اسلام کی آفاقیت
Al-Risala, December 1986, pp. 11–15
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام جب شروع ہوا اس وقت عرب کے شہر یثرب ( مدینہ ) میں دو قبیلے آباد تھے ۔ اوس اور دوسرے خزرج ۔ یہ دونوں قبیلے ہمیشہ آپس میں لڑتے رہتے تھے ۔ مگر جب ان پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین توحید کی حقیقت کھلی اور وہ اسلام کے دائرہ میں داخل ہوئے تو ان کی آپس کی لڑائیاں ختم ہوگئیں ۔ دو دشمن گروہ ایک دوسرے کے دوست گروہ بن گئے ۔ ذاتی مفاد کے لیے آپس لڑنے والے لوگ متحد ہو کر بلند تر انسانی مفاد کے مجاہد بن گئے ۔ ایسا کیوں ہوا ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پہلے دونوں قبیلے صرف اپنی اپنی بڑائی کو جانتے تھے ۔ کا قبیلہ خزرج پر بڑا بننے کی کوشش کرتا اور خزرج کا قبیلہ اوس کے اوپر بڑا بننا چاہتا ۔ طرح دو بڑائیاں آپس میں ایک دوسرے سے ٹکراتی رہتی تھیں اور ان میں کبھی موافقت اور ہم آہنگی کی نوبت نہیں آتی تھی ۔ مگر جب انہوں نے اسلام کے ذریعہ ایک خدا کی بڑائی کو دریافت کیا تو ان کی اپنی الگ الگ بڑائیاں ختم ہوگئیں اور صرف ایک سب سے اونچی بڑائی باقی رہی ۔ پہلے دونوں قبیلے غیر مشترک بڑائیوں میں جی رہے تھے ، اب دونوں ایک ہی مشترک بڑائی میں جینے لگے ۔ خدا کی بڑائی ، جس سے بڑا اور کوئی نہیں ۔
یہ ہے سب سے بڑی آفاقیت جو اسلام انسان کو عطا کرتا ہے ۔ اسلام انسان کو توحید کا عقیدہ دیتا ہے ۔ یعنی یہ کہ خدا ایک ہے ۔ وہی سب کا خالق ہے ۔ وہی سب کا مالک ہے ۔ سارے عالم کا نظام چلا رہا ہے ۔ خدا ہی کے دیئے سے آدمی کو ملتا ہے ۔ خدا نہ دے تو کوئی شخص کچھ بھی نہیں پا سکتا ۔ یہ توحید اسلامی آفاقیت کی بنیاد ہے ۔
جب آدمی اس کامل توحید کو اختیار کر لیتا ہے تو اس کی نظر میں ساری بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہو جاتی ہے ۔ بقیہ تمام چیزیں اس کی نظر میں یکساں ہو جاتی ہیں ۔ انسانوں کے درمیان جو طرح طرح کے اونچ نیچ ہیں وہ اس کو مصنوعی نظر آنے لگتے ہیں ۔ انسانوں کے درمیان جو مختلف قسم کی دیواریں اٹھا دی گئی ہیں وہ سب ڈھ جاتی ہیں ۔ ذات اور رنگ اور نسل اور جغرافیہ اور اس قسم کی دوسری بنیا دوں پر ایک انسان اور دوسرے انسان میں جو فرق کیا گیا ہے وہ سب مٹ جاتا ہے ۔ ہر انسان بندہ بن جاتا ہے اور ایک خدا سب کا معبود ۔
توحید کا عقیدہ آدمی کے اندر یہی عالمی ذہن پیدا کرتا ہے ۔ جس خدا کی طرف ایک انسان
دوڑتا ہے اسی خدا کی طرف تمام انسان دوڑنے لگتے ہیں ۔ جس خدا کے سامنے ایک انسان اپنی بڑائی کو چھوڑتا ہے ۔ اسی کے سامنے تمام انسان اپنی بڑائی کو چھوڑنے والے بن جاتے ہیں ۔ توحید کے بغیر ہر انسان کی توجہ کا مرکز الگ ہوتا ہے ، توحید کے تحت ہر آدمی کی توجہ کا مرکز ایک ہو جاتا ہے ۔ یہ بلاشبہ سب سے بڑی آفاقیت ہے ، اس سے بڑی آفاقیت اس دنیا میں نہیں ہو سکتی ۔ عرب قوم ہزاروں سال سے عرب کے جغرافیہ میں آباد تھی ۔ مگر تاریخ میں اس کا کوئی کارنامہ لکھا نہ جا سکا ۔ اسلام سے پہلے عربوں کا حال یہ تھا کہ وہ شاعری کرتے تھے ۔ باتوں پر آپس میں لڑ جاتے تھے ۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ ان کے درمیان ایک لڑائی چھڑتی تو وہ نسل در نسل سیکڑوں سال تک جاری رہتی ۔
مگر یہی عرب تھے کہ جب اسلام کے زیرِ اثر ان کے اندر فکری انقلاب آیا تو انھوں نے ایک عالمی تہذیب کی بنیاد ڈالی ۔ وہ اپنے محدود جغرافیہ سے نکل کر سارے عالم میں پھیل گئے ۔ لوگ اس سے پہلے نا قابلِ ذکر سمجھے جاتے تھے انھوں نے تمام قابل ذکر علوم میں اپنے وقت کی سب سے بڑی ترقیاں کیں ۔ عربی زبان جو اس سے پہلے صرف ایک مقامی بولی کی حیثیت رکھتی تھی وہ ایک بین اقوامی زبان بن گئی ۔
اس کی وجہ اسلام کی آفاقیت اور عالمگیریت تھی ۔ اسلام نے ان کے بند ذہن کو کھول وہ نیچر کو پوجتے تھے ، اسلام نے بتایا کہ نیچر تو مخلوق ہے اور بے بس ہے ۔ پوجنے کے قابل تو صرف خدا کی ذات ہے جو تمہارا اور تمام دنیا کا مالک ہے ۔ اس سے ان کے اندر یہ ذہن پیدا ہوا کہ نیچر جھکنے کی چیز نہیں ہے بلکہ ایسی چیز ہے جس کی تحقیق اور تسخیر کی جائے ۔ کو عرب اور عجم ، کالے اور گورے ، آزاد اور غلام ، اونچی نسل اور نیچی نسل میں بانٹے ہوئے تھے ۔ اسلام نے ان پر کھولا کہ تمام انسان ایک آدم کی اولاد ہیں ، ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں ۔ اس سے ان کے اندر وہ عالمی اور آفاقی ذہن پیدا ہوا جس نے پوری دنیا کو اپنا وطن اور ساری انسانیت کو اپنا کنبہ سمجھ لیا ۔ اسلام سے پہلے وہ دنیا سے الگ تھلگ ہو رہے تھے ۔ اسلام کے بعد وہ ساری دنیا کے شریک اور ساتھی بن گئے ۔
اسلام سے پہلے عرب کے لوگ قبائلی دور میں جی رہے تھے ، اسلام کی بنیاد پر جب فکری انقلاب آیا تو اس نے ان کو ایک بین اقوامی گروہ بنا دیا ۔ اس سے پہلے ان کی نظر چھوٹے چھوٹے مقاصد تک محدود تھی ، اسلام کے بعد ان کی نگاہ میں اتنی وسعت پیدا ہوئی کہ وہ خشکی اور تری کو
پار کر کے ساری دنیا تک وسیع ہوگئی۔ اس کے بعد کوئی پہاڑ نہ رہا جو ان کی نظر کو روکے اور کوئی سمندر نہ رہا جو ان کے سفر میں حائل ہو۔
اسلام نے عربوں کے اندر جب آفاقیت پیدا کی تو ان کا یہ حال ہوا کہ قبیلہ کی سرداری پر فخر کرنے والے لوگ عالم کے امام بن گئے ۔ ان کے اندر ابن سینا اور الرازی جیسے ماہرینِ طب پیدا ہوئے جن کی طبی کتابوں کے یورپ کی زبان (لاطینی) میں ترجمے ہوئے اور یورپ کے میڈیکل کالجوں میں وہ بطور نصاب داخل کی گئیں۔ ان میں الادریسی جیسا جغرافیہ داں پیدا ہوا جس نے سسلی کے بادشاہ راجر دوم کے لیے سب سے پہلا دنیا کا نقشہ بنایا، ان میں ایسے ماہرینِ صنعت پیدا ہوئے کہ انگلینڈ کے بادشاہ اوفا رکس نے اپنے یہاں سونے کا سکہ ڈھالنے کے لیے بغداد سے سکہ گر بلائے۔
انھوں نے فنِ جہاز رانی میں اتنی ترقی کی کہ ان کے یہاں احمد بن ماجد جیسا شخص پیدا ہوا جس نے واسکوڈی گاما کی بحری رہنمائی کی جو پندرھویں صدی عیسوی کے آخر میں یورپ اور ہندوستان کے درمیان سمندری راستہ دریافت کرنے کے لیے نکلا تھا۔ ان کے یہاں ابو عبیدہ مسلم البلنسي جیسے زمینی علوم کے ماہر پیدا ہوئے جن کی تحقیقات کو پڑھ کر کولمبس کے اندر یہ خیال پیدا ہوا کہ یہاں کچھ اور بھی دنیائیں ہیں جن کو دریافت کرنا چاہیے۔ چنانچہ اسی شعور اور حوصلہ کے تحت وہ یورپ کے ساحل سے روانہ ہوا اور آخر کار نئی دنیا (امریکہ) کو دریافت کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام ایک کائناتی دین اور ایک آفاقی نظریہ ہے اور اسلام کی بنیاد پر بننے والی تاریخ اس کی تائید کرتی ہے۔ اسلام کی آفاقیت صرف نظریاتی چیز نہیں، وہ ایک ثابت شدہ تاریخی حقیقت ہے ۔
اسلام کے آفاقی اصولوں کا بہت اچھا اظہار اس واقعہ میں ہے جس کا تعلق ربعی بن عامر اور رستم (ایرانی سپہ دار) سے ہے۔ عرب جب قدیم ایران میں داخل ہوئے اور ایرانیوں کو ہر جگہ ان کے مقابلہ میں شکست کھانی پڑی ، تو رستم نے ربعی بن عامر کو اپنے دربار میں بلایا۔ وقت ایرانی افواج کا سپہ سالار تھا۔ رستم اپنے شاندار دربار میں سونے اور جواہرات کا تاج پہنے ہوئے عالی شان تخت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اور ربعی بن عامرؓ بالکل معمولی کپڑے اور معمولی حالت میں تھے۔ رستم نے پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں آئے ۔ ربعی بن عامرؓ نے جواب دیا :
الله ابتعثنا والله جاء بنا لنخرج من شاء من عبادة العباد الى عبادة الله ومن ضيق الدنيا الى سعتها ومن جور الاديان الى عدل الاسلام - اللہ نے ہم کو بھیجا ہے اور اللہ ہم کو یہاں لے آیا ہے تاکہ جس کے بارہ میں وہ چاہے اس کو بندوں کی بندگی سے نکال کر خدا کی بندگی میں داخل کریں اور دنیا کی تنگی سے نکال کر اس کو اس کی وسعت میں پہونچا دیں اور مذاہب کی زیادتیوں سے چھٹکارا دے کر اس کو اسلام کے عدل و انصاف میں لے آئیں ۔
ربعی بن عامر نے اپنے اس قول میں نہایت مختصر طور پر مگر نہایت فصاحت کے ساتھ اسلام کے آفاقی اصولوں کو بیان کر دیا ہے ۔
اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر جب ایک شخص کے اندر فکری انقلاب آتا ہے تو وہ مخلوقات سے گزر کر خالق کو پالیتا ہے ۔ وہ کائنات کے مالک کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے جو تمام تنگیوں اور محدودیتوں سے بلند ہے ۔ اس سے پہلے وہ بندوں کی سطح پر جی رہا تھا ، اب وہ خدا کی سطح پر جینے لگتا ہے جو تمام آفاق سے اوپر ہے ۔ اس سے پہلے اگر وہ ایک خول کے اندر تھا تو اب وہ خول کے باہر کی وسیع دنیا میں اپنے لیے زندگی کے مواقع پالیتا ہے ۔
عام حالت میں آدمی بندوں میں اٹکا ہوا ہوتا ہے ۔ وہ اپنے ہی جیسے انسانوں کی طرف متوجہ رہتا ہے ۔ وہ بس اپنے قدموں کے نیچے کی زمین کو جانتا ہے ۔ مگر جب وہ خدا کو پا تا ہے اور خدا کا عبادت گزار بنتا ہے تو وہ انسانوں سے اوپر اٹھ جاتا ہے ۔ انسانی دوستیاں اور دشمنیاں اس کی نظر میں حقیر بن جاتی ہیں ۔ وہ انسانی شکایتوں اور انسانی محبتوں سے گزر جاتا ہے ۔ اس کی روح لا محدود پنہائیوں میں سفر کرنے لگتی ہے جہاں چھوٹی چھوٹی چیزوں میں الجھنے کا کوئی سوال ہی نہیں ۔
خدا کو پانے سے پہلے آدمی دنیا کی محدودیتوں میں گم رہتا ہے ۔ خدا کو پانے کے بعد وہ دنیا کی محدودیتوں سے آگے نکل جاتا ہے ۔ وہ اپنی آرزوؤں اور اپنے حوصلوں کی تسکین کے لیے بلند تر سطح پالیتا ہے ۔ یہ وہ دنیا ہے جہاں کھونا بھی پانا بن جاتا ہے ۔ جہاں ناخوش گواریاں بھی خوش گواریوں میں ڈھل جاتی ہیں ۔ جہاں غم بھی اتنا ہی اہم بن جاتا ہے جتنا خوشی اور مسرت ۔
پھر اسلام آدمی کو انسانی موشگافیوں والے دین سے نکالتا ہے ۔ وہ آدمی کو جھوٹے رسم و رواج والے مصنوعی دین سے باہر لاتا ہے ۔ وہ اس کو سچے دین سے آشنا کرتا ہے جہاں ایک طرف انسان ہوتا ہے اور دوسری طرف خدا ۔ جہاں خدا اور بندے کے درمیان کوئی دوسری چیز حائل نہیں ، جہاں خدا سے ملنے کے لیے رسم و رواج کے بندھنوں میں اپنے کو باندھنے کی ضرورت نہیں ۔
خدا ہر آن اپنے بندوں تک پہونچا ہوا ہے ، اسی طرح خدا کے بندے بھی ہر آن خدا تک پہونچ سکتے ہیں ۔ خدا اور بندے کے درمیان کوئی رکاوٹ نہیں ، اس لیے خدا اور بندے کے ملاپ کے لیے کسی درمیانی واسطہ کی ضرورت بھی نہیں ۔ انسان جب اس ابدی دنیا میں پہونچتا ہے تو وہ خدا کو بھی عین اسی مقام پر پا لیتا ہے جہاں وہ خود کھڑا ہوا ہے ۔
اسلام توحید کا دین ہے ۔ اسلام میں خدا ایک ہے اور ساری خدائی بھی اسی ایک ذات کو حاصل ہے ۔ جو لوگ اس خالص توحید کو پالیں وہ ایسی لامحدود دنیا میں پہونچ جاتے ہیں جہاں آفاقیت ہی آفاقیت ہے ، اور جہاں ابدیت ہی ابدیت ۔