Al-Risala · March 1987

یونانی علوم

Al-Risala, March 1987, pp. 16–14

By Maulana Wahiduddin Khan

سکندر اعظم (۳۲۳۔ ۳۵۶ ق م ) قدیم یونان کا بادشاہ تھا۔ اس نے ایران سے لے کر ترکستان اور چین تک بہت سے ممالک فتح کر ڈالے۔ اس کے بعد رومی ابھرے اور انھوں نے دوسرے ملکوں کے ساتھ یونان کو فتح کر کے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ اب دونوں سلطنتیں ایک ہوگئیں ۔ اس طرح یونانیوں اور رومیوں نے اسلام سے پہلے قدیم زمانہ کی سب سے بڑی سلطنت قائم کی۔ سیاسی کامیابیوں نے قوم کے اندر حوصلہ پیدا کیا۔ ان کی بڑھتی ہوئی خوشحالی نے انھیں علمی کام کے مواقع دیے ان حالات میں یونان میں فلسفہ اور دوسرے علوم کو فروغ تاہم یہ فلسفہ زیادہ تر منطقی بحثوں اور دور از کار قیاس آرائیوں پر مشتمل تھا۔ قسطنطین کے بعد جب رومیوں نے عیسائیت قبول کی تو اس قسم کی کتابوں کو مذہب کے لیے مضر سمجھ کر ممنوع قرار دے دیا گیا ۔

عباسی خلیفہ مامون الرشید کو فلسفیانہ کتابوں کی تلاش ہوئی تو اس نے شاہ روم کو خط لکھا کہ فلسفہ کے متعلق یونانی اور رومی مصنفین نے جو کچھ لکھا ہے ان کو بھیج دے۔ کا رومی بادشاہ خود بھی اس قسم کی کتابوں سے بے خبر تھا۔ اس نے معلومات کیں تو ایک بوڑھے راہب نے اس کو ایک بند مکان کا پتہ دیا جہاں عیسائیت کے فروغ کے بعد فلسفہ کی تمام کتابیں لوگوں سے چھین کر رکھ دی گئی تھیں اور باہر سے اس پر بھاری تالا ڈال دیا گیا تھا۔ شاہ روم نے راہب سے پوچھا ، کیا یہ کتابیں مسلمانوں کے ملک میں بھیج دی جائیں۔ راہب نے جواب دیا : آپ ضرور ان کو مسلمانوں کے پاس بھیج دیں۔ کیوں کہ یہ کتابیں جس قوم میں پڑھی جائیں گی اس کو لایعنی بحثوں میں الجھا کر اس کے عقائد کو متزلزل کر دیں گی اور نتیجہ اس قوم کی کمزوری کا باعث چنانچہ شاہ روم نے یہ کتابیں اس مکان سے نکالیں اور ان کو پانچ اونٹوں پر لاد کر بغداد کی طرف روانہ کر دیا۔ جمال الدین قفطی نے لکھا ہے :

ووجدوا فيه كتباً كثيرة فاخذوا ان کو اس گھر میں بہت سی کتابیں ملیں۔

من جانبها بغير علم ومحص خمسة انھوں نے کسی تحقیق و جستجو کے بغیر ایک طرف

سے پانچ بوجھ کے بقدر کتا بیں لیں اور ان کو (اخبار الحکماء) مامون کے پاس بھیج دیا۔

عیسائی راہب کا خیال صحیح ثابت ہوا۔ دوسری صدی ہجری میں اس قسم کی کتابوں کے اثر سے مسلمان قرآن کے فطری اسلوب سے ہٹ گئے۔ قرآن میں استدلال کی بنیاد حقائق فطرت پر رکھی گئی تھی، قدیم فلسفیانہ کتابوں سے متاثر ہو کر مسلمانوں نے استدلال کی بنیاد قیاسی منطق پر یہ طریقی بحث اور طرز استدلال سراسر قرآن سے ہٹا ہوا تھا۔ مگر بعد کو وہ مسلمانوں کے دینی تعلیم کے نصاب میں شامل ہو کر دھیرے دھیرے مقدس بن گیا۔ اس واقعہ کو اب ایک ہزار سال سے زیادہ ہورہے ہیں مگر آج بھی مسلمان منطق و فلسفہ کے اس طلسم سے نکلنے کے لیے تیار نہیں۔

مسلمانوں کے اوپر اس غیر اسلامی علم کے ابدی تسلط کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ابتدائی صدیوں کے بعد مسلمانوں کے جو علوم مدون ہوئے وہ تمام تر اسی منطقی اسلوب میں مدون یہ طرز ہمارے علوم میں اتنا زیادہ دخیل ہوا کہ اب ایک شخص جو قدیم منطق میں کافی درک نہ رکھتا ہو وہ ان کو سمجھ نہیں سکتا۔ مثلاً شرح ملا علم نحو کی کتاب ہے اور ہمارے مدارس کے نصاب میں داخل ہے۔ مگر منطق کی اصطلاحات اور منطقی طرز بحث کو جانے بغیر اس کتاب کو سمجھنا ممکن نہیں۔ یہی حال فنون اسلامی کی دوسری کتابوں کا ہے۔ اس طرح منطق اسلامی علوم کی فنی تدوین میں داخل ہوئی اور بالآخر وہ اسلامی کتب خانہ کا ایک مستقل جزو بن گئی ۔ اب غیر ضروری طور پر یہ سوال سامنے آگیا کہ قدیم منطق کو چھوڑنا ہے تو اسلام کی قدیم فنی کتب کو بھی چھوڑنا پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ آج درس نظامیہ میں معقولات کا عنصر اتنا چھا گیا ہے کہ خود اسلامی علوم اس کے نیچے دب کر رہ گئے ہیں۔

Printed page