Al-Risala · January 1987

Ralph Nader, Unsafe at Any Speed, 1965

Al-Risala, January 1987, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ کتاب ۱۹۶۵ میں چھپی ۔ اس کتاب میں مصنف نے امریکی کاروں کی حفاظتی انجینئرنگ (Safety engineering) سے بحث کی تھی اور بتایا تھا کہ امریکہ کی موجودہ کاریں ہر رفتار کے ساتھ غیر محفوظ ہیں ۔ یہ کتاب شائع ہوئی تو اس نے امریکہ کے لوگوں کو چونکا دیا۔ حکومت سے لے کر صنعت کار تک سب کے سب اس مسئلہ پر غور کرنے لگے ۔ اس کتاب کے مطالعہ نے لوگوں کو بتایا کہ کار کے سلسلے میں دیکھنے کی چیز صرف یہ نہیں ہے کہ وہ سفر کو کتنا آسان اور مختصر بناتی ہے ۔ کا ایک اور پہلو بھی حد درجہ قابلِ لحاظ ہے اور وہ بچاؤ (Safety) کا پہلو ہے ۔ اس کے بعد کار کی صنعت میں ایک نیا انقلاب آیا ۔ آج دنیا بھر میں کاروں کو بنانے والے اپنی کار کی جن خصوصیات کو نمایاں کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں ان کا ایک اہم جزو بچاؤ ہوتا کار جب تیز رفتاری کے ساتھ دوڑ رہی ہو تو مختلف قسم کی غیر متوقع صورتِ حال پیش آسکتی ہے۔ اس قسم کی کوئی صورتِ حال کار کے لیے بھی حد درجہ سنگین ہے اور کار کے مسافر کے لیے بھی۔ ایسی صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے کار میں جو انتظامات کیے گئے ہیں وہ دو قسم کے ہیں ۔ جس کو ایکٹو سیفٹی (Active safety) کہتے ہیں ، یعنی پیشگی حفاظت کا انتظام ۔ جس کو پیسیو سیفٹی (Passive safety) کہا جاتا ہے ، یعنی حادثہ ہو جانے کی صورت میں حفاظت ۔ کار کے بارے میں جب یہ نشان دہی کی گئی تو فورا ہی دنیا بھر کے لوگ اس کے بارے میں سوچنے لگے ۔ کیوں ، صرف اس لیے کہ وہ اس مسئلہ کے بارہ میں سنجیدہ تھے ۔ کار پر بیٹھنے والا ہر آدمی حد درجہ سنجیدگی کے ساتھ یہ چاہتا ہے کہ اس کا سفر حفاظت کے ساتھ مکمل ہو ۔ یہی چیز تھی جس نے تمام لوگوں کو اس معاملہ میں سوچنے پر مجبور کر دیا ۔ مگر آخرت کی خبر سن کر کوئی نہیں چونکتا ۔ کی وجہ یہ ہے کہ لوگ سڑک کے سفر کے بارہ میں جس طرح سنجیدہ ہیں اسی طرح وہ آخرت کے سفر کے بارہ میں سنجیدہ نہیں ۔

Printed page