Al-Risala · February 1986

مقصدیت

Al-Risala, February 1986, pp. 5–6

By Maulana Wahiduddin Khan

جاپان نے 1931 میں چین کے شمال مشرقی حصہ (منچوریا) پر قبضہ کر لیا۔ اور وہاں اپنی پسند کی حکومت قائم کر دی ۔ اس کے بعد چین اور جاپان کے تعلقات خراب ہو گئے ۔ 7 جولائی ، 1937 کو بیجنگ (پیکنگ) کے پاس مارکوپولو برج کا واقعہ پیش آیا ۔ اس واقعہ نے دبے ہوئے جذبات کو بھڑکا دیا۔ اور دونوں ملکوں کے درمیان فوجی ٹکراؤ شروع ہو گیا جو بالآخر دوسری جنگِ عظیم تک جا پہنچا۔ اس وقت سے چین اور جاپان کے درمیان نفرت اور کشیدگی پائی جاتی تھی ۔ چند سال پہلے جاپان اور چین کے درمیان ایک معاہدہ ہوا ۔ اس کے مطابق جاپان کو چین میں ایک اسٹیل مل قائم کرنا تھا مگر معاہدہ کی تکمیل کے بعد چینی حکومت نے اچانک اس کو منسوخ کر دیا۔ چین کے نئے وزیرِ اعظم ڈینگ زا پنگ(Deng (Deng Xiaoping) نے حال میں اشتراکی انتہا پسندی کو ختم کیا اور کھلے دروازہ (Open Door) کی پالیسی اختیار کی تو جاپان کے لیے دوبارہ موقع چنانچہ آج کل جاپان نے چین میں زبردست یورش کر رکھی ہے ۔ آپ اگر جاپان سے چین جانا چاہیں تو آپ کو ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ تین ماہ پیشگی بک کرانی ہوگی ۔ جاپان سے چین جانے والے ہر جہاز کی ایک ایک سیٹ بھری ہوئی ہوتی ہے۔

چین میں تجارت کے زبردست امکانات ہیں ۔ جاپان چاہتا ہے کہ ان تجارتی امکانات کو بھر پور استعمال کرے ۔ اس مقصد کے لیے جاپان نے یک لخت طور پر ماضی کی تلخ یادوں کو بھلا دیا۔ ایک سیاح کے الفاظ میں جاپان نے طے کر لیا کہ وہ چین کی طرف سے پیش آنے والی ہر اپنا رسانی (Pinpricks) کو یک طرفہ طور پر برداشت کرے گا۔

مذکورہ سیاح نے لکھا ہے کہ میرے قیام ٹوکیو (جون 1985) کے زمانہ میں ریڈیو بیجنگ نے اعلان کیا کہ چین ایک میوزیم بنائے گا جس میں تصویروں کے ذریعہ یہ دکھایا جائے گا کہ جاپانیوں نے چینیوں کے اوپر ماضی میں کیا کیا مظالم کیے ہیں ۔ اس میوزیم کا افتتاح ۱۹۸۷ میں ہوگا جب کہ مار کو پولو کے حادثہ کو 50 سال پورے ہو جائیں گے ۔ جاپانیوں سے اس خبر پر تبصرہ کرنے کے لیے

کہا گبا تو انھوں نے خاموشی اختیار کی۔ جب زیادہ زور دیا گیا تو انھوں نے جواب دیا : You know, our Chinese friends have a way of twisting our tails, and appealing to our conscience. آپ جانتے ہیں کہ یہ ہمارے چینی دوستوں کا مہمیز لگانے کا طریقہ ہے۔ وہ ہمارے ضمیر کو متوجہ کر رہے ہیں۔ (ٹائمز آف انڈیا ۱۳ جون ۱۹۸۵)

جاپان کے سامنے ایک مقصد تھا۔ یعنی اپنی تجارت کو فروغ دینا۔ اس مقصد نے جاپان کے اندر کردار پیدا کیا۔ اس کے مقصد نے اس کو حکمت، برداشت، اعراض کرنا اور صرف بقدر ضرورت اس کے مقصد نے اس کو بتایا کہ کس طرح وہ ماضی کو بھلا دے اور تمام جھگڑوں اور شکایتوں کو یک طرفہ طور پر دفن کر دے تاکہ اس کے لیے مقصد تک پہنچنے کی راہ ہموار ہو سکے۔ یا مقصد گروہ کی نفسیات ہمیشہ یہی ہوتی ہے ۔ خواہ اس کے سامنے تجارتی مقصد ہو یا کوئی دوسرا اور جب کوئی گروہ یہ صفات کھو دے تو یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ اس گروہ نے مقصدیت اس کے سامنے چوں کہ کوئی مقصد نہیں اس لیے اس کے افراد کا کوئی کردار بھی نہیں ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی کمزوری ان کی بے کر داری ہے۔ جس میدان میں بھی تجربہ کیجیے ، آپ فوراً دیکھیں گے کہ مسلمانوں نے اپنا کردار کھو دیا ہے ۔ ان کے اوپر کسی ٹھوس منصوبہ کی بنیاد نہیں رکھی جاسکتی ۔ جہاں بھی انھیں استعمال کیا جائے وہ دیوار کی کچی اینٹ ثابت ہوتے ہیں۔ وہ دیوار کی پختہ اینٹ ہونے کا ثبوت نہیں دیتے ۔

اس کمزوری کی اصل وجہ یہی ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں نے مقصد کا شعور کھو دیا ہے ۔ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔ اگر مسلمانوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کر دیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے ۔ وہ دوبارہ ایک باکر دار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک باکردار گروہ بنے ہوئے تھے۔

Printed page