ٹیلی وژن سیٹ کو چلا جائے ۔ اسی طرح آخرت کی دنیا پوری طرح یہاں موجود البتہ وہ ہمارے مشاہدہ میں اس وقت آئے گی جب کہ خدا اس کے ظہور کا حکم دیدے ۔ سائنس میں اکثر کسی چیز کو " ماڈل " سے سمجھا جاتا ہے ۔ موجودہ دنیا گویا ایک قسم کا مادی ماڈل ہے جس کے ذریعہ ہم غیر مادی حقیقتوں کو سمجھ سکتے ہیں ۔ ہماری دنیا ایک اعتبار سے بالا تر حقیقتوں کا آئینہ ہے ، آدمی اگر سنجیدہ طور پر سوچے تو وہ اس کے اندر اپنے تمام سوالات کا جواب پالے گا۔ خدا اور وحی اور آخرت غیب کی چیزیں ہیں ۔ انسان اپنی موجودہ نگاہ سے ان کو نہیں دیکھ مگر دنیا میں بہت سی چیزیں ، بلکہ تمام اعلیٰ حقیقتیں وہ ہیں جو آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں ۔ آدمی قرائن کی بنیاد پر ان کو مانتا ہے۔ یہی معاملہ خدا اور وحی اور آخرت کا بھی ہے ۔ بلاشبہ موجودہ آنکھ سے دکھائی نہیں دیتیں۔ مگر ایسے واضح قرائن موجود ہیں جو ہم کو یقین دلاتے ہیں کہ یہ چیزیں حقیقی ہیں اور یقینی طور پر وہ اپنا وجود رکھتی ہیں ۔
آدمی اگر سنجیدگی کے ساتھ سوچے تو وہ ان کو مانے بغیر نہیں رہ سکتا ۔