Al-Risala · February 1986

يُعْجِبُ الناس بالمباني ويُعجبُ الشيخ بالمعاني

Al-Risala, February 1986, pp. 36–39

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ زمانہ میں اس طرح کے بڑے بڑے اسلامی مراکز دنیا کے ہر حصہ میں بنائے گئے ہیں۔ مگر ان کے ساتھ ایک المیہ یہ ہے کہ وہ بالواسطہ یا براہ راست طور پر حکومتوں کے عطیہ سے بنتے ہیں۔ اب حال یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں اسلام پسند طبقہ کا بڑا حصہ اسلام کی سیاسی تفسیر سے متاثر ہے۔ وہ جگہ جگہ مسلم حکومتوں کے خلاف سیاسی انقلاب کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔ چنانچہ یہ لوگ مسلم حکومتوں کی نظر میں معیوب یا کم از کم مشتبہ ہو گئے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنی جھوٹی سیاست نہ چلاتے تو یہ تمام مراکز ان کے قبضہ میں ہوتے اور ان سے وہ دعوت اسلامی کا زبردست کام لیتے ۔ مگر اپنی سیاست پسندی کی وجہ سے وہ یا تو ان مراکز سے محروم ہیں یا اگر کہیں کوئی مرکز ان کے ہاتھ آگیا ہے تو اس کو اپنے غلط قسم کے سیاسی ذہن کی وجہ سے مفید نہیں بنا پاتے ۔

مالی کی سرکاری زبان فرانسیسی ہے ۔ نو آبادیاتی دور میں جن مقامات پر انگریزوں کا اقتدار قائم ہوا وہاں کے اعلیٰ طبقوں میں انگریزی زبان رائج ہو گئی۔ اسی طرح جن علاقوں میں فرانس کی حکومت تھی وہاں کے اونچے طبقوں کی زبان فرانسیسی ہو گئی۔ یہ صورت حال اب بھی جاری ہے جب کہ انگریز اور فرانسیسی ان علاقوں سے بہت پہلے سیاسی طور پر واپس جا چکے ہیں۔ یہاں کے عوام علاقائی زبان بولتے ہیں۔ مگر خواص کی زبان ابھی تک انگریزی اور فرانسیسی ہے۔

یہی معاملہ قدیم زمانہ میں عربی زبان کے ساتھ ہوا۔ اسلام کے ابتدائی دور میں جب شمالی افریقہ فتح ہوا تو اس کے بعد مسلمان سمندر کو پار کر کے اسپین اور سسلی میں داخل ہوئے ۔ یہاں انھوں نے صرف حکومت نہیں کی بلکہ ایک شاندار تہذیب کی بنیاد ڈالی جو اس وقت کی عیسائی دنیا سے بہت زیادہ آگے تھی۔ چنانچہ ان علاقوں کے عیسائی کثرت سے عربی لکھنے اور بولنے لگے۔ غیر مسلموں نے اس زمانہ میں عربی زبان اور عربی علوم میں اتنی مہارت پیدا کی کہ ٹامس براؤن (Thomas Brown) جو انگلستان کا ایک عیسائی تھا وہ اسلامی عہد میں سسلی کے اندر قاضی مقرر کیا گیا۔

پھر جب اس علاقہ سے مسلمانوں کا سیاسی اقتدار ختم ہوا تو اس کے بعد بھی ایک عرصہ تک اسپین اور سسلی کا اعلیٰ طبقہ عربی زبان بولتا رہا۔ اور عدالتوں اور دفتروں میں عربی زبان رائج رہی۔ اگر چہ عوام کی علاقائی زبان عبرانی اور لاطینی تھی مگر خواص کی زبان بدستور عربی ہی بنی رہی۔ برٹینڈ رسل نے سسلی میں مسلم عہد کے بعد عربی زبان اور تہذیب کے غلبہ کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے :

بسا کو کی اسلامی کانفرنس کا افتتاح ۶ دسمبر ۱۹۸۵ کی شام کو ہوا۔ افتتاح کی تقریب میں مالی کے وزیر خارجہ، وزیر داخلہ، وزیر تعلیم اور دوسرے بہت سے ذمہ دار موجود تھے ۔ اس کانفرنس میں تین زبانیں رائج تھیں ــ عربی، انگریزی اور فرانسیسی ۔ اس میں دنیا کے مختلف حصوں سے نمائندہ افراد شریک ہوئے ۔ کویت کے نمائند ہ نے تقریر کی تو انھوں نے اپنی تقریر میں یہ الفاظ استعمال کیے۔ اتينامن مشارق الارض ومن مغاربها اس کانفرنس میں حسب ذیل ملکوں کے اہل علم مسلمان شریک تھے : کناڈا، مالی، قبرص، یونان، سعودی عرب، مالدیپ، سوئزرلینڈ، میڈاگاسکر، انگلینڈ، شمالی امریکہ، جنوبی امریکہ، برازیل، سوڈان، ایکنیا، ہندوستان، ترکی، کویت، پاکستان، گیانا، شام، فلپائن، فلسطین، غانا، گیمبیا، ہالینڈ، یوگوسلاویہ، افغانستان، کوریا، تیونس، نائیجیریا، یمن، جاپان ۔

کانفرنس میں زیادہ تر دو قسم کے امور پر تقریریں اور مباحثے ہوئے، ایک اسلامی دعوت، دوسرے اسلام یا مسلمانوں پر دوسری قوموں کے حملے ۔ تاہم کانفرنس پر دوسرا موضوع زیادہ نمایاں رہا۔ ہر علاقہ کے لوگوں نے اپنے اپنے علاقے کی مشکلات بیان کیں ۔ خاص طور پر وہ مشکلات جو صهیونیت، کمیونزم اور جدید استعمار کی طرف سے پیدا کی گئی ہیں۔

دعوت کا موضوع زیادہ تر دفاعی طور پر سامنے آیا۔ موجودہ زمانہ میں مسیحی مبلغین کافی سرگرمی کے ساتھ مسلمانوں پر کام کر رہے ہیں۔ پوپ نے پچھلے چند برسوں میں چار بار افریقہ کا سفر کیا ہے۔ مسیحی چرچ نے طے کیا ہے کہ مسلمانوں کے بڑے حصہ کو یا تو مسیحی بنا دیا جائے اور اگر وہ مسیحی بننے پر راضی نہ ہوں تو ان کے ذہن کو اس طرح بدل دیا جائے کہ اپنے مذہب میں ان کی فکری جڑیں باقی نہ رہیں ۔ وہ نہ مسلمان ہوں اور نہ عیسائی ۔ کانفرنس کے شرکاء کا عام احساس یہ تھا کہ چرچ کے لوگ جتنے منظم طور پر اپنا دعوتی کام کرتے ہیں اتنے منظم طور پر مسلمان اپنا دعوتی کام نہیں کر رہے ہیں ۔ اس لیے اسلامی دعوت کے کام کو زیادہ منظم اور زیادہ موثر بنانے کی ضرورت ہے ۔

کانفرنس میں اس موضوع پر کافی گفتگو ہوئی کہ افریقہ میں مسیحی مبلغین ممسلمانوں کو عیسائی بنا رہے ہیں۔ اس کے لیے کیا کرنا چاہیے ۔ ایک افریقی نمائندے نے بتایا کہ مسلمانوں میں مسیحی تبلیغ کی کامیابی کی اصل وجہ مسلمانوں کا افلاس ہے۔ افریقہ کے بہت سے حصوں میں زندگی بے حد سخت ہے ۔ لوگوں کے پاس لباس اور مکان تک نہیں ۔ مسیحیت قبول کرکے انھیں یہ سب چیزیں مل جاتی ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ہم سب کچھ کھو چکے ہیں ۔ پھر کیا حرج ہے اگر ہم دین کو بھی کھودیں ( فقد ناكل شيئ فلا باس اذا فقدنا الدين لان المسألة الان مسألة البقاء والانقراض من الحياة)

بتایا گیا کہ یہی وجہ ہے کہ مذہب بدلنے کے تمام واقعات صرف دیہاتی علاقوں میں ہوتے ہیں جہاں افلاس زیادہ ہے۔ شہروں میں کوئی مسلمان مذہب نہیں بدلتا ۔ کیوں کہ وہاں مذہب بدلے بغیر آدمی اپنے لیے اسباب معاش پالیتا ہے ۔ مادی محرک کے تحت عیسائی ہو جانے کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بہت سے لوگ جو مسیحیت قبول کرتے ہیں وہ بعد کو دوبارہ مسلمان ہو جاتے ہیں ۔

ایک صاحب نے کہا کہ تبدیلی مذہب کی اصل وجہ مادی افلاس نہیں بلکہ ذہنی افلاس ہے ۔ شعور نہ ہونے کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے (کل هذا ناتج عن فقدان الوعى الاسلامي) ان کا خیال تھا کہ ہم کو سب سے زیادہ افریقی مسلمانوں ، خاص طور پر دیہات کے مسلمانوں ، کی تعلیم پر زور دینا چاہیے ۔ لوگ اگر تعلیم یافتہ ہو جائیں تو اپنے آپ اس قسم کے فتنوں سے بچ جائیں گے ۔ ایک عرب عالم نے بتایا کہ یورپ کے ایک شخص کو اسلام کا مطالعہ کرایا گیا ۔ مطالعہ کے بعد اس نے کہا: اے وہ جس کے پاس سچا دین ہے کاش اس کے پاس مردان کار بھی ہوتے (ياله من دين لو كان له رجال) یہ ایک حقیقت ہے کہ آج آسمان کے نیچے اسلام ہی واحد سچا دین ہے مگر اس کے حامل سلمان اس حد رہے جان ہو چکے ہیں کہ ان کے بل پر کوئی حقیقی کام کرنا ممکن نہیں ۔ مسلمانوں کی مثال دیمک زدہ لکڑی کی ہے ۔ دیمک زدہ لکڑی سے کیا کام لیا جا سکتا ہے ۔

ایک مصری عالم نے مسلمانوں کی حالت کا مرثیہ پڑھتے ہوئے کہا کہ مسلمان اس کے عادی ہو گئے ہیں کہ آج زمین میں دانہ ڈالیں اور کل سے پہلے اس کے پھل کی امید کریں ( تعود المسلمون ان يبذروا بذرة اليوم ويرجون الثمرة قبل امس) تاہم انھوں نے کہا کہ ہمیں ہمت سے کام لینا چاہیے ۔ اندیشہ سے بیٹھ نہیں جانا چاہیے کہ ہمیں ناکامی ہوگی ( لا يجب ان نصاب بالشلل للحدن رشدية

( النقل )

افغانستان کے نمائندے نے بتایا کہ افغانستان اگر چہ ایک چھوٹی قوم ہے مگر اس کا جذبہ بہت بڑھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمارا جہاد صرف افغانستان کو آزاد کرنے پر ختم نہیں ہوگا ۔ بلکہ افغانستان کو آزاد کرانے کے بعد ہم سرحد کو پار کر کے آگے بڑھیں گے اور ان مسلمانوں کو بھی آزاد کرائیں گے جو روسی سرحد کے اندر ہیں اور اشتراکی حکومت کے غلام بنے ہوئے ہیں ۔

افسوس کی یہ بات مجھے خوش نہ کر سکی۔ کیوں کہ جوش کی یہ قسم وہ ہے جو مسئلہ کو صرف بڑھاتی ہے۔ بھی درجہ میں مسئلہ کو ختم کرنے والی نہیں بنتی ۔

ایک بار چند آدمیوں کے درمیان دنیائے اسلام کی موجودہ حالت پر گفتگو ہو رہی تھی۔ ایک عرب عالم نے کہا کہ آج مسلمانوں کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کے معاملات کی (قيادة جاہلوں کے ہاتھ میں ہے نہ کہ عالموں کے ہاتھ میں ( قیادت امور المسلمين في ايدى الجهلة لافي ايدي العلماء )

یہ بات بذات خود صحیح ہے۔ مگر فوراً سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی برتنتی موت الکبرائی کا معاملہ ہے۔ یعنی حقیقی علم والے لوگ موجود نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کے معاملہ کے ذمہ دار وہ لوگ ہوگئے ہیں جن کے پاس جہالت کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں۔ قیادت کے اعتبار سے علم والے وہ لوگ ہیں جو ایک طرف کتاب و سنت سے بخوبی واقف ہوں ، اسی کے ساتھ وہ زمانہ کے تقاضوں کو پوری طرح جانتے ہوں ۔

میرا مزاج یہ ہے کہ میں بولتا کم ہوں اور سنتا زیادہ ہوں۔ کانفرنس میں بھی میں ایسا ہی کر رہا تھا۔ صاحب نے کہا کہ آپ دوسروں کے مقابلہ میں کم بولتے ہیں ۔ میں نے کہا :

Printed page