Al-Risala · December 1986

آزمودہ حل

Al-Risala, December 1986, pp. 17–20

By Maulana Wahiduddin Khan

میرے ایک قریبی عزیز ہیں وہ ہندوستان کے ایک شہر میں رہتے ہیں۔ وہاں انھوں نے ۲۴ کمروں کا ایک بڑا مکان بنایا۔ اس سے ملا ہوا ایک ہندو ٹھیکیدار کا بھی کافی بڑا مکان تھا۔ کے درمیان ایک خالی زمین تھی۔ اس زمین کے بارے میں دونوں کے درمیان نزاع پیدا ہوئی۔ میرے عزیز کہتے تھے کہ یہ ہماری زمین ہے اور ہندو ٹھیکیدار کا دعویٰ تھا کہ وہ ہماری زمین ہے۔ یہ نزاع جاری رہی یہاں تک کہ ہندو ٹھیکیدار نے اس معاملہ میں مقامی جن سنگھی عناصر ٹھیکیدار نے ان لوگوں کو بتایا کہ میری زمین پر ایک "مسلمان" نے قبضہ کر رکھا ہے۔ جن سنگھی افراد قدرتی طور پر بھڑک اٹھے۔ چنانچہ ایک روز ان کی پوری جماعت جلوس کی شکل میں آئی اور مذکورہ مسلمان کے مکان کو گھیر لیا۔ وہ جذبات میں بھرے ہوئے تھے اور اشتعال انگیز نعرے لگا رہے تھے۔

مذکورہ مسلمان عمارت کے اوپر کے حصہ میں اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے اور نیچے ان کا کاروباری دفتر تھا۔ وہ شور سن کر دفتر سے باہر آئے اور پوچھا کہ کیا معاملہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ معاملہ یہ ہے کہ تم نے ہمارے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ ان لوگوں نے اور بہت سی اشتعال دلانے والی باتیں کہیں۔ مگر مذکورہ مسلمان ذرا بھی غصہ نہیں ہوئے۔ کہا کہ آپ میں لیڈر کون کون ہیں۔ چند لوگ آگے بڑھے۔ انھوں نے ہجوم سے کہا کہ آپ لوگ یہیں سڑک پر ٹھہریئے ۔ ابھی زمین کا فیصلہ ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ لیڈر صاحبان کو اپنے دفتر میں لے آئے۔

یہ گرمی کا موسم تھا۔ پہلے انھوں نے لیڈر صاحبان کی کولڈ ڈرنک سے تواضع کی۔ بعد ان سے کہا کہ اب بتائیے آپ لوگوں نے کس لیے زحمت فرمائی ہے۔ انھوں نے دوبارہ کہا کہ آپ نے ہمارے ایک ہندو بھائی کی زمین پر قبضہ کر لیا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس زمین کو اصل

کہ زمین کس کی ہے اور کس کی نہیں ہے۔ ان لوگوں نے اصولی طور پر اس سے اتفاق کیا۔ جب مذکورہ مسلمان نے جن سنگھی لیڈروں سے یہ اقرار کرا لیا کہ زمین کا مسئلہ کاغذ کو دیکھ کر طے ہوتا ہے تو اس کے بعد انھوں نے کہا کہ اب میں اس مسئلہ میں خود آپ لوگوں کو جج بناتا ہوں۔ میرے پاس جو کاغذات ہیں وہ میں آپ کو دے رہا ہوں۔ ٹھیکیدار صاحب کے پاس جو کاغذات ہیں وہ آپ ان سے لے لیں۔ اور دونوں کو لے کر اطمینان کے ساتھ گھر جائیں۔ کاغذات کو دیکھ کر آپ خود فیصلہ دیدیں۔ اور میں پیشگی طور پر آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ آپ جو فیصلہ کریں گے وہ مجھ کو بلا شرط منظور ہوگا۔

اب جن سنگھی لیڈروں کا موڈ بدل گیا۔ ہندو ٹھیکیدار نے مذکورہ مسلمان کی جو تصویر بتائی تھی، عملی تجربہ میں انھوں نے ان کو اس سے بالکل مختلف پایا۔ جن سنگھی لیڈروں کی رہنما اب تک ہندو ٹھیکیدار کی غلط رپورٹ تھی، اب ان کا رہنما ان کا وہ ضمیر بن گیا جو خدا نے ان کے سینہ کے اندر پیدا کیا تھا۔ چنانچہ وہ کاغذات کو لے کر دفتر سے باہر آئے اور ہجوم سے کہا کہ آپ لوگ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ "میاں صاحب" نے فیصلہ خود ہمارے ہاتھ میں دیدیا ہے۔ ہم سوچ کر اس معاملہ کا فیصلہ کریں گے ۔ اس کے بعد جو ہوا وہ یہ کہ ان لوگوں نے کاغذات دیکھنے کے بعد مکمل طور پر مذکورہ مسلمان کے حق میں اپنا فیصلہ دیدیا۔ یہ واقعہ ۱۹۶۵ کا ہے اور اتر پردیش کے ایک شہر سے تعلق رکھتا ہے۔ اس واقعہ کے تمام اہم کردار آج بھی زندہ موجود ہیں۔ کوئی شخص تصدیق کرنا چاہے تو میں اس کا نام اور پتے دیدوں گا، وہ اصل مقام پر جاکر اس کی مکمل تصدیق حاصل کر سکتا ہے۔ حال میں بابری مسجد (ایودھیا)، اور عید گاہ (متھرا) وغیرہ کے مسائل پیدا ہوئے تو مجھ کو بار بار مذکورہ واقعہ یاد آتا رہا۔ خیال ہوا کہ کاش مسلمانوں کے لیڈر سنجیدہ اور حقیقت پسند ہوتے تو وہ اس طرح کے قومی مسائل میں بھی وہی تدبیر اختیار کرتے جو مذکورہ مسلمان نے اپنے ذاتی مسئلہ میں اختیار کی اور صد فی صد کامیابی حاصل کی۔ اگر ایسا کیا گیا ہوتا تو یقینی طور پر یہ مسائل نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ حل ہوجاتے ۔ اور آئندہ کے لیے اس قسم کے نئے مسائل پیدا ہونے کا دروازہ بھی بند ہو جاتا۔

مگر مسلمانوں کے نادان لیڈروں کا طریقہ یہ ہے کہ جب بھی اس طرح کا کوئی مسئلہ پیدا ہوتا ہے تو وہ فوراً اس کو جوابی ہنگامہ آرائی کا عنوان بنا لیتے ہیں ۔ پر جوش تقریریں کرنا اور سڑکوں پر جلوس اور نعروں کے مظاہرے کرنا ، یہی آخری بات ہے جو ان کی عقل انہیں بتاتی ہے ۔ یہ طریقِ کار ممکن ہے کہ لیڈروں کی اپنی لیڈری کے لیے مفید ہو ، مگر اصل مسئلہ کی نسبت سے وہ بر عکس نتیجہ پیدا کرنے والا (counter-productive) ہے۔ ایک مسئلہ جو ابتداً محض چند مفاد پرست افراد کا مسئلہ تھا ، مظاہراتی طریقِ کار اختیار کرنے کے بعد وہ قومی مسئلہ کی حیثیت اختیار کر لیتا ہے ۔ وہ دونوں گروہوں کے لیے ساکھ (prestige) کا مسئلہ بن جاتا ملک کے سیاسی حکمراں اگر کچھ کر سکتے تو وہ بھی اب کرنے سے رک جاتے ہیں ۔ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر انھوں نے کوئی انقلابی قدم اٹھایا تو اس کی انہیں یہ قیمت دینی پڑے گی کہ الیکشن کے موقع پر وہ اس فرقہ کے ووٹوں سے محروم ہو جائیں جس کے خلاف انھوں نے اپنا فیصلہ دیا ہے ۔

اس کے برعکس اگر مسلمان لیڈر یہ کہتے کہ وہ سنجیدگی اور خاموشی کے ساتھ اعلیٰ سطح کے لوگوں سے ملاقات کرتے اور ان کے سامنے یہ تجویز رکھتے کہ دونوں فرقوں کے باخبر اور قابلِ اعتماد افراد پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور وہ تاریخی حقائق کا بے لاگ جائزہ لے کر فیصلہ کرے ۔ نیز جرأت مندانہ طریقہ اختیار کر کے وہ مذکورہ مسلمان کی طرح یہ بھی کہہ دیتے کہ کمیٹی جو فیصلہ کرے گی اس کو ہم بلا شرط مان لیں گے ۔ مسلمان لیڈر اگر یہ طریقہ اختیار کرتے تو یقینی طور پر مسئلہ اب تک ختم ہو چکا ہوتا ۔

اس رائے کا درست ہونا اس واقعہ سے بھی ثابت ہے کہ متعدد ہندو صاحبان نے اس معاملہ میں کھل کر اپنی قوم کے فرقہ پرستوں کی تردید کی ہے ۔ اور اس موضوع پر نہایت منصفانہ مضامین لکھے ہیں ۔ یہ مضامین نئی دنیا (دہلی) تعمیر حیات (لکھنؤ) نقیب (پٹنہ) اور دعوت (دہلی) وغیرہ میں نقل ہوئے ہیں ۔ ان اخبارات کی ۱۹۸۶ کی مثال میں ان مضامین کو دیکھا جا سکتا ہے ۔ اگر ان مضامین سے سبق لیا جائے تو وہ راقم الحروف کی تجویز کی معنویت ثابت کرنے کے لیے بالکل کافی ہیں ۔

یہاں میں اس نوعیت کی صرف ایک مثال دینا چاہتا ہوں ۔ یہ ایک مفصل خط ہے جو نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (۲۱ اکتوبر ۱۹۸۶) میں چھپا ہے۔ اس خط کے نیچے ۱۲ آدمیوں کے نام درج ہیں۔ یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں اور ان میں سے ۱۱ افراد ہندو فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ خط نہایت منصفانہ ہے۔ وہ اگلے صفحہ پر اصل الفاظ میں پورا نقل کیا جاتا ہے ۔

اعلیٰ ترین سطح کے ان ہندو دانشوروں نے اپنے خط میں سخت تشویش کا اظہار کیا ہے کہ اخبار ٹائمز آف انڈیا اپنی خبروں اور اپنے ادارتی نوٹ کو فرقہ وارانہ رنگ دے رہا ہے ۔ اس کی ایک مثال متھرا کی عید گاہ کے بارہ میں اس کی رپورٹ ہے جس کو " اورنگ زیب کے بعد کرشنا کی جائے پیدائش " کے عنوان سے شائع کیا گیا ہے ۔

انھوں نے لکھا ہے کہ قدیم کیشو مندر کو راجہ بیر سنگھ دیوبندیلہ نے جہاں گیر کے زمانہ میں بنوایا تھا، اورنگ زیب نے اس مندر کو گرا کر عید گاہ تعمیر کرائی۔ گمان غالب یہ ہے کہ اس نے سیاسی بنیاد پر ایسا کیا۔ کیونکہ متھرا کے علاقہ میں بند یلہ اور جاٹ اس کے باغی ہو گئے تھے۔ اس سلسلہ میں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ بے شمار دوسرے مندروں کو اورنگ زیب نے بالکل نہیں چھوا، حتیٰ کہ کئی نئے مندر اسی کے زمانہ میں بنوائے گئے۔ اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ خود یہ کیشو مندر بدھ مذہب کے عبادت خانہ کو توڑ کر بنایا گیا تھا۔

ٹائمز آف انڈیا کی رپورٹ یہ تاثر دیتی ہے کہ یہ مقام کرشنا کی جنم بھومی ہے۔ اس وقت بہت عجیب معلوم ہوتی ہے جب اس حقیقت کو دھیان میں رکھا جائے کہ خود کرشنا کا وجود تاریخی طور پر مشتبہ ہے۔ یہی معاملہ ایودھیا کی رام جنم بھومی کا ہے۔ یہ بات جائزہ طلب ہے کہ کیا تاریخی طور پر یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ جگہ رام کی جائے پیدائش تھی ۔ یہ بات بھی دھیان میں رکھنے کی ہے کہ ۱۹ ویں صدی تک یہاں ہندو اور مسلم کی جو نزاع تھی وہ خود بابری مسجد کے بارہ میں نہ تھی بلکہ مسجد سے الگ ایک اور جگہ کے بارے میں تھی جس کو ہنو مان بیٹھک کہا جاتا تھا ۔

ہندوستان میں غیر رواداری کا مظاہرہ ہر مذہب کے ماننے والوں کی طرف سے ہوتا ر ہاہے

Printed page