تجربات کے درمیان
Al-Risala, March 1987, pp. 18–19
By Maulana Wahiduddin Khan
زندگی کے تجربات کے درمیان آدمی کی جنت یا جہنم کا فیصلہ ہوتا ہے۔ زندگی کا ہر تجربہ آدمی کو ایسے نازک مقام پر کھڑا کر دیتا ہے جس کے ایک طرف خدا کی ناراضی ہے اور دوسری طرف خدا کی رضا مندی ۔ ایک طرف جھک کر وہ خدا سے دور ہو جاتا ہے اور دوسری طرف جھک کر خدا کی قربت حاصل کرتا ہے۔ زندگی ایک مسلسل امتحان ہے۔ ہر آدمی مسلسل اس نزاکت میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ یا تو حق پرستی کا ثبوت دے کر خدا کی عنایات حاصل کرے یا حق کے خلاف رویہ اختیار کر کے خدا کی رحمتوں سے دور ہو جائے ۔
دنیا میں جو کچھ کسی کے ساتھ گزرتا ہے ، خواہ وہ دکھ ہو یا سکھ ، عزت ہو یا ذلت ، سب آزمائش کے لیے ہوتا ہے۔ یہ سب امتحان کے پرچے ہیں ۔ ہمارا خدا یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ کن حالات میں اس کے بندے نے کس قسم کا جواب پیش کیا۔ تاہم ایسے مواقع پر آدمی تنہا نہیں اس کا خدا اس کے پاس ہی کھڑا ہوتا ہے۔ اگر آدمی آزمائش کے موقع پر خدا کی طرف پلٹے تو وہ فوراً اس کو سہارا دے کر اس قابل بنا دیتا ہے کہ وہ موقع کے لحاظ سے صحیح ترین جواب پیش کرے ۔ اور اگر آدمی آزمائش کے موقع پر خدا کو بھول جائے تو خدا بھی اس کو بھول وہ اس کو تنہا چھوڑ دیتا ہے۔ اور جو اس کائنات میں تنہا ہو جائے اس کا ساتھی شیطان کے سوا اور کوئی نہیں ۔
جب دکھ کا موقع سامنے آئے تو مومن کو صبر کا جواب پیش کرنیہے نہ کہ بے صبری کا ۔ کا ساز و سامان اس کو کم ملے تو اس کو اپنے رب کی خدمت میں شکر کے احساسات بھیجنا ہیں نہ کہ ناشکری کے احساسات۔ کسی کو کوئی عزت یا رتبہ مل جائے تو اس کو تواضع میں ڈھل جانا ہے نہ کہ وہ گھمنڈ کرنے لگے۔ کسی کے لیے خدا دولت کے دہانے کھول دے تو اس کو اپنی یہ تصویر پیش کرنا ہے کہ وہ حقوق کی ادائیگی اور دین کی خدمت میں سب کچھ دے کر خالی ہاتھ ہو جانے والا آدمی ہے نہ کہ گن گن کر ان کا ڈھیر لگانے والا۔ غرض آزمائشوں میں پورا اترنے والا بندہ وہ ہے جس کا حال یہ ہو کہ دنیا کا ہر تجربہ اس کے اندر خدا پرستی کی نفسیات جگائے ۔
ہر واقعہ اس کو خدا سے قریب کرنے والا ثابت ہو۔
اس کے برعکس معاملہ ان لوگوں کا ہے جو زندگی کے معرکوں میں صبر اور شکر کا جواب نہ پیش کر سکیں ۔ زندگی کے تجربات میں پڑنا ان کے لیے خدا سے دور کرنے کا سبب بن جائے۔ ایک شخص مسلمان ہے اور ایمانی جذبے کے تحت زندگی کے میدان میں داخل ہوتا ہے۔ جب دنیا کے فتنوں میں سے کوئی فتنہ پیش آتا ہے تو وہ اس کو اپنی طرف بہا لے جاتا ہے۔ دنیا کی چیزوں میں کمی ہوتی ہے تو وہ مایوس ہو کر طرح طرح کے شک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ عزت و مرتبہ کا کوئی دروازہ کھلتا ہے تو اس کی کشش اس کو جاہ پسند بنا دیتی ہے۔ تمام دوڑ دھوپ کو انہیں سمتوں میں موڑ دیتا ہے جو اس کے مقام کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کسی کو دولت کا کوئی حصہ ہاتھ آجاتا ہے تو اس کی چمک دمک اس کو مبہوت کر دیتی ہے اور وہ دولت کمانے کی راہوں میں اس طرح گم ہو جاتا ہے گویا وہی اس کا دین و ایمان ہے۔