Starve the problems, feed the opportunities.
Al-Risala, February 1986, p. 11
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ ایک بہت بامعنی بات ہے۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ یہی موجودہ دنیا میں کامیابی کا سب سے بڑا جو شخص اس گہری حکمت کو جانے اور اس کو استعمال کرے وہی اس دنیا میں کامیاب ہوتا ہے جو شخص اس حکمت کو نہ جانے اور اس کو استعمال نہ کر سکے اس کے لیے ناکامی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں ۔
اصل یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں آدمی ہمیشہ دو قسم کی چیزوں کے درمیان رہتا ہے۔ اور دوسرے مواقع ۔ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ آدمی کچھ مسائل سے گھرا ہوا ہوتا ہے۔ اسی کے ساتھ ہمیشہ یہ بھی ہوتا ہے کہ آدمی کے قریبی ماحول میں کچھ قیمتی مواقع موجود ہوتے ہیں جن کو بھر پور استعمال کر کے وہ کامیابی کی منزل تک پہنچ سکتا ہے۔ یہ صورتِ حال ایک فرد کے ساتھ بھی پیش آتی ہے اور ایک پوری قوم کے ساتھ بھی ۔
یہی وہ مقام ہے جہاں موجودہ دنیا لوگوں کا امتحان لے رہی ہے۔ جو شخص صرف اپنے مسائل کو دیکھے اور اس میں الجھ جائے وہ اپنے مواقع کو کھو دے گا۔ اس کے برعکس جو شخص مواقع کو دیکھے اور ان کو بھر پور استعمال کرے وہ مسائل میں زیادہ توجہ نہ دے سکے گا۔ مسائل کو کھلانا " مواقع کو بھوکا" رکھنے کی قیمت پر ہوتا ہے۔ اسی طرح جو شخص مواقع کو کھلائے وہ اس قیمت پر ہوگا کہ اس کے مسائل بھوکے رہ جائیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ مواقع کو استعمال کرنے کے لیے ہمیشہ مسائل کو نظر انداز کرنا پڑتا ہے ۔
تجربہ بتاتا ہے کہ مسائل میں الجھنا کبھی کسی کے لیے مفید نہیں ہوتا۔ آخری نتیجہ کے طور پر وہ صرف وقت کو ضائع کرنے کے ہم معنی ہے۔ مگر جو شخص اپنے آپ کو مواقع کے استعمال میں لگاتا ہے وہ نہ صرف مواقع کا فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ اس کی کامیابی بالواسطہ طور پر اس چیز کو بھی حل کر دیتی ہے جس کو مسائل کہتے ہیں ۔