Al-Risala · March 1987

Dr Amadou-Mahtar M'Bow, Director General UNESCO

Al-Risala, March 1987, pp. 33–35

By Maulana Wahiduddin Khan

7, Place de Fontenenoy, 75700 Paris (Tel. 45681310–45681311)

یہ نہایت سنجیدہ بزرگ تھے ۔ قرآن (بغیر ترجمہ) ان کے ساتھ تھا ۔ مگر وہ عربی سے واقف نہ اسلامیات پر بھی ان کا باقاعدہ مطالعہ نہیں ہے ۔ ان کو میں نے الرسالہ (انگریزی) اور پیغمبر انقلاب (انگریزی) مطالعہ کے لیے دیا۔ اگلے دن دوبارہ ملاقات ہوئی تو انھوں نے کہا کہ میں نے پیغمبر انقلاب (انگریزی) پڑھنا شروع کر دیا ہے ۔ یہ بلاشبہ ایک ممتاز (Excellent) کتاب انھوں نے کہا کہ کتاب ختم کرنے کے بعد میں اپنے مفصل تاثرات آپ کو لکھوں گا ۔ کناڈا کے ایک پروفیسر ڈاکٹر برائنٹ سے ملاقات ہوئی ۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے : Dr M. Darrol Bryant, University of Waterloo 5 Park Ave. W., Elmira, Ontario, Canada N3B.1K9 Phones - Home: 519-669-5321, Office: 519-884-4400 ڈاکٹر برائنٹ کو الرسالہ انگریزی کے چند شمارے دیئے گئے ۔ انھوں نے ان کو پڑھ کر ان سے غیر معمولی دل چسپی کا اظہار کیا۔ میں نے الرسالہ کی انگریزی زبان کے بارے میں ان کی رائے پوچھی۔ کہا کہ اس کی زبان بہت اچھی اور بہت واضح ہے ۔ انھوں نے کہا کہ عام طور پر ہندوستانی لوگ جو انگریزی لکھتے ہیں اس کو مغربی لوگ پڑھ نہیں پاتے۔ مگر الرسالہ کو میں نے نہایت دل چسپی کے ساتھ پڑھا۔

اس کی زبان ایسی تھی کہ اس کو سمجھنے میں مجھے ذرا بھی دقت نہیں ہوئی۔ پھر انھوں نے پوچھا کہ اتنی اچھی انگریزی آپ خود لکھتے ہیں یا کوئی اور ہے جو اس کو لکھتا ہے ۔ میں نے کہا کہ اس کو فرشتے (Angels) یہ سن کر وہ دیر تک ہنستے رہے ۔

گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ امریکہ اور کناڈا میں پچھلے برسوں میں مذہب کا مطالعہ کرنے کا رجحان بڑھا ہے اور اسلام کا مطالعہ کرنے کا بھی ۔ مگر وہاں کا عام باشندہ ابھی تک اسلام کے بارہ میں کچھ بھی نہیں جانتا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمارے یہاں کا ایک عام آدمی اسلام کے نام سے صرف "خمینی" کو جانتا ہے اور خمینی کی تصویر جو امریکہ میں ہے اس کو آپ خود سمجھ سکتے ہیں۔ ان کی باتوں سے میں نے یہ تاثر لیا کہ اسلام کے تعارف پر اگر ایسی انگریزی کتابیں شائع کی جائیں جن کی زبان واقعی انگریزی ہو، وہ "انڈین انگلش" نہ ہو ۔ دوسرے یہ کہ یہ کتابیں جدید اسلوب میں تیار کی گئی ہوں تو مغرب کے لوگ ان کو نہایت شوق کے ساتھ لیں گے اور ان کا باقاعدہ مطالعہ کریں گے ۔ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی ۔ وہ عرصہ سے سوئزرلینڈ میں رہتے ہیں اور اب یہیں کی شہریت حاصل کرلی ہے ۔ انھوں نے مسلمانوں کی موجودہ حالت پر شدید غم کا اظہار کیا۔ کہا کہ اس وقت مسلمانوں کی حالت حیرت ناک حد تک درد اور کرب کی کہانی بن گئی ہے ۔ وہ لوگ جو اس لیے پیدا کیے گیے تھے کہ وہ زمین پر خیر امت ہوں ، وہ آج آخری بربادی کے گڑھے میں پہنچ گیے ہیں ۔ وہ آج اپنے دشمنوں کا شکار ہو رہے ہیں ۔ حتیٰ کہ آج ایک مسلمان اپنے بھائی کے مقابلے میں اپنے دشمن پر زیادہ بھروسہ کرتا ہے۔ ان کے الفاظ یہ تھے :

Those who were created to be the best nation on earth have descended to a bottomless pit, now they are subjected to their enemies to the extent that a Muslim has more trust in the enemy than in his brother. میں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ انجام اس لیے ہے کہ انھوں نے مسلمان کی حیثیت سے اپنے فرض منصبی کو چھوڑ انھوں نے پوچھا کہ وہ فرض منصبی کیا ہے ۔ میں نے کہا کہ وہ دعوت الی اللہ ہے۔ کے سچے دین کو تمام اقوام عالم تک پہنچانا۔ یہ طرز فکر ان کے لیے بالکل نیا تھا ۔ اب تک ان کا ذہن یہ تھا کہ مسلمان جدید ترقیاتی شعبوں میں پچھڑ گیے ہیں اور ان شعبوں میں آگے بڑھ کر وہ اقوام عالم کے ہم سطح

ہو سکتے ہیں ۔ میں نے کہا کہ مسلمان " خیر امت " اسی اعتبار سے ہیں کہ وہ خدا کے دین کی پیغام بری کریں ۔ لیے ان کی ترقی اور سربلندی تمام تر اسی عمل پر موقوف ہے ۔ اس عمل کو اختیار کر کے وہ " سب سے اعلیٰ " قوم بن سکتے ہیں ، اور اگر وہ اس عمل کو چھوڑ دیں تو وہ سب سے بری قوم بن جائیں گے ۔ اس کے بعد ان پر یرمیاہ نبی کے وہ الفاظ صادق آئیں گے جو بائبل میں اس طرح نقل کیے گیے ہیں :

Reprobate silver shall men call them, because the Lord جنیوا میں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ عرب رہتے ہیں ۔ انھوں نے میری عربی کتاب (الاسلام یتحدی) پڑھی تھی اور اس سلسلہ میں ان کا ایک خط مجھے دہلی کے پتہ پر ملا تھا۔ یہاں ان سے ملاقات کا خیال ہوا۔ مگر ان کا ٹیلی فون نمبر میرے پاس موجود نہ تھا۔ کمرہ میں رکھی ہوئی ٹیلی فون ڈائرکٹری پر نظر پڑی تو میں نے سوچا کہ شاید اس میں ان کا نام ہو۔ ڈائر کٹری دیکھنا شروع کیا تو اس میں ان کا نام موجود تھا۔ چنانچہ اس کے مطابق میں نے اپنے کمرہ سے ٹیلی فون کیا تو وہ مل گیے ۔ اولاً ٹیلی فون پر گفت گو ہوئی۔ اس کے بعد وہ ہوٹل تشریف لائے تو زیادہ تفصیل کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ ان کا نام و پتہ یہ ہے :

Printed page