دو قسم کے انسان
Al-Risala, December 1986, pp. 8–9
By Maulana Wahiduddin Khan
والتی و الزیتون - و طور سنین - وهذا قسم ہے تین اور زیتون کی۔ اور طور سینا کی۔ البلد الامین - لقد خلقنا الانسان فی اس امن والے شہر کی۔ یقیناً ہم نے پیدا کیا انسان احسن تقویم - ثم رددناه اسفل کو سب ہے۔ اچھی ساخت پر۔ پھر ہم نے لوٹا دیا اس سافلین - الا الذین آمنوا وعملوا کو سب سے نچلی پستی میں۔ مگر جو لوگ کہ ایمان الصّلیحت فلهم اجر غیر ممنون - لائے اور بھلائیاں کیں تو ان کے لیے ثواب ہے فما یکذبك بعد بالدين - اليس بے انتہا۔ پھر کیا چیز تجھ کو روز جزاکے جھٹلانے الله باحكم الحاكمين - (التین) پر آمادہ کر رہی ہے۔ کیا خدا سب حاکموں سے بڑا
تین اور زیتون سے مراد فلسطین کی دو پہاڑیاں ہیں جن کے قریب بیت المقدس واقع ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی پیدائش اور بعثت ہوئی۔ طور، صحرائے سینا کا وہ پہاڑ ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے خطاب فرمایا۔ بلد امین (مکہ) وہ شہر ہے جہاں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نبی بنائے گئے۔ بائبل میں ہے : خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے ان پر چمکا۔ وہ کون و فاران سے جلوہ گر ہوا (استثنا ۳۳ : ۱- ۲)۔ یہود کی نظر میں سب سے زیادہ عظمت حضرت موسیٰ کی تھی اور عیسائیوں کی نظر میں حضرت مسیح کی۔ اس لیے پیغمبر آخر الزماں کے ساتھ ان دونوں مسلّمہ شخصیتوں کی مثال دے کر بتایا کہ خدا کی طرف سے ان داعیوں کا آنا کس طرح ایک عظیم حقیقت کو آشکارا کرنے کا سبب بنا۔ وہ یہ کہ انسانوں میں دو قسم کے لوگ ہیں ایک احسن تقویم کے مقام پر ہے اور دوسرا اسفل سافلین کے مقام پر۔ اور جب انسانوں میں اس قسم کا فرق پایا جائے تو ان کا انجام ایک کیسے ہو سکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر دنیا کی زندگی میں خدا کی عدالت سے وہ اس لیے آتا ہے کہ دو قسم کے انسانوں کو ایک دوسرے سے الگ
دونوں قسم کے انسانوں کو ایک دوسرے سے جدا کر دے۔ دودھ بلویا جاتا ہے تو مکھن الگ ہو جاتا ہے اور چھاچھ الگ۔ اسی طرح پیغمبر کی دعوت کا اٹھنا ایک قسم کا بلو نے کا عمل ہے۔ اس کے نتیجہ میں دونوں قسم کے انسان ایک دوسرے سے الگ ہو جاتے ہیں ۔
کسی آبادی میں جب اللہ کی طرف سے ایک پکارنے والا پکارنے کے لیے اٹھتا ہے تو عملاً یہ ہوتا ہے کہ کچھ لوگ اس کی پکار پر لبیک کہتے ہیں اور کچھ اس کے منکر بن جاتے ہیں۔ انسانیت کی تقسیم ہے جو اللہ کے نمائندے کے ذریعہ عمل میں آتی ہے۔ وہ شخص جو اپنی فطرت کو زندہ کیے ہوئے تھا اس کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ سچائی کی آواز کو اس طرح پہچان لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کی آواز کو۔
خدا نے اس کو انسان کی زبان سے پکارا تو اس نے اپنے رب کی آواز کو پہچان لیا اور اس کی طرف دوڑ پڑا۔ حق کی دعوت جب اس کے ذہن سے ٹکرائی تو اس کے اندر اعتراف، تواضع، تقویٰ اور حق شناسی ابھرا۔ اس نے اپنی زندگی کو پوری طرح اللہ کے راستہ پر ڈال دنیوی مفاد، عزت کا سوال، مصلحتوں کے اندیشے، کوئی بھی چیز اس کے لیے اپنے رب کا راستہ اختیار کرنے میں رکاوٹ نہیں بنے۔ دوسرے لوگ وہ ہیں جنھوں نے خدا کی دی ہوئی آنکھ اور کان کو اس طرح بگاڑ رکھا تھا کہ خدا کی آواز انتہائی عیاں ہونے کے باوجود، ان کی سمجھ میں نہ آسکی۔ وقتی مفادات، عوامی دباؤ اور شخصی مصالح کو انھوں نے وہ اہمیت دی جو صرف حق کو دی جانی چاہیے۔ انھوں نے دنیا کے تقاضوں کو ترجیح دی اور آخرت کے تقاضوں کو وہ اپنی ذات میں گم رہے اور خدا کی طرف نہیں لپکے۔
حدیث میں آیا ہے کہ اذا قرأ أحدکم والتين والزيتون فَاَتیٰ على آخرها أليس الله بأحكم الحٰکِمیْن) فَلْيَقُلْ بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنَ الشَّاهِدِينَ - جب تم میں سے کوئی شخص سورہ والتین والزیتون پڑھے اور اس کے آخر تک پہنچے تو اس کو چاہیے کہ وہ کہے کہ ہاں، اور میں اس پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں ۔ بعض روایات میں ہے کہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی تو فرمایا : سُبْحَانَكَ فَبلی - قرآن یہ چاہتا ہے کہ ایک شخص جب اس کو پڑھے تو اس کے پڑھنے سے اس کی نفسیات میں ہلچل پیدا ہو. وہ قرآن کے مضامین کے مطابق ہر موقع پر مناسب جواب پیش کرتا چلا جائے ۔