Al-Risala · February 1986

I am trying to be a good listener

Al-Risala, February 1986, pp. 39–43

By Maulana Wahiduddin Khan

( میں کوشش کر رہا ہوں کہ میں اچھا سننے والا بنوں موجودہ زمانہ کی مسلم جماعتوں میں صرف تبلیغی جماعت میں یہ مزاج پایا جاتا ہے کہ اس کے افراد یہ جانتے ہیں کہ چپ رہنا اور دوسرے کی بات سننا بھی ایک کام ہے۔ ورنہ ہماری اکثر جماعتوں کے افراد کو صرف یہ معلوم ہے کہ انھیں مسلسل بولنا چاہیے ، حتی کہ اس وقت بھی جب کہ چپ رہنا ان کے لیے فرض کے درجہ میں ضروری ہو گیا ہو ۔

ایک صاحب نے اپنی تقریر میں بتایا کہ اس وقت ساری دنیا میں تقریباً ۱۰ ملین پناہ گزیں (لاجیئین)

یعنی وہ لوگ جو ظلم و ستم کی وجہ سے اپنے وطن کو چھوڑنے پر ہوتے ہیں (معزز مقرر خود بھی ایک پناہ گزین تھے جو اپنے وطن کو چھوڑ کر اب یورپ کے ایک ملک میں رہتے ہیں ) پناہ گزینوں کی اس تعداد میں تقریباً سات ملین مسلمان ہیں ۔ نصف ملین پناہ گزین اس وقت صرف سوڈان میں موجود ہیں۔ ایک صاحب نے اس موضوع پر تقریر کرتے ہوئے پرجوش انداز میں کہا :

Why they are refugee? Because they are fighting for Islam. ( یہ لوگ کیوں پناہ گزیں ہیں ، اس لیے کہ وہ اسلام کی خاطر لڑ رہے ہیں )

یہ سب سے بڑی غلط فہمی ہے جس میں موجودہ زمانہ کے تمام مسلمان مبتلا ہیں۔ وہ دنیا بھر میں اپنے قومی مقاصد کے لیے لڑائی لڑ رہے ہیں اور اس کو جہاد کہتے ہیں ۔ مزید یہ کہ یہ لڑائیاں بھی بے فائدہ لڑائیاں ہیں، کیوں کہ وہ حقیقی تیاری کے بغیر لڑی جا رہی ہیں۔ اس قسم کی جھوٹی لڑائیوں کو اسلامی جہاد کہنا میرے نزدیک اسلامی جہاد کے لفظ کی سخت نا قدری کرنا ہے ۔

ایک ادارہ کے ذمہ دار نے بتایا کہ ان کے ادارہ میں ایک معمر خاتون آئیں اور کہا کہ میں حج پر جانا چاہتی مگر میرے پاس سفر خرچ کی رقم نہیں ہے ۔ آپ لوگ میرے لیے سفر خرچ کا انتظام کر دیں تاکہ میں حج کے لیے جا سکوں ۔ خاتون سے کہا گیا کہ جب آپ کے پاس سفر خرچ نہیں ہے تو شرعی طور پر آپ کے اوپر حج فرض بھی نہیں ہے، پھر آپ کیوں اس کے لیے سوال کر رہی ہیں۔ خاتون نے جواب دیا :

میں سترہ سال سے برابر ہر سال حج کے لیے جارہی ہوں ، پھر اس سال میں کیوں اس سے محروم رہوں ۔ جب اسلام اپنی حقیقی شکل میں باقی نہ رہے تو اسی قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ۔

اسلام کا اصل ہتھیار دعوت ہے ۔ یہی اس کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان اگرچہ دعوت کو بالکل بھول گئے ہیں۔ تاہم اسلام اپنے زور پر برابر لوگوں کے دلوں میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ کے بارہ میں ایک تقریر میں وہاں کے مسلمانوں کے حالات بتائے گئے ۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو تفصیلات پیش کیں ان میں یہ بھی تھا کہ ہالینڈ کے شہر او ترخت (Utrecht) میں ایک اجتماع ہوا ۔ اس اجتماع میں یورپ اور امریکہ کے کئی مسلمان شریک ہوئے ۔ اجتماع کے دوران ایک نشست ہوئی جس میں مسیحی چرچ کے نمائندوں نے بھی شرکت کی ۔ اس سلسلہ میں مقرر نے جو کچھ کہا اس میں یہ الفاظ بھی تھے :

وقد شاركت الكنيسة في حوارجرى في هذا الملتقى حول العلاقة بين المسيحية

والاسلام - وقد اعلن احد المهندسين البلجيكيين اسلامه في هذ الملتقی اس اجتماع کے دوران مسیحی چرچ نے بھی ایک نشست میں شرکت کی ۔ اس میں مسیحیت اور اسلام کے تعلق کے بارہ میں ڈائیلاگ ہوا ۔ اس موقع پر بلجیم کے ایک عیسائی انجینئر نے اسلام قبول کر لیا ۔ انھوں نے ممیں بتایا کہ اجتماع کے بعد ہالینڈ کے ایک گاؤں میں بہت سے عیسائی اسلام میں داخل ہو گئے ۔

اسلام کی دعوت اسلام کی سب سے بڑی قوت ہے ۔ مگر اسلام کے علم بردار اس کی اسی قوت کو موجودہ زمانہ میں سب سے کم استعمال کر رہے ہیں ۔

افریقہ کے ایک صاحب نے بتایا کہ ممباسا کے ایک عیسائی نے اسلام قبول کر لیا ۔ اس کے بعد اس نے سواحلی زبان میں ایک کتاب لکھی ۔ اس کتاب کا نام ہے : میں نے مسیحیت کو کیوں چھوڑا۔ اس کتاب میں مذکورہ نو مسلم نے بتایا کہ انجیل کے مطابق مسیح نے فرمایا کہ میں یہود کے لیے آیا ہوں۔ کے برعکس محمد ﷺ نے فرمایا کہ میں ساری دنیا کی طرف بھیجا گیا ہوں ــــ اسلام عالمی اپیل کے لیے اپنے اندر کس قدر زیادہ سامان رکھتا ہے۔ مگر مسلمان اپنے چھوٹے چھوٹے قومی مسائل میں الجھے ہوئے ہیں ۔ وہ اسلام کے عالمی اظہار کے لیے موجودہ زمانہ میں کچھ نہ کر سکے ۔

بماء کوسے واپسی میں ایک فرانسیسی انجینئر سے ایئر پورٹ پر ملاقات ہوئی اس نے اپنا نام بانار (Barnar) تقریبا آدھ گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ میرے ایک سوال کے جواب میں اس نے بتایا کہ میں بائبل پڑھتا ہوں اور اس پر عقیدہ رکھتا ہوں مگر میں چرچ نہیں جاتا۔ زید نے پھر پوچھا کہ کیوں ، اس نے کہا کہ اس لیے کہ بائبل اور چرچ میں تضاد پایا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی کوئی مثال دیجیے ۔ اس نے کہا : مثلاً بائبل میں بت بنانا سختی سے منع کیا گیا ہے مگر چرچ میں آپ جائیے ، تو وہاں آپ دیکھیں گے کہ بت بنا بنا کر رکھے ہوئے ہیں۔ حضرت مسیح کی ابینیت کے بارہ میں اس نے کہا کہ اس طرح حقیقی معنوں میں خدا کے بیٹے نہیں تھے ۔ بیٹے کے لفظ کو میں تمثیلی مانتا ہوں نہ کہ حقیقی ۔ اس طرح کی باتیں دیر تک ہوتی رہیں ۔

امریکہ سے آنے والے ایک صاحب نے بتایا کہ ۸۵ - ۱۹۸۴ میں ایتھوپیا میں قحط کا مسئلہ پیدا ہوا تو امریکی حکومت نے ابتداً اس میں کوئی دل چسپی نہ لی ۔ مگر بعد کو یہ مسئلہ اخبارات میں بہت زیادہ نمایاں مختلف ملکوں نے اس مد میں بڑی بڑی رقمیں دیں ۔ اس کے بعد یہ مسئلہ امریکہ کے لیے ساکھ کا مسئلہ بن گیا کیوں کہ امریکہ عالمی قیادت کا دعویدار ہے اور اتنے بڑے انسانی مسئلہ میں حصہ نہ لینا اس کی قیادت کو

نقصان پہنچانے کا سبب بنتا ۔

چنانچہ امریکی وزیر خارجہ جارج بش نے ایتھوپیا کی امداد کے لیے کام کرنے والی بعض انجمنوں کے ذمہ داروں کو بلایا جس میں مسلمان بھی شامل تھے ۔ جارج بش نے ایتھوپیا کے قحط زدگان کی امداد کے لیے امریکی حکومت کی طرف سے ایک بلین ڈالر کا چک اس طرح لکھا کہ اس کی پوری کارروائی ٹیلی وژن پر نشر کی جا رہی تھی اور پریس کے ۲ نمایندے وہاں موجود تھے تاکہ امریکہ کی اس فیاضی کو کل صبح کے اخبارات کی سرخی بنا سکیں ۔

بہت سے کام آدمی کرتا ہے جو بظاہر خیر اور اصلاح کے کام معلوم ہوتے ہیں مگر یہ سارا کام محض اپنی قیادت کو باقی رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے ۔ قیادت مصلحت کے سوا اس سے اور کچھ مقصود نہیں ہوتا۔

ایک عرب عالم نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر درد مندانہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آج مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا کام ہمیشہ چوٹی سے شروع کرتے ہیں (مع الاسف ، المسلمون يبدؤن من القمة) یہی وجہ ہے کہ ان کا کوئی کام تکمیل کے مرحلہ تک نہیں پہنچتا۔ کام کی تکمیل کی لازمی شرط یہ ہے کہ وہ نیچے سے شروع کیا جائے نہ کہ اوپر سے ـــــــــــ افسوس کہ یہ کمزوری آج دنیا بھر کے مسلمانوں میں ہر جگہ پائی جاتی ہے ۔ کانفرنس کے بعد واپسی پیرس اور لندن کے راستہ سے ہوئی ۔ بمباکو سے روانہ ہو کر ۱۰ دسمبر ۱۹۸۵ کو میں پیرس پہنچا۔ پیرس سے آگے کے لیے میرا ریزرویشن کنفرم نہیں تھا۔ کھڑکی پر متعین خاتون کو میری سیٹ کے لیے آدھ گھنٹہ سے زیادہ کام کرنا پڑا۔ ٹیلی فون، ٹیلكس اور کمپیوٹر میں وہ بہت دیر تک مشغول رہی۔ کہ پیرس سے دہلی براہ راست فلائٹ نہ ملنے کی وجہ سے راستہ بدلنا پڑا۔ اس کی وجہ سے اس کو بار بار حساب کتاب کرنا پڑا۔ مگر میں نے محسوس کیا کہ وہ نہ اکتائی اور نہ اس کے اندر جھنجلاہٹ پیدا ہوئی۔ بالآخر اس نے برٹش ایرویز کی لندن سے دہلی کی فلائٹ پر میرے لیے جگہ حاصل کر لی۔ اس سارے کام میں کافی دیر ہو چکی تھی۔ چنانچہ میں بھاگ کر برٹش ایرویز کے جہاز تک پہنچا۔ جب میں جہاز کے اندر داخل ہوا تو اچانک یاد آیا کہ میں اپنا کتابوں کا بنڈل مذکورہ کھڑکی پر چھوڑ آیا ہوں ۔ میں نے جہاز کے عملہ سے کہا۔ انھوں نے کہا کہ آپ اپنی سیٹ پر بیٹھیے ۔ ہم ابھی آپ کا پیکٹ منگاتے ہیں ۔ چنانچہ انھوں نے جہاز کے اندر سے ٹیلی فون پر مذکورہ خاتون سے کہا۔ اس نے فوراً میرا پیکٹ پیکٹ مجھ کو جہاز کے اندر عین اس وقت مل گیا جب کہ جہاز روانہ ہونے والا تھا ۔ اس پورے واقعہ کو لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ سب کچھ اتنے معیار اور اتنی مستعدی کے ساتھ ہوا کہ اس سے زیادہ کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آج کی دنیا کو جس چیز کی ضرورت

ہے وہ بہتر نظام نہیں ہے بلکہ روح کی غذا ہے جس سے آج کا انسان محروم ہے۔ اسلام کوروح کی غذا کی حیثیت سے پیش کرنا ہی آج دعوت اسلامی کا اصل کام ہے۔

پیرس سے لندن تک ایئر فرانس کے ذریعہ سفر ہوا۔ لندن سے دہلی کے لیے برٹش ایئرویز کے ذریعہ روانگی ہوئی جہاز کے اندر برٹش ایئر ویزکا ماہنامہ تھا۔ اس کا نام انہوں نے اونچی زندگی (Highlife) رکھا ہے۔ اسی طرح اس کے صفحہ ۱۳۸ پر سیکو گھڑی کا اشتہار تھا۔ اس میں گھڑی کی تصویر کے ساتھ یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے : Man invented time. Seiko perfected it. انسان نے وقت ایجاد کیا۔ سیکو نے اس کو معیاری حیثیت دی) آدمی کو جب کسی کام سے دل چسپی ہو تو وہ اسی طرح اپنی بات کہنے کے لیے خوبصورت الفاظ پا لیتا ہے۔ بڑے الفاظ بولنا ہمیشہ صرف اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ آدمی جس معاملہ میں بول رہا تھا اس معاملہ سے اس کو کوئی قلبی لگاؤ نہ تھا۔

برٹش ایئرویز کے اندر جب مسافروں کو لاؤڈ اسپیکر پر ہدایات دی گئیں تو سب سے پہلے عرب خاتون کی زبان سے عربی میں اعلان کیا گیا۔ اسی طرح مختلف اعلانات عربی زبان میں لکھے ہوئے تھے ۔ مثلاً ٹائیلٹ میں حسب ذیل اعلان اس طرح لکھا ہوا تھا کہ انگریزی کی لائن نیچے تھی اور عربی کی لائن اوپر :

Printed page