Al-Risala · February 1986

قرآنی طریقہ

Al-Risala, February 1986, pp. 21–23

By Maulana Wahiduddin Khan

یا ایھا الذین امنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا اے ایمان والو! اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی الرسول و اولی الامر منکم فان تنازعمتم اطاعت کرو اور اپنے میں سے اہل امر کی اطاعت فی شی ء فردوہ الی اللہ والرسول ان کرو۔ پھر اگر کسی چیز کے بارہ میں تمہارے درمیان كنتم تومنون بالله والیوم الآخر ذالك اختلاف ہو جائے تو اس کو اللہ اور رسول کی طرف خير و احسن تاویلا۔ الم تر الى الذين لوٹاؤ۔ اگر تم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان يزعمون انھم آمنوا بما انزل اليك و رکھتے ہو ۔ یہ بہتر ہے اور انجام کے لحاظ سے اچھا ہے ما انزل من قبلک يريدون ان يتحاكموا کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ رکھتے الى الطاغوت وقد امروا ان يكفروا ہیں کہ وہ اس کتاب پر ایمان لائے ہیں جو تمہارے به ويريد الشيطان ان يضلهم اوپر اتری ہے اور اس پر بھی جو تم سے پہلے اتاری ضلالاً بعیدا (النار، ۶۰-۶۱) گئی ، وہ چاہتے ہیں کہ اپنا مقدمہ طاغوت کے پاس حالاں کہ انہیں حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں۔ اور شیطان چاہتا ہے کہ وہ انہیں بھٹکا کر بہت دور کر دے۔

قرآن کی اس آیت کا ایک خاص پس منظر ہے جو تاریخ سے اور شان نزول کی روایات سے معلوم ہم اس کو یہاں مختصراً بیان کریں گے ۔

یہ آیت اسلامی تاریخ کے اس دور میں اتری جس کو مدنی دور کہا جاتا ہے ۔ مدینہ کے ابتدائی دور میں اسلام کا مکمل اقتدار قائم نہ تھا۔ اس زمانہ میں ایک طرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات تھی جس کے پاس لوگ اپنے باہمی جھگڑوں کے فیصلے کے لیے آتے تھے۔ اسی کے ساتھ سابقہ روایت کے مطابق یہودی سرداروں کی گدیاں بھی اب تک قائم تھیں ۔ جو لوگ چاہتے وہ اپنے جھگڑے ان کے پاس لے جاتے اور ان سے اپنے معاملہ میں فیصلہ لیتے۔ گویا وہاں تقریباً وہی صورتِ حال موجود تھی جس کا ایک نقشہ موجودہ ہندوستان میں نظر آتا ہے ۔ ہندوستان میں ایک طرف اسلامی اداروں کے دار الافتاء

میں جن سے مسلمان اپنے قضیوں کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہاں غیر مسلم عدالتیں ہیں جوان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرتی ہیں جو ان کے یہاں جائیں اور ان سے اپنے مقدمہ کا فیصلہ چاہیں ۔ سورہ نساء کی مذکورہ آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے اس کے سلسلہ میں تفسیر کی کتابوں میں مختلف قصے نقل کیے گئے ہیں۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس نوعیت کے متعدد واقعات مدینہ میں پیش اس کے بعد قرآن میں یہ آیت اتری ۔ ان میں سے ایک واقعہ کا ہم یہاں ذکر کرتے ہیں ۔ قدیم مدینہ میں بنو قریظہ اور بنو نضیر دو یہودی قبیلے تھے ۔ بنو قریظہ نسبتاً کمزور قبیلہ تھا۔ کے مقابلہ میں بنو نضیر کو مال اور تعداد کے اعتبار سے زیادہ بڑی حیثیت حاصل تھی ۔ بنو نضیر نے اپنی برتر حیثیت سے فائدہ اٹھا کر یہ اصول مقرر کر لیا کہ اگر بنو قریظہ کا ایک آدمی بنو نضیر کے ایک آدمی کو قتل کرے تو قاتل کو قتل کیا جائے گا ، یا وہ دیت کے طور پر ایک سو وسق کھجور ادا کرے گا ۔ اس کے برعکس اگر بنو نضیر کا ایک آدمی بنو قریظہ کے آدمی کو قتل کرے تو قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کو صرف دیت دینا ہو گا ، اور دیت بھی 40 وسق کھجور ہوگی ۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ آئے تو دونوں یہودی قبیلوں کے کچھ افراد مسلمان ہو گئے ۔ ان نومسلموں میں یہ واقعہ ہوا کہ بنو نضیر سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان نے بنو قریظہ سے تعلق رکھنے والے ایک مسلمان کو قتل کر دیا ۔ اس کے بعد دونوں طرف کے لوگوں میں جھگڑا ہوا ۔ بنو نضیر اور اس کے حلیف قبیلہ اوس ) نے بنو قریظہ سے کہا کہ ہمارے اور تمہارے درمیان پہلے سے طے ہے کہ ہمارا قاتل قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کو صرف 40 وسق کھجور بطور دیت دینا ہوگا ۔ اس کے مطابق ہم تم کو 40 وسق کھجور دینے کے لیے تیار ہیں ۔ بنو قریظہ ( اور ان کے حلیف قبیلہ خزرج ) نے کہا کہ یہ وہ چیز ہے جو جاہلیت کے زمانہ میں رائج تھی ۔ تم نے اپنی طاقت کے زور پر اس غیر منصفانہ اصول کو ہم سے منوا لیا تھا ۔ مگر اب ہمارے درمیان اسلام آچکا ہے اور اسلام میں مساوات کا اصول ہے ۔ یہاں ایک انسان اور دوسرے انسان میں کوئی فرق نہیں ۔ اس لیے اب مساوی بنیاد پر فیصلہ ہوگا ۔

جھگڑا بڑھا تو بنو قریظہ نے کہا کہ رسول اللہ کے پاس چلو اور ان سے فیصلہ لے لو ۔ انھیں یقین تھا کہ رسول اللہ جو فیصلہ کریں گے وہ ان کے حق میں ہوگا ۔ مگر بنو نضیر اس کے لیے راضی نہیں ہوئے ۔ کیوں کہ انھیں اندیشہ تھا کہ رسول اللہ کے یہاں وہ اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ نہ لے سکیں گے ۔ چنانچہ بنو نضیر نے کہا کہ

کعب بن اشرف (یہودی سردار) کے پاس چلو اور اس سے فیصلہ لو۔ اس پر یہ آیت اتری۔ سورہ نساء کی مذکورہ آیت میں ایک خاص بات دیکھنے کی یہ ہے کہ اس میں جو کچھ کہا گیا ہے صرف مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا گیا ہے۔ اس میں یہودی عدالت کے خلاف کوئی بیان نہیں جہاں مدینہ کے یہ مسلمان اپنا فیصلہ لینے گئے تھے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ قسم کے معاملہ میں اصلاح کا قرآنی طریقہ کیا ہے۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ ساری توجہ مسلمانوں کی اصلاح پر صرف کی جائے۔ کیوں کہ اس خرابی کا اصل سبب مسلمانوں میں ہے نہ کہ غیر مسلم عدالت میں۔

کوئی عدالت خود سے اقدام کرکے کسی کے معاملہ میں دخل نہیں دیتی۔ عدالت اپنا فیصلہ صرف اس وقت دیتی ہے جب کہ کوئی شخص اپنا فیصلہ لینے کے لیے اس کے یہاں جائے اور ان شہادتوں (Evidences) کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے جو اس کے سامنے پیش کی گئی ہوں۔

مسلمان اگر غیر مسلم عدالت میں اپنا مقدمہ نہ لے جائیں تو غیر مسلم عدالت کو یہ موقع ہی نہ ملے گا کہ وہ مسلمانوں کے معاملہ میں اپنا فیصلہ دے۔ گویا اس طرح کے معاملہ میں غیر مسلم عدالت کے خلاف چیخ پکار کرنا اپنی غلطی کا الزام دوسرے کے سر ڈالنا ہے۔ اور اس قسم کا غیر منصفانہ عمل یقینی طور پر اسلامی اصول کے سراسر خلاف ہے۔ اس طرح کے معاملہ میں اصل قصور وار مسلمان ہیں نہ کہ غیر مسلم عدالت۔ جب قصور وار مسلمان ہیں تو دوسرے کے خلاف ہنگامہ کرنے سے کیا فائدہ۔

مذکورہ قرآنی طریقہ کی روشنی میں اب اس معاملہ کو جانیے ہو حال میں شاہ بانو اور محمد احمد (اندور) کے مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد پیش آیا ہے۔ قرآن کے مطابق اس معاملہ میں مسلم قائدین کا اصل کام یہ تھا کہ وہ مسلمانوں کو ملامت کرتے کہ تم غیر مسلم عدالت میں کیوں اپنا مقدمہ لے جاتے ہو۔ تمہارے وہاں جانے ہی کی وجہ سے غیر مسلم عدالت کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ تمہارے عائلی معاملات میں اپنا فیصلہ دے۔ اس کے بجائے تم کو یہ کرنا چاہیے کہ تم اپنے مقدمات اپنے علماء کے سامنے پیش کرو اور وہ از روئے شریعت جو فیصلہ دیں اس کو مان اس ملک میں کثرت سے دار الافتاء ہیں۔ امارت شرعیہ ہے۔ پھر تم ان کو چھوڑ کر غیر مسلم عدالت میں کیوں جاتے مسلم قیادت نے یہ اصل کام تو نہیں کیا۔ البتہ وہ سپریم کورٹ اور غیر مسلم حکومت کے خلاف ہنگامہ کرنے میں یہ طریقہ بلاشبہ قرآنی طریقہ نہیں۔ یہ لیڈری ہے نہ کہ قرآن کی پیروی۔

Printed page