Al-Risala · February 1986

الرجاء عدم رمى المناشف المستعملة فى المرحاض

Al-Risala, February 1986, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

جہاز کے اناونسر نے دوسری باتوں کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ہمارے عملہ میں انگریزی، جرمن، فرنچ، اسپینی، عربی، اردو اور پنجابی جاننے والے لوگ موجود ہیں۔ آپ کسی بھی ضرورت کے لیے ان سے اپنی زبان میں کہہ سکتے ہیں۔ اعلان سن کر میں نے سوچا کہ برٹش ایئر ویز کو بین الاقوامی سطح پر اپنی تجارت چلانا ہے اس لیے اس نے اپنے عملہ میں ہر زبان کے آدمیوں کا انتظام کیا ہے۔ مگر عالمی اسلامی دعوت کا جذبہ اتنا موثر نہ ہوسکا کہ ہمارے کسی اسلامی ادارہ کے اندر ہر زبان کے جاننے والے فراہم کیے جائیں تاکہ ہر زبان کے جاننے والے ان سے اسلام کا تعارف حاصل شاید دنیوی محرک انسان کے لیے اخروی محرک سے زیادہ طاقت ور ہے ۔

اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اسلام صرف ایک قوم کے لیے آیا تھا تو تمام مسلمان اس سے لڑ جائیں گے۔ عملاً تمام مسلمان اسلام کو ایک قوم کی چیز بنائے ہوئے ہیں ۔

۱۱ دسمبر ۱۹۸۵ کی صبح کو میں دہلی واپس پہنچا۔

Printed page