Al-Risala · March 1987

کامیابی کا راز

Al-Risala, March 1987, pp. 20–21

By Maulana Wahiduddin Khan

قال عبد اللہ بن جعفر یوصی ابنتہ حضرت عبداللہ بن جعفر نے نکاح کے وقت اپنی عند زواجها : یا بنیة ، اياك والغيرة لڑکی کو نصیحت کی ۔ انھوں نے کہا کہ اسے میری فانہا مفتاح الطلاق - واياك والمعاتبة بیٹی ، تم غیرت اور نخوت سے بچو، کیونکہ وہ فانہا تورث الضغينة ۔ طلاق کا دروازہ کھولنے والی چیز ہے۔ غصہ اور ناراضگی سے بچو، کیوں کہ اس سے کینہ پیدا ہوتا ہے ۔

یہ بہترین نصیحت ہے جو ایک باپ اپنی بیٹی کو شادی کے وقت کر سکتا ہے۔ کے بعد لڑکی ایک غیر شخص کے گھر جاتی ہے۔ اس سے پہلے وہ خونی رشتہ داروں کے درمیان رہ رہی تھی۔ اب وہ ایسے لوگوں کے درمیان جاتی ہے جن سے اس کا خون کا کوئی رشتہ نہیں۔ خونی رشتہ دار (باپ، ماں، بھائی، بہن) لڑکی کی ہر بات کو برداشت کرتے ہیں۔ میکے میں نخوت دکھا کر کبھی بے قدر نہیں ہوتی۔ وہ غصہ دکھائے تب بھی لوگ اس سے بیزار مگر سسرال کا معاملہ اس سے سراسر مختلف ہوتا ہے ۔

سسرال میں لوگوں کے دلوں میں اس کے لیے وہ پیدائشی نرمی نہیں ہوتی جو میکے کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سسرال میں اس کا ہر عمل ایک رد عمل پیدا کرتا میکے میں لوگ اس کی نخوت کو نظر انداز کر دیتے تھے، مگر سسرال میں اس کی نخوت کو لوگ اپنی یادوں میں رکھ لیتے ہیں۔ میکے میں لوگ اس کے غصہ کو بھلا دیتے تھے، مگر سسرال میں کوئی شخص اس کے غصہ کو بھلانے کے لیے تیار نہیں ہوتا۔

ایسی حالت میں سسرال میں نباہ کی واحد شرط یہ ہے کہ لڑکی اپنے مزاج کو نئے ماحول کے مطابق بنا کر رہے۔ وہ ایسے عمل سے بچے جو نا موافق رد عمل پیدا کرنے والا ہو۔ کوئی بات اپنی پسند کے خلاف ہو تو اس کو گوارا کرے۔ کسی بات سے اس کے دل کو رنج پہنچے تو اس کو دل ہی دل میں ختم کر دے۔ کسی سے امید کے خلاف سلوک کا تجربہ ہو تو اس کی اچھی توجیہہ کر کے اس کو دماغ

سے نکال دے۔ ایک لڑکی کے لیے سنٹرال میں کامیاب زندگی بنانے کی یہی واحد تدبیر ہے ۔ کے سواسرال کے مسئلہ کا کوئی دوسرا حل نہیں۔

آج کل اس سلسلے میں ٹوکیو سے لیکر واشنگٹن تک پالیمانوں اور پتر کا مد میر ہے۔ شاہ سلیم تہر کا تم کو کیول الدیگر آج کا باپ اپنی بیٹی کو یہ تربیت دیتا ہے کہ سسرال میں اکڑ کر رہنا ورنہ لوگ تم کو دبا لیں گے۔ اس کے برعکس پہلے زمانہ کے باپ اپنی بیٹی کو یہ تعلیم دیتے تھے کہ سسرال میں دب کر رہنا ورنہ لوگ تم سے اکڑیں گے۔ انہیں دو فقروں میں ماضی اور حال کے فرق کی پوری کہانی چھپی ہوئی ہے۔

Printed page