ایک سفر
Al-Risala, February 1986, pp. 24–34
By Maulana Wahiduddin Khan
دسمبر ۱۹۸۵ء میں بما کو (افریقہ) میں ایک اسلامی کا نفرنس ہوئی۔ اس موقع پر راقم الحروف سے ہندوستان کے نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی۔ اس سفر کا راستہ تھا : دہلی - روم - دکار - بما کو، دوسرے لفظوں میں ایشیا سے یورپ اور پھر یورپ سے افریقہ۔ کانفرنس کے بعد بما کو - پیرس - لندن۔ کویت - دہلی۔ دہلی کے راستہ سے
بہت سے لوگوں کے لیے سفر ایک تفریح ہوتا ہے۔ مگر میرے لیے سفر ایک مصیبت ہے۔ چنانچہ میں گھر سے بادل ناخواستہ ائیر پورٹ کے لیے روانہ ہوا۔ دہلی ائیر پورٹ پر پہونچ کر مجھے اس قدر وحشت ہونے لگی کہ میں نے اپنے ساتھی سے کہا کہ واپس چلو، مجھے سفر پر نہیں جانا ہے۔ میرے قدم کسی طرح آگے نہیں بڑھ رہے تھے۔ مگر ساتھی کے اصرار اور دینی مصلحت کے خیال سے مجھے آگے جانا پڑا۔
میرے مزاج میں فطرت پسندی اتنی زیادہ ہے کہ مجھے ہر مشینی سفر سے وحشت ہوتی ہے۔ اگر پیدل سفر کرنا ممکن ہو تو یقیناً میں پیدل سفر کروں مگر ظاہر ہے کہ ایشیا سے یورپ، اور یورپ نے افریقہ اور امریکہ کا سفر پیدل - طے نہیں کیا جا سکتا۔
میری یہ کیفیت بھی عجیب ہے۔ جن دنیوی چیزوں کو پا کر عام لوگ خوش ہوتے ہیں ان کو پا کر میں ایسا غم زدہ ہوتا ہوں جیسے وہ چیز مجھے کاٹ رہی ہو۔ ۴ دسمبر ۱۹۸۵ء کی رات کو پالم ائیر پورٹ پر مسافروں کا ہجوم تھا۔ خوش و خرم چہروں کے ساتھ تیزی سے اندر داخل ہو رہے تھے۔ مگر میں اپنے خیالات میں گم تھا۔ میرے ہاتھ میں فرسٹ کلاس کا ٹکٹ تھا۔ میرے لیے روم (اٹلی) اور دکار (سینیگال) میں ہوٹل کے کمرے رزرو تھے۔ بما کو (افریقہ) پہونچ کر مجھے فائیو اسٹار ہوٹل میں قیام کرنا تھا۔ مگر میرا حال یہ تھا کہ جیسے قدم اٹھ نہ رہے ہوں۔ آخر جب میں جہاز کے اندر داخل ہوا تو میری آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے تھے۔ میرے دل کو ایک لمحہ کا سکون بھی حاصل نہ تھا۔ اللہ اپنے اس بندے پر رحم فرمائے جس کا حال یہ ہے کہ جہاں لوگ ہنستے ہیں وہاں اسے رونا آتا ہے۔ لوگ اپنے کو پایا ہوا سمجھتے ہیں وہاں اس کو ایسا لگتا ہے جیسے اس نے اپنا سب کچھ کھو دیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دنیوی کامیابی پر قانع نہ ہونے والے آدمی کی اندرونی حالت اتنی مختلف ہوتی ہے کہ اس کو وہ لوگ سمجھ ہی نہیں سکتے جو دنیوی کامیابی پر قانع ہو گئے ہوں۔
صبح کے ناشتہ کے وقت جہاز کے اندر ایئر انڈیا کا مینو کارڈ دیا گیا ۔ اس پر لکھا ہوا تھا : Indian hospitality across five continents (ہندوستانی میزبانی پانچ بر اعظموں کے درمیان) مطلب یہ ہے کہ ایئر انڈیا کی سروس پانچوں بر اعظموں تک پھیلی اس کا مسافر دنیا کے جس بر اعظم میں بھی جائے وہ ایئر انڈیا کو اپنے لیے بہترین میزبان کے طور پر پائے گا۔ میں ناشتہ سے فارغ ہو کر ٹائلٹ جانے کے لیے اٹھا تو جہاز کے عملہ کے ایک شخص نے مسکراتے ہوئے کہا : You enjoyed your breakfast, Sir. (جناب ، کیا آپ اپنے ناشتہ سے محظوظ ہوئے) ظاہر ہے کہ یہ سب تجارتی اخلاق کی باتیں ہیں ۔ تاجر اپنی تجارت کے لیے کتنے خوبصورت الفاظ پالتیتا ہے ۔ دین کی دعوت کو بھی قرآن میں ایک تجارت کہا گیا ہے۔ مگر دین کے داعی اپنے مدعو کے لیے موجودہ زمانہ میں خوبصورت الفاظ نہ پاسکے نہ ان کے پاس اپنے مدعو کو صرف متوحش کرنے والے الفاظ ہیں نہ کہ اس کو مانوس کرنے والے الفاظ ۔
دہلی سے روم کا فاصلہ ۴۷۰۰ کلومیٹر ہے۔ یہ دوری آٹھ گھنٹے میں طے ہوئی ۔ ہم ۴ دسمبر کی صبح کو روم کے ہوائی اڈہ پر اترے ۔ روم سے اگلا جہاز شام کو تھا۔ چنانچہ یہاں ایئر انڈیا کی طرف سے ہمارے لیے ایک دن کے قیام کا انتظام تھا۔ یہاں میں ہوٹل (Holiday Inn) کے کمرہ نمبر ۲۲۷ میں ٹھہرا ۔ نے تین نمازیں پڑھیں ۔ فجر ، ظہر ، عصر ۔
روم اٹلی کا دار السلطنت ہے۔ یہ دنیا کے انتہائی قدیم شہروں میں سے ہے۔ اس کا آغاز غالباً آٹھویں صدی قبل مسیح میں ہوا۔ اس وقت یہاں صرف چند معمولی مکانات تھے۔ اس کے بعد رومیوں کی ترقی کے ساتھ روم کی ترقی ہوتی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ ایک عظیم شہر بن گیا۔ رومی اس کو ابدی شہر (Eternal City) روم کے بارہ میں کہا جاتا ہے کہ اس نے یورپ میں ایک ہزار سال تک تہذیب کے مقدر پر حکومت کی ہے: For well over a millenium Rome controlled the destiny of all civilization known to European man, then fell into dissolution and disrepair. (15/1066)
روم کا ائیر پورٹ کافی بڑا ہے۔ اس کو دیکھ کر روم کے بارے میں شاندار تصور ذہن میں آتا ہے۔ میں روم اتنا شاندار نہیں۔ جب شہر میں داخل ہوں تو اس کی آبادیاں دوسرے درجہ کے شہر کا منظر پیش کرتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ روم اب ایک زوال یافتہ شہر ہے جہاں زندگی کے ہر جز پر تنزل کی چھاپ نظر آتی ہے۔
رومی سیاست داں مارکس سسرو (Marcus Tillius Cicero) نے دو ہزار سال پہلے کہا تھا کہ بجٹ متوازن ہونا چاہیے ، ورنہ حکومت دیوالیہ ہو جائے گی۔ مگر آج روم کی حکومت پر 300 کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض ہے۔ اس قرض پر اس کو روزانہ تقریباً ایک کروڑ روپیہ کا سود ادا کرنا پڑتا ہے۔ تعلیم ، واٹر سپلائی ، اسپتال ، ڈاک، ہر چیز کا نظام غیر معیاری ہے۔ ہم کو نیویارک سے دہلی کے لیے ٹیلی فون ہفتوں میں مل گیا تھا۔ یہاں سے ہم نے دہلی ٹیلی فون کرنا چاہا مگر کافی کوشش کے بعد بھی سلسلہ نہیں ملا۔ روم میں بجلی کے بارے میں ایک میگزین میں یہ لطیفہ پڑھا کہ روم میں بجلی نہ اے سی ہے اور نہ ڈی سی ہے۔ وہ ایم سی ہے۔ یعنی خراب کرنٹ ؛ It is neither AC nor DC, but MC Malfunctioning Current. اسی طرح ایک اور لطیفہ پڑھنے میں آیا کہ روم کے ایک شخص کے نام ۲۷ ٹیلی فون کالوں کا بل آگیا جب کہ درخواست کے باوجود ابھی تک اس کے یہاں ٹیلی فون بھی نہیں لگا تھا۔
روم میں جرائم بھی کافی ہوتے ہیں۔ ایک فرانسیسی سیاح ایک مقام پر اپنی موٹر کار روک کر اترا۔ نے اس کو ہدایت کی کہ وہ کار کے دروازے اچھی طرح بند کر دے۔ اس نے ایسا ہی کیا۔ مگر جب وہ سیر کر کے واپس آیا تو اس کی کار کے سات سوٹ کیس چوری ہو چکے تھے۔ اس کے بعد وہ قریب کے پولیس دفتر میں رپورٹ درج کرانے گیا۔ وہ واپس آیا تو اس کی کار بھی غائب تھی۔
ایک سیاح نے بتایا کہ روم میں اس کا ایک مسئلہ پیدا ہوا تو ایک مقامی باشندے نے اس سے کہا : Don’t get upset. Rome is Rome. The key word, my friends, is PAZIMENZA (patience)
پریشان نہ ہو میرے دوست ، کلیدی لفظ صرف ایک ہے، اور وہ ہے برداشت۔
روم کی ایک خاص چیز ویٹیکن سٹی ہے۔ یعنی مسیحی پیشوا کا شہر۔ ویٹیکن سٹی رقبہ کے اعتبار سے ایک مربع میل سے بھی کم ہے۔ یہ دنیا کی سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ کہا جاتا ہے کہ بے حد چھوٹا ہونے کے باوجود اٹلی سے بھی زیادہ ذی اثر ہے۔ وہ رومن کیتھولک چرچ کا عالمی مرکز ہے۔ ویٹیکن اٹلی کے اندر ہونے کے باوجود مکمل طور پر خود مختار ہے۔ مگر یہ خود مختاری اس کو اس قیمت پر ملی ہے کہ اس نے اپنے اختیارات کو غیر سیاسی دائرہ میں محدود کر لیا۔
ویٹیکن سٹی کا اپنا ٹیلی فون سسٹم ہے ۔ اپنا پوسٹ آفس ہے ۔ اپنا طاقت ور ریڈیو اسٹیشن ہے ۔ اپنا بینکنگ نظام ہے ۔ اپنی کرنسی ہے ۔ اس کے باشندے ایک ہزار سے بھی کم ہیں مگر ان کا اپنا علیحدہ پاسپورٹ ہوتا ہے ۔ یہ زیادہ ترچرچ کے عہدیدار اور کارکن مرد اور عورتیں ہیں ۔ ویٹیکن میں بہت سے چرچ ہیں ۔ ان میں سے قدیم ترین چرچ چوتھی صدی عیسوی کا بنا ہوا ہے ۔ یہاں تقریبا ہر چیز باہر سے آتی ہے ۔ مثلاً، کھانا ، پانی ، بجلی ، گیس وغیرہ ۔ یہاں کوئی انکم ٹیکس نہیں ہے ۔
ویٹیکن سٹی کی آزاد اور خود مختار حیثیت مسولینی کی حکومت کے زمانے میں ۱۹۲۹ میں منظور ہوئی۔ کی لائبریری اور یہاں کے میوزیم میں بہت سے قیمتی نوادرات موجود ہیں جن کو دیکھنے کے لیے لوگ برابر آتے رہتے ویٹیکن کا اپنا طاقت ور اطالوی اخبار ہے جس کا نام ہے L' Osserva - tore Romano یہاں کا پریس اتنا بڑا ہے کہ وہ ہر زبان میں کتاب چھاپ سکتا ہے ۔ جار جیا کی قدیم زبان سے لے کر ہندوستان کی تامل تک ہر زبان میں یہاں کتاب چھاپی جاسکتی ہے ۔
سب سے پہلے سینٹ پال روم میں آئے اور یہیں ان کی وفات ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ سینٹ پیٹر بھی روم آئے تھے ۔ قرون وسطیٰ میں پوپ عملاً پورے یورپ کا مقتدر اعلیٰ تھا ۔ وہ کسی بادشاہ کو معزول کرنے کا حق رکھتا تھا۔ مگر بعد کو بادشاہوں نے بغاوت کی یہاں تک کہ چرچ اور اسٹیٹ کی علیحدگی عمل میں آئی ۔ بادشاہ سیاست کا حکمران قرار پایا اور پوپ مذہب کا ۔ یورپ میں پوپ کا سیاسی اقتدار باقاعدہ طور پر 1870 میں ختم ہوا ۔ ویٹیکن میں ایک اسلامی شعبہ بھی قائم ہے ۔ اس شعبہ کے ذمہ دار کا نام دینہ یہ ہے : Rev. Fr. Thomas Michel Secretariats pro Non-Christians 00120 Cittadel Vaticano ویٹیکن پورے معنوں میں ایک 'اسٹیٹ' ہے ، صرف یہ کہ اس کے پاس باقاعدہ فوج نہیں۔ دنیا بھر میں ۱۰۰ ملکوں سے اس کے سفارتی تعلقات ہیں۔ پہلے پوپ عام طور پر ویٹیکن سے باہر نہیں نکلتے تھے مگر موجودہ پوپ بہت متحرک قسم کے آدمی ہیں ۔ انھوں نے کثرت سے بیرونی سفر کیے ہیں اور دوسری غیر روایتی سرگرمیاں دکھائی ہیں۔ انہیں میں سے ایک ہے : ویٹیکن کے دو حریفوں - اینگلیکن چرچ اور اسلام سے تعلقات قائم کرنا۔ اگر چہ ایک مبصر کے الفاظ میں پوپ کو پہلے معاملے میں کامیابی ہوئی اور دوسرے معاملے میں
ہندستان میں عیسائیوں کی تعداد ۲ فی صد ہے ۔ مگر دنیا بھر میں کیتھولک عیسائی تقریباً ایک ارب کی تعداد میں پائے جاتے ہیں ۔ دنیا بھر کے تمام کیتھولک چرچ براہ راست طور پر ویٹیکن کے ماتحتی ہیں ۔ تمام معاملات ویٹیکن کی ماتحت میں انجام پاتے ہیں ۔ چرچوں میں پادریوں کا تقرر ، ان کا معاوضہ ، ان کی ترقی یا عزل سب براہ راست ویٹیکن کرتا ہے ۔ صرف ہندستان میں گیارہ ہزار (Catholic priests) پادری ہیں اور وہ سب کے سب مکمل طور پر ایک بیرونی ادارہ ( ویٹیکن ) کے احکام کے تحت عمل کرتے ہیں ۔ ویٹیکن اپنی ساری وسعت کے باوجود ایک انتہائی منظم عالمی ادارہ کے طور پر کام کرتا ہے ۔ اگر مسلمانوں کا یہ کوئی ادارہ ہو تو غالباً اس کی ہر شاخ میں یہ واقعہ پیش آئے گا کہ وہاں جس شخص کو مقامی انچارج بنایا جائے گا وہ پہلی فرصت میں یہ منصوبہ بنائے گا کہ قانونی یا غیر قانونی تدبیر کر کے اپنی زیرِ انتظام شاخ کو ایک الگ ادارہ بنائے اور آزادانہ طور پر خود اس کے اوپر قابض ہو جائے ۔
مسلمانوں کا مزاج یہ ہے کہ وہ ماتحتی کو قبول نہیں کرتے ۔ اور بلاشبہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے ۔
دہلی اور روم میں وقت کا فرق ساڑھے چار گھنٹہ ہے ۔ دہلی سے ہمارا جہاز دو بجے رات کو روانہ ہوا جب وہ روم پہنچا تو مقامی وقت کے لحاظ سے صبح ساڑھے چھ بجے کا وقت تھا ، جب کہ اس وقت دہلی کی گھڑی میں دن کے گیارہ بج رہے تھے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دہلی کی گھڑی کے لحاظ سے ہم ساڑھے چار گھنٹہ پہلے روم پہنچ گئے ــــــــ ہندستان سے مغرب کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو حاصل کرتے ہیں اور اگر ہندستان سے مشرق کی طرف سفر کریں تو آپ وقت کو کھو دیتے ہیں ۔
۵ دسمبر کو میں دکار ( سینگال ) پہنچا ۔ روم سے دکار کا سفر ایئر افریق (Air Afrique) کے ذریعہ ہوا ۔ یہاں تقریباً ۲۰ گھنٹے قیام رہا ۔ ہوائی سفر کا قاعدہ ہے کہ اگر آپ کو کسی مقام پر جہاز بدلنے کے لیے ٹھہرنا ہے اور آگے کی فلائٹ میں آپ کی سیٹ کنفرم ہے تو ہوائی کمپنی اپنے خرچ پر آپ کو ہوٹل میں ٹھہرائے اور ہوائی اڈہ سے ہوٹل آنے جانے کے لیے سواری بھی اپنی طرف سے مہیا کرے گی ۔ اس کے لیے ہوائی اڈہ
پر مستقل ڈسک ہوتے ہیں۔ روم کے ہوائی اڈہ پر یہ ڈنک پیسنجر سروس کے نام سے ہے اور دکار میں ایئر افریق اور ایئر فرانس کے نام سے ۔ آپ یہاں اپنا ٹکٹ دکھا کر کاغذ بنوا لیجیے ۔ اس کے بعد ہوٹل کے لوگ بطور خود آپ کا انتظام کریں گے ۔ اگر وقت کافی ہو تو سفر کے آغاز سے پہلے ہی بذریعہ ٹیلیگس ہوٹل کا ریزرویشن ہو جاتا ہے ۔ دکار میں میرا قیام ہوٹل میریڈین (Meridien) کے کمرہ نمبر ۴۵۶۹ میں تھا۔ یہ ہوٹل وسیع پہاڑی ماحول میں قائم ہے ۔ ہو ا نہایت خوش گوار ہے ۔ یہاں نماز پڑھتے ہوئے دعا نکلی : خدایا میں نے تیرے آگے ایشیا میں سجدہ کیا تھا ۔ پھر میں نے یورپ میں تیرے آگے سجدہ کیا اور اب افریقہ میں تیرے آگے سجدہ کر رہا ہوں ۔ تو میری نمازوں کو قبول فرما اور مجھے بخش دے ۔
دکار سینیگال کی راجدھانی ہے ۔ یہاں کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے ۔ لوگ یا تو فرانسیسی زبان بولتے ہیں یا مقامی زبان ۔ تاہم غربی اور انگریزی بولنے والے بھی بقدر ضرورت مل جاتے ہیں ۔ یہاں مور یطانیہ کے ایک صاحب ملے ۔ وہ وہاں ریڈیو اور ٹیلی وزن کے محکمہ میں کام کرتے ہیں ۔ وہ عربی اچھی جانتے تھے اور میری کتاب (اسلام متحد کی) سے واقف تھے ۔
دکار(Dakar)افریقہ (Dakar) افریقہ کے چند اہم شہروں میں سے ایک ہے ۔ سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس کو ترقی کے کافی مواقع ملے ہیں ۔ ۱۹۰۲ سے ۱۹۵۹ تک وہ فرانس کے قبضہ میں رہا ۔ ۱۹۶۰ میں پہلی بار فرانسیسی یہاں سمندر کے راستہ سے داخل ہوئے تھے ۔ سینیگال میں تقریباً ۹۰ فی صد مسلمان ہیں ۔ آبادی ایک ملین کے لگ بھگ ہے ۔
دکار کا ہوٹل میریڈین عین سمندر کے کنارے ہے اور نہایت وسیع رقبہ میں ریزورٹ کے انداز میں بنایا گیا ہے ۔ اس کے ایک طرف دور تک پھیلے ہوئے سرسبز و شاداب مناظر ہیں اور دوسری طرف سمندر کی لہریں موجیں مارتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ گویا ایک طرف جمال خداوندی کے مناظر ہیں اور دوسری طرف جلالِ خداوندی کے ۔ مگر لوگوں کے چہرے بتاتے ہیں کہ وہ یہاں صرف تفریح کے لیے آتے ہیں ۔ انھوں نے یہاں نہ خدا کے جمال کو دیکھا اور نہ اس کے جلال کا مشاہدہ کیا۔
ڈچ نے1617ء میں یہاں کا ایک چھوٹا جزیرہ خرید کر حاصل کیا تھا ۔ اس وقت سے یہاں مغربی تدخل کا آغاز ہوا ۔ فرانسیسیوں نے اس جزیرے پر 1677 میں قبضہ کر لیا ۔ اس کے بعد یہاں برطانی آئے۔ فرانسیسیوں نے اس کا بڑھا حصہ ۱۷۵۸ میں فتح کیا ۔ ۱۸۸۵ میں یہاں پہلی ریلوے قائم کی گئی ۔ دکار کا صدارتی محل
دنیا کے چند خوبصورت ترین صدارتی محلوں میں سے ہے ۔ دکار کا یوف ایئر پورٹ (Yof Airport) امریکہ کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ یہاں مونگ پھلی کافی پیدا ہوتی ہے ۔ دوسری جنگِ عظیم تک یہاں کی مونگ پھلی تیل تیار کرنے کے لیے فرانس جاتی تھی ۔ اب خود ملک میں اس کے کارخانے کھل گئے ہیں ۔ دوسری بہت سی صنعتیں بھی یہاں پائی جاتی ہیں ۔ نہر سوئز بند ہونے کے زمانہ میں دکار کی بندرگاہ کی تجارتی سرگرمیاں کافی بڑھ گئی دکار اپنی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے سیاحوں کا مرکز ہے ۔
دکار میں جب ہم مقررہ وقت پر ہوٹل سے ایئر پورٹ پہنچے تو معلوم ہوا کہ کسی تکنیکی سبب (Technical Reason) سے جہاز مزید لیٹ ہو گیا ہے۔ دوبارہ ہم ایک اور ہوٹل میں لے جائے گئے جس کا نام ہوٹل ترنگا (Hotel Sofitel Teranga) تھا ۔
ہوٹل کے نام میں ” ترنگا “ کا لفظ دیکھ کر ہمیں ہندوستانی لفظ ترنگا یا د آیا۔ جس کے معنی ہیں تین رنگ مگر مقامی زبان میں اس لفظ کا مطلب ہے تکریم ۔ ہوٹل ترنگا کا مطلب ہے عزت و تکریم والا ہوٹل ۔ دوبارہ جب میں دکار کے ایئر پورٹ پر پہنچا تو یہاں گامبیا کے ایک صاحب (احمد ڈرامے) سے ملاقات ان سے پہلے بھی ملاقات ہو چکی ہے ۔ وہ بہت خوش ہوئے ۔ انھوں نے کہا کہ آج جب کہ میں یہاں دکار کے ایئر پورٹ پر تھا۔ دکار کا ایک آدمی آیا ۔ وہ آپ سے ملنا چاہتا تھا ، اس کو کسی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ آپ آج یہاں سے گزر رہے ہیں۔ اس نے آپ کی عربی کتابیں اور مجلہ الامۃ (قطر) میں آپ کے بارہ میں مضمون پڑھا میں نے جب بتایا کہ میں آپ کو جانتا ہوں اور آپ سے ملا ہوں تو وہ بہت حیرت کے ساتھ مجھ سے آپ کے بارے میں سوالات کرتا رہا ۔ وہ دیر تک ایئر پورٹ پر رہا ۔ پھر مایوس ہو کر چلا گیا ۔ واضح ہو کہ ہوائی جہاز لیٹ ہو جانے کی وجہ سے اس وقت میں ہوٹل ترنگا میں تھا ۔ یہاں میرا قیام کمرہ نمبر ۲۰۳ میں تھا ۔ دکار کے ہوائی اڈہ پر دو امریکی مسلمانوں (سلیم بن غانم ، حسن عجرم) سے ملاقات ہوئی ۔ یہ دونوں اصلا لبنانی ہیں ۔ مگر ان کے آبار امریکہ میں رہنے لگے ۔ یہ لوگ اب صرف انگریزی زبان جانتے ہیں ۔ اپنی آبائی زبان عربی سے برائے نام واقف ہیں ۔
ان کو میں نے الرسالہ (انگریزی) دیا۔ وہ اس کو پڑھ کر بہت خوش ہوئے ۔ وہ اس کے مضامین پڑھتے جاتے تھے اور ”گڈ ، گڈ “ کہتے جاتے تھے ۔ الرسالہ (انگریزی) کی زبان کی انھوں نے خاص طور پر بہت تعریف کی ۔
انھوں نے کہا کہ امریکہ میں اسلام کے تعارف کے لیے ہمیں انگریزی کتابوں کی سخت ضرورت ہے۔ اس وقت انگریزی میں جو کتابیں دستیاب ہیں وہ زیادہ تر ان لوگوں کی لکھی ہوئی ہیں جو اسلام کو سیاسی انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہ انداز امریکیوں کو زیادہ اپیل نہیں کرتا۔ ہمیں ایسی کتابوں کی ضرورت ہے جس میں اسلام کو اس کے فطری اور ابدی انداز میں پیش کیا گیا ہو۔ میں نے تعارفی سیٹ (انگریزی) کا ذکر کیا۔ انھوں نے اس سے بہت دل چسپی ظاہر کی ۔ انشاء اللہ ان کو انگریزی کا تعارفی سیٹ بھیج دیا جائے گا۔ دکار ایئر پورٹ پر کئی غیر مسلم یورپی ملے ۔ وہ بما کو جا رہے تھے۔ ایک صاحب اٹلی کے تھے۔ نے بتایا کہ ان کا مضمون جیالوجی ہے۔ وہ ایک پروجیکٹ میں مدد کرنے کے لیے ایکسپرٹ کے طور پر بما کو جا رہے ہیں ۔
اکثر افریقی ممالک میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ مگر یہ ممالک مستقل طور پر اپنی پسماندگی کی قیمت مغربی اقوام کے تدخل کی صورت میں ادا کر رہے ہیں۔ اولاً مغربی قوموں نے افریقہ میں سیاسی غلبہ حاصل کیا۔ اس کے بعد جب آزادی کا وقت آیا تو انھوں نے افریقی عوام کے اختلاف سے فائدہ اٹھا کر ان کو چھوٹے چھوٹے ملکوں میں تقسیم کر دیا۔ اب وہ تکنیکی ماہرین اور مسیحی مبلغین کے ذریعہ یہاں نفوذ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے قائدین اس کو ظلم سے تعبیر کریں گے مگر حقیقۃً یہ اپنی پسماندگی کی قیمت ہے جو افریقہ مسلسل ایک یا دوسری صورت میں ادا کر رہا ہے۔
دکار سے بما کو کے لیے ایر افریقی سے روانگی ہوئی۔ جہاز میں ایر ہوسٹس نے کھانے کے لیے پوچھا۔ افریقہ کی عیسائی خاتون تھی۔ میں نے کہا کہ وہ ویجیٹیرین۔ وہ اچھی انگریزی جانتی تھی مگر ویجیٹیرین کا لفظ اس کی سمجھ میں کیوں کہ یہاں کثرت سے لوگ گوشت کھاتے ہیں، میں نے کئی بار دہرایا تو اس نے حیرت کے ساتھ کہا: Oh, you are vegetarian!
اف آپ سبزی خور ہیں)
ہم ۶ دسمبر کی صبح کو بما کو (Bamako) پہنچے ۔ یہاں ہوٹل میں حسب معمول طرح طرح کی چیزیں بک شرکاء اجتماع میں سے ایک صاحب زیور کی الماری کے سامنے کھڑے ہو گئے اور اپنے بچوں کے لیے زیور خریدنے یہ ایک افریقی عالم تھے اور عربی اچھی جانتے تھے۔ ان سے میری کافی بے تکلفی ہو گئی تھی۔ میں نے کہا کہ ایسے بن جائیے کہ آپ کو صرف آیاتِ اللہ نظر آئیں ۔ یہ چیزیں آپ کو دکھائی نہ دیں۔ جو آیاتِ الانسان کی حیثیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ میں بچوں کے لیے لے رہا ہوں۔ میں نے کہا کہ اپنے بچوں کو بھی ویسا ہی بنایئے جیسا آپ کو بننا ہے وہ ہنس کر کہنے لگے " آپ تو ابو ذر غفاری ہیں ، ہم لوگ ایسے کہاں بن سکتے ہیں "
6دسمبر 1985 کی صبح کو ہم ایر افریقی کے ذریعہ بماکو پہنچے۔ بماکو مالی کی راجدھانی ہے۔ یہ سفر وقفہ کے لحاظ سے میرے تمام سفروں میں سب سے زیادہ طویل تھا۔ ۳ دسمبر کا دن گزار کر رات کو میں نے عشاء کی نماز دہلی میں پڑھی تھی ۔ اس کے بعد برابر سفر میں رہا۔ یہاں تک کہ ۶ دسمبر کو فجر کی نماز بس کو میں پڑھی۔ ہے کہ نومبر 1985 کے تیسرے ہفتے میں امریکہ میں تھا ۔ وہاں سے واپسی کے جلد ہی بعد دسمبر کے پہلے ہفتہ میں یورپ سے گزرتے ہوئے افریقہ آنا ہوا۔ اس تین ہفتہ کے اندر میں نے اپنی نمازیں چار براعظموں (امریکہ، ایشیا، یورپ، افریقہ) میں ادا کیں ۔ اس طرح گویا خدا کی زمین کے بیشتر حصہ میں خدا کے آگے سجدہ کرنے کی توفیق اپنی مغفرت کی دعا کے بعد دوسری دعا جو دل سے نکلتی رہی وہ یہ تھی کہ خدایا، بھٹکے ہوئے لوگوں کی ہدایت کا سامان فرما۔
مالی کا رقبہ 1240000 مربع کلومیٹر ہے۔ اس کی آبادی ۱۹۷۰ء کی مردم شماری کے مطابق تقریباً ستّر لاکھ بماکو اس کی راجدھانی ہے ۔ یہ ملک ۱۸۹۸ سے لے کر ۱۹۶۰ تک فرانس کے زیر قبضہ رہا۔ اب وہ آزاد ہے مالی بنیادی طور پر زرعی ملک ہے ۔ اس کا تقریباً نصف حصہ صحرا ہے۔ یہاں کا سب سے بڑا دریا نائجر ہے۔ ۹۰ فی صد آبادی زراعت پیشہ ہے۔ یہاں کی سرکاری زبان ابھی تک فرانسیسی ہے۔ آبادی میں تقریباً ۸۰ فی صد مسلمان ہیں ۔ عیسائیوں کی تعداد صرف ۲ فی صد ہے۔ یہاں کے لوگ گیارہویں صدی عیسوی میں مسلمان ہوئے بما کو کی آبادی تقریباً چھ لاکھ سترہ ہزار ہے۔ تعلیم دس فی صد ہے۔ مالی میں لوہا پیدا ہوتا ہے ۔ وہ ملک میں ہر جگہ پایا جاتا ہے ۔ اس کے علاوہ باکسائٹ، مینگنیز ، فاسفورس وغیرہ پائے جاتے ہیں ۔ سونا بھی ملتا جاتا ہے ۔ ذریعہ آمدنی زیادہ تر زراعت اور مچھلی ہے۔ مچھلی نائجر دریا سے حاصل کی جاتی ہے ۔ ریل صرف 400میل تک ہے زیادہ تر روڈ سے سفر کیا جاتا ہے۔ یہاں کی حکومت کا نظام جمہوری ہے ۔ مالی کا انحصار فرانس کی مدد پر رہا ہے اب عرب ملکوں سے بھی اس کو کافی امداد مل رہی ہے۔ مالی مغربی افریقہ میں واقع ہے۔ اس کو سمندری کنارہ حاصل نہیں ۔
بماکو میں میرا قیام ہوٹل (Hotel Sofitel L'Amitie) میں تھا۔ میرے کمرہ کا نمبر ۱۲۷ میرا مزاج کچھ اس قسم کا ہے کہ " در و دیوار سے مجھے انس نہیں ہوتا ۔ خواہ وہ تعمیراتی اعتبار سے کتنے ہی
شاندار کیوں نہ ہوں۔ البتہ فطرت کے مناظر ہوں تو ان سے فوراً مانوس ہو جاتا ہوں۔ میرے کمرے کے ایک طرف حسب معمول در و دیوار تھے مگر دوسری جانب دور تک سرسبز و شاداب مناظر پھیلے ہوئے تھے۔ سب سے بڑی ندی نائجر سامنے سے گزر رہی تھی اور اس کے چاروں طرف درختوں کی ہریالی نظر آتی تھی۔ دیوار تک لگے ہوئے شیشوں کے ذریعہ میں ہر وقت انھیں دیکھ سکتا تھا۔ یا کمرہ کے باہر بالکنی میں حب کر ان کا ہم نشین بن سکتا تھا۔ خدا کی مخلوقات میں خدا دکھائی دیتا ہے، اگر چہ بہت سے لوگ مخلوقات میں صرف مخلوقات ہی کو دیکھ پاتے ہیں۔ ان کی نظر اس سے آگے نہیں جاتی۔
مالی میں مختلف عرب ملکوں کے تعاون سے بڑے بڑے کام ہو رہے ہیں۔ بما کو میں سعودی عرب کی امداد سے ایک مسجد بنائی گئی ہے جو یہاں کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ 6 دسمبر کو ہم نے جمعہ کی نماز اسی مسجد میں پڑھی۔ یہ مسجد ایک بہت بڑے ہال کی مانند ہے۔ ہال کا اندرونی حصہ ۸۰ اونچے اونچے کھمبوں پر کھڑا کیا گیا ہے۔ مسجد بالکل جدید انداز میں بنائی گئی ہے۔ جمعہ کے خطبہ کے لیے عام طور پر الگ ممبر ہوتے ہیں جن سے مسجد کے آگے کا ایک حصہ گھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہاں ممبر کی صورت یہ ہے کہ دیوار کے اوپری حصہ میں اس کے لیے جگہ نکالی گئی ہے یہ ایسا ہی ہے جیسے دیوار میں بہت بڑا طاق بنا دیا جائے جس میں آسانی سے آدمی کھڑا ہو سکے۔ کے نچلے حصہ میں بالکنی کی مانند تھوڑا سا حصہ آگے کی طرف نکلا ہوا ہے اور اس پر ریلنگ کے انداز میں گھیرا بنا دیا گیا ہے۔
عرب ملکوں کے ذریعہ اس قسم کے بے شمار کام ساری دنیا میں ہو رہے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا خاص انتظام ہے جو اس نے موجودہ زمانہ میں اسلام کو زندہ رکھنے کے لیے کیا ہے۔ ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مسلم لیڈروں کے شاندار الفاظ کے باوجود مسلمان زمانہ کے لحاظ سے آج اتنا چھ گھنٹہ جا چکے تھے کہ اگر " پٹرول ڈالر " کی خدائی طاقت ظاہر نہ ہوئی ہوتی تو مسلمان موجودہ زمانہ میں بین اقوامی اچھوت بن کر رہ جاتے۔
دہلی اور بما کو میں وقت کا فرق ساڑھے چھ گھنٹہ ہے۔ بارہ بجے رات کو جب بما کو کے کیلنڈر میں ایک تاریخ ختم ہو کر دوسری تاریخ شروع ہوتی ہے، اس وقت دہلی میں ابھی کیلنڈر بدلنے کے لیے ساڑھے چھ گھنٹے کی مدت باقی رہتی ہے۔ اگر آپ ایک مقام کی گھڑی دوسرے مقام پر بغیر بدلے ہوئے پہنے رہیں تو آپ مقامی وقت کے لحاظ سے چھ گھنٹہ آگے یا پیچھے پیچھے رہیں گے۔
یہاں کناڈا کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کو ہمارا انگریزی الرسالہ برابر جا رہا ہے۔
سے میں نے انگریزی الرسالہ کے بارے میں دریافت کیا تو انھوں نے اس کے مضامین کے بارے میں بہت اچھے تاثر کا اظہار کیا ۔ انھوں نے کہا :