Very simple, very effective
Al-Risala, February 1986, pp. 34–35
By Maulana Wahiduddin Khan
بہت سادہ اور بہت اثر انگیز ایک صاحب کینیا سے آئے تھے۔ ان کو بھی انگریزی الرسالہ جارہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کم از کم دس آدمی پابندی سے آپ کا انگریزی الرسالہ پڑھتے ہیں۔ ان کو ایک رسالہ کے بعد دوسرے رسالہ کا انتظار رہتا ہے ۔ اور یہ سب کے سب اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جو انگریزی زبان سے بہت اچھی واقفیت رکھتے ہیں ۔
یہاں کی اسلامی کانفرنس میں ایک صاحب سوئزرلینڈ سے آئے تھے ۔ ان کو بھی انگریزی الرسالہ برابر جارہا ہے ۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے یہاں کئی لوگ اس کو پابندی سے پڑھ رہے ہیں۔ انھوں نے اس کے زبان و بیان کا پر زور الفاظ میں اعتراف کیا ۔ مزید انھوں نے بتایا کہ سوئزرلینڈ میں ایک صاحب انگریزی الرسالہ کے اتنا زیادہ متدرداں ہیں کہ انھوں نے اس کے کئی مضامین کو ٹِیپ پر منتقل کیا اور اس کو وہاں کے ریڈیو اسٹیشن سے نشر کرایا ۔
میں اپنے ساتھ کتابیں نہیں لے گیا تھا۔ میرے ساتھ صرف عربی کتاب دالدین فی مواجہۃ العلم) کے چند نسخے تھے اور انگریزی الرسالہ کی چند کا پیاں تھیں ۔ میں نے دیکھا کہ جس سے بھی کتاب یار سالہ کا ذکر آیا وہ بے حد شوق اور احترام کے ساتھ اس کو لیتا تھا اور چاہتا تھا کہ پورا سٹ اسے مل سکے ۔ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں بے شمار لوگ اسلام کو وقت کے اسلوب میں پڑھنا چاہتے ہیں۔ مگر آج اسلامی مرکز کے سوا غالباً کوئی بھی ادارہ نہیں جو اسلام کی تعلیمات کو جدید عصری اسلوب میں پیش کر رہا ہو ۔ لوگ اسلام کو سیاسی اسلوب میں پیش کرتے ہیں اور غلطی سے سمجھتے ہیں کہ وہ اسلام کو عصری اسلوب میں پیش کر رہے ہیں۔ حالاں کہ عصری اسلوب سائنٹفک اسلوب کا نام ہے نہ کہ سیاسی اسلوب کا ۔ کانفرنس میں ویسٹ انڈیز کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ان کی مادری زبان انگریزی ہے۔ نے ڈاکٹریٹ تک کی تعلیم امریکہ میں حاصل کی ہے ۔ وہ انگریزی الرسالہ سے واقف نہ تھے۔ ان کو انگریزی الرسالہ کا ایک شمارہ ( نومبر ۱۹۸۵ ) دیا گیا ۔ انھوں نے رات کو سونے سے پہلے پورا رسالہ پڑھ ڈالا ۔ بعد بار بار تقاضا کرتے رہے کہ یہ رسالہ میں مستقل طور پر پڑھنا چاہتا ہوں ۔ مجھ سے یہ تکرار وعدہ لیا کہ میں انھیں
انگریزی الرسالہ روانہ کروں گا۔
ان سے میں نے انگریزی الرسالہ کے بارے میں ان کا تاثر پوچھا تو انھوں نے کہا :
It is a very impressive and relevant piece of literature about Islamic realities. ( یہ اسلامی حقیقتوں کے بارے میں ایک بے حد موثر اور بہت متعلق ادب پارہ ہے ) موصوف گیانا کے اسلامک سنٹر کے ڈائرکٹر ہیں۔
افریقہ کا مشہور تاریخی شہر تمبکٹو (Tumbukto) اسی مالی میں واقع ہے ۔ تمبکٹو چودھویں صدی عیسوی سے لے کر سولہویں صدی عیسوی تک اس علاقہ میں اسلامی تعلیم اور اسلامی ثقافت کا مرکز رہا ہے۔ بنیاد غالباً بتہ میں پڑی ۔ ابتداً اس نے تجارتی مرکز کی حیثیت سے ترقی کی۔ اس کے بعد وہ ثقافتی اور علمی مرکز بن گیا ۔ یہاں قدیم زمانہ میں کئی اسلامی یونیورسٹیاں قائم تھیں جن میں علم حاصل کرنے کے لیے دور دور کے طلبہ آتے تھے۔ تمبکٹو کی مرکزی حیثیت ۱۵۹۱ء میں ختم ہوئی جب کہ وہ مراکو کے قبضہ میں چلا گیا۔ بعد وہاں بار بار انقلاب بات آتے رہے ۔
۱۰ دسمبر ۱۹۸۵ کے لیے ایک ہوائی جہاز چارٹر کیا گیا تھا اور کانفرنس کے تمام شرکار اس کے ذریعہ تمبکٹو کو دیکھنے کے لیے جانے والے تھے۔ مگر بعض وجوہ سے مجھے جلد دہلی پہونچنا تھا اس لیے میں تمبکٹو کے سفر میں شریک نہ ہوسکا اور ۹ دسمبر کی شام کو بما کو سے دہلی کے لیے روانہ ہوگیا۔
۹ دسمبر ۱۹۸۵ کو یہاں کا اسلامی مرکزدیکھا۔ بما کو کا یہ اسلامی مرکز شارع زائد بن سلطان پر واقع ہے وہ ۳۵ ہزار مربع میٹر کے رقبہ میں پانچ ملین ڈالر کے خرچ سے بنایا گیا ہے ۔ اس کا فنڈ عرب ملکوں نے ادا کیا ہے۔ یہاں کی مسجد میں میں نے دو رکعت نماز ادا کی ۔
کانفرنس کے تمام شرکار اجتماعی طور پر مرکز میں لے جائے گیے تھے۔ یہ مرکز ابھی بن کر تیار ہوا ہے ۔ اس میں کام نہیں شروع ہوا ہے ۔ لوگ گھوم گھوم کر شاندار مرکز کے مختلف حصے دیکھ رہے تھے اور پرجوش طور پر باتیں کر رہے تھے۔ میں خاموش اپنے خیالات میں کھویا ہوا ان کے ساتھ چل رہا تھا ۔ اس دوران ایک افریقی عالم استاذ احمد دراے میرے پاس آئے اور مسکراتے ہوئے میرے بارہ میں کہا :