Al-Risala · March 1987

گھر کا امام

Al-Risala, March 1987, pp. 14–15

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن میں جو دعائیں سکھائی گئی ہیں ان میں سے ایک دعا یہ ہے : اے ہمارے رب ، ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ اور ہم کو متقیوں کا امام بنا دے (رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ

یہ آیت دعا کے انداز میں بتا رہی ہے کہ اہل ایمان کا گھر انا کیسا ہوتا ہے اور ایک مومن کو اپنے گھر والوں کے ساتھ کس طرح رہنا چاہیے ۔ اس کا مطلب بدلے ہوئے الفاظ میں یہ ہے کہ گھر کے اندر جو معاملات پیدا ہوں ان میں ہم اپنے گھر والوں کو متقیانہ رہنمائی دیں۔ اپنے گھر والوں کو مفسدانہ رہنمائی دینے والے نہ بنیں ۔

گھر کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے واقعات پیش آتے ہیں ۔ ایسے مواقع پر گھر کے چھوٹے وہی کہتے ہیں جو گھر کے بڑے کریں۔ گھر کے بڑے جس رخ پر چلیں ، گھر کے چھوٹے بھی اسی رخ پر چل پڑتے ہیں۔ گھر کے معاملات میں گھر کا بڑا شخص گھر کا رہنما ہوتا ہے ۔ اگر اس بڑے شخص کے اندر فساد ہو تو اس کی مفسدانہ رہنمائی گھر کے تمام لوگوں کو مفسد بنا دے گی ۔ کا امام بن کر ظاہر ہو گا ۔ اور اگر اس بڑے شخص کے اندر تقویٰ ہو تو اس کی متقیانہ رہنمائی سب کو متقی بنا دے گی ۔ وہ متقیوں کا امام بن کر ظاہر ہوگا۔

مثال کے طور پر گھر والوں کو کسی سے شکایت پیدا ہو گئی ۔ اب گھر کا بڑا شخص اگر انصاف پسندی کا طریقہ اختیار کرے ، وہ ایسی بات کہے جس سے شکایتی ذہن دبے اور لوگوں کے جذبات ٹھنڈے ہوں تو نا خوش گوار واقعہ پیش آنے کے باوجود گھر کی فضا برہم نہیں ہوگی۔ تمام لوگ حقیقت پسندی اور خیر خواہی کے ساتھ اس کا استقبال کریں گے ۔ گھر کے لوگوں کی روش متقیانہ روش ہوگی اور گھر کا بڑا شخص صحیح رہنمائی کے ذریعہ ایک متقیانہ گھر کی امامت کر رہا ہو گا ۔ اس کے برعکس اگر ایسا ہو کر کسی سے ایک شکایت پیدا ہوئی اور گھر کا بڑا شخص اس سے پھر اٹھا تو وہ بات کو بڑھا چڑھا کر بیان کرے گا ۔ اس کی منفی باتوں سے لوگوں کے اندر چھپے ہوئے

نفرت اور عداوت کے جذبات ابھر آئیں گے۔ گھر کے ہر فرد کا دماغ تخریبی سوچ کا کارخانہ بن جائے گا۔ گھر کے اندر معافی کے بجائے انتقام، اعراض کے بجائے ٹکراؤ کی باتیں ہونے لگیں اپنی کمیوں کا اعتراف کرنے کا مزاج ختم ہو جائے گا۔ ہر شخص بس فریق ثانی کو برا بھلا کہنے میں مصروف ہو گا۔ یہ سب کچھ گھر کے بڑے شخص کی رہنمائی میں ہوگا۔ گھر کا بڑا شخص اپنی باتوں سے سب کے ذہن کو بگاڑ دے گا۔ گھر کے تمام لوگ مفسد بن جائیں گے اور وہ ان تمام مفسدوں کا امام ۔

ھب لنا من ازواجنا وذرياتنا قرة اعين کی تفسیر یہ کی گئی ہے کہ ان کو نیک عمل بنا دے تاکہ انہیں دیکھ کر ہماری آنکھیں ٹھنڈی ہوں (يعنى اجعلهم صالحين تقر بهم اعيننا التفسير المظہری) اجعلنا للمتقين اماما کی تفسیر مفسرین نے یہ کی ہے کہ ہم کو نمونہ بنا دے جس کی پیروی متقی لوگ کریں (ای اجعلنا قدوة يقتدى بنا المتقون، صفوة التفاسير)

گھر کے بڑے کے اندر اگر یہ مزاج ہو کہ اپنے بیوی بچوں کو صالح دیکھ کر اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتی ہوں، اس کے لیے اپنے گھر کے اندر سب سے زیادہ محبوب منظر یہ ہو کہ اس کے بیوی بچے خدا پرستی کے رنگ میں رنگے ہوئے ہوں۔ اگر ایسا ہو، جبھی یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے امام خیر بنے۔ امام خیر بننے کی ایک قیمت ہے۔ اور وہ قیمت دنیا کے مقابلہ میں آخرت کو ترجیح جو شخص یہ قیمت ادا کرے اسی کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کے لیے امام خیر بن سکے ۔

اس کے برعکس اگر گھر کے بڑے کی آنکھوں کی ٹھنڈک یہ ہو کہ اس کے بیوی بچوں کے گرد دنیا کی رونقیں جمع ہوں۔ اس کا سب سے زیادہ پسندیدہ منظر یہ ہو کہ اس کے گھر والے دنیوی ترقیوں کے گنبد پر کھڑے نظر آئیں تو وہ اپنے گھر والوں کے لیے صرف امام شر بن سکتا ہے۔ کیوں کہ امام شر بنے بغیر بیوی بچوں کی دنیوی خواہشات کی تکمیل ممکن نہیں ۔

ایسا شخص لازماً مفاد پرستی کا طریقہ اختیار کرے گا۔ وہ ناجائز کو جائز بنائے گا۔ وہ اپنے بچوں کی خاطر خود سب سے پہلے غیر خدا پرست بنے گا، اور پھر اس کو دیکھ کر اس کے گھر والے بھی غیر خدا پرست طریقہ پر چل پڑیں گے۔ اس کی روش آخر کار اس کو اپنے گھر والوں کے لیے شرکا امام بنا دے گی۔

Printed page