Al-Risala · December 1986

جو بولا وہ نہیں بولا، جو چپ رہا وہی بولا

Al-Risala, December 1986, pp. 33–41

By Maulana Wahiduddin Khan

پٹنہ کے ایک صاحب سے میں نے کہا کہ پٹنہ روایتی طور پر اہل علم کا شہر رہا ہے۔ نے کہا کہ " اہل علم کا نہیں بلکہ اہل شعر کا " اس میں شک نہیں کہ یہاں بہت سے شعرا پیدا اور یہاں مشاعرے ہوتے ہیں تو ان میں سامعین کی بھیڑ لگ جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سائنس کا دور ہے اور سائنس کے دور میں شاعری کرنا ایک قسم کی خلاف زمانہ حرکت (Anachronism) ہے۔ چنے کی دال پر نقل ہو اللہ لکھنا ایک آرٹ ہو سکتا ہے مگر اس کا عملی فائدہ کیا ہے ۔ اسی طرح ردیف و قافیہ کی زبان میں باتیں کہنے سے کچھ لوگ وقتی طور پر محظوظ ہو سکتے ہیں مگر کیا اس طرح کی شاعری سے یہ ممکن ہے کہ کوئی قوم دور جدید میں اپنی کھوئی ہوئی جگہ پالے۔

ایک صاحب نے کہا کہ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ اس ملک میں ہمارے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ سب سے بڑا فریب ہے جس میں اس ملک کے مسلمان مبتلا ہیں اور ہمارے تمام اصاغر و اکابر مسلسل یہی ذہن مسلمانوں میں پیدا کر رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ " تعصب " کہتے ہیں وہ دراصل زندگی کی ایک حقیقت میں نے ان سے کہا کہ فرض کیجئے کہ آپ کے دو بیٹے ہیں۔ ایک بیٹا عرب میں جاکر دس ہزار روپیہ مہینہ کما رہا ہے ، دوسرا بیٹا گھر پر پڑا ہوا ہے اور کوئی کام نہیں کرتا ۔ دونوں بیٹوں کا مقام گھر کے اندر یکساں ہو گا۔ انھوں نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا کہ گھر میں بے کار پڑا رہنے والا بیٹا اگر کہے کہ میرے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے ۔ تو کیا آپ اس کو انھوں نے کہا نہیں ۔ میں نے کہا کہ یہی معاملہ اس ملک میں مسلمانوں کا آپ دکان سے کار ہٹا کر اپنے ٹکے من کی قیمت ادا کر رہا ہے ۔ اسی طرح اس ملک کے

تعلق تعصب یا فرقہ واریت سے نہیں ۔

مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے شاعروں اور خطیبوں نے انہیں جھوٹے فخر میں مبتلا کیا۔ اس کے نتیجہ میں وہ زندگی کی حقیقتوں سے بے خبر ہو کر رہ گئے۔ کو حقیقت پسند بنا دیجئے اور اس کے بعد اس ملک میں ان کے لیے کوئی مسئلہ نہ ہوگا۔ ایم ٹی خان سے کسی صاحب نے کہا کہ ارسال والے تو صرف مرض کی نشاندہی کرتے ہیں ، وہ اس کا حل نہیں بتاتے ۔ اس سے کیا فائدہ ۔ ایم ٹی خان نے کہا کہ آپ سمجھے نہیں ایک شخص کی صحت خراب ہے ۔ وہ ڈاکٹر سے ملتا ہے ، ڈاکٹر اس کا جائزہ لے کر کہتا ہے کہ تم اینمک ہو۔ یہ صرف مرض بتانا نہیں ہے ، یہ علاج بھی ہے۔ کسی شخص سے یہ کہنا کہ تم اینمک ہو ، اس کا مطلب یہ ہے کہ تمہارے اندر ہیمو گلوبن کم ہے۔ اس لیے وہ چیزیں استعمال کرو جس سے ہیموگلوبن کی پیدا وار بڑھتی ہے۔ مریض اگر اتنا باشعور نہیں ہے تو اس کے لیے ڈاکٹر کا نسخہ بھی مفید نہیں ہو سکتا۔

انھوں نے کہا کہ ہر کام میں شروع شروع میں مشکل پیش آتی ہے ۔ مگر یہ ایک قسم کا دانت نکلنے کا درد (Teething trouble) ہے۔ دانت نکلنے کے وقت ہمیشہ تکلیف ہوتی ہے مگر یہ تکلیف وقتی ہوتی ہے۔ آپ اس کو برداشت کر لیں تو وقت گزرنے کے بعد وہ اپنے آپ ختم ہو جائے گی۔

ایک صاحب نے کہا کہ آپ باتیں تو بہت اچھی کہتے ہیں مگر کوئی عملی پروگرام پیش نہیں میں نے کہا کہ موجودہ حالت میں " عملی پروگرام پیش کرنا قوم کے ساتھ غداری کرنا اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ آدمی قوم کو بیوقوف بنا کر اس کے اوپر لیڈری حاصل کرنا میں خدا کے فضل سے ایسا کر سکتا ہوں کہ ایک خوش نما پرو گرام بنا کر لوگوں کے سامنے پیش کر دوں۔ لیکن موجودہ حالت میں میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ مجھے یہ پسند ہے کہ میں قبر میں دفن ہو جاؤں۔ مگر مجھے یہ پسند نہیں کہ ایک ایسی قوم کے سامنے " عملی پروگرام پیش کروں جس کے پاس بے شعوری کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ۔

میں نے کہا کہ عملی پروگرام اس وقت پیش کیا جاتا ہے جب کہ نظری پر وگرام قابل لحاظ

حد تک کامیابی کے درجہ کو پہنچ چکا ہو۔ جب قوم فکر و شعور کے اعتبار سے ضروری حد تک تیار ہو چکی ہوتی ہے ، اسی وقت اس کو عملی پروگرام دیا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے سارا زور صرف تعمیر شعور پر صرف کیا جانا چاہیے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس وقت ہم سب سے زیادہ زور اس پر دیتے ہیں کہ الرسالہ کی اشاعت بڑھائی جائے ۔ اس کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہونچایا جائے ۔ الرسالہ تعمیر شعور کی مہم ہے اور یہی اس وقت ہمارا سب سے بڑا پروگرام ہے ۔

میں ایک صاحب کے مکان پر بیٹھا ہوا تھا ۔ سامنے کی سڑک پر ایک گائے والا گائے لے کر نکلا ۔ میں نے کہا کہ اس گائے کو دیکھیے ۔ یہ خدا کا ایک زندہ کار خانہ ہے ۔ خدا نے اس کو دودھ دینے کے لیے بنایا ہے ۔ مگر وہ دودھ کیسے دیتی ہے ۔ وہ گھاس کو دودھ میں کنورٹ (تبدیل) کرتی ہے ، تبھی وہ دودھ دینے والی بنتی ہے ۔ خدا کو ایسی گائے مطلوب نہیں ہے جو دودھ پی کر دودھ دے ۔ بلکہ اس کو ایسی گائے مطلوب ہے جو غیر دودھ کھائے اور پھر اس کو تبدیل کر کے دودھ کی شکل میں باہر لائے ۔ میں نے کہا کہ گائے کی یہ ساخت خود خدا کی بنائی ہوئی ہے ۔ اس طرح "گائے" گویا خدا کی پسند کا ایک مظاہرہ ہے ۔ وہ عمل کی زبان میں انسانوں سے کہہ رہی ہے کہ تم بھی ایسے ہی بنو ۔ تمہارے کان میں برے الفاظ داخل ہوں مگر وہ تمہاری زبان سے اچھے الفاظ بن کر نکلیں ۔ لوگ تمہیں ستائیں مگر تمہارے دل سے ان کے لیے دعائیں نکلیں ۔ تمہارے ساتھ برا سلوک کریں مگر تم سے انھیں اچھے سلوک کا تجربہ ہو ۔ پھر اسی سے معلوم ہوتا ہے کہ قومی تعمیر کے معاملہ میں مسلمانوں کا طریقہ کیا ہونا چاہیے انھیں خدا کی دنیا میں زندہ رہنے کے لیے یہ ثبوت دینا ہو گا کہ وہ "گھاس" کو "دودھ" میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔ وہ مشکل کو اپنے لیے آسان بنا سکتے ہیں ۔ وہ کم تر ذرائع سے ایک برتر دنیا کی تعمیر کر سکتے ہیں ۔

اس واقعہ کے بعد میں نے سوچا کہ یہی وہ چیز ہے جس کو تزکیہ (یا اسلامی تربیت) کہا جاتا ہے ۔ یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا ۔ چنانچہ ایک صحابی کہتے ہیں کہ

ایک چڑیا بھی فضا میں پر نہیں پھڑپھڑاتی تھی کہ اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو کسی علم کی یاد دہانی کرتے تھے (ما من طائر يقلب جناحيه فى الهواء الا وهو يذكر

بعد کے زمانہ میں "سلوک" کے نام سے جو مشقی کورس بنائے گئے وہ سراسر بدعت اس قسم کے مشقی کورسوں سے کبھی وہ افراد تیار نہیں ہو سکتے جو اسلام میں مطلوب ہیں۔ مسلمانوں کا ایک عجیب مزاج یہ ہے کہ جب حقیقت ان سے کھوئی گئی ہو تو وہ الفاظ کے گلدستے بنا لیتے ہیں اور ان کو بول کر خوش رہتے ہیں۔ پٹنہ کے مسلمان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ انھوں نے بطور خود پٹنہ کا ایک اور نام اختیار کر رکھا ہے جو ان کی خواہشات کے مطابق ہے ۔ یہ نام ہے ـــــــــ عظیم آباد ۔ پٹنہ کو پر فخر طور پر عظیم آباد کہتے ہیں ۔ اسی طرح دہلی کے مسلمان دہلی کو شاہ جہاں آباد اور کشمیر کے مسلمان اننت ناگ کو اسلام آباد کا نام دیئے ہوئے ہیں ۔ یہ خوش قسمتی کی عجیب و غریب قسم ہے جو مسلمانوں کے حصہ میں آئی ہے ۔ جو چیز انھیں عملی طور پر حاصل نہ ہو، اس کو وہ ایک دل پسند لفظ بول کر خیالی طور پر حاصل کر لیتے ہیں ۔

پٹنہ بہار کی راجدھانی ہے ۔ مگر سڑکوں پر جگہ جگہ گندگی اس طرح نظر آئی جیسے یہاں کے منتظمین کو صفائی کا کوئی شعور ہی نہیں ۔ مگر جب میں " وی آئی پی ایریا " سے گزرا تو میری غلط فہمی ختم ہو گئی ۔ وزیروں اور بڑے بڑے عہدیداروں کے رہائشی علاقہ میں صفائی ستھرائی کا پورا اہتمام نظر آیا ۔ گویا یہاں کے منتظمین کے اندر صفائی کا شعور ہے مگر وہ صرف اپنے لیے ہے نہ کہ شہر کے لیے ـــــــــ آج ملک کی سب سے بڑی کمی یہی ہے کہ یہاں ذاتی غرض کو برتر حیثیت حاصل ہے نہ کہ اصول کو ۔

یہاں آٹھ ماہ پہلے مسلمانوں کا ایک جلوس نکلا تھا ۔ اس میں فائرنگ ہوئی اور کئی لوگ زخمی ہوئے تھے ۔ انھیں میں ایک مسلم نوجوان تھے جن کے پاؤں میں گولی لگی اور وہ پچھلے آٹھ مہینے سے اسپتال میں ہیں ۔ اور ابھی غالباً مزید آٹھ ماہ تک انھیں اسپتال میں رہنا ہوگا ۔ ان کو دیکھنے کے لیے میں اسپتال گیا ۔ ان کے پاؤں میں پلاسٹر بندھا ہوا

تھا اور وہ بستر پر لیٹے ہوئے تھے ۔ ان دیکھ کر دل سے دعائیں نکلیں ۔ آخر میں میں نے انھیں ایک جملہ لکھ کر دیا جو یہ تھا :

زندگی اس سے زیادہ قیمتی ہے کہ اس کو مقصد اعلیٰ سے کم تر کسی چیز میں استعمال کیا جائے ۔

۱۳ جولائی کو دن میں ۱ بجے مدرسہ شمس الہدی (قائم شده ۱۹۱۲) کے ہال میں یہاں بھی ہال پوری طرح بھرا ہوا تھا۔ بڑی تعداد میں لوگ کھڑے ہوئے تھے۔ تقریر کا موضوع تھا : دورِ جدید میں مسلمانوں کا پچھڑاپن اور اس کا حل ۔ انہماک کے ساتھ آخر تک تقریر سنتے رہے ۔ شہر کے معززین کی بھی بڑی تعداد ڈائس پر موجود تھی ۔

تقریر کے بعد مختلف لوگوں کے تاثرات معلوم ہوئے ۔ لوگ غیر معمولی طور پر متاثر ہوئے اور تقاضا کیا کہ مزید قیام کریں یا دوبارہ پٹنہ کا پروگرام بنائیں ۔ پچھلے ایک سال کے اندر مجھے ہندوستان کے کئی شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا ہے ۔ ان سفروں میں جو اجتماعات ہوئے اور جتنی کثرت سے لوگ ”الرسالہ کی آواز سننے کے لیے جمع ہوئے ، اس کے بعد میری قطعی رائے یہ ہو چکی ہے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا ذہین طبقہ اب سب سے زیادہ الرسالہ کی تحریک کا مطالعہ کر رہا ہے ۔ ہر شہر میں ذہین اور تعلیم یافتہ لوگوں کی تعداد جس کثرت سے جمع ہوئی اس کے بارہ میں عام تاثر یہ تھا کہ کسی بھی دوسری آواز کو سننے کے لیے تعلیم یافتہ طبقہ اتنی بڑی تعداد میں جمع نہیں ہوتا ۔ شخص ایک جذباتی اشتعال اٹھا کر عوام کی بھیڑ جمع کر سکتا ہے ۔ مگر سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ جتنی بڑی تعداد میں الرسالہ کی آواز کو سننے کے لیے جمع ہو رہا ہے ملک میں کوئی بھی دوسری آواز نہیں ہے جو سنجیدہ اور تعلیم یافتہ طبقہ کو اتنی بڑی تعداد میں جمع کر سکے ۔ دہلی اور پٹنہ کے درمیان تقریبا ایک ہزار کلومیٹر کی دوری ہے ۔ سے یہ دوری صرف ڈیڑھ گھنٹہ میں پوری ہو جاتی ہے ۔ میں ۱۲ جولائی کی صبح کو دہلی سے پٹنہ گیا اور وہاں کئی پروگرام میں شرکت کر کے ۱۳ جولائی کی شام کو دوبارہ دہلی

واپس آگیا ۔ جب میں دہلی کے ہوائی اڈہ پر اترا تو میرا دل خدا کے احسان کے جذبہ سے سرشار میں نے سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ کیسی عجیب نعمت ہے کہ اس نے دور دراز سفروں کو اتنا آسان بنا دیا ہے ۔

۱۵۷۳ء میں شہنشاہ اکبر فتح پور سے گجرات گیا تھا۔ یہ سفر ایک جنگی مہم کے تحت تھا اور اس کے لیے شاہانہ سطح پر غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے۔ تب بھی شہنشاہ اکبر کو اس سفر کے طے کرنے میں گیارہ دن لگ گئے۔ وہ روزانہ پچاس میل کا سفر طے کرتا تھا۔ مورخین اس تیز رفتار سفر کا ذکر نہایت حیرت کے ساتھ کرتے ہیں۔ کون جانتا تھا کہ چار سو سال بعد وہ وقت آنے والا ہے کہ اس سے زیادہ لمبے سفر اس سے زیادہ کم وقت میں انجام دیے جا سکیں گے ۔

واپسی میں ہوائی جہاز معمول کے مطابق اڑ رہا تھا کہ اچانک اعلان ہوا : Please fasten your seat belt. آپ اپنی کرسی کی پیٹی باندھ لیں ۔ چند منٹ بعد جہاز تیزی سے نیچے اور اوپر ہونے لگا۔ ہوا کہ اپ ڈرافٹ ، ڈاؤن ڈرافٹ (Updraft and downdraft) کا علاقہ آگیا ہے۔ ہوائی جہاز کے تربیت یافتہ عملہ کے لیے اس قسم کا تجربہ زیادہ پریشان کن نہیں ہوتا مگر ایک عام مسافر کے لیے یہ صورت حال سخت گھبرا دینے والی ثابت ہوتی ہے۔ ہے کہ شاید اب ہوائی جہاز زمین پر گر کر تباہ ہونے والا ہے اور اسی کے ساتھ اس کے تمام مسافر بھی ۔

میں نے سوچا کہ ہوائی جہاز میں نیچے اوپر اپ ڈرافٹ، ڈاؤن ڈرافٹ ) کی کیفیت ہو تو لوگ ڈر جاتے ہیں کہ شاید ان کا آخری وقت آگیا۔ لیکن غور کیجیے تو آدمی کا اپنا معاملہ بھی یہی ہے ۔ ہر لمحہ آدمی کی ایک سانس اندر جاتی ہے اور ایک سانس باہر جب آدمی کی ایک سانس اندر جاتی ہے تو یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ پھر باہر آئے اسی طرح جب اس کی ایک سانس باہر آتی ہے تو یہ یقینی نہیں ہوتا کہ وہ دوبارہ اندر ایسی حالت میں آدمی ہر آن اسی صورت حال سے دوچار ہے جس سے ہوائی جہاز

کالمسافر کبھی دوچار ہوتا ہے ۔ اگر آدمی کا شعور زندہ ہو تو ہر لمحہ اس کو محسوس ہوگا کہ وہ اپ ڈرافٹ ، ڈاؤن ڈرافٹ کی کیفیت میں مبتلا ہے ۔ مگر بہت کم لوگ ہیں جو ہوائی جہاز کے نیچے اوپر ہونے کے واقعہ میں خود اپنے نیچے اوپر ہونے کے واقعہ کو دیکھ لیں۔ اس سفر میں بہت سے لوگوں کے سوالات سامنے آئے اور حسب موقع میں نے ان کا جواب دیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ کیا وجہ ہے کہ بہت سے لوگ آپ کی اور الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ نے کہا کہ یہ نہ دیکھئے کہ لوگ مخالفت کرتے ہیں ، بلکہ یہ دیکھئے کہ جو لوگ مخالفت کر رہے ہیں ان کی مخالفت کی بنیاد کیا ہے ۔ آپ جانتے ہیں کہ تمام پیغمبر بلاشبہ حق پر تھے ۔ اس کے باوجود ان پیغمبروں کی سب سے زیادہ مخالفت کی گئی۔ حتیٰ کہ ان پر رکیک قسم کے اخلاقی الزام لگائے گئے ۔ اس کی تفصیل آج بھی پچھلے انبیاء کے بارے میں بائبل میں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں تفسیر کی کتابوں میں موجود ہے ۔

پھر میں نے کہا کہ مخالفت کی دو قسمیں ہیں۔ ایک ہے بینہ (واضح دلیل) کی بنیاد پر کسی کی اور دوسری چیز ہے کسی کے خلاف عیب جوئی اور الزام تراشی کرنا۔ کی دعوت توحید کی دعوت تھی ۔ اب پیغمبر کو بینہ کی بنیاد پر رد کرنے کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی شخص توحید کے نظریہ کو دلائل کے ذریعہ غلط ثابت کرتا ۔ مگر پیغمبر کے مخالفین نے ایسا نہیں کیا۔ برعکس وہ پیغمبر کی ذات میں جھوٹے عیب نکال کر اس کو بدنام کرتے رہے ۔ اول الذکر قسم کی مخالفت یا تنقید کا حق ہر شخص کو ہے۔ مگر ثانی الذکر قسم کی مخالفت یا تنقید کا حق کسی کو نہیں ۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : وقال الذين كفروا لا تسمعوا لهذا القرآن والغوا فيه لعلكم تغلبون (۴۱: اس آیت میں والغوافیہ کی تفسیر حضرت عبداللہ بن عباس نے عیَّبُوہ کے لفظ سے کی ہے ۔ یعنی اس پر عیب لگاؤ (تفسیر ابن کثیر)، اس تشریح کے مطابق آیت کا مطلب یہ ہے کہ اہل کفر نے قرآن کی دعوت کو مغلوب کرنے کے لیے یہ طریقہ اختیار کیا تھا کہ وہ قرآن پر اور صاحبِ قرآن (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) پر عیب لگاتے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ عیب جوئی کا طریقہ اہل کفر کا طریقہ ہے ، یہ مومن کا طریقہ نہیں ۔

اب آپ ہمارے مخالفین کو دیکھئے تو سب کے سب بلا استثناء وہی کام کر رہے ہیں جس کو

مذکورہ آیت میں اہل کفر کی روش بتایا گیا ہے۔ ان میں سے کوئی ایک شخص نہیں جو بینہ کی بنیاد پر ہماری تنقید کرے ۔ یعنی وہ الرسالہ یا مطبوعات الرسالہ میں چھپے ہوئے افکار کو ہمارے اپنے الفاظ میں لے اور شرعی یا عقلی دلائل سے اس کو رد کرے ۔ ہر ایک صرف یہ کر رہا ہے کہ وہ ہمارے خلاف جھوٹی کہانیاں پھیلا رہا ہے۔ وہ غیر ثابت شدہ باتوں کی بنیاد پر ہمارے خلاف الزام تراشی کی مہم چلانے میں مصروف ہے ۔ یہ مخالفین بظاہر الرسالہ کی مخالفت کرتے ہیں ۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتے کہ وہ الرسالہ کے صفحات سے ہمارے ثابت شدہ افکار کو لیں اور پھر دلائل اور براہین کی بنیاد پر ان افکار کو غلط ثابت کریں۔ اس کے برعکس وہ سنی سنائی اور بلا تحقیق باتوں کو لے کر ان کے ذریعہ ہم کو بدنام کرنے کی مہم چلا رہے ہیں ۔ یہ تنقید نہیں بلکہ قرآن کے مطابق یہ تعییب ہے۔ اور تعییب کی مہم چلانے والا خود اپنے آپ کو غلط ثابت کرتا ہے نہ کہ کسی دوسرے شخص کو۔ " ہمارے افکار کو ہمارے الفاظ میں لینے " کا لفظ میں نے بالقصد استعمال کیا ہے۔ کیوں کہ بعض لوگ بظاہر الرسالہ کا حوالہ دیتے ہیں مگر وہ بھی خود اپنے گھڑے ہوئے الفاظ کو ہماری طرف منسوب کر کے ہمیں بدنام کرتے ہیں۔ مثلاً کچھ لوگ کہتے ہیں کہ " الرسالہ مسلمانوں کو بزدلی کا سبق دیتا ہے " یہ کہنے والے کے اپنے الفاظ ہیں، وہ ہمارے الفاظ نہیں۔ ان کو کہنا چاہیے کہ الرسالہ موجودہ حالات میں مسلمانوں کو صبر اور اعراض کا سبق دے رہا ہے ، نہ کہ الرسالہ بزدلی کا سبق دے رہا ہے یہ مخالفین کے اپنے جھوٹے الفاظ ہیں جو انھوں نے بطور خود گھڑلیے ہیں ، وہ ہمارے لکھے یا بولے ہوئے الفاظ نہیں۔ ایسے لوگوں کو جاننا چاہیے کہ خدا نے کسی کو یہ لائسنس نہیں دیا ہے کہ وہ اپنے گھڑے ہوئے الفاظ کو کسی کے اوپر چسپاں کرے اور اس کی بنیاد پر سمجھ لے کہ وہ شخص غلط ثابت ہو گیا ۔

پٹنہ کا سفر ادارہ ترقی کا من سنس (Institute for Developing Common Sense) کی دعوت پر ہوا تھا۔ یہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی ایک تنظیم ہے جس میں مسلم اور غیر مسلم دونوں شامل ہیں ۔

سادہ طور پر کامن سنس سے مراد وہ عام فہم باتیں ہیں جو ہر آدمی جانتا ہے اور بلا اختلاف ان کو مانتا ہے۔ مثلاً یہ کہ اس دنیا میں میں اکیلا نہیں ہوں، یہاں میرے سوا اور

بھی بہت سے انسان ہیں۔ یہ ایک بے حد قدیم تصور ہے۔ تاہم 18 ویں اور 19 ویں صدی میں وہ فلسفیانہ غور و بحث کا موضوع بن گیا۔ بعض مفکرین (مثلاً برٹرینڈ رسل) نے کامن سنس کی موجودگی کا انکار کیا۔ کچھ دوسرے علماء (مثلاً ٹامس ریڈ، جی ای مور) نے اس کو تسلیم کرتے ہوئے اس کو ایک منظم فلسفہ کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلہ میں جی ای مور کی کتاب عقل عام کا دفاع (Defence of Common Sense) نے بہت مقبولیت حاصل کی۔ یہ کتاب پہلی بار 1925 میں شائع ہوئی ۔

تاہم پٹنہ کی مذکورہ تحریک (کامن سنس) کا تعلق اس قسم کی فلسفیانہ تحریکوں سے نہیں ہے۔ وہ سادہ طور پر انسانی فطرت کو جگانے اور عوام کے اندر تعمیری شعور پیدا کرنے کی تحریک اس تحریک کے سیکریٹری مسٹر ایم ٹی خان ہیں۔ سفر سے واپسی کے بعد موصوف کا ایک مفصل خط ہمیں موصول ہوا ہے۔ اس خط کے بعض اجزاء یہاں نقل کیے جاتے ہیں :

Printed page