بھارت کی تعمیر
Al-Risala, January 1987, pp. 12–21
By Maulana Wahiduddin Khan
پروفیسر ہیرن مکر جی ایک فریڈم فائٹر ہیں۔ وہ جواہر لَالَ نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) کے زمانہ میں ہندوستانی پارلیمنٹ کے ممبر تھے ۔ پروفیسر ہیرن مکر جی ایک بار پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لیے دہلی آئے۔ اجلاس سے فارغ ہو کر جب وہ دہلی سے کلکتہ کے لیے روانہ ہوئے تو ان پر ایک تجربہ گزرا۔ کلکتہ واپس پہنچ کر انھوں نے سابق وزیر اعظم ہند، جواہر لال نہرو کے نام ایک خط لکھا جس میں اس تجربہ کا ذکر تھا۔
پروفیسر مکر جی نے لکھا کہ میری ٹرین جب نئی دہلی کے ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہوئی تو میں نے دیکھا کہ ریلوے لائن کے کنارے بہت دور تک جھگی جھونپڑی کی قطاریں چلی جارہی ان کو دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ ان جھونپڑیوں میں رہنے والے غریب ہندوستانی اگر مجھ سے پوچھیں کہ ملک کی آزادی سے ہم کو کیا ملا تو میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ جواہر لال نہرو نے اس کے جواب میں پروفیسر مکر جی کو جو خط لکھا اس کا ایک جملہ یہ تھا : You are paying the price of being sensitive. تم اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہو) راقم الحروف کو یہ پسند نہیں کہ ہم حساس نہ بلکہ میں چاہتا ہوں کہ ہم حساس ہوں تاکہ ہم تڑپیں ۔ تاکہ ہم ملک کے حالات کے بارہ میں زیادہ سنجیدہ ہوں ، تاکہ ہم اس کے متعلق زیادہ گہرائی کے ساتھ سوچیں ، اور ملک کو بہتر مستقبل کی طرف لے جانے کی فکر کریں ۔
آپ جانتے ہیں کہ نئے ہندوستان کا آغاز ۱۹۴۷ء سے ہوتا ہے ۔ اس سے پہلے یہ ملک یورپی قوموں کے سیاسی اور اقتصادی استحصال کا نشانہ بنا ہوا تھا۔ (۱۹۴۸-۱۸۶۹) نے ہندوستان کو سیاسی بنیاد (Political base) عطا کی۔ بعد جواہر لال نہرو (۱۹۶۴-۱۸۸۹) نے ہندوستان کے وزیر اعظم ہوئے اور انھوں نے ملک کے لیے صنعتی بنیاد (Industrial base) فراہم کی ۔
اس سے پہلے ہندوستان کی جو حالت تھی اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حکومتی فیصلہ کی قوت
ملکی باشندوں کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے سڑکوں کی ترقی کا کام بہت دیر سے شروع ہو سکا ہندوستان میں ریلوے کا آغاز برٹش دور میں ۱۸۵۳ میں ہوا ۔ اور بہت جلد سارے ملک میں ریلوے لائن کا جال بچھا دیا گیا ۔ مگر سڑکوں کی ترقی ۷۰ سال تک رکی رہی ۔ سڑکوں کی تعمیر حکومت کی توجہ کا مرکز نہ بن سکی ۔ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا کے الفاظ میں : Little attention was paid to road development untill the 1920s, mainly because the government had previously focussed its attention on rail- ۱۹۲۰ کے بعد کے سالوں سے پہلے روڈ کی ترقی پر بہت کم توجہ دی جا سکی۔ خاص طور پر اس وجہ سے کہ برطانی حکومت نے اس سے پہلے اپنی ساری توجہ ریلوے پر لگا رکھی تھی ۔ برطانی حکومت ریل کی پٹریوں کو لوہے کی زنجیریں سمجھتی تھی ۔ اس کا خیال تھا کہ ان زنجیروں کے ذریعہ وہ ملک پر اپنے قبضہ کو زیادہ دیر تک باقی رکھ سکے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے ریلوے لائنیں بچھانے پر خصوصی توجہ دی ۔ مگر سڑکیں بنانے پر وہ توجہ نہ دے سکی۔ ملک کو سیاسی غلامی کی یہ قیمت دینی پڑی کہ سڑکوں کی تعمیر کے معاملہ میں وہ پیچھے ہو گیا جو کہ قومی ترقی کے لیے موجودہ زمانہ میں نہایت اہمیت رکھتی ہیں ۔
دوسری مثال صنعت کی ہے ۔ ہندوستان میں اکثر معدنی ذخیرے (Mineral resources) افراط کے ساتھ موجود ہیں ۔ یہاں صنعتی ایندھن (کوئلہ) بھی بڑی مقدار میں پایا جاتا ہے۔ دنیا کے لوہے (Iron-ore) کے ذخائر کا پا حصہ صرف ہندوستان کی زمین کے نیچے موجود اس کے باوجود ملک کی آزادی سے پہلے اس کی صنعتی ترقی ممکن نہ ہو سکی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے یہاں ایک بیرونی قوم کا قبضہ تھا ۔ وہ ہندوستان کو اپنی صنعتی سامانٹوں کی منڈی بنائے ہوئے تھے ۔ ۱۹۴۷ء میں جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کے بعد یہاں باہر کا سامان در آمد کرنے پر پابندیاں لگائی گئیں ۔ اور ملکی صنعت کو ترقی کے مواقع دیے گئے ۔ چنانچہ ہندوستان تیزی سے صنعتی میدان میں آگے بڑھا ۔ یہاں تک کہ اب وہ صنعتی طور پر ترقی یافتہ ملکوں میں شمار کیا جانے لگا ہے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سیاسی اور صنعتی اعتبار سے ملک اب ترقی کے اگلے اسٹیج پر
پہونچ رہا ہے ۔ ہندوستان کی سیاسی بنیا داب اتنی مضبوط ہو چکی ہے کہ وہ "تیسری دنیا" کے ملکوں کی قیادت کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔ اسی طرح ہندوستان کی صنعتی بنیا د اب اتنی گہری ہو چکی ہے کہ 1985 سے اس نے الیکٹرانک دور میں داخلہ کا آغاز کر دیا ہے ۔ ہندوستان کو یہ ڈر رہتا تھا کہ امپورٹ کا راستہ کھولنے سے اس کی اندرونی صنعت برباد ہو جائے گی ۔ اور اب ملک کو اس حد تک اعتماد پیدا ہو چکا ہے کہ وہ امپورٹ کی پابندیاں کم کرنے کے بعد بھی یہ اعتماد رکھتا ہے کہ وہ بیرونی صنعتوں کا مقابلہ کر کے آگے بڑھ سکتا ہے۔ یہ باتیں بلاشبہ اچھی ہیں ۔ یہ ہر ہندوستانی کے لیے خوشی کا باعث ہیں کہ پچھلے۴۰ سال میں ملک نے سیاسی اور صنعتی بنیاد حاصل کر لی ۔ مگر ہندوستان کی حقیقی ترقی کے لیے ابھی ایک اور مشکل تر مرحلہ باقی ہے ۔ اور وہ یہ کہ ملک کو اخلاقی بنیاد (Moral base) عطا کی جائے ۔ بنیاد فراہم کرنے کا مسئلہ فیصلہ کن حد تک اہم ہے ۔ اگر یہ بنیاد فراہم نہ ہو تو بقیہ میدانوں کی ترقیاں بھی غیر مؤثر ہو کر رہ جائیں گی ۔
یہاں ہم سابق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کا ایک اقتباس نقل کریں گے ۔ انھوں نے اپنے سوانح نگار مائیکل بریچر کو انٹرویو دیتے ہوئے 1956 میں کہا تھا : What constitutes a good society? I believe in certain standards. Call them moral standards. They are important in any individual and in any social group. And if they fade away, I think that all the material advancement you may have will lead to nothing worthwhile. How to maintain them, I can't know. Nehru, A Political Biography, By Michael Brecher, p. 607 وہ کیا چیز ہے جو ایک اچھا سماج بناتی ہے ۔ میں کچھ متعین معیاروں میں عقیدہ رکھتا آپ ان کو اخلاقی معیار کہہ سکتے ہیں ۔ وہ ہر شخص اور ہر سماجی گروہ کے لیے اہم ہیں ۔ اور اگر وہ باقی نہ رہیں تو میرا خیال ہے کہ آپ نے جو بھی مادی ترقی حاصل کی ہو وہ بے قیمت ہو کر رہ جائے گی ۔ اس اخلاقی معیار کو کس طرح حاصل کیا جائے ، اس کا جواب مجھے نہیں
ہندوستان کے موجودہ وزیر اعظم کی ایک تقریر اخبارات میں حسب ذیل الفاظ میں
آتی ہے :
Prime Minister Rajiv Gandhi today said building factories and dams was useless if the quality of human beings was not good. The Hindustan Times, September 12, 1986. وزیر اعظم راجیو گاندھی نے کہا کہ کار خانے اور بند بنانا بے فائدہ ہے اگر انسانوں کے اندر اچھی خصوصیات نہ ہوں۔
مثلاً ملک میں بجلی اور زراعت کی ترقی کے لیے ہمیں ایک ڈیم بنانا ہے۔ ضرورت یہ ہے کہ ملک آزاد ہو تا کہ وہ کسی خارجی دباؤ کے بغیر خود اپنی مرضی کے مطابق فیصلہ کر سکے ۔ یہ ضرورت ملک کی سیاسی آزادی سے پوری ہو جائے گی ۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ہمارے پاس اس کی تعمیر کے لیے ضروری ٹکنالوجی موجود ہو۔ یہ ضرورت ہمارے وہ ٹنکل ماہرین پوری کر دیں گے جو انجینئر نگ کالجوں سے ڈگری لے کر نکل رہے ہیں ۔ مگر اچھے ڈیم کی تیاری کے لیے صرف یہی دو چیزیں کافی نہیں ۔ اسی کے ساتھ ایک تیسری چیز بھی ہے جو لازمی طور پر ضروری ہے، اور وہ ہے دیانت داری (Honesty) اگر کام کرنے والے افراد کے اندر دیانت داری کا مادہ نہ ہو تو سیاسی آزادی اور ٹکنکل قابلیت کے با وجود وہ ڈیم تیار نہ ہو سکے گا جو فی الواقع ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے ۔ دیانت داری نہ ہونے کی صورت میں یہ ہوگا کہ حکومت عوام سے ٹیکس وصول کرکے ایک ارب روپیہ ٹھیکہ داروں اور انجینیروں اور افسروں کے ہاتھ میں دے گی. مگر وہ روپیہ کا ایک حصہ اپنی جیب میں رکھنے کی خاطر یہ کریں گے کہ وہ غیر معیاری لوہا استعمال کریں گے ۔ وہ ریت اور سیمنٹ کا تناسب غلط کر دیں گے ۔ وہ پیسہ بچانے کے لیے ہر چیز میں کمی کرتے رہیں گے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ بظاہر ڈیم تو بن کر تیار ہو جائے گا۔ اور سیمنٹ (RCC) کی تعمیر کے با وجود وہ مضبوط نہ ہو گا ۔ بے پناہ خرچ اور سالوں کی منصوبہ بندی کے بعد ادھر ڈیم بن کر کھڑا ہو گا اور ادھر خبریں آنے لگیں گی کہ اس کا فلاں حصہ ٹوٹ گیا۔ اس کے فلاں حصہ میں شگاف ہو گیا ہے ۔ بے پناہ خرچ کے بعد ایک پل بن کر کھڑا ہوگا اور اگلے سال خبر ملے گی کہ وہ ٹوٹ کر گر پڑا ۔
اس ہولناک انجام سے بچنے کی صورت صرف ایک ہے۔ اور وہ یہ کہ ملک میں جس طرح سیاسی انقلاب اور صنعتی انقلاب بر پا کیا گیا ہے ، اسی طرح ملک میں ایک لیےاخلاقی انقلاب بر پا کیا ملک کو جس طرح سیاسی بنیاد اور صنعتی بنیاد فراہم کی گئی ہے اسی طرح اس کے اخلاقی بنیاد بھی فراہم کی جائے ۔
اب سوال یہ ہے کہ اخلاقی بنیاد کیا ہے اور اس کو ہم کس طرح ملک کے حق میں تعمیر کر سکتے ہیں ۔
اخلاقیات ( یا مارل فلاسفی ) پر بہت کچھ لکھا گیا ہے ، اب وہ ایک پیچیدہ فن بن گیا ہے مگر اس کی فنی تفصیلات اور اخلاقی فلاسفہ کے اختلافات سے قطع نظر ، یہاں میں صرف اس کے سادہ عملی پہلو کو بیان کروں گا۔ جو کہ اخلاق کے معاملہ میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے ۔ اخلاق کا خلاصہ انسانیت کا احترام ہے۔ دوسرے افراد یا گر دو پیش کے انسانی معاشرہ کی نسبت سے آدمی کے اوپر جو ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں ، خواہ با ضابطہ طور پر ان کے بارہ میں قول و قرار ہوا ہو ، یا باضابطہ قول و قرار نہ ہوا ہو ، ہر حال میں ان کو ادا کرنا ضروری ہے ۔ اور اسی ادائیگی کا نام اخلاق ہے ۔
اس تعریف کے مطابق اخلاق ہر آدمی کی جانی پہچانی اور معلوم چیز ہے۔ ہر آدمی فطری طور پر حق اور ناحق کی پہچان رکھتا ہے ۔ ہر آدمی جانتا ہے کہ دوسروں سے معاملہ کرتے ہوئے اس کو کیا کرنا چاہیے اور کیا نہیں کرنا چاہیے ۔ اخلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی اسی جانی ہوئی چیز پر عمل کرنے لگے ۔
اسی بنا پر اخلاقیات کے لیے قرآن وحدیث میں معروف اور منکر کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اسلام کی نظر میں پسندیدہ اخلاق "معروف" ہے اور ناپسندیدہ اخلاق "منکر" معروف کے معنی ہیں جانی پہچانی چیز، اور منکر کے معنی ہیں اجنبی چیز ۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کو اچھا قرار دیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کے اچھا ہونے کا شعور خود انسانی فطرت میں پیوست اسی طرح جن چیزوں کو الہٰی شریعت میں برا قرار دیا گیا ہے وہ وہی چیزیں ہیں جن کو انسانی فطرت پیشگی طور پر برا سمجھتی ہے ۔
تاہم معروف و منکر کے یہ احساسات انسانی فطرت میں وجدانی طور پر پیوست ہیں نہ کہ اس طرح لکھے ہوئے ہیں جس طرح کاغذ کے صفحہ پر کوئی چیز لکھی جاتی ہے۔ الہٰی شریعت یہاں یہ کرتی ہے کہ وہ معروف و منکر کے احساسات کو الفاظ کی شکل دے دیتی ہے ۔ چیز کو ملفوظ چیز بنا دیتی ہے ۔
حدیث میں اخلاق کی نہایت سادہ پہچان بتائی گئی ہے ۔ وہ یہ کہ تم دوسروں کے ساتھ وہی سلوک کرو جو سلوک تم خود اپنے لیے پسند کرتے ہو۔ ہر آدمی کو اچھی طرح معلوم ہے کہ دوسروں کو اس کے ساتھ کیا کرنا چاہیے، بس اسی کو وہ خود بھی دوسروں کے ساتھ جس آدمی کے اندر یہ صفت آجائے وہ با اخلاق آدمی ہو گیا۔ اخلاق ، اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اس کے سوا کسی اور چیز کا نام نہیں کہ جو کچھ ہم اپنے لیے پسند کرتے ہیں وہی ہم دوسروں کے لیے بھی پسند کرنے لگیں۔
اخلاق کے اس قدر معلوم اور معروف ہونے کے باوجود اخلاق ہی وہ چیز ہے جو لوگوں میں سب سے کم پائی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اخلاق کی ایک قیمت ہے اور اسی قیمت نے اس کے خریداروں کو اس سے دور کر رکھا ہے۔ لوگ جو کچھ صحیح سمجھتے ہیں اس کو کرتے نہیں ، کیوں کہ وہ اس کی قیمت دینا نہیں چاہتے۔
اخلاق کی قیمت کیا ہے، ایک لفظ میں اخلاق کی قیمت ہے ۔ قیمت نہ ملنے کے باوجود اخلاق برتنا۔ عام آدمی ہمیشہ مفاد کے تحت عمل کرتا ہے۔ یعنی جہاں ایک عمل کر کے کچھ بدلہ ملے وہاں وہ عمل کرے گا اور جہاں عمل کا بدلہ ملنے کی امید نہ ہو وہاں وہ عمل بھی نہیں جس سماج میں اس مزاج کے لوگ ہوں وہاں کبھی صحیح معنوں میں اخلاقی ماحول نہیں بن سکتا۔ کیوں کہ زندگی میں ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ آدمی ایک اچھا سلوک کرنے تو فوراً اس کو اپنے اچھے سلوک کا بدلہ مل جائے ۔ دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک صرف وہ لوگ کر سکتے ہیں جو بدلہ کی امید کے بغیر اچھا سلوک کرنا جانیں ۔ جو لوگ اپنے عمل کا فوراً بدلہ پانا چاہیں وہ کبھی اعلیٰ کردار کے مالک نہیں بنتے ، اور اسی لیے وہ اس دنیا میں کوئی بڑا کام بھی نہیں کر سکتے ۔ اخلاقی بنیاد فراہم کرنا دوسرے لفظوں میں اس کا نام ہے کہ لوگوں کو کوئی اتنی بڑی
چیز دی جا سکے جس کے بعد ہر چیز ان کی نظر میں چھوٹی ہو جائے۔ دوسروں کے ساتھ اخلاق برتنے کے لیے آدمی کو کچھ کھونا پڑتا ہے۔ آدمی کو اگر کوئی اتنی بڑی چیز مل جائے کہ اس کے مقابلہ میں ہر دوسری چیز چھوٹی نظر آئے تو اس کے لیے اخلاق پر قائم رہنا آسان ہو جائے آدمی کو اس قابل بنائیے کہ وہ کھونے کو برداشت کر سکے۔ اس کے بعد وہ اپنے آپ با اخلاق ہو جائے گا۔
ایک مغربی ملک کا واقعہ ہے۔ ایک کسٹم افسر نے ایک شخص کو پکڑا جو ایک خلاف قانون چیز ملک کے اندر لے جانا چاہتا تھا۔ آدمی نے کسٹم افسر سے کہا کہ پانچ ہزار ڈالر لے لو اور مجھ کو چھوڑ دو۔ کسٹم افسر بگڑ گیا۔ اس نے کہا کہ دس ہزار ڈالر لو۔ کسٹم افسر اور زیادہ بگڑ گیا آدمی مزید قیمت بڑھاتا گیا۔ ۲۰ ہزار ڈالر، ۲۵ ہزار ڈالر، ۳۰ ہزار ڈالر، پچاس ہزار ڈالر یہاں تک کہ اس نے کہا کہ ۸۰ ہزار ڈالر لے لو۔ اور چھوڑ دو۔ آدمی نے جب "۸۰ ہزار ڈالر" کہا تو کسٹم افسر کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ ایک لمحہ وہ رکا اور اس کے بعد چیخ کر بولا : ظالمو، تم میری قیمت کے قریب پہنچ گئے ہو ۸۰ ہزار ڈالر کا لفظ سن کر کسٹم افسر کے اندر ایک نیا خیال پیدا ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ سالہا سال تک سروس کرنے کے بعد بھی میں ۸۰ ہزار ڈالر بچا نہیں سکوں گا۔ اور یہ شخص مجھے ایک منٹ کے اندر ۸۰ ہزار ڈالر دے رہا ہے۔ پھر میں کیوں نہ اس کو قبول کر لوں۔ ڈالر اور دس ہزار ڈالر نے اس کو اندر سے نہیں ہلایا تھا۔ مگر ۸۰ ہزار ڈالر کی پیش کش نے اس کو اندر سے ہلا دیا۔ اس کے اندر جو اخلاقی بنیاد موجود تھی وہ متزلزل ہو کر رہ گئی۔ یہی ہر آدمی کا حال ہے۔ ہر آدمی کی قیمت کہیں نہ کہیں لگ جاتی ہے۔ اور جہاں آدمی کی قیمت لگ جائے بس وہیں اس کے اندر اخلاقی بنیاد ختم ہو جاتی ہے۔ وہ اصول کے بجائے مفاد کا بندہ بن کر رہ جاتا ہے۔
کچھ لوگ ہیں جو سماجی پوزیشن کی خاطر با اخلاق ہوتے ہیں۔ وہ اپنے عام رویہ اور روزمرہ کی ملاقات میں بظاہر اچھے بنے رہتے ہیں تاکہ لوگ انھیں اچھا سمجھیں مگر یہ اخلاق کے لیے بہت کمزور بنیا د ہے ایسے لوگوں کا اخلاق نہایت وقتی اخلاق ہوتا ہے۔ جیسے ہی کوئی
ذاتی انٹرسٹ کا موقع پیدا ہوتا ہے ۔ ان کی حد آ جاتی ہے ۔ وہ ذاتی فائدہ حاصل کرنے کی خاطر اخلاقی اصول کو بھول جاتے ہیں ۔
ایک شخص سرکاری دفتر میں کلیدی عہدہ (Key post) پر تھا۔ اس کے یہاں ایک صاحب کی فائل تھی ۔ ان کا کیس بالکل جائز کیس تھا مگر وہ ان کو پریشان کر رہا تھا تاکہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت میں دیں ۔ یہ صاحب اپنے جاننے والے ایک شخص سے ملے جن کے متعلق ان کو پتہ تھا کہ وہ مذکورہ سرکاری ملازم کے دوست ہیں ۔ ان سے اپنی مصیبت بیان کی ۔ انھوں نے کہا کہ بہت اچھا میں اس سے ملوں گا ۔
یہ صاحب ایک روز مذکورہ سرکاری ملازم کے یہاں گئے۔ ملازم خندہ پیشانی سے ملا ۔ اس نے چائے اور سگریٹ پیش کیا۔ مگر جب آنے والے نے اس سے اپنی ضرورت بیان کی تو فوراً اس کا چہرہ بدل گیا۔ طرح طرح کی قانونی موشکافیاں بنا کر اس نے عذر کر دیا۔ مذکورہ شخص کو جان بوجھ کر صرف اس لیے پریشان کر رہا تھا کہ وہ اس کو ایک بڑی رقم رشوت کے طور پر دے ۔ ایسی حالت میں رقم لیے بغیر وہ فائل کیسے واپس کر دیتا ۔ مذکورہ سرکاری افسر ابتداً بڑا با اخلاق تھا۔ مگر جب فائل کا مسئلہ طے کرنے کی بات آئی تو اس کے اخلاق کی حد آ گئی۔ وہ صرف اس وقت تک با اخلاق تھا جب تک اس کے ذاتی مفاد پر زد نہ پڑ رہی ہو ۔ جب ذاتی مفاد خطرے میں آ جائے تو پھر اس کے نزدیک اخلاق کی کوئی قیمت نہ تھی ۔
مغربی ملکوں میں بظاہر اس قسم کی بداخلاقی نہیں ہے ۔ وہاں دفتروں میں بغیر رشوت کے کام ہوتا ہے ۔ عام طور پر لوگ اپنی ڈیوٹی صحیح طور پر انجام دیتے ہیں۔ پولیس کا آدمی کسی کو ناجائز کام کرتے ہوئے پکڑے تو اس آدمی کو معلوم ہے کہ وہ پولیس والوں کی جیب میں نوٹ ڈال کر ان کی گرفت سے نہیں بچ سکتا ۔ روزمرہ کی زندگی میں جو بد عنوانیاں (Corruption) ہمارے ملک میں نظر آتی ہیں وہ مغربی ملکوں میں عام طور پر دکھائی نہیں دیتیں ۔
تاہم یہ اخلاق قومی مفاد کی بنیاد پر بنا ہے اس لیے اس کی بھی حد آ جاتی ہے ۔
مثلاً مغربی ملکوں میں ایسا نہیں ہوتا کہ دودھ میں پانی ملایا جائے ۔ نقلی سامان تیار کرکے بازار بھر دیئے جائیں۔ ایک تاجر نمونہ کے طور پر اچھا مال دکھائے اور اس کے بعد خراب مال پیک کرکے آپ کو بھیج دے۔ دفتروں میں اپنا جائز کام بھی رشوت کے بغیر نہ ہوسکے۔ مگر مغربی انسان کے اس اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اس کا اخلاق قومی مفاد سے ٹکرانے لگے ۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں بڑے بڑے ترقی یافتہ ممالک کے یہاں سب سے زیادہ جس صنعت کو ترقی ہوئی ہے وہ جنگی صنعت ہے۔ ان ملکوں کے پاس تیار شدہ جنگی سامان کے انبار جمع ہو گئے ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ یہ تمام چیزیں انتہائی مہلک ہیں۔ وہ خدا کی دنیا کو جہنم بنا دینے والی ہیں۔ مگر ان کا قومی مفاد چاہتا ہے کہ وہ فروخت ہوں تاکہ ان پر جو بے پناہ لاگت آئی ہے وہ نفع کے ساتھ انھیں واپس ملے ۔ اگر حالات بالکل معمول پر ہوں۔ ہر طرف امن و سکون ہو تو کوئی بھی ان کے مہلک ہتھیاروں کو نہیں خریدے گا۔ اس لیے یہ ترقی یافتہ قو میں یہ کرتی ہیں کہ عالمی سطح پرتناؤ کے حالات پیدا کرتی ہیں۔ ان کے رہنما اپنے تخریبی منصوبوں کے ذریعہ ایک ملک کو دوسرے ملک سے لڑاتے ہیں۔ وہ ہر علاقہ میں زبردستی ایک ”اسرائیل “ کھڑا کرتے ہیں تاکہ قوموں کے اندر خطرہ کی نفسیات پیدا ہو اور وہ زیادہ سے زیادہ ان کے ہتھیار
اپنے معاشرہ میں ذاتی سلوک کے معاملہ میں ان قوموں کے افراد با اخلاق ہیں۔ مگر جب ان کی قوم کے مفاد کا معاملہ آجائے تو وہاں ان کی حد آ جاتی ہے ۔ قومی مفاد کے معاملہ میں وہ ان سب چیزوں کو جائز کر لیتے ہیں جن کو وہ ذاتی مفاد کے معاملہ میں ناجائز کیے ہوئے تھے۔
ہر آدمی کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہوتی ہے جو اس کے لیے سب سے بڑی (Supreme) حیثیت رکھتی ہے ۔ عام آدمی کے لیے اس کا ذاتی مفاد اس کے لیے سپریم ہوتا ہے ۔ کچھ ترقی یافتہ معاشروں میں ان کا قومی مفاد ان کے لیے سپریم ہے ۔ مگر ان دونوں میں سے کوئی بھی چیز اخلاق کی صحیح بنیاد نہیں ۔ کیوں کہ ذاتی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت
حد آجائے گی جب کہ اس کا مفاد دوسرے کے مفاد سے ٹکرا رہا ہو۔ اسی طرح قومی مفاد کی بنیاد پر بننے والے اخلاق کی اس وقت حد آجاتی ہے جب کہ اپنی قوم کا مفاد اور دوسری قوم کا مفاد یکساں نہ رہے۔ اپنا قومی مفاد اگر اس میں ہو کہ لوگ جنگی سامان خرید کر قتل و غارت کا میدان گرم کریں تو وہ جنگی سامان بنائے گا اور اس کو دوسری قوموں کے ہاتھ فروخت خواہ اس کی قومی تجارت کا فروغ دوسری قوموں کی ہلاکت کی قیمت پر کیوں نہ ہو رہا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ اخلاق کی ایک ہی صحیح بنیاد ہے اور وہ خدائے برتر کا عقیدہ ہے جو تمام کائنات کا خالق و مالک ہے۔ خدا تمام دوسری چیزوں سے بڑا ہے۔ سے زیادہ سپریم ہے۔ جو شخص خدا کو پالے اس نے سب سے بڑی چیز کو پا لیا۔ کی کبھی حد نہیں آئے گی ۔ اس کی نظر میں ہر دوسری چیز چھوٹی ہوگی۔ خدا کو پا کر وہ آخری سب سے بڑی چیز کو پالے گا۔ اس کے بعد ہر دوسری چیز کی قربانی اس کے لیے آسان ہو جائے گی۔ وہ ہر دوسری چیز کا کھونا برداشت کرلے گا۔ کیوں کہ اس کو یقین ہوگا کہ کھونے کے بعد بھی اس کے پاس ایک چیز موجود ہے جو تمام چیزوں سے زیادہ بڑی ہے اور وہ اس کا خدا ہے۔