انسانی صفات
Al-Risala, December 1986, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
حضرت اسماعیل نے اپنی نسل کو ابراہیمی دین دیا تھا جو عرصہ تک غیر محرف شکل میں اور بعد کو محرف شکل میں ان کے درمیان قائم رہا۔ چند سو سال بعد پڑوسی ممالک عراق اور شام کے اثر سے بت پرستی عرب میں داخل ہوئی۔ عربوں کی آبادی بڑھی تو ان کے افراد تجارت کی غرض سے باہر جانا شروع ہوئے ۔ انھیں تجارتی سفروں کے ذریعہ وہ متمدن دنیا کی بت پرستی سے واقف مورخین نے اعتراف کیا ہے کہ عرب کی بت پرستی در اصل شام کی دین ہے۔ کہا جاتا ہے کہ پہلا شخص جس نے عرب میں بت کو درآمد کیا وہ ایک تاجر عمروبن لحی الخزاعی تھا۔ تجارتی سفر سے واپس ہوتے ہوئے وہ ایک بت بھی اپنے ساتھ لایا اور عربوں میں اس کو رواج دینے کی کوشش کی۔ تاہم بت پرستی عرب کی زندگی کا صرف ایک جزئی حصہ تھی۔ زندگی میں کبھی اس طرح سرایت نہ کرسکی جس طرح وہ عراق و شام اور مصر وغیرہ میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ چنانچہ وہاں کثرت سے ایسے لوگ پائے جاتے تھے جو اپنے آپ کو حنیف کہتے تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جو بتوں سے بیزار تھے۔ بہت سے لوگ یہ کہتے ہوئے مرگیے کہ ــــــــ خدایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ تیری عبادت کس طرح کی جانی چاہیے تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا۔ ڈھائی ہزار سال کے توالد و تناسل کے ذریعہ عرب کے جغرافیہ میں جو قوم تیار ہوئی وہ انسانی اوصاف کے اعتبار سے دنیا کی بہترین قوم تھی ۔ عرب کا جغرافیہ اور تہذیب و تمدن سے دوری کا قدرتی نتیجہ تھا کہ ان کی فطرت پوری طرح محفوظ تھی ۔ وہ تکلف کے بجائے سادگی کو پسند کرتے تھے۔ وہ انتہائی حقیقت پسند لوگ تھے ۔ ان کے یہاں قول و فعل کا تضاد نہ تھا۔ وہ جو کہتے تھے وہی کرتے تھے اور جو کرتے تھے وہی کہتے تھے۔ وہ چیزوں کو جو ہر کی بنیاد پر دیکھتے تھے اور جس چیز کو حق سمجھ لیں اس کی خاطر سب کچھ قربان کر دینے کے لیے تیار رہتے ۔ ناحق کے آگے کبھی نہیں جھکتے تھے۔ مگر جس چیز کو حق سمجھ لیں اس کو ماننے میں بھی انھیں کوئی تامل نہ وہ کبھی جھوٹ نہیں بولتے تھے۔ کسی کے اوپر جھوٹا الزام نہیں لگاتے تھے۔ ان صفات کو قدیم عرب کے لوگ المروة (مردانہ پن) کہتے تھے اور یہ المروة ان کے اندر کمال درجہ میں موجود تھا۔