Al-Risala · December 1986

سرکشی

Al-Risala, December 1986, p. 30

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک صاحب کو اپنے ایک مسلمان بھائی سے شکایت ہوگئی۔ اس کے بعد وہ انتقامی جوش میں سے بھر گیے۔ انھوں نے اس مسلمان کے خلاف ہر ممکن کارروائی کرنا شروع کر دیا ۔ دھوکا دینا، اس کو بدنام کرنا، اس کے خلاف جھوٹے مقدمے چلانا ، غرض کمینگی کی کوئی قسم نہ تھی جس کو انھوں نے اپنے لیے جائز نہ کر لیا ہو۔

مذکورہ بزرگ سے کہا گیا کہ آپ ایک مسلمان کے خلاف ایسی غلط کارروائیاں کیوں کر ر انھوں نے جواب دیا کہ جنگ میں سب کچھ جائز ہے۔ خود حدیث میں آیا ہے کہ الحرب خدعة (جنگ دھوکا ہے)

اس قسم کا قول غلطی پر سرکشی کا اضافہ ہے۔ یہ اپنی زبان سے ایسے الفاظ نکالنا ہے جو خدا کے غصب کو بھڑکانے والے ہیں۔ کیوں کہ الحرب خدعة ان لوگوں کے لیے ہے جو ظالموں کے خلاف دفاع پر مجبور کر دیئے گئے ہوں نہ کہ ان لوگوں کے لیے جو خدا کی زمین میں فساد برپا کریں ۔ جو کسی انسان کو ناحق ستانے کا منصوبہ بنائیں جو کسی کا حق غضب کر کے بیٹھ جائیں۔ جو خود ظالم ہوں نہ کہ مظلوم ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں کچھ لوگ مختلف قسم کی سرکشی کی باتیں کیا کرتے تھے۔ ایسے لوگوں کے بارہ میں قرآن میں فرمایا گیا :

سنکتب ما قالوا (آل عمران (۱۸۱) کلا سنکتب ما یقول (مریم (۷۹) ہر گز لیں ، ہم لکھ نہیں گے جو وہ کہتے ہیں۔ اور پھر قیامت کے دن ہم ان کو بتائیں گے ۔ جو لوگ سرکشی کی باتیں کرتے ہیں اور جو لوگ ان کی باتوں کو دل چسپی سے سنتے ہیں وہ اسی لیے ایسا کرتے ہیں کہ ان کے دل خدا کے خوف سے خالی ہیں ۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کا ہر لفظ خدائی رجسٹر میں ریکارڈ کیا جارہا ہے۔ ان کو یقین نہیں ہے کہ وہ اپنی ہر بات کے لیے آخرت کی عدالت میں جواب دہ ہوں گے۔ ایسے تمام لوگ جو حد سے تجاوز کریں اور حق کے مقابلہ میں سرکشی کا طریقہ اختیار کریں ان سے خدا کی کتاب ابدی طور پر یہ کہہ رہی ہے کہ خدا سے ڈرو، کیوں کہ خدا تمہارے ایک ایک لفظ کو لکھ رہاہے۔

Printed page